Getty Images
سال 2025 کے بارے میں درج کرائی گئی مالیاتی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے ذریعے ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم کمائی۔
927 صفحات پر مشتمل اِن انکشافات میں انھوں نے ’سیلیبریشن کوائنز‘ نامی ایک کمپنی سے 635 ملین ڈالر رائلٹی کی مد میں موصول ہونا ظاہر کیے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ٹرمپ میم کوائن کے پیچھے یہی کمپنی ہے۔ اس میم کوائن کی قدر میں ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے چند دن پہلے تیزی آئی اور بعد میں نمایاں کمی آئی۔
ٹرمپ نے ورلڈ لبرٹی فنانشل سے 500 ملین ڈالر سے زیادہ آمدن بھی ظاہر کی۔ یہ ایک کرپٹو کرنسی فرم ہے جسے ان کے بیٹوں اور ان کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے بچوں نے قائم کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے اس بات کی تردید کی کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت سے مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ سٹاک مارکیٹوں میں بہتر ہوتے رجحانات سے ’ہر کوئی‘ فائدہ اٹھا رہا ہے اور یہ کہ وہ اپنے ذاتی مالی معاملات میں مداخلت نہیں کرتے۔
اس تازہ مالیاتی انکشاف کے بعد ان کی آمدن کم از کم 2.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ 2024 کی مالیاتی رپورٹ سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس وقت ٹرمپ نے 600 ملین ڈالر سے زیادہ آمدن ظاہر کی تھی۔
تاہم وائٹ ہاؤس بارہا اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے کاروبار اپنے بیٹوں کے زیر انتظام ایک ٹرسٹ میں رکھ دیے ہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر مفادات کے ٹکراؤ کے الزام کی تردید کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نائب پریس سیکریٹری اینا کیلی نے کہا کہ صدر نے فخر سے امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنایا۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’نہ صدر اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی مفادات کے ٹکراؤ میں حصہ لیا اور نہ ہی کبھی لیں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے تمام اقدامات امریکی عوام کے بہترین مفاد میں کیے جاتے ہیں اور اس کے برعکس دعویٰ کرنے والے نام نہاد ’رپورٹر‘ وہی پرانا اور غلط بیانیہ دہرا رہے ہیں جسے ڈیموکریٹس اور روایتی میڈیا ایک دہائی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔‘
Getty Images
خود صدر بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ان پر مفادات کے وفاقی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ٹرمپ نے بدھ کو صحافیوں سے کہا کہ ’آپ جانتے ہیں میں کیوں فائدہ اٹھا رہا ہوں کیونکہ سٹاک مارکیٹ اوپر جا رہی ہے۔ ہر کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے ذاتی (مالی معاملات) میں ملوث نہیں ہوتا۔ ہمارے پاس ایسے فنڈز ہیں جو میری دولت کا انتظام کرتے ہیں۔‘
’میں صدر بننے سے پہلے بہت پیسہ کما چکا تھا اور وہ میری دولت سرمایہ کاری میں لگاتے ہیں۔ میں ان سے اس بارے میں بات نہیں کرتا۔‘
ٹرمپ نے ماضی میں کرپٹو کرنسی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور 2021 میں بٹ کوائن کو ’دھوکہ‘ اور ’ایک ایسی آفت جو آنے والی ہے‘ قرار دیا تھا لیکن تین سال بعد صدارتی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ امریکہ کو ’دنیا کا کرپٹو دارالحکومت‘ بنانا چاہتے ہیں۔
