’یوٹیوب سے پہلی بار 100 ڈالر آئے، سُنا ہے اب اس پر بھی ٹیکس لگے گا‘: حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہونے والی آمدن پر ٹیکس کیسے اکٹھا کرے گی؟

بی بی سی اردو  |  Jun 15, 2026

Getty Images

’یوٹیوب سے پہلی بار صرف سو ڈالر آئے ہیں۔ اب سنا ہے اس پر بھی ٹیکس لگنے والا ہے۔‘ مریم کا شمار اُن افراد میں ہوتا ہے جو پاکستان کی بڑھتی ڈیجیٹل مارکیٹ میں اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’نوکری کا کیا ہے، یہ تو کبھی بھی ختم ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ کر ایک سال پہلے یوٹیوب پر چینل بنایا۔ ِخود ہی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتی ہوں۔‘

تاہم اب پاکستان حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ڈیجیٹل پلیٹ فارم جیسے یوٹیوب، فیس بک اور ٹک ٹاک سے حاصل ہونے والی آمدن پر پانچ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بینک یا دیگر مالیاتی ادارے جن کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کمائی گئی آمدن منتقل ہوتی ہے وہ ٹیکس کاٹ کر بقیہ رقم صارف کو ادا کریں گے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے جیسے کسی تنخواہ دار شخص کو ماہانہ تنخواہ ٹیکس کاٹنے کے بعد ہی ادا کی جاتی ہے۔

اکنامک سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ملک میں انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا کی رسائی عام ہونے کے سبب حالیہ کچھ برسوں کے دوران پاکستان میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کانٹیٹ بنا کر کمانے کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔

ان پلیٹ فارمز پر فعال ہونے اور باقاعدگی سے مواد شیئر کرنے سے جہاں نوجوان اپنے ہنر اور صلاحیتوں کی بدولت مقبول ہو رہے ہیں وہیں دوسری جانب یہ یہ پلیٹ فارمز ان کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنتے جا رہے ہیں۔

روایتی طور پر رائج میڈیا بشمول اخبار، ٹی وی اور بل بورڈز وغیرہ کے ساتھ ساتھ اب سوشل میڈیا کے ذریعے بھی تشہیری مہم عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوٹیوب اور فیس بک جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے کانٹینٹ بنا کر پیسے کمانے کے لیے مختلف پالیسز میں ترامیم بھی کرتے رہتے ہیں۔

Getty Images

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعداد وشمار کے مطابق ملک کی 25 کروڑ کی آبادی میں سے 15 کروڑ افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ انڈیا میں بھی اردو اور پنجابی سمجھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں کانٹینٹ بنانے والوں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ہے جس کی پہنچ یا رییچ کافی اچھی ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم گوگل نے گذشتہ سال پاکستان میں اپنا مقامی دفتر کھولنے کے لیے رجسٹریشن کروائی ہے۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اب ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کمانے والے افراد کی آمدن کو ٹیکس نظام کے دائرہکار میں لانا چاہتی ہے اور اس کے لیے پہلے مرحلے میں کانٹینٹ بنا کر کمائے گئی آمدن پر ٹیکس لگایا گیا۔

پاکستان میں کانٹینٹ بنانے کی مارکیٹ کتنی بڑی ہے اور حکومت اس ٹیکس پر عملدرآمد کیسے کر سکتی ہے، یہی سمجھنے کے لیے ہم نے کانٹیٹ بنانے والے انفلوئنسرز اور ڈیجیٹل میڈیا ماہرین سے بات کی لیکن پہلے یہ جانتے ہیں کہ کانٹینٹ بنا کر کیسے اور کتنے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔

سوشل میڈیا سے آمدن کیسے ہوتی ہے؟

پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی نے نوجوانوں کے لیے نہ صرف تعلیم، آگاہی اور تفریح کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں بلکہ ایک ایسے ملک میں جہاں روزگار کے مواقع کم ہیں وہاں ڈییجٹل پلیٹ فارمز نے انھیں آمدنی کے نئے ذریعے بھی مہیا کیے ہیں۔

ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب ملک میں کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔

یوٹیوب کی مانیٹائیزیشن کے لیے ضروری ہے کہ ایک سال میں چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد کم از کم ایک ہزار ہو اور کم سے کم چار ہزار گھنٹے ویڈیوز واچ ٹائم (دیکھنے کا دورانیہ) پورا ہو چکا ہو۔ اگر کوئی چینل ان شرائط پر پورا اترتا ہے تو وہ مانیٹائیزیشن کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

