ا ولمپکس مینز فٹبال:برازیل اوراسپین فائنل میں مدمقابل

سماء نیوز  |  Aug 05, 2021

ٹوکیو اولمپکس میں مینز اور ویمنز فٹبال ایونٹس سخت مقابلوں کے بعد اختتامی مرحلے میں پہنچ گئے اور  دونوں کیٹیگریز میں ٹیمیں سونے چاندی اور کانسی کے تمغے کے لیے  میدان میں اترنے کی بھرپور تیاریاں کر رہی ہیں۔ یوکوہاما میں ہفتہ 7  اگست کو مینز فٹبال فائنل میں دفاعی چیمپئن برازیل کا مقابلہ سابق اولمپک چیمپئن اسپین سے ہو گا جبکہ کانسی کے تمغے کے لیے  جمعہ 6 اگست کو میزبان جاپان سابق اولمپک چیمپیئن میکسیکو سے  سائٹاما میں میچ کھیلے گا اور جمعہ 6 اگست کو ہی ٹوکیو کے نیشنل اسٹیڈیم میں ویمنز فائنل میں ریو اولمپکس کی رنرزاپ سویڈن کی ٹیم ریو میں کانسی کا تمغہ جیتنے والی کینیڈین ٹیم کے مد مقابل ہوگی۔ کاشیما میں  ویمنز عالمی چیمپئن امریکہ کا سامنا  جمعرات 5 اگست کو  آسٹریلیا  سے ہو گا۔

مینز فائنل میں رسائی کرنے والی دونوں ٹیمیں برازیل اور اسپین انتہائی باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہیں۔ ہسپانویٹیم میں بیشتر وہ کھلاڑی شامل ہیں جنہوں نے یورو 2020 میں اپنے ملک کی نمائندگی کی اور  شاندار کھیل کا مظاہرہ کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ اولمپکس میں بھی ان کی کارکردگی بہتر رہی۔ اسی طرح برازیلین ٹیم میں بھی متعدد ایسے فٹبالرز  شامل ہیں جو کوپا امریکہ  میں  اپنے ملک کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ مینز فٹبال فائنل  دل چسپ ہوگا۔ دیکھیں برازیل اور اسپین میں سے کون دوسری بار گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ برازیلین فٹبال ٹیم لندن اولمپکس فائنل 2012 میں ہارنے کے بعد ابتک 18اولمپک فٹبال میچوں میں صرف ایک میں  شکست سے دوچار ہوئی ہے اور اس نے  مسلسل 11  میچ جیتے ہیں۔

ٹوکیو اولمپک مینز سیمی فائنل میں گول کیپر سانتوس کی شاندار کارکردگی کی بدولت برازیل میکسیکو  کو پنالٹی ککس پر 4-1 سے شکست دے کرمسلسل تیسرے اولمپکس  فائنل میں پہنچ گیا اور ہیٹ ٹرک مکمل کر لی۔ اس کامیابی کے ساتھ  برازیل نے میکسیکو سے لندن اولمپکس 2012 کے فائنل میں شکست کا حساب بھی چکا دیا۔ کاشیما کے فٹبال اسٹیڈیم میں برازیل کو مقررہ اور اضافی وقت میں میکسیکن فٹبالرز کی جانب سے زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس  اسٹیڈیم میں 41 ہزار تماشائیوں کی گنجائش ہے لیکن  دو بہترین فٹبال ٹیموں کے اس میچ کو دیکھنے کیلئے کوئی فرد اسٹیڈیم میں موجود نہیں تھا۔ ٹوکیو اولمپکس میں میکسیکو نے خود کو بہترین اٹیکنگ ٹیم  ثابت کیا جس نے سیمی فائنل سے قبل 14 گول کیے تھے۔