’اُڑتا ہوا پُر تعیّش وائٹ ہاؤس‘: قطر کا امریکہ کو دیا گیا غیر مشروط مہنگا تحفہٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالاتڈونلڈ ٹرمپ: ’رنگین مزاج ارب پتی‘ شخصیت سے ’امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی مہم‘ تک
گذشتہ سال وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ان کے ابتدائی اقدامات میں سے ایک کرپٹو صنعت کی ’ذمہ دارانہ ترقی کی حمایت‘ کے لیے ایک صدارتی حکم نامہ تھا۔
جارج ڈبلیو بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کے سابق وکیل رچرڈ پینٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کا کرپٹو سے ایک ارب ڈالر کمانا ’غیر معمولی‘ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یقیناً یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے۔‘
ریمونڈ جیمز ویلتھ مینجمنٹ میں پرائیویٹ کلائنٹس کے ڈائریکٹر ول واکر آرناٹ نے کہا کہ ’میرا خیال ہے کہ ان کا طریقہ دولت کمانے کے معاملے میں سابق صدور سے مختلف ہے۔
’جمی کارٹر نے اپنی مونگ پھلی کی فارمنگ ایک بلائنڈ ٹرسٹ کے حوالے کر دی تھی اور جارج ڈبلیو بش نے صدر بننے سے پہلے ٹیکساس رینجرز میں اپنے حصص فروخت کر دیے تھے۔
’لیکن ٹرمپ بالکل مختلف انداز میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اس خاندانی کرپٹو کمپنی کے ذریعے بہت زیادہ رقم کما رہے ہیں۔‘
BBC100 ڈالر کے نوٹ ایک ارب ڈالر کی صورت میں کیسے دکھیں گے، تصویر میں دیکھیںٹرمپ بائبل، گھڑیاں اور پرفیوم
منگل کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی کرپٹو سے آمدن ان کے رئیل اسٹیٹ کاروبار کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے جس نے انھیں ابتدائی شہرت دلائی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے مار اے لاگو گالف کلب سے تقریباً 77 ملین ڈالر اور فلوریڈا کے شہر ڈورال میں واقع اپنے گالف کلب سے 122 ملین ڈالر کمائے۔
انھوں نے نیو جرسی کے بیڈمنسٹر، فلوریڈا کے جوپیٹر اور سکاٹ لینڈ کے ٹرنبیری میں واقع گالف کلبوں سے بھی 30 ملین ڈالر سے زیادہ فی کلب کمائے۔
مالیاتی انکشاف کے مطابق ٹرمپ نے دیگر کاروباری سرگرمیوں سے بھی لاکھوں ڈالر کمائے۔
ان میں ٹرمپ برانڈ کی گھڑیوں سے 4.7 ملین ڈالر رائلٹی شامل تھی اس کے ساتھ ٹرمپ برانڈ کی بائبل، ٹرینرز، پرفیوم اور گٹار بھی شامل تھے۔
خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بھی انکشاف میں 2025 کی اپنی آمدن درج کی۔
گذشتہ سال جاری ہونے والی دستاویزی فلم سے متعلق ایک ’لائسنسنگ معاہدے‘ سے انھوں نے 10.7 ملین ڈالر کمائے۔
این ایف ٹی فروخت سے چھ ملین ڈالر آمدن بھی درج کی گئی۔ یہ آن لائن فروخت ہونے والی ڈیجیٹل تصاویر ہیں۔
صدر نے مختلف قانونی کارروائیوں میں تصفیوں سے حاصل ہونے والی تقریباً 86.5 ملین ڈالر آمدن بھی ظاہر کی۔
ان میں اے بی سی کے خلاف مقدمے سے 16 ملین ڈالر، سی بی ایس براڈکاسٹنگ اور سی بی ایس انٹرر ایکٹو سے 16 ملین ڈالر، میٹا سے 24.5 ملین ڈالر، یوٹیوب سے 22 ملین ڈالر اور ایکس سے آٹھ ملین ڈالر شامل تھے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس رقم کا زیادہ تر حصہ ٹرمپ کی آئندہ صدارتی لائبریری یا واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں پارکوں کی دیکھ بھال کے لیے مختص ایک غیر منافع بخش ادارے کو دیا گیا۔
Getty Imagesصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ابھری دستخط شدہ بائبل
فوربز میگزین کی مرتب کردہ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست کے مطابق ٹرمپ کی مجموعی دولت کا تخمینہ چھ ارب ڈالر ہے، جو 2024 میں 2.3 ارب ڈالر تھا۔
بلومبرگ کے ارب پتی انڈیکس کے مطابق صدر کی مجموعی دولت 7.6 ارب ڈالر ہے۔
وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ نے کرپٹو صنعت کے لیے دوستانہ رویہ اختیار کیا، حتیٰ کہ ان کے خاندان سے منسلک کمپنیوں نے ڈیجیٹل ٹوکن بھی جاری کیے۔
مالیاتی ریگولیٹرسکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے لیے ٹرمپ کے مقرر کردہ سربراہ کو بھی کرپٹو صنعت کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ اپریل 2025 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے پال ایٹکنز نے ادارے کو اپنے پیشرو کے سخت نفاذ پر مبنی ضابطہ کاری کے طریقہ کار سے دور کر دیا ہے۔
گذشتہ جولائی کے دوران صدر نے جینیئس ایکٹ کو قانون کی شکل دی تاکہ ’امریکہ کو ڈیجیٹل اثاثوں میں ناقابل تردید رہنما بنایا جا سکے۔‘
900 سے زیادہ صفحات پر مشتمل ٹرمپ کی سالانہ فائلنگ ان کے پیش روؤں کی فائلنگز کے مقابلے میں بہت بڑی ہے۔
مثال کے طور پر، جو بائیڈن کی عہدے کے آخری مکمل سال کی مالیاتی رپورٹ صرف 11 صفحات پر مشتمل تھی۔
وائٹ ہاؤس سے حاصل ہونے والا وہ ’مالی فائدہ‘ جس کی مثال نہیں ملتی: ڈینیئل بش کا تجزیہ
ہیری ٹرومین نے جب عہدہ صدارت چھوڑا اور وہ وائٹ ہاؤس سے روانہ ہوئے تو اپنی فوجی پینشن، جو ماہانہ 113 ڈالر تھی، کے علاوہ اُن کی اور کوئی آمدن نہیں تھی۔
جارج ڈبلیو بش نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے پہلے اپنی سرمایہ کاری ایک بلائنڈ ٹرسٹ میں منتقل کر دی تھی، اور اپنے عہدے کے آخری ہفتے میں کہا تھا کہ انھیں کوئی اندازہ نہیں تھا کہ 2008 کے معاشی بحران نے ان کے اثاثوں کی مالیت کو کس طرح متاثر کیا۔
اس کے برعکس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ منصب سنبھالنے کے ایک سال کے اندر کم از کم 2.2 ارب ڈالر کمائے ہیں۔
یونیورسٹی آف ورجینیا کے ملر سینٹر سے وابستہ مؤرخ باربرا پیری کہتی ہیں کہ ’ایسی کوئی مثال موجود نہیں۔ یہ ایوانِ صدر میں ایسی ہر چیز سے بڑھ کر ہے جو ہم نے کبھی دیکھی۔‘
ٹرمپ کی سنہ 2025 کی آمدن نے یہ واضح کر دیا کہ اس منصب پر واپسی سے انھیں کتنا مالی فائدہ ہوا۔
Getty Imagesصدر ٹرومین نے منافع بخش کارپوریٹ عہدے قبول کرنے سے انکار کیا
ماضی میں بھی چند امریکی صدور کے ایسے مالیاتی سکینڈلز میں نام آئے جنھوں نے بدعنوانی سے متعلق سوالات کو جنم دیا۔
مؤرخین خانہ جنگی کے بعد کے دور کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جب صدر یولیسس گرانٹ کے دور میں محکمہ خزانہ کے بعض عہدیدار سونے کی فروخت اور کسٹمز محصولات کی وصولی سے متعلق سکینڈلز میں ملوث تھے جبکہ دیگر تنازعات بھی سامنے آئے تھے۔
1920 کی دہائی میں وارن ہارڈنگ کی صدارت کے دوران محکمہ داخلہ کے سیکریٹری نے تیل کے لیے لیز جاری کرنے کے بدلے رشوت قبول کی تھی۔ اس واقعے کو ’ٹی پاٹ ڈوم سکینڈل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
لیکن ان معاملات میں صدر نہ تو براہِ راست ملوث تھے اور نہ ہی ان پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے منصب پر رہتے ہوئے ذاتی مالی فائدہ حاصل کیا ہو۔
1933 میں فرینکلن ڈی روزویلٹ کی صدارت سے شروع ہونے والے جدید دور میں کئی صدور کے رشتہ دار ایسے ہیں جنھوں نے وائٹ ہاؤس سے اپنے تعلقات سے فائدہ اٹھانا چاہا۔
جمی کارٹر کے بھائی نے بیئر برانڈ کو فروغ دیا۔ جبکہ جب جو بائیڈن نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے تو ان کے بیٹے ہنٹر بائیڈن نے یوکرین کی انرجی کمپنی سے رقم کمائی۔
لیکن مؤرخین کا کہنا ہے کہ ماضی کی یہ مثالیں ٹرمپ اور ان کے خاندانی کاروبار کے منافع کے مقابلے میں بہت کم نوعیت کی ہیں۔
تاریخ دان پیری نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کے خاندان اور دیگر صدور کے درمیان یہی بڑا فرق ہے۔
