Getty Images
اگر آپ ایک لڑکی یا عورت ہیں، تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ اپنے بھائی، شوہر یا مرد دوست کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہیں گی، عالمی اوسط کے مطابق تقریباً پانچ سال زیادہ۔
عورتوں کی اس طویل عمر کی صحیح وجوہات مکمل طور پر معلوم نہیں لیکن سائنسدانوں کے پاس کچھ نظریات موجود ہیں جو اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
یہ نظریات اس بات کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ انسانوں کے برعکس بعض انواع، جیسا کہ کچھ پرندوں کی اقسام میں، نر پرندوں کو اپنی مادہ کی عمر کے لحاظ سے برتری کیوں حاصل ہوتی ہے (یعنی بعض نر پرندوں کی مادہ پرندوں کے مقابلے میں عمر زیادہ کیوں ہوتی ہے)۔
کم عمری میں موت
برطانیہ میں آکسفورڈ انسٹیٹیوٹ آف پاپولیشن ایجنگ کی ڈائریکٹر پروفیسر سارہ ہارپر کہتی ہیں کہ ’تقریباً تمام ممالک میں خواتین مردوں کی نسبت زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہیں۔‘
لیکن وہ نشاندہی کرتی ہیں کہ ’یہ فرق ملک کے لحاظ سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔‘
’آور ورلڈ اِن ڈیٹا‘ کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ روس، یوکرین اور ویتنام میں خواتین مردوں کی نسبت اوسطاً تقریباً 10 سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہ پاتی ہیں جبکہ نائجیریا جیسے ممالک میں یہ فرق بہت کم ہے۔
سائنسدان اس تبدیلی کا کچھ حصہ سماجی اور رویوں میں فرق سے منسلک کرتے ہیں۔
Quynh Anh Nguyen/Getty Images
پروفیسر سارہ ہارپر وضاخت کرتی ہیں کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ روس میں اس کا بڑا سبب دراصل تمباکو نوشی اور شراب نوشی ہے، جو روس کے مردوں میں خواتین کی نسبت زیادہ عام ہے۔
دنیا بھر میں مرد دیگر ایسی عادات میں بھی زیادہ ملوث ہوتے ہیں جو زندگی کو کم کر سکتی ہیں۔
پروفیسر ہارپر کہتی ہیں کہ عمومی طور پر مردوں کی خوراک کم صحت مند ہوتی ہے اور وہ ڈاکٹر کے پاس جانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ ’تاہم اس معاملے میں شادی شدہ مردوں کو ایک فائدہ ہوتا ہے کیونکہ عموماً اُن کی شریکِ حیات انھیں (کسی بیماری یا مسئلے کی صورت میں) ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہیں۔‘
ان کے مطابق بہت سے معاشروں میں مرد زیادہ خطرناک کام کرتے ہیں اور مردانگی کو اکثر زیادہ خطرہ مول لینے سے جوڑا جاتا ہے۔
وہ خبردار کرتی ہیں کہ ’مردوں میں ٹریفک حادثات، تشدد، قتل اور خودکشی کے باعث شرحِ اموات کہیں زیادہ ہوتی ہے‘ تاہم، یہ صورتحال قطعی اور مستقل نہیں۔
مثال کے طور پر برطانیہ میں 60 اور 70 کی دہائی میں انسدادِ تمباکو نوشی مہمات کے نتیجے میں مردوں میں کم عمری میں ہونے والی اموات میں کمی آئی۔
پروفیسر ہارپر کہتی ہیں کہ برطانوی معاشرے میں ’اچانک یہ فرق نمایاں طور پر کم ہو گیا۔‘
تاہم اُن کے خیال میں صرف عادات میں تبدیلی سے مرد و خواتین کے درمیان عمر کا فرق مکمل طور پر ختم نہیں ہو گا، کیونکہ ’خواتین اور مردوں کے درمیان حیاتیاتی فرق ہمیشہ موجود رہے گا۔‘
کیا عورتیں فطری طور پر مردوں سے زیادہ ہمدرد اور چہرہ شناس ہوتی ہیں؟میں نے خواتین کے دماغ کا 20 سال مطالعہ کرنے کے بعد کیا سیکھا؟117 سالہ خاتون پر ہونے والی تحقیق جس نے دلچسپ حقائق سے پردہ اٹھایا اور جن کی حیاتیاتی عمر 23 سال کم نکلیآرگیزم گیپ کیا ہے اور خواتین میں ہیجانِ شہوت کی شرح کم کیوں ہے؟ایسٹروجن بمقابلہ ٹیسٹوسٹیرون
مردوں اور عورتوں میں ایک نمایاں فرق ہارمونز کا بھی ہے۔