گوگل پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ایک ہزار چینلز ایسے ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد دس لاکھ ہے جبکہ ایک لاکھ سے زائد سبسکرائبرز والے 13 ہزار یوٹیوب چینلز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ 95 ہزار چینلز ایسے ہیں جن کے سبسکرائبرز کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہے۔

گوگل کے کنٹری ڈائریکٹر فرحان قریشی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی کانٹینٹ بنانے والوں کی ویڈیوز بڑی تعداد میں پاکستان سے باہر بھی دیکھی جاتی ہیں۔ اُن کے مطابق یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی تخلیق کار دنیا سے مخاطب ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں یوٹیوب کا ادائیگی کا ریٹ مختلف ہے۔

بیرون ملک جانے کے طریقے بتانے والے سوشل میڈیا انفلوئنسر: ’لوگوں کو ان ویڈیوز کے بدلے کچھ نہیں دینا پڑتا‘بلاگرز کو ٹکر دینے والی ورچوئل انفلوئنسر مایا کون ہیں؟امدانی برادران: نوجوان سرمایہ کار جن کا منفرد کاروباری تصور دنیا میں مقبول ہواپاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟’مختلف طرح کے مواد کا آر پی ایم الگ ہوتا ہے‘

عمران احمد ایک ڈیجٹیل میڈیا ایجنسی سے وابستہ سٹرٹیجیسٹ ہیں۔ اُن کی کمپنی مختلف یوٹیوبرز کے اکاؤنٹس کے معاملات دیکھتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب ہی وہ واحد پلیٹ فارم ہے جہاں سے براہ راست آمدنی ہوتی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں یوٹیوب کا آر پی ایم (ریوینیو پر مائل) ایک ہزار ویوز پر چھ امریکی سینٹ ہے یعنی اگر کسی ویڈیو پر دس لاکھ ویوز آئے تو اس پر 600 ڈالر آمدن ہو گی۔

عمران احمد بتاتے ہیں کہ مختلف طرح کے مواد کا آر پی ایم الگ الگ ہوتا ہے جیسے ٹیکنالوجی اور تعلیم پر بننے والی ویڈیوز کا ریٹ زیادہ ہے۔

ان کے مطابق یوٹیوبرز کی نئی ویڈیوز کے ساتھ پرانی ویڈیوز بھی سرکولیشن میں رہتی ہیں، اُن پر نئے ویوز آتے رہتے ہیں اور آمدن ہوتی رہتی ہے۔

عمران کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی آمدنی میں نئی اور پرانی ویڈیو سے ہونے والی کمائی کا تناسب 40 اور 60 فیصد ہوتا ہے۔

پاکستان میں یوٹیوب کے علاوہ فیس بک بھی کانٹینٹ کریئیٹرز میں کافی مشہور ہے۔ فیس بک نے کچھ سال قبل ہی پاکستان میں مانٹیائزیشن پالیسی شروع کی لیکن پاکستان میں فیس بک کا ریٹ بہت کم ہے۔

ٹاک ٹاک کی تاحال پاکستان کے لیے مانیٹائیزیشن پالیسی نہیں اور پاکستانی کانٹینٹ بنانے والے بیرونِ ملک اس کی رجسٹریشن کے ذریعے ہی مانیٹائیزیشن کر سکتے ہیں۔

Getty Imagesنوجوان نسل، سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور کانٹنٹ بنانے والوں کی مقبولیت

موجودہ دور میں سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا ایک اہم ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں ہوں یا نئے سٹارٹ اپس سب ہی سوشل میڈیا مارکیٹنگ کو کافی اہمیت دیتے ہیں کیونکہ نوجوان آبادی کی اکثریت انھی پلیٹ فارمز پر سرگرم ہے۔

نوجوانوں پر مبنی پاکستان کی آبادی کی اکثریت کے پاس انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا موجود ہے۔

پاکستانی تھینک ٹینک اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ںے ڈیٹا ریپورٹل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد سات کروڑ99 لاکھ ہے۔ یہ پاکستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً 31 فیصد ہے۔

ڈیٹا ری پورٹل ایک مشہور آن لائن ریفرنس لائبریری ہے جو عالمی ڈیجیٹل رجحانات، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے استعمال اور ای کامرس کے اعدادوشمار پر جامع رپورٹس شائع کرتی ہے۔

