’یہ گول رونالڈو جیسے کھلاڑی ہی کر سکتے ہیں‘: نوشکی کے پتھریلے میدانوں سے پاکستان کو 74 برس بعد فٹبال ٹورنامنٹ جتوانے والے شہک بلوچ

بی بی سی اردو  |  Jun 13, 2026

’ایسا گول عام طور پر رونالڈو یا اس طرح کے ماہر فٹبالر کرتے ہیں، کسی پاکستانی فٹبالر کی جانب سے ایسا مشکل گول کرنا حیران کن ہے۔‘

یہ کہنا ہے نوشکی فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر شکیل جمالدینی کا جو نوشکی سے تعلق رکھنے والے پاکستان فٹبال ٹیم کے رُکن شہک دوست بلوچ کی کارکردگی پر بہت فخر محسوس کر رہے ہیں۔

پاکستان کی فٹبال ٹیم نے بدھ کو مالدیپ میں کھیلے جانے والے چار ملکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں افغانستان کو دو، صفر سے شکست دے کر 74 برس بعد کسی بین الاقوامی فٹبال ایونٹ کے فائنل میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔

فٹبال کی عالمی تنظیم (فیفا) کی عالمی رینکنگ میں پاکستان 211 ممالک کی فہرست میں 198 ویں نمبر پر ہے، ایسے میں چار ملکی ٹورنامنٹ میں پاکستان کی کامیابی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

نوشکی سے تعلق رکھنے والے شہک بلوچ اس وقت توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بدھ کو مالدیپ کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلے گئے فائنل میں 24 ویں منٹ پر شائق بلوچ نے بائیسکل کک لگا کر پاکستانی ٹیم کو برتری دلائی جبکہ پاکستان کے لیے دوسرا بلوچ ہارون حامد نے کھیل کے آخری لمحات میں کیا۔

فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہک بلوچ نے کہا کہ 74 سال بعد فٹبال کے کسی بین الاقوامی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پاکستان کی یہ پہلی کامیابی ہے۔

شہک کے بڑے بھائی ماجد پاکو نے بتایا کہ ان کے بھائی نے جس انداز میں گول کر کے اپنی ٹیم کو کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا، اس پر ہماری خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔

ریگستان اور پتھریلے میدانوں سے فٹبال کے کھیل کا آغاز کرنے والے اس کھلاڑی نے بین الاقوامی سطح تک کامیابی کا سفر کیسے طے کیا اور کن مشکلات کا سامنا کیا، اس کے لیے بی بی سی نے شائق بلوچ اور مقامی فٹبال ایسوسی ایشن کے عہدے داروں سے بات کی۔

غربت مگر فٹبال کا شوق

شائق دوست بلوچ کا تعلق افغانستان سے متصل بلوچستان کے ضلع نوشکی سے ہے۔

24 سالہ شائق نوشکی شہر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب مغرب میں واقع کلی جمالدینی کے رہائشی ہیں۔

ان کا تعلق ضلع نوشکی میں بلوچوں کے معروف قبیلے جمالدینی سے ہے۔ انھوں نے کلی جمالدینی ہی کے ہائی سکول سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔

ان کے بڑے بھائی ماجد پاکو جو کہ خود بھی ملکی اور بین الاقوامی سطح کے فٹبالر ہیں، نے بتایا کہ شائق ہم بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہے اور 2005 میں وہ تین سال کے تھے جب ہمارے والد فوت ہوئے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماجد پاکو کا کہنا تھا کہ شائق دوست کی میٹرک کے بعد تعلیم حاصل نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ غربت تھی جبکہ دوسری وجہ ان کی فٹبال سے جنون کی حد تک محبت بھی تھی اور وہ ہر وقت اسی دُھن میں رہتے تھے۔

’وہ جیتنے کے لیے نہیں کھیلتا‘ کے طعنے کے باوجود رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کی ’اُمیدوں کا مرکز‘’کھلاڑی کو میچ سے باہر کیوں نکالا؟‘ کلب کے صدر نے ریفری کو مُکا دے ماراکرسٹیانو رونالڈو: ’فٹبال کی تاریخ کے مکمل کھلاڑی‘ جنھوں نے کھیل کے میدان سے باہر کاروباری سلطنت بھی قائم کیپہلا فیفا ورلڈ کپ: تاریخی گول، طوفان، بحری سفر اور 13 ٹیموں کی شرکت کی کہانی

شائق دوست نے بتایا کہ ’میں نے فٹبال کا آغاز بالاچ فٹبال کلب جمالدینی سے کیا۔ اس کے بعد میں بلوچستان کی سطح پر کھیلا اور انڈر 19 کے لیے پنجاب کے شہر لیَہ میں ٹرائل دے کر سلیکٹ ہوا۔‘

بعد میں ان کی سلیکشن واپڈا کی ٹیم میں ہوئی اور اس کے بعد پاکستان کی سینیئر ٹیم کا حصہ بن گئے۔

وہ 23-2022 میں چیلنج فٹنال کپ جیتنے والی واپڈا کی ٹیم کا حصہ تھے۔ 2025 میں جو سی ایم بلوچستان گولڈ کپ منعقد ہوا وہ نہ صرف ان کی ٹیم نے جیت لیا بلکہ وہ11 گول کے ساتھ ٹورنامنٹ کے ٹاپ سکورر رہے۔