میکسیکو نے اپنی اسی جارحانہ کھیل کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے برق رفتاری سے برازیلین گول پوسٹ پر حملہ کیا اور تیسرے ہی منٹ میں اجھی موو بناتے ہوئے گیند کو برازیلین گول پوسٹ تک پہنچایا لیکن انٹونا کی شاٹ کو ریچارلیسن اور سانتوس نے گول میں جانے سے روک دیا۔ میکسیکن ٹیم زیادہ چڑھ کر کھیل رہی تھی اور ان کی حکمت عملی تھی کہ پہلے برتری حاصل کر کے برازیل پر دباؤ بڑھا دیا جائے۔ انیسویں منٹ میں برازیلین فٹبالرز کی شاندار موو کے نتیجے میں انٹونی نے میکسیکن گول پر زوردار شوٹ لگائی جس کو گول کیپر اوچوا نے خوبصورتی سے روک لیا۔ اس کے بعد برازیلین فٹبالرز نے حریف ٹیم پر چڑھائی کر دی اور 23 ویں منٹ میں  ڈینی ایلوس کی گول میں جاتی شوٹ کو اوچوا نے ڈائیو لگا کر روکا۔

انتیسویں منٹ میں ڈگلس کے خلاف باکس ایریا میں فاؤل پر ریفری نے برازیل کے حق میں پنالٹی کک دی تھی لیکن میکسیکن کھلاڑیوں کے اعتراض پر ریفری نے وی اے آر دیکھا  اور پنالٹی کک کا فیصلہ واپس لے لیا۔ برازیلی فٹبالرز کی برق رفتاری کے باعث میکسیکن ٹیم دفاع میں چلی گئی۔

میکسیکو کے کھلاڑیوں کو پہلا ہاف ختم ہونے سے چند منٹ قبل ایک اچھا موقع ملا جب انٹونا کے پاس پر رومو نے زوردار کک لگائی لیکن  برازیل کے چوکس گول کیپر سانتوس نے اسے روک لیا۔ 45 ویں منٹ انٹونا کو ایک سنہری موقع ملا تھا لیکن سانتوس نے اسے ناکام بنادیا۔ پہلا ہاف کسی گول کے  بغیر برابری پر ختم ہوا۔

کھیل کے دوسرے ہاف میں بھی دونوں جانب سے سبقت حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں لیکن وہ بے سود ثابت ہوئیں۔  دونوں جانب سے فٹبالرز نے اچھی مووز بنائیں اور ڈاجنگ ڈربلنگ کی مہارت کا  خوبصورت مظاہرہ کیا۔ بیاسیویں منٹ میں ریچارلیس نے ہیڈ کے ذریعے گیند کو گول میں پہنچانے کی کوشش کی لیکن بد قسمتی سے گیند گول پوسٹ سے لگ کر باہر چلی گئی۔

اضافی وقت میں بھی دونوں جانب سے کوئی گول نہیں ہوا جس کے نتیجے میں میچ پنالٹی مرحلے میں چلا گیا جس میں  برازیل کی جانب سے پنالٹی ککس پر کپتان ڈینی ایلوس‘ گیبریل مارٹینیلی‘ برونو گوئیماریس اور رینیئر نے گول کیے جبکہ برازیلین گول کیپر سانتوس نے  ایڈوارڈو ایگور کی کمزور پنالٹی کک کو آسانی سے روک لیا۔ میکسیکو کے جوہان ویسکوئیز کی پنالٹی شوٹ پول سے ٹکرا کر باہر چلی گئی۔ برازیلی کپتان ڈینی  ایلوس نے رائٹ کارنر میں کک لگائی جس کو اوچوا  جج کرنے میں ناکام  رہے۔  مارٹینیلی نے لیفٹ کارنر میں شوٹ لگا کر گول کیا جبکہ  روڈریگز نے میکسیکو کی جانب سے پہلا گول کیا۔ میکسیکو اور برازیل اس سے قبل اولمپکس میں صرف  ایک بار مد مقابل آئے تھے جب لندن اولمپکس 2012   فائنل میں  میکسیکو  نے  برازیل  کو 1-2  سے  شکست دی تھی۔