ڈیٹا ریپورٹل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یوٹیوب استعمال کرنے والوں کی تعداد پانچ کروڑ 59 لاکھ جبکہ فیس بک استعمال کرنے والوں افراد کی تعداد چار کروڑ 94 لاکھ ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں باقاعدگی سے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے فعال صارفین کی تعداد ایک کروڑ 16 لاکھ ہے، یہ ایسے صارفین ہوتے ہیں جن کے پاس ہمہ وقت انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہوتی ہے۔

اگرچہ پاکستان میں یوٹیوب استعمال کرنے والے صارفین سے متعلق اعدادوشمار دستیاب ہیں لیکن کتنے انفلوئنسرز یوٹیوب سے پیسے کماتے ہیں لیکن اس بارے میں کوئی مستند ریسرچ یا ڈیٹا موجود نہیں۔

ان پلیٹ فارم سے حاصل ہونے والے آمدن کا اندزہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں روایتی نیوز اور تفریحی چینلز کے سوشل میڈیا سبکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

Getty Imagesٹیکس لگانے سے حکومت کو کتنا فائدہ ہو گا؟

شہزاد غیاث شیخ یوٹیوب پر اپنے چینل ’دی پاکستان ایکسپیرئنس‘ پر ہفتہ وار ویڈیو پوڈ کاسٹ شائع کرتے ہیں اور اُن کے یوٹیوب پر سبکرائبرز کی تعداد تین لاکھ 43 ہزار ہے۔

شہزاد کا کہنا ہے کہ اُن کے اندازے کے مطابق سوشل میڈیا پر پاکستانی کانٹینٹ انڈسٹری کا حجم تقریباً 10 کروڑ ڈالر ہے اور اگر اس کا پانچ فیصد بھی ٹیکس لے لیا جائے تو بھی حکومت کو زیادہ آمدن نہیں ہو گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہزاد نے بتایا کہ پاکستان میں انفرادی طور پر کانٹینٹ بنانے والے بعض افراد کی آمدن بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ کانٹینٹ بنانے والوں کی سالانہ آمدنی ممکنہ طور پر پانچ لاکھ ڈالر سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے جو کسی بھی شخص کے لیے اچھی خاصی آمدن ہے۔

انٹرٹینمنٹ چینلز کی ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ ایک کارکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ روایتی ٹی وی چینلز یا نیوز چینلز کی سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدن ٹی وی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اکثر ایسے سوشل میڈیا چینلز جن کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے وہ بیرونِ ملک رجسٹرڈ ہیں اور اُن کو ریونیو بھی پاکستان میں نہیں آتا۔

Getty Imagesسوشل میڈیا سے حاصل آمدن پر ٹیکس کا نفاذ اور چیلنجز

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر مواد بنانے والے اکثر بڑے انفلوئنسرز کے اکاؤنٹس پاکستان سے باہر رجسٹرڈ ہیں اور ان کی آمدن پاکستان بینکوں میں آنے کے بجائے ڈیجیٹل والٹ میں جاتی ہے۔

پاکستان میں ٹیکس پالیسیاں نافذ کرنے اور ٹیکس وصولی کے ذمہ دار ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے ایک سینیئر اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اکثر افراد کی آمدن پاکستان سے باہر کسی اکاؤنٹ میں جاتی ہے جسے بعد میں ترسیلاتِ زر کے طور پاکستان بھجوایا جاتا ہے۔

ایسے میں زیادہ آمدن کمانے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانا بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

شہزاد غیاث کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ایسی ٹیکس پالیسی جس میں اخراجات کو مدِ نظر رکھے بغیر آمدنی پر ٹیکس لگایا جائے وہ غیر دانشمندانہ دکھائی دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مثال کے طور پر، اگر کسی یوٹیوب چینل کی ماہانہ آمدن 10 لاکھ روپے ہو لیکن اس کے اخراجات 9 لاکھ روپے ہوں، تو اس کی حقیقی آمدنی صرف 1 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ایسے میں اگر دس لاکھ آمدن پر پانچ فیصد ٹیکس کاٹا جائے تو یہ پانچ فیصد نہیں بلکہ 50 فیصد ہو گا۔‘

شہزاد کے مطابق پاکستان میں ماہانہ ایک لاکھ روپے کمانے والے کا ٹیکس کم ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس قسم کی پالیسیاں کانٹینٹ کریئیٹرز کی جانب سے اپنی آمدنی بیرونِ ملک منتقل کرنے کی وجہ بن سکتی ہیں جن میں غیر ملکی بینک اکاؤنٹس یا ڈیجیٹل والٹس شامل ہیں جو پاکستانی ٹیکس حکام کی دسترس سے باہر ہیں۔

ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے سوشل میڈیا سے حاصل آمدن پر ٹیکس لگانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا ہے۔

ایک سینیئر ایف بی آر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلے تو یہ سوچا گیا تھا کہ ویوز کی تعداد کو دیکھ کر ٹیکس عائد کیا جائے یا سبسکرائبرز کی تعداد کو دیکھ کر ٹیکس لگایا جائے لیکن یہ کافی مشکل ہے اور اس میں وقت درکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ پھر حکومت نےپہلے مرحلے میں صرف آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی۔

’پہلے انفلوئنسرز کو مراعات دیں اور پھر انھیں رجسٹر کریں‘Getty Images

طفیل احمد خان گلوبل فری لائنسرز ایسوسی ایشن نامی تنظیم کے اعزازی صدر ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو پہلے مرحلے میں سوشل میڈیا سے حاصل آمدن پر ٹیکس لگانے کے بجائے انفلوئنسرز کو مراعات اور سہولیات دے کر انھیں رجسٹر کرنا چاہیے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کر رہا ہے تو ٹیکس تو دینا ہو گا لیکن ٹیکس کیسے جمع ہو گا یہ ایک چیلنج ہے۔‘

طفیل احمد نے بتایا کہ دنیا بھر میں حکومتیں کانٹیٹ بنانے والوں کو پہلے کچھ سہولیات دیتی ہیں اور پھر اُن سے ریونیو بھی لیتی ہیں۔ انھوں نے اس ضمن میں دبئی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دبئی نے پہلے کانٹینٹ کریئیٹر حب بنایا اور اس سلسلے میں انھوں نے ’بلین سبسکرائبر کانفرنس‘ کروائی جس میں دنیا بھر سے کانٹینٹ بنانے والوں کو بلوایا گیا، انھیں یو اے ای کا گولڈن ویزا دیا گیا اور پھر ان کی لائسنسگ کی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ماڈل کے ذریعے انھوں نے قانون نافذ کیا کہ جو بھی کانٹینٹ بنانے والا یو اے ای کی زمین استعمال کرے گا، اسے فیس ادا کرنی ہو گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستانی حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے مرحلے میں ملک میں موجود انفلوئنسرز کو کسی فورم پر جمع کرتے، ان کی رجسٹریشن کرتے تاکہ کچھ ڈیٹا تو جمع ہوتا اور اُس کے بعد انھیں لائسنس جاری کیا جاتا۔‘

شہزاد غیاث کا کہنا ہے کہ فری لانسنگ اور کانٹینٹ سے ہر سال لاکھوں ڈالر پاکستان آتے ہیں، اس صنعت کو سمجھے بغیر یا اس صنعت سے وابستہ افراد اور ماہرین سے مشاورت کیے بغیر بنائی گئی پالیسیاں حکومت اور صنعت دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

مریم جن کی سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی آمدن ابھی بہت کم ہے، کہتی ہیں کہ انھیں ٹیکس دینے پر اعتراض نہیں لیکن ٹیکس جس طریقے سے لگایا جا رہا ہے وہ صحیح نہیں۔

اُن کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ اُن افراد سے ٹیکس لے جن کے سبکرائبرز 50 ہزار سے زیادہ ہوں۔

مریم کہتی ہیں کہ جن کا ابھی کام شروع ہی ہوا، اُن پر ٹیکس لگانا اُن کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔

ہر روز ایک نیا بزنس: پاکستانی یوٹیوبر جو نوجوانوں کو محنت طلب کاروبار کے گُر سکھاتے ہیںپاکستان میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل میں کیا خاص ہے؟ڈکی بھائی کا دورانِ حراست تشدد اور رشوت وصولی کا الزام: ’سات سالہ بچے کو ویڈیو کال پر لے کر مجھ پر تشدد کیا گیا‘’وہ میری زندگی کی بدترین رات تھی جب میں نے ایک لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ جیتے‘’مسٹر بیسٹ‘: قانونی تنازعات کے باوجود دنیا کے سب سے معروف یوٹیوبر کے سبسکرائبرز بڑھتے کیوں جا رہے ہیں؟پاکستان میں کرپٹو کونسل کے قیام کی ضرورت کیوں پیش آئی اور یہ ملک کے لیے کتنا فائدہ مند ثابت ہو گا؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More