ایران، امریکہ یادداشت کے بعد ’پاکستان خطے میں مستقل سٹیک ہولڈر‘: اسلام آباد کی سفارتی کامیابی اس کے اپنے پڑوسیوں سے تعلقات بہتر بنائے گی؟

بی بی سی اردو  |  Jun 20, 2026

Getty Images

پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد جہاں سوئٹزر لینڈ میں مذاکراتی دور ملتوی کیا گیا ہے تو وہیں حتمی معاہدے کے لیے کئی پیچیدہ معاملات حل طلب ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بدھ کو اعلان کیے گئے مفاہمتی معاہدے کا مطلب عملی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور تقریباً تمام دیگر معاملات پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ’آبنائے ہرمز کی بندش‘ سے متعلق میڈیا کی بعض خبروں کو مسترد کیا ہے۔ پاسداران انقلاب کے قریبی ذرائع ابلاغ اور ایران کے سکیورٹی ذرائع نے اپنی رپورٹوں میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی خبریں نشر کیں تھیں۔

فروری کے آخر میں شروع ہونے والے تنازع کے دوران پاکستان نے بطور ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی کی اور اب جب مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں، تو اسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی فتح بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

مگر اس سفارتی کامیابی کے باوجود گذشتہ کئی ماہ سے اسلام آباد کے اپنے دو پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

پہلا پڑوسی افغانستان ہے جس نے جمعے کو یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کیے گئے ’فضائی حملوں‘ میں شدت پسند تنظیم داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایکس پر جاری ایک فیکٹ چیک رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے ڈرون حملوں سے متعلق کیے گئے دعوؤں کو مسترد کیا گیا ہے۔

دوسرا پڑوسی انڈیا ہے جس کے بارے میں حال ہی میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر‘ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا مراسلہ سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔

مئی 2025 کے دوران پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ فوجی لڑائی کے بعد پاکستان کی طرف سے بارہا یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ نئی دہلی ’پانی کو بطور ہتھیار استعمال‘ کر رہا ہے۔ خیال رہے کہ اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کر دیا تھا۔

تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوچکے ہیں تو کیا اسلام آباد کی موجودہ ساکھ اسے افغانستان اور انڈیا سے اپنے معاملات درست کرنے میں مدد دے سکتی ہے؟

بی بی سی اردو نے ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے امریکی خارجہ پالیسی اور پاکستان کے معاملات پر نظر رکھنے والے ماہرین سے بات کی۔

ایران، امریکہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد پاکستان کا کردار

خارجہ پالیسی ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کروا کر ایک کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہ خطے میں پاکستان کا ایک مستقل کردار دیکھ رہے ہیں۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ پالیسی کونسل کے سینیئر ریذیڈنٹ فیلو ڈاکٹر کامران بخاری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ امریکہ کی بین الاقوامی سوچ بدل رہی ہے اور وہ اپنا علاقائی بوجھ دیگر ممالک کے ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔

’امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی پالیسیاں دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کوئی ایک دفعہ کا معاملہ نہیں تھا بلکہ خطے میں پاکستان کا کردار ایک مستقل سٹیک ہولڈر کا ہوگا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے معاملات ختم نہیں ہوں گے اور امریکہ کا چاہے گا کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر تہران کے معاملات دیکھے۔

Getty Images

’دراصل امریکہ چاہتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سکیورٹی کی ذمہ داری خود لیں اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کے بعد اسلام آباد کا مشرقِ وسطیٰ میں بھی کردار بڑھ گیا ہے اور امریکہ چاہے گا کہ پاکستان یہ کردار نبھاتا رہے۔‘

دیگر تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے خود کو خطے کے ’بڑے سکیورٹی سٹرکچر کا حصہ‘ بنا لیا۔

یونیورسٹی آف برمنگھم سے منسلک محقق عمر کریم کہتے ہیں کہ ’یہ پاکستان کی ناقابلِ تردید کامیابی ہے کہ اس کے فیصلہ سازوں نے خود کو مشرقِ وسطیٰ کے وسیع سکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بنا لیا۔‘

ان کے بقول ’اب اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کوئی بیرونی عناصر اس کے اس کردار پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔‘

رواں برس اپریل میں سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے تصدیق کی تھی کہ پاکستان نے دو طرفہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنی فضائی عسکری فورس سعودی عرب بھیجی۔

عمر کریم اس پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب میں پاکستان کی عسکری موجودگی اسے سعودی عرب پر اضافی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہے اور اسے سعودی، ایران رابطہ کاری کے لیے ضروری بناتی ہے۔‘

