فہد مصطفی کی نئی فلم ’زومبیڈ‘: ’آپ دیکھ کر سوچیں گے کہ پاکستان میں بھی ہم یہ کر سکتے ہیں‘

بی بی سی اردو  |  May 29, 2026

BBC

پاکستانی اداکار فہد مصطفی اس عید پر بھی سنیما گھروں میں اپنے جلوے دکھا رہے ہیں۔ اپنی نئی فلم ’زومبیڈ‘ میں وہاداکارہ مہوش حیات کے ساتھ دکھائی دیں گے۔

فہد مصطفی کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس قسم کی فلم میں کام کریں گے کیونکہ پاکستان میں اس طرح کی فلمیں نہیں بنتی۔

بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ’کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو شاید آپ کو سننے میں اتنی دلچسپ نہیں لگتیں لیکن جب وہ بن رہی ہوتی ہیں تو ان میں کافی دلچسپی پیدا ہو جاتی ہے۔ آپ جب ’زومبیڈ‘ دیکھیں گے تو سوچیں گے کہ پاکستان میں بھی ہم یہ کر سکتے ہیں۔‘

بقول فہد اس فلم کو بنانے میں انھیں کافی مشکلات کا سامنا رہا۔

’سب سے بڑا چیلنج وقت کا تھا۔ میں اپنی فلم ’آگ لگے بستی میں‘ سے نکل کر آرہا تھا۔ رمضان میں گیم شو میں مصروف تھا۔ ایکشن سینز کی تیاری کے لیے کوئی وقت نہیں ملا۔‘

فہد نے بتایا کہ کیونکہ پوری ٹیم کی آپس میں دوستی ہے اور انھوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اچھا اور برا وقت دیکھا ہے تو سب دوستوں نے مل کر فلم مکمل کر لی۔

’میں ان کے ساتھ اداکار کی طرح نہیں رہتا۔ اگر میں یہ فلم پروڈیوس کر رہا ہوتا تو شاید کوئی ایکٹر یہ فلم نہیں کر پاتا۔ یہ بہت مشکل فلم تھی۔‘

فہد کا کہنا ہے کہ وہ جب ایک پروجیکٹ کی حامی بھر لیتے ہیں تو اپنے ڈائریکٹر پر اعتبار کرتے ہیں اور زیادہ سوال نہیں کرتے۔

’زومبیڈ‘ پاکستان کے مقبول ڈائریکٹر اور پروڈیوسر جوڑے نبیل قریشی اور فزا علی مرزا کی پیشکش ہے۔

’جلن اور نند پر بات ہونا ہی ان ڈراموں کی کامیابی ہے‘: فہد مصطفیٰکبھی میں کبھی تُم: ’ناظرین کا ردعمل بتاتا ہے کہ ہم کرداروں کو کتنی سچائی سے نبھا رہے ہیں‘بلھا، آگ لگے بستی میں اور دہلی گیٹ: عید پر ریلیز ہونے والی تین پاکستانی فلمیں کیا سینما گھروں کی رونق واپس لا پائیں گی؟کتنا امکان ہے کہ جب کوئی بچی یا عورت جنسی زیادتی کا کہتی ہے تو جھوٹ ہی کہتی ہے؟’میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مجھے فلم سٹار پکارا جائے‘

فہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ لوگ انھیں بطور فلم سٹار جانیں۔

فہد نے بتایا کہ جب وہ کرکٹ کھیلنے جاتے تھے اور ساتھ میں کچھ فلم ایکٹرز بھی ہوتے تھے تو آواز لگتی تھی ’اور اب آ رہے ہیں فہد مصطفی‘ جبکہ ان لوگوں کے ناموں کے ساتھ ’فلم سٹار‘ کا لفظ لگایا جاتا تھا۔

’ایسا نہیں تھا کہ ہمیں ان سے کوئی جلن ہوتی تھی لیکن دل چاہتا تھا کہ ہمیں بھی کوئی فلم سٹار کہہ کر پکارے۔ اب وہ بھی ہو گیا میرے ساتھ زندگی میں۔‘

’ایک ایکٹر نے ایک دفعہ بڑی اچھی بات کہی تھی کہ جب لوگوں کو آپ اچھے لگ جاتے ہیں پھر کبھی اگر آپ کا کام اتنا اچھا نہیں بھی ہوتا تب بھی وہ آپ کو قبول کر لیتے ہیں اور میں نے یہ محسوس کیا۔‘

فہد مصطفی کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ مغرور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب لوگوں سے آپ کی کامیابی ہضم نہیں ہوتی تو انھیں اکثر ایسا لگتا ہے۔