اسپین نے جاپان کو دوسرے  مینز فٹبال سیمی فائنل میں اضافی وقت میں سخت مقابلے کے بعد 1-0 سے شکست دی اور جاپان کی پہلی بار اولمپک فائنل میں رسائی کی امیدوں کو خاک میں ملا دیا۔ سائٹاما میں کھیلے جانے والے اس میچ میں جاپانی کھلاڑیوں نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہسپانوی ٹیم کے خلاف مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ حریف ٹیموں نے اعلیٰ معیار کا کھیل پیش کیا۔ دونوں  ٹیموں کے فٹبالرز نے اس میچ میں کامیابی کے حصول کیلے ابتدا ہی سے سبقت حاصل کرنے کے لیے اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ ہسپانوی ٹیم میں پہلے ہاف میں اس وقت خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی جب مایا یوشیڈا نے ہسپانوی فٹبالر مائیکل مرینو کو چیلنج کیا تو  پیرو کے  ریفری  کیون اورٹیگا نے اس چیلنج کو خطرناک گردانتے ہوئے پنالٹی کک دی تھی لیکن جاپانی کھلاڑیوں نے اس کے ریو یوکا مطالبہ کیا۔ ریفری نے  وی اے آر کی معاونت کے بعد اپنا فیصلہ واپس لے لیا کیونکہ یوشیڈا کا چیلنج بالکل صیحیح اور بروقت تھا انہوں نے فاؤل پلے نہیں کیا تھا۔ جس پر اسپین کے فٹبالرز مایوس دکھائی دیے۔ اس طرح ان کے ہاتھ سے سبقت کا سنہری موقع نکل گیا۔  اس کے چند منٹ بعد رفا میر نے چاپانی گول پوسٹ میں  زور دار  شوٹ لگائی جس کو گول کیپر نے روک لیا۔ فوری جوابی حملے میں جاپان کے  ٹاکیفوسا کوبو نے  گول  کی خوبصورت کوشش کی جس کو ہسپانوی گول کیپر یونائی سائمن نے ڈائیو لگا کر  باہر پھینک دیا۔ پہلا ہاف بغیر کسی گول کے برابری پر منتج ہوا۔

دوسرے ہاف میں بھی دونوں جانب سے گول کرنے کیلئے کئی اچھی مووز بنائی گئیں لیکن  وہ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکیں۔ مقررہ وقت میں مقابلہ برابر رہا اور میچ اضافی وقت میں چلا گیا۔  اضافی وقت کے پہلے ہاف میں بھی کوئی گول نہ ہو سکا اور دوسرے ہاف میں بھی کوئی گول ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا ان حالات میں میچ پہلے سیمی فائنل کی طرح پنالٹی ککس پر جاتا نظر آ رہا تھا لیکن دوسرا ہاف ختم ہونے سے 5 منٹ قبل مارکو  اسینسیو نے مائیکا اویازابل سے گیند کی اور ڈاجننگ ڈربلنگ کرتے ہوئے خوبصورتی سے جاپانی گول پوسٹ میں پہنچا کر اپنی ٹیم کو ایک گول کی سبقت دلوا دی۔ جاپان نے آخری لمحے تک گول برابر کرنے کیلئے  مربوط کوششیں کیں  لیکن  انہیں کامیابی نہیں ہوئی ۔ یونائی سائمن ان کی  راہ میں رکاوٹ بنے رہے اور انہوں نے اپنے ملک کو تیسری بار فائنل کی راہ دکھائی۔  اسپین نے سن 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں فٹبال گولڈ میڈل جیتا تھا۔

ویمنز ورلڈ چیمپئن امریکہ کو کینیڈا  کے ہاتھوں اسی روز ٹوکیو اولمپک فٹبال سیمی فائنل میں 0-1  سے شکست کا سامنا کرنا پڑا جس دن امریکی مینز فٹبال ٹیم نے ساتویں مرتبہ کونکاکاف گولڈ کپ جیتا۔ امریکی فٹبال ٹیم کو دوسری مرتبہ اولمپک فائنل میں رسائی میں ناکامی ہوئی ہے۔ امریکی مینز ٹیم کو مکیسیکو کو شکست دینے کیلئے بڑی جدوجہد کرنا پڑی تھی اور فیصلہ کن گول اضافی وقت 118 ویں منٹ میں مائلز رابنسن نے ہیڈ کے ذریعے کیا تھا۔ کنینیڈا کی ویمنز ٹیم نے مارچ 2001 کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کو ہرایا ہے۔ یوکرائن کی ریفری نے وی اے آر دیکھنے کے بعد امریکہ کے خلاف پنالٹی کک دینے کا فیصلہ کیا تھا جو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

کاشیما اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اولمپک سیمی فائنل میں امریکی ویمنز فٹبال ٹیم کے خلاف میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول کینیڈا کی جیسی فلیمنگ نے 75 ویں منٹ میں پنالٹی کک پر کیا جب باکس ایریا میں امریکہ کی ٹائرنا ڈیوڈسن نے ڈیانا روز کے خلاف فاؤل کیا تھا۔

