پاکستان نے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحدی علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’درستگی کے ساتھ‘ اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے 26 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے پاک-افغان سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ماسٹر مائنڈز اور منصوبہ سازوں کے ٹھکانوں پر درستگی سے حملے کرتے ہوئے 26 خوارج کو ہلاک کیا ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے سرکاری سطح پر ’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے نتیجے میں کی گئی ہیں جن میں نو جون کو موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری پوسٹ پر حملہ، دو جون کو شمالی وزیرستان میں ایک فوجی چوکی پر اور نو مئی 2026 کو بنوں میں پولیس سٹیشن پر گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے خودکش حملے شامل ہیں۔
اس سے قبل افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان نے منگل اور بدھ کی درمیانی رات افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور ڈیورنڈ لائن کے قریب کئی مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے مبینہ طور پر چند بچوں کی تصاویر شیئر کیں اور الزام عائد کیا کہ ان کی ہلاکت پاکستانی حملوں میں ہوئی ہے۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ ’گذشتہ رات پاکستانی فوج نے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں میں شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ اِن حملوں میں ’11 بچے، ایک خاتون اور ایک عمر رسیدہ شخص کی ہلاکت ہوئی ہے۔‘
بی بی سی پاکستان اور افغانستان کی جانب سے دیے گئے ہلاکتوں کے اعداد و شمار اور اس سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔
بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے خوست میں گورنر آفس کے ترجمان نے بتایا کہ ایک حملے میں خوست کے ضلع سپیرا کے ایک گاؤں میں نو افراد ہلاک اور دس زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، پکتیکا کی سرحد خوست سے ملتی ہے۔ برمل ضلع کے ایک رہائشی نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ فضائی حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لگ بھگ ایک بجے کے قریب ہوا۔
یاد رہے کہ گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپیں اور فضائی حملے جاری ہیں جن میں اب تک دونوں ممالک کے حکام کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستان طالبان حکومت پر اُن شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جو پاکستان پر حملے کرتے ہیں جبکہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان ماضی میں متعدد مرتبہ پاکستان، افغانستان کے سرحدی علاقوں میں حملے کر کے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کی تصدیق کر چکا ہے۔ تاہم افغان طالبان ہمیشہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان حملوں میں مارے جانے والے افراد عام شہری ہوتے ہیں۔
پاکستانی وزیرِ اطلاعات کے بیان میں مزید کیا کہا گیا ہے؟Getty Imagesعطا اللہ تارڑ: ’پاکستان کے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے‘
گذشتہ رات کی گئی پاکستانی فوج کی کارروائی سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ یہ کارروائی مصدقہ انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی گئی جس میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں میں ٹی ٹی پی ’کمانڈر علیم خان خوشحالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل سے تعلق رکھنے والے ایک تربیتی مرکز، ایک خفیہ ٹھکانے اور گولہ بارود کے ذخیرے اور مرکز سمیت چار اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔‘
وزیرِ اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
افغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاعپاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیںپاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟
افغان اُمور کے ماہر صحافی طاہر خان نے ایکس پر دعویٰ کیا کہ ’افغانستان پر تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چین ’ارمچی امن عمل‘ کے تحت مذاکرات کے دوسرے دور کے انعقاد کی کوششیں کر رہا ہے اور منگل کو ہی پاکستان اور افغانستان کے حکام استنبول میں ملاقات کر چکے ہیں۔‘
واضح رہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی گذشتہ کچھ عرصے میں بڑھی ہے جس کے دوران پاکستان نے افغانستان کی سرحدی حدود میں متعدد حملے کیے ہیں۔
گذشتہ روز (نو مارچ 2026) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان اور انڈین نمائندوں نے مارچ 2026 میں کابل پر پاکستان حملوں پر سخت تنقید کی تھی جس کے جواب میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا تھا کہ ’مارچ میں کی گئی کارروائیوں سمیت پاکستان کے تمام اقدامات صرف افغانستان سے سرگرم دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچے کے خلاف تھے، اور ان کا مقصد افغان عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔‘
اُن کے مطابق ان کارروائیوں میں ’ڈرون ذخیرہ گاہوں، تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہو رہے تھے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال فروری میں افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت پاک افغان سرحد کے قریب واقع مرکزی شہروں قندھار اور پکتیا میں فضائی حملے کیے ہیں۔ پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے ان مقامات پر دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد مارچ میں طالبان حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل میں نشے کے عادی افراد کے بحالی مرکز کو پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایک فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور 'دہشت گردوں کے مراکز' کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس حملے میں تصدیق شدہ ہلاکتوں کی تعداد 269 ہے۔
یاد رہے کہ ان جھڑپوں اور تشدد کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان راستے کافی عرصے سے بند ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بند ہو کر رہ گئی ہے۔
افغانستان کا روس کے ساتھ ’تکنیکی فوجی‘ معاہدہ: ’پاکستان دوبارہ حملہ کرنے کی جرات نہ کرے‘، طالبان وزیر دفاعپاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟پاکستان کے کابل، قندھار پر فضائی حملے: کیا ان حملوں سے پاکستان اپنے مقاصد حاصل کر پائے گا یا پھر حقیقی جنگ کا خطرہ بڑھے گا؟کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 269 افراد کے اہلخانہ اپنے سوالوں کا جواب چاہتے ہیں