شائق بلوچ کی ٹیم نے سنہ 2026 کا چیلنج کپ بھی جیتا، جس میں اُنھوں نے 13 گول کیے۔

شائق بلوچ کے مطابق اُنھوں نے افغانستان پریمیئر لیگ میں بھی حصہ لیا اور سات گول سکور کیے جبکہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں بھی آٹھ گول کیے۔

وہ اب تک سعودی عرب، نیپال، مالدیپ، بحرین اور انڈیا سمیت تقریباً 20 ممالک میں فٹبال کھیلنے گئے ہیں۔

مالدیپ میں بین الاقوامی ٹورنامنٹ میں کن ممالک نے حصہ لیا؟

مالدیپ میں رواں مہینے کے آغاز میں ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل فٹبال ٹورنامنٹ کے نام سے بین الاقوامی ایونٹ میں چار ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔

ان میں پاکستان کے علاوہ مالدیپ، بنگلہ دیش اور افغانستان کی ٹیمیں شامل تھیں، فائنل کے لیے پاکستان اور افغانستان نے کوالیفائی کر لیا۔

فائنل میں پہلا گول شائق دوست نے ایک مشکل کک کے ذریعے کیا جسے اوورہیڈ یا بائیسکل کک کہا جاتا ہے۔ شائق بلوچ پلیئر آف دی میچ رہے۔

شائق بلوچ کے بڑے بھائی ماجد پاکو نے بتایا کہ دنیا میں فٹبال کے کھلاڑیوں کو جو سہولیات دستیاب ہیں نوشکی میں ان کا تصور بھی ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب شائق چھوٹے تھے تو انھوں نے کلی جمالدینی میں ریت اور پتھروں میں فٹبال کھیلی۔ چونکہ ان میں فٹبال کے لیے حد سے زیادہ جنون تھا اس لیے مشکلات یا سہولیات کی کمی ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنی۔

ماجد پاکو کا کہنا تھا چونکہ میں خود فٹبالر تھا اس لیے جتنا مجھ سے ہو سکتا تھا میں نے بھی ان کی تربیت کی۔

شکیل جمالدینی ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن نوشکی کے صدر ہیں۔ فٹبال کے معروف کھلاڑی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ شائق کے سکول میں ٹیچر بھی رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سکول میں بریک کے دوران یا اس کے بعد میں جب میں شائق کو فٹبال کھیلتے ہوئے دیکھتا تھا تو مجھے ان میں ٹیلنٹ بہت نظر آتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ شائق بلوچ کو بچپن سے ہی فٹبال کا شوق تھا اور انھوں نے بین لاقوامی سطح تک کامیابی کے لیے اسی کھیل کو اپنا سب کچھ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بڑے بھائی ماجد پاکو بھی پاکستانی ٹیم کا حصہ رہے اس لیے شائق کو ان کی بھی سرپرستی حاصل رہی۔

شکیل جمالدینی کے مطابق شائق کو اپنی محنت کی وجہ سے جہاں بھی موقع ملتا تھا تو وہ بھرپور ٹیلنٹ دکھاتے، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف پاکستان کے ٹیم کا حصہ بن گئے بلکہ ان کے لیے بین الاقوامی سطح پر کھیلنے کی بھی راہ ہموار ہو گئی۔

ماجد پاکو کہتے ہیں کہ مالدیپ میں فائنل میں جس مشکل کک کے ذریعے شائق نے پہلا گول کیا اور پھر ان کے محنت کے نتیجے میں ان کی ٹیم کو جو کامیابی ملی اس پر ہمارے خاندان کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ہماری والدہاور شائق کی اپنی محنت کا نتیجہ تھا کہ ان کو اتنی بڑی کامیابی ملی۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستانی ٹیم کو فائنل جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کے خلاف شاندار فتح پوری قوم کے لیے فخر اور مسرت کا باعث ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنے باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے مستقبل میں بھی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر بھی پاکستان فٹبال ٹیم کی اس کامیابی پر لوگ خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

احسن خان نامی صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کے پاس اس خاص کھیل میں بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے خاص طور پر لیاری اور مکران کے لوگ پیدائشی فٹبالر ہیں۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں فٹبال ٹیم کی کامیابی کو اس کھیل میں پاکستان کے ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا گیا۔

پاکستان فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر سید محسن گیلانی نے ٹیم کی کامیابی پر کہا کہ پاکستان فٹبال عالمی سطح پر پہنچ چکی ہے، آگے اس سے بھی مزید اچھے نتائج آئیں گے۔

عمر عبدالقادر: صومالیہ کے پہلے ورلڈ کپ ریفری جنھیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا’دی گریٹ گاما‘: اس ناقابل شکست پہلوان کی کہانی جو دن میں چھ مرغے کھاتا اور 15 گھنٹے ورزش کرتا تھا’وہ جیتنے کے لیے نہیں کھیلتا‘ کے طعنے کے باوجود رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کی ’اُمیدوں کا مرکز‘’کھلاڑی کو میچ سے باہر کیوں نکالا؟‘ کلب کے صدر نے ریفری کو مُکا دے ماراپہلا فیفا ورلڈ کپ: تاریخی گول، طوفان، بحری سفر اور 13 ٹیموں کی شرکت کی کہانی
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More