اس میچ میں کینیڈا کی کھلاڑیوں نے غیر متوقع طور پر امریکہ کے خلاف  بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور وہ کسی بھی مرحلے میں عالمی چیمپئن ٹیم کے دباؤ میں نظر نہیں آئیں۔ پہلے ہاف میں کوئی بھی ٹیم گول نہیں کر پائی۔

دوسرے ہاف میں امریکی ویمنز ٹیم نے زیادہ بہتر کھیل پیش کیا اور وہ بالادست رہی۔ گیند پر ان کا قبضہ زیادہ تھا۔ امریکی خواتین نے اچھی مووز بنائیں اور متعدد بار کینیڈین گول پوسٹ پر حملے کیے لیکن گول کیپر لیبی ان کے سامنے آہنی دیوار بنی رہی جس نے امریکی فٹبالرز کے  6 شاٹس روکے۔

امریکی فارورڈ میگن ریپینوئی کا کہنا ہے کہ کینیڈا سے شکست ہمارے لیے انتہائی تلخ ہے ہمیں کئی اچھے مواقع ملے جن سے ہم فائدہ نہیں اٹھا سکیں۔ ہماری کھلاڑیوں نے کئی غلطیاں کیں۔

دوسرے ویمنز سیمی فائنل میں سویڈن نے آسٹریلوی ویمنز ٹیم کو 1-0 سے شکست دے کر مسلسل دوسری بار فائنل میں پہنچ گئی۔  آسٹریلوی ٹیم نے اولمپکس میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اس سیمی فائنل میں بھی آسٹریلوی فٹبالرز نے سویڈن کے خلاف ابتدا سے ہی اٹیکنگ کھیل کا مظاہرہ کیا۔ سویڈش ٹیم ان کے مقابلے میں زیادہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی اس کے باوجود آسٹریلوی پلیئرز نے  بہتر کھیل پیش کیا۔ 23 ویں منٹ میں سویڈش  ٹیم کا سنہری موقع اس وقت ضائع ہوا جب رولفو کی طویل فاصلے  لگائی گئی زود دار کک کراس بار سے ٹکرا کر باہر چلی گئی۔ اس کے بعد  42 ویں منٹ میں آسٹریلین  کپتان سام کیئر نے 42 ویں منٹ میں فری کک پر گول کر دیا تھا لیکن ریفری نے اس گول کو مسترد کر دیا۔ ریفری کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑی  ایمیلی وان نے غلط طریقے سے سویڈش  فٹبالر کو بلاک کیا تھا۔ سویڈشسے ہرایا تھا۔ اس سے اگلے سال 2004 کے ایتھنزاولمپکس میں سویڈن کو کانسی کے تمغے کے میچ میں جرمنی نے 1-0 سے زیر کیا جبکہ 2016 کے ریواولمپکس میں بھی جرمن ٹیم سویڈش کھلاڑیوں کے گولڈ میڈل کی راہ میں حائل ہوئی اورفائنل میں جرمنی نے 2-1 سے شکست دی۔

سویڈش ٹیم  اولمپک ویمنز فٹبال میں  چھٹی بار شرکت کررہی ہے۔ سن 96 19 اور سن 2000  کے اولمپکس کے ابتدائی راؤنڈ میں سویڈش خواتین کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سڈنی اولمپکس  2000 میں  جرمنی نے  1-0 سے کامیاب ہوا تھا۔ جبکہ 2008  کے بیجنگ اولمپکس کوارٹر فائنل میں سویڈ ن کو جرمنی نے 2-0 سے ہرایا۔ سن 2012 میں فرانس نے سویڈن کو  2-1 سے زیر کیا تھا۔

کینیڈا  نے مسلسل دو اولمپکس میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ کینیڈا ویمنز ٹیم عالمی رینکنگ میں آٹھویں نمیر پر ہے۔ کینیڈا اور سویڈن کی خواتین فٹبال ٹیموں کے مابین  ہونے والے میچوں میں کینیڈا کو برتری حاصل ہے۔ دونوں ٹیموں میں  اس فائنل سے قبل  12 میچ  کھیلے گئے جن میں سے سویڈن نے چار اور کینیڈا نے چھ میں کامیابی حاصل کی جبکہ دو میچ  ڈرا ہوئے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More