سپین کی یونیورسٹی آف ویلنشیا میں ایجنگ پر تحقیق کرنے والی فزیالوجسٹ پروفیسر کونسیولو بوراس کہتی ہیں کہ ’ایسٹروجن نامی ہارمون خواتین کو محفوظ رکھنے میں بہت سے کردار ادا کرتا ہے۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ یہ ہارمون کولیسٹرول کی سطح کو قابو میں رکھنے اور مدافعتی نظام کو منظم کرنے سے لے کر پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے بچاؤ اور دماغ و ہڈیوں کی صحت کے تحفظ تک کے کئی کام انجام دیتا ہے۔
ایسٹروجن کے اتنے زیادہ فوائد ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ اینٹی آکسیڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے، یعنی یہ جسم کے خلیوں کے اندر جمع ہونے والے نقصان دہ ذرات (فری ریڈیکلز) کا مقابلہ کرتا ہے، جو بڑھاپے کے عمل کو تیز کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔
پروفیسر بوراس وضاحت کرتی ہیں کہ ’تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ مینوپاز کے دوران ایسٹروجن کے تحفظ کے ختم ہونے سے خواتین کے جسم کے بہت سے افعال متاثر ہوتے ہیں۔‘
وہ مزید مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جیسے آسٹیوپوروسِس (ہڈیوں کا کمزور ہونا) بڑھاپے کے عمل کی وجہ سے تو ہوتا ہی ہے، لیکن اس کی ایک بڑی وجہ ایسٹروجن کی کمی بھی ہے۔‘
ان کے مطابق اگر خواتین کو مینوپاز کے ابتدائی مرحلے میں ہارمون ریپلیسمنٹ تھراپی دی جائے، تو اکثر اُن میں سے کچھ جسمانی افعال دوبارہ بہتر ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
Half point images/Getty Images
دوسری طرف، مردوں میں بنیادی جنسی ہارمون ’ٹیسٹوسٹیرون‘ ہوتا ہے، جسے زیادہ خطرہ مول لینے والے رویوں سے جوڑا گیا ہے۔
پروفیسر بوراس کا خیال ہے کہ یہ جسم کے اندر کچھ مضر اثرات بھی پیدا کر سکتا ہے، اگرچہ یہ ابھی مکمل طور پر واضح نہیں کہ کیسے۔
درحقیقت، سنہ 2012 کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ تاریخی طور پر کوریا کے ایسے خواجہ سرا مرد، جن کی خصیے نکال دیے گئے تھے اور جو ٹیسٹوسٹیرون پیدا نہیں کرتے تھے، ملک کے دیگر عام مردوں کے مقابلے میں تقریباً 14 سے 19 سال زیادہ زندہ رہے۔
تاہم اس ڈیٹا کی کچھ حدود بھی ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی تحقیق کو دوبارہ عملی طور پر دہرانا ممکن نہیں لیکن بعض جانوروں پر ہونے والی تحقیق سے بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ نر جانور خصی کیے جانے کے بعد زیادہ عرصہ زندہ رہ سکتے ہیں۔
ہارمونز طویل عمر کے معمہ کا صرف ایک حصہ ہیں، اس کے علاوہ بھی کئی عوامل کارفرما ہیں۔
پروفیسر بوراس کہتی ہیں کہ ’بہت سے عوامل ہیں اور ہم اُن میں سے کچھ کو جانتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہ نہایت پیچیدہ عمل ہے۔‘
ارتقائی اشارے
اس معاملے کی بہتر تفہیم حاصل کرنے کے لیے کچھ سائنسدان انسانوں کے علاوہ دیگر انواع پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔
ہم واحد نوع نہیں جس میں مادہ (یا خواتین) زیادہ عمر پاتی ہیں۔ بہت سے ممالیہ جانوروں میں بھی یہی رجحان پایا جاتا ہے، جیسے شیر، بھیڑیں، اورکا (وہیل) اور چوہے وغیرہ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پرندوں میں صورتحال اس کے برعکس ہوتی ہے، جہاں عموماً نر زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں۔
اس فرق کی ایک ممکنہ وجہ مختلف ’جنسی کروموسومز‘ میں پوشیدہ ہو سکتی ہے۔
Nathan Devery/Getty Images
جرمنی کے میکس پلانک انسٹیٹیوٹ برائے ارتقائی بشریات کی محقق ڈاکٹر یوہانا سٹارک کہتی ہیں کہ ’ممالیہ جانوروں میں مادہ کے پاس دو X کروموسوم ہوتے ہیں جبکہ نر کے پاس ایک X اور ایک Y کروموسوم ہوتا ہے۔‘
سٹارک وضاحت کرتی ہیں کہ ایک نظریہ کے مطابق XX کروموسوم ہونے سے مادہ کو بقا میں برتری مل سکتی ہے، کیونکہ ’اگر ایک نقل میں کوئی خرابی (میوٹیشن) ہو بھی جائے تو دوسری نقل موجود ہوتی ہے جو اس کمی کو پورا کر سکتی ہے۔‘