’میں دن میں بہت لوگوں سے ملتا ہوں۔ میری اپنی بھی ایک زندگی ہے۔ کبھی آپ اچھے موڈ میں ہوتے ہیں اور کبھی کسی سے ملنے کا دل نہیں بھی چاہتا۔ میں بدتمیزی نہیں کرتا لیکن پورے دن کا حال احوال بھی تو نہیں پوچھوں گا ناں۔‘

’کیسے ہوسکتا ہے کہ میں مغرور ہوں؟ 14 سال تک میں ڈھونگ نہیں کر سکتا، وہ بھی لائیو ٹی وی پر۔۔۔‘

’ڈرامہ جتنا بھی مقبول ہو جائے پیسے اتنے ہی کمائے گا‘

فہد مصطفی سنہ 2024 میں تقریباََ 10 سال کے وقفے کے بعد چھوٹے پردے پر اداکاری کرتے دیکھے گئے۔ ان کا کم بیک ڈرامہ ’کبھی میں کبھی تم‘ جس میں وہ ہانیہ عامر کے ساتھ دکھائی دیے ان ہی کی پروڈکشن کمپنی ’بگ بینگ انٹرٹینمنٹ‘ کی پیشکش تھا۔

نہ صرف یہ ڈرامہ مقبول ہوا بلکہ ان کے کردار مصطفی کو بھی کافی پزیرائی ملی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے میں صرف انھیں ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے ہر اداکار کو کامیابی اور بہتر مواقع ملے۔

البتہ جس وقت ڈرامہ نشر ہو رہا تھا تو کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس میں صرف فہد مصطفی ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کی مارکیٹنگ اور پروموشن بھی باقی ڈراموں سے مختلف لگ رہی تھی۔ ڈرامے میں ایک او ایس ٹی کے بجائے چار گانے تھے۔

فہد کا کہنا ہے کہ انھیں ڈرامے کے موڈ کے حساب سے جیسے گانوں کی ضرورت محسوس ہوئی انھوں نے ویسے گانے بنا دیے۔

فہد نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اگر کسی سے کہتے ہیں کہ دو گانے شوٹ کرنے ہیں لیکن سامنے والے کا موڈ نہیں تو آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔

’ہم صرف کوشش کرسکتے ہیں۔پھر آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ کرنا ہے اور یہ کرتے ہیں۔ ڈرامہ جتنا بھی مقبول ہو جائے پیسے اتنے ہی کماتا ہے۔ ڈرامہ فلم نہیں۔‘

’ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر کوئی میرے ہارنے کا انتظار کر رہا ہو‘

فہد نے مزید بتایا کہ ویسے تو ان کے ساتھ انڈسٹری میں لوگوں کے رویے ٹھیک رہے ہیں لیکن ’کبھی میں کبھی تم‘ والا ٹائم ایسا تھا جس میں سب ان کے خلاف تھے اور کوئی نہیں چاہتا تھا کہ وہ ٹی وی کم بیک کریں۔

’ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر کوئی میرے ہارنے کا انتظار کر رہا ہو۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کسی اداکار کو فیور دے کر کام دے بھی دے تو اس میں کامیاب ہونا تب تک ممکن نہیں جب تک اس میں محنت اور صلاحیت نہ ہو۔

فہد کی مقبولیت کا راز صرف ان کی اداکاری یا پروڈکشن نہیں بلکہ ان کا لائیو گیم شو بھی ہے جس میں وہ 14 سال سے عوام کو تفریح فراہم کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اداکاری کو زندہ رکھنے کے لیے ہوسٹنگ اورپروڈکشن کرتے ہیں۔

’جلن اور نند پر بات ہونا ہی ان ڈراموں کی کامیابی ہے‘: فہد مصطفیٰکبھی میں کبھی تُم: ’ناظرین کا ردعمل بتاتا ہے کہ ہم کرداروں کو کتنی سچائی سے نبھا رہے ہیں‘بلھا، آگ لگے بستی میں اور دہلی گیٹ: عید پر ریلیز ہونے والی تین پاکستانی فلمیں کیا سینما گھروں کی رونق واپس لا پائیں گی؟کتنا امکان ہے کہ جب کوئی بچی یا عورت جنسی زیادتی کا کہتی ہے تو جھوٹ ہی کہتی ہے؟کانز فلمی میلے میں صنم سعید کا ڈیبو اور شمیم آرا کی میراثکیا پاکستانی ڈراموں کی غیر ضروری طوالت انھیں نیٹ فلکس اور دیگر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز سے دور رکھے ہوئے ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More