ترقی کے بجائے ہانگ کانگ کی رونقیں مسلسل ماند کیوں پڑ رہی ہیں؟

وائس آف امریکہ اردو  |  Jun 25, 2021

ویب ڈیسک — 

ہانگ کانگ تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ اس کی فلک بوس عمارتیں اور مثالی اقدار آج بھی دلوں پر راج کرتی ہیں۔ ہانگ کانگ کا جدید شہر ایشیا کا ترقی پاتا ایک عالمی مالیاتی مرکز بن چکا تھا۔ تاہم شہر میں 1997 کے مقابلے میں بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔

یکم جولائی وہ دن ہے جب ہانگ کانگ برطانوی سرپرستی کے بعد پھر سے چینی حکمرانی میں چلا گیا، جسے اب 24 برس ہونے والے ہیں۔

اس مالیاتی مرکز میں واقع ہونے والی تبدیلیاں ابتدائی طور پر تو بتدریجی نوعیت کی معلوم ہوتی تھیں، جو 'ایک ملک دو نظام' کے آئیڈیے کے تحت چلایا گیا۔

ہانگ کانگ کی مقامی رہائشی اینا چینگ نے اب تک اخبار کا وہ سر ورق سنبھال کر رکھا ہے، جس میں وہ تصویر نمایاں ہے جس میں ہانگ کانگ کے اختیارات تبدیل ہونے کی تقریب دکھائی گئی ہے۔

SEE ALSO:ہانگ کانگ: 'ایپل ڈیلی' کی بندش، آخری ایڈیشن حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاریں

چینگ نے بتایا کہ اس وقت یہ ایک تاریخ ساز لمحہ تھا۔ وہ بائیولوجی کی پروفیسر اور جمہوریت نواز سرگرم کارکن تھیں۔ جو اب امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 90 کی دہائی میں ہانگ کانگ کے باسی کچھ ایسے بھی تھے جو اچھی توقعات رکھتے تھے کہ چین کا حصہ بننے کے باوجود چین ضرور یہ چاہے گا کہ اسے جمہوری روایات ہی پر پروان چڑھایا جائے۔ لیکن، ایسا نہیں ہو پایا۔

متعدد جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ عام اندازوں کے برعکس بہتری کی جاب گامزن ہونے کے بجائے ہانگ کانگ کے جمہوری اقدار کا چین پر الٹا اثر ہوا اور وہ اسے ابتری کی جانب لے گیا۔

سن 2019 میں حوالگی کے بل کے خلاف اٹھنے والے احتجاج کے دوران جمہوریت نواز سرگرم کارکنوں کی پولیس سے محاذ آرائی ہوئی، جو کئی ماہ جاری رہی۔ جس کے بعد چین نے قومی سیکیورٹی کے قانون کو وضع کیا۔ جس پر عمل درآمد کے نتیجے میں ہانگ کانگ کے ترقی کا دور یکسر رک گیا۔

ایڈوب فلیش پلیئر حاصل کیجئےEmbedshareبرطانیہ کی ہانگ کانگ امیگریشن پالیسی پر چین خفاEmbedshareThe code has been copied to your clipboard.widthpxheightpxفیس بک پر شیئر کیجئیے ٹوئٹر پر شیئر کیجئیے The URL has been copied to your clipboardNo media source currently available

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More