’لیکن نر میں چونکہ صرف ایک ہی X کروموسوم ہوتا ہے، اس لیے ایسی خرابیاں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔‘
پرندوں میں اس کے برعکس صورتحال ہوتی ہے، جہاں نر کے پاس ایک ہی قسم کے دو کروموسوم ہوتے ہیں، جنھیں اس صورت میں Z کہا جاتا ہے، جبکہ مادہ کے پاس ایک Z اور ایک W کروموسوم ہوتا ہے۔
سٹارک کے مطابق ’یہ ایک ممکنہ وضاحت ہو سکتی ہے کہ ممالیہ جانوروں میں مادہ زیادہ عرصہ کیوں زندہ رہتی ہیں، جبکہ پرندوں میں نر زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔‘
تاہم 2025 میں شائع ہونے والی اُن کی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس کہانی میں اس سے بھی زیادہ پیچیدگی موجود ہے۔
guenterguni/Getty Images
وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں معلوم ہوا کہ مونوگیمس انواع میں نر اور مادہ کے درمیان زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن نان مونوگیمس انواع، مثلاً گوریلا اور شیر، جہاں نر کئی مادہ کے لیے مقابلہ کرتے ہیں، وہاں یہ فرق کہیں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔‘
ان کے خیال میں ایسی انواع میں نر ارتقائی طور پر زیادہ توانائی طلب کاموں، جیسے بڑا جسم بنانا یا بڑے سینگ اُگانے، کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ ماداؤں کو متوجہ کر سکیں۔
دوسری طرف، مادہ کے معاملے میں ارتقا نے شاید مختلف راستہ اختیار کیا۔
پروفیسر سٹارک کہتی ہیں کہ ایک نظریہ یہ ہے کہ ان انواع میں جہاں مادہ بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں ’خاص طور پر انسانوں یا بڑے بندروں جیسی طویل العمر انواع میں، ماں کے لیے زیادہ عرصہ زندہ رہنا فائدہ مند ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی اولاد کو بلوغت تک پہنچا سکیں۔‘
طویل اور بہتر
لیکن یہ سب خواتین کے لیے اچھی خبریں نہیں۔
اگرچہ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ عرصہ زندہ رہتی ہیں لیکن تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے دوران غیر مہلک بیماریوں کا زیادہ سامنا کرتی ہیں، جیسے کمر کے نچلے حصے کا درد، ڈپریشن، اور سر درد وغیرہ۔
پروفیسر ہارپر وضاحت کرتی ہیں کہ ’خواتین میں مدافعتی ردِعمل زیادہ مضبوط ہوتا ہے لیکن یہی چیز بعض اوقات سوزش سے متعلق بیماریوں کا باعث بھی بن سکتی ہے۔‘
وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’یقینا، ہمارے عضلاتی اور ہڈیوں کے نظام مردوں کے مقابلے میں کچھ کم مضبوط ہوتے ہیں۔‘
The Good Brigade/Getty Images
وہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں کہ ’مردوں کی حیاتیاتی ساخت انھیں موت کے لیے زیادہ حساس بناتی ہے جبکہ خواتین کی حیاتیاتی ساخت انھیں معذوری کے لیے زیادہ حساس بناتی ہے۔‘
تاہم تینوں ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہماری حیاتیاتی خصوصیات لازماً ہماری تقدیر کا تعین نہیں کرتیں۔
بوراس وضاحت کرتی ہیں کہ ’حیاتیاتی فرق ماحول اور رویہ جاتی عوامل سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ خواتین اور مرد دونوں کو خوراک، ورزش، نیند اور تناؤ کی سطح جیسے عوامل پر توجہ دینی چاہیے، صرف ’زیادہ عرصہ زندہ رہنے‘ کے لیے نہیں بلکہ ’بہتر زندگی گزارنے‘ کے لیے بھی۔
کیا عورتیں فطری طور پر مردوں سے زیادہ ہمدرد اور چہرہ شناس ہوتی ہیں؟مردوں کو بعض خواتین کی بو بھی پرکشش لگتی ہےمیں نے خواتین کے دماغ کا 20 سال مطالعہ کرنے کے بعد کیا سیکھا؟آرگیزم گیپ کیا ہے اور خواتین میں ہیجانِ شہوت کی شرح کم کیوں ہے؟117 سالہ خاتون پر ہونے والی تحقیق جس نے دلچسپ حقائق سے پردہ اٹھایا اور جن کی حیاتیاتی عمر 23 سال کم نکلیکیا ’بیوی کا زیادہ کمانا شوہر کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتا ہے؟