انھیں لگتا ہے کہ پاکستان کا اثر و رسوخ ’کسی حد تک بعد میں بھی برقرار رہے گا۔‘

کیا پاکستان کی ’سفارتی فتح‘ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ معاملات درست کرنے میں مدد دے گی؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں شاید دو پڑوسیوں کے ساتھ معاملات بہتر کرنے میں اس کی زیادہ مدد نہ کریں لیکن انھیں لگتا ہے کہ بالآخر اسلام آباد اور ان دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کسی نہ کسی سطح پر ضرور جاری رہے گی۔

ٹرمپ انڈیا کے دفاع کے لیے پُرعزم: ’بدقسمتی سے انڈین میڈیا نے ٹرمپ کے مذاق کو سنجیدہ دفاعی وعدے کے طور پر پیش کیا‘تین صفحات پر مشتمل امریکہ، ایران ’مفاہمتی یادداشت‘ کے اہم نکات کیا ہیں؟ہم نے عزت تو خوب کما لی، پیسے کب کمائیں گے؟سستا ایرانی تیل یا امریکہ سے سفارتی فوائد، کیا ’مرکزی ثالث‘ پاکستان کو امن معاہدے سے کچھ ملے گا؟

گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے تاہم اسلام آباد سرکاری سطح پر متعدد مرتبہ نئی دہلی کو تمام معاملات پر مذاکرات کی دعوت دے چکا ہے۔

لیکن اس کے جواب میں انڈیا کا مؤقف سخت ہی رہا اور اس نے سندھ طاس معاہدے کو بھی یکطرقہ طور پر معطل کیا ہوا ہے۔ پاکستان اس معاملے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار برملا کر چکا ہے۔

ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’پاکستان کو معلوم ہے کہ اسے انڈیا سے بات کرنی ہے۔ دوسری جانب انڈیا کو بھی اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی کیونکہ اس کی اپنی معیشت بھی زیادہ اچھی نہیں، بیروگاری بڑھ رہی ہے اور عوام ہندوتوا کی سوچ سے اب تھک چکی ہے۔‘

برسوں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی حریف چین کے مقابلے کے لیے انڈیا کو تیار کر رہا ہے۔

تاہم ڈاکٹر بخاری کہتے ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان اب سٹریٹیجک سطح پر ایک ہم آہنگی پیدا ہو رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کی چین کو خطے میں کاؤنٹر کرنے کی پالیسی اب ختم ہو رہی ہے۔‘

Getty Images

ڈاکٹر بخاری کے مطابق انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کی بہتری کے لیے امریکہ ’پسِ پردہ سفارتی کردار ادا کرتا رہے گا۔‘

دوسری جانب خارجہ اور سکیورٹی امور پر گہری نظر رکھنے والی تجزیہ کار ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ امریکہ براہِ راست پاکستان اور انڈیا کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرے گا۔

’امریکہ اس وقت تک درمیان میں نہیں آئے گا جب تک کسی بڑے تنازع کا خطرہ نہ ہو۔‘

تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ ’ان معاملات میں امریکہ کے کسی کردار کی بات پر پاکستان تو شاید خوش ہوتا ہے لیکن انڈیا کو یہ پسند نہیں۔‘

دیگر تجزیہ کار بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حالیہ ’سفارتی کامیابی‘ شاید انڈیا کے ساتھ تناؤ کی کمی کا باعث نہ بن سکے۔

برمنگھم یونیورسٹی سے منسلک محقق عمر کریم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’پاکستان تو کسی حد تک انڈیا کے ساتھ رابطہ کاری کا آغاز کرنے کو تیار ہے لیکن انڈیا کی اس میں دلچسپی نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آخری مرتبہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان رابطہ متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں ہوا تھا، تاہم مشرقِ وسطیٰ جنگ کے تناظر میں اسلام آباد اور ابوظہبی کے درمیان تعلقات میں تنزل آیا۔‘

Getty Images

یاد رہے گذشتہ برس انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ پسِ پردہ متحدہ عرب امارات نے بھی دونوں ممالک میں کشیدگی کم کروانے میں کردار ادا کیا تھا۔

تاہم عمر کریم سمجھتے ہیں کہ ’اب یہ کردار سعودی عرب نبھا سکتا ہے لیکن اس شروعات کا دارومدار بھی اس بات ہوگا کہ انڈیا پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار بھی ہے یا نہیں۔‘