’دفتر میں پیسہ کمانا، یہ غیر قانونی نہیں، لیکن یہ غیر اخلاقی ہے۔ زیادہ تر صدور (ماضی میں) ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔‘
سنہ 2017 میں اپنے پہلے دور صدارت کو شروع کرنے سے پہلے ٹرمپ نے اپنے خاندانی کاروبار ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘ کا کنٹرول اپنے بیٹوں کے حوالے کر دیا تھا، لیکن یہ اقدام ماضی کے صدور سے اس لیے مختلف تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کاروباری مفادات کو روایتی بلائنڈ ٹرسٹ میں نہیں رکھا یا اپنی رئیل اسٹیٹ ہولڈنگز اور دیگر سرمایہ کاری سے دستبرداری نہیں ہوئے۔
ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت سے قبل بھی اسی طرح کے اقدامات کیے تھے۔
Getty Imagesخود صدر بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ان پر مفادات کے وفاقی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا
ٹرمپ آرگنائزیشن نے ٹرمپ کے دوسرے دور صدارت سے پہلے کہا تھا کہ ’وہ صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے کمپنی کے روزمرہ کے معاملات میں شامل نہیں ہوں گے۔‘
ایرک ٹرمپ نے اس وقت کہا تھا کہ ’ٹرمپ آرگنائزیشن‘ صدر کی دوسری مدت کے دوران ’مضبوط اخلاقی معیارات‘ کی پیروی کرے گی۔
تاہم، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایسے متعدد اقدامات کیے ہیں جن سے ان کے اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ انتظامیہ کے دیگر سینیئر عہدیداروں سے منسلک کاروبار کو بھی فائدہ پہنچا۔
گذشتہ جولائی میں ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کی ایک قسم ’سٹیبل کوائنز‘ کے حوالے سے ایک قانون سازی پر دستخط کیے تھے۔ یہ اقدام ’ورلڈ لبرٹی فنانشل‘ کی جانب سے اپنی ڈیجیٹل کرنسی کی سرگرمی شروع کیے جانے کے صرف چار ماہ بعد سامنے آیا۔
امریکی صدر کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق اس کمپنی نے سنہ 2025 میں ٹرمپ کو کم از کم 500 ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔
گذشتہ اکتوبر میں ٹرمپ نے کرپٹو کرنسی کمپنی ’بنانس‘ کے ارب پتی بانی چانگ پینگ ژاؤ کے لیے معافی کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ٹرمپ نے دوبارہ منصب سنبھالنے کے ابتدائی مہینوں میں کرپٹو صنعت کی تعریف کی، حالانکہ ماضی میں وہ اسے ایک ایسی ’تباہی‘ قرار دے چکے تھے جو ’جلد وقوع پذیر ہونے والی ہے‘
وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد ٹرمپ کے خاندانی کاروبار اور ان کے بعض قریبی ساتھیوں نے کرپٹو کرنسی سے ہٹ کر دیگر صنعتوں میں بھی مالی فائدہ حاصل کیا۔
نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ٹرمپ نے قازقستان کے صدر کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت ایک امریکی کمپنی کو ملک میں اہم معدنیات کے بڑے منصوبے تک رسائی حاصل ہوئی۔
بعدازاں ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے کان کنی کے اس منصوبے میں شامل ایک کمپنی میں اقلیتی حصص حاصل کر لیے۔
’اُڑتا ہوا پُر تعیّش وائٹ ہاؤس‘: قطر کا امریکہ کو دیا گیا غیر مشروط مہنگا تحفہٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟بحری جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور سی آئی اے: جنگوں کے مخالف ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا میں چاہتے کیا ہیں؟ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالاتڈونلڈ ٹرمپ: ’رنگین مزاج ارب پتی‘ شخصیت سے ’امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی مہم‘ تک