افغانستان دوسرا پڑوسی ملک ہے جس سے پاکستان کی سرحدی جھڑپیں گذشتہ کئی مہینوں میں بڑھی ہیں۔ پاکستان نے ملک کے اندر بھی عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔

تاہم افغان طالبان حکام ان پناگاہوں کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں اور اسلام آباد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔

افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی سردمہری کا شکار نظر آتی ہے۔ دو دن قبل وزیرِ دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے متعدد مرتبہ افغان طالبان سے مذاکرات کیے ہیں تاہم وہ یہ ضمانت دینے سے قاصر رہے کہ ان کی سرزمین پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔

عمر کریم کہتے ہیں کہ ’پاکستان فیصلہ کر چکا کہ اپنی موجودہ شکل میں افغانستان کی حکومت اس کی سکیورٹی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اگر غور کیا جائے تو طالبان ٹی ٹی پی کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کر رہے اور متعدد ثالثوں کی کوششیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔‘

’میرا نہیں خیال کے پاکستان کا موجودہ کردار افغانستان سے تعلقات میں کسی تبدیلی کا باعث بنے گا۔‘

تاہم ڈاکٹر کامران بخاری اس معاملے پر الگ مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میری اپنی اطلاعات یہی ہیں کہ یورپی یونین کے ممالک اور امریکہ افغانستان سے بات کر رہے ہیں۔‘

’شام کے صدر احمد الشرع اس سے قبل القاعدہ میں تھے اور اب وہ ایک ملک کے صدر ہیں۔ امریکہ بھی افغان طالبان کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ اس طریقے سے آپ بھی خود کو تبدیل کریں۔‘

’اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پاکستان کا افغانستان کے حوالے سے مسئلہ کسی نہ کسی حد تک حل ہو سکتا ہے۔‘

کیا امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اب ہمیشہ خوشگوار رہیں گے؟

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں امریکہ کو بھی اہمیت دی جاتی ہے۔

تجریہ کار سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو معلوم ہے کہ اسے امریکہ سے کیا چاہیے اور وہ اپنے موجودہ تعلق کے تحت اپنی مزید مشکلات آسان کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر سحر خان کہتی ہیں کہ ’پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت امریکی سرمایہ داری کی ہے۔ امریکہ کو اس وقت نایاب معدنیات کی ضرورت ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نے پاکستان میں اس حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔‘

تاہم دیگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات ’مستقل بنیادوں پر بہتر کرنے‘ کے لیے ابھی مزید کام کرنا ہوگا۔

ڈاکٹر کامران بخاری کہتے ہیں کہ ’زیادہ پرانی بات نہیں کہ امریکہ میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے تھے لیکن ان تحفظات کا اظہار اب نہیں ہو رہا۔‘

’اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ کی سیاسی سوچ میں تبدیلی آئی لیکن اس کی بیوروکریسی میں اب بھی پرانے عناصر موجود ہیں۔‘

’ان کی سوچ میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلی آئے گی لیکن اس کے لیے پاکستان کو اندرونی سیاسی صورتحال کو بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔ عمران خان کی جماعت کا سٹرکچر ہی ایک طریقے سے تہس نہس کر دیا گیا اور بیرونی دنیا کی اس پر بھی نظر ہے۔‘

تاہم عمر کریم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے یورپی یونین اور امریکہ سے تعلقات بہتر تو ہوئے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس سے ملک کو کیا طویل المدتی فوائد حاصل ہوں گے۔

’امریکہ اور یورپ سے پاکستان کے دو طرفہ رابطوں میں اضافہ ہوا کیونکہ وہ دونوں ہی پاکستان کے اندرونی سیاسی بحران کو نظرانداز کر رہے ہیں اور ہائبرڈ حکومت کی توثیق کرتے نظر آ رہے ہیں۔‘

’لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان کے اس نئے سفارتی کردار اور اہمیت سے دراصل ملک کی عوام کو کیا فائدہ ہوگا۔‘

’نقوی صاحب، کچھ کریڈٹ وزیراعظم شہباز شریف کو بھی دے دیں پلیز‘: امریکہ، ایران امن معاہدہ اور سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعملپاکستان کے دفاع کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص: دفاعی بجٹ میں بڑے اضافے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟’12 وارہیڈز کی تعیناتی‘: انڈیا کی جوہری صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق سپری کی رپورٹ میں کیا ہے اور اس پر پاکستان کو تشویش کیوں؟پاکستان اور انڈیا کے الزامات، بی ایل اے کا تذکرہ اور روس کی افغانستان سے جڑی تشویش: اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کے خصوصی اجلاس میں کیا ہوا؟’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More