پشاور: سی پی ڈی آئی کے زیراہتمام صحافیوں کی تربیتی ورکشاپ ختم

بول نیوز  |  Dec 03, 2021

سنٹر فار پیس اینڈ ڈیویلپمنٹ انیشیئٹیوز (سی پی ڈی آئی) کے زیر اہتمام اور یورپی یونین  کے مالی تعاون سے پشاور میں صحافیوں کے تحفظ، ڈیجٹیل سکیورٹی اور نفسیاتی و سماجی معاونت کے عنوان سے منعقدہ تین روزہ ورکشاپ اختتام کو پہنچی۔

اس تربیتی ورکشاپ میں خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھرپور شرکت کی۔ تربیتی سیشن کے دوران مختلف سرگرمیاں منعقد کی گئیں جن کا مقصد شرکاء کی ایسی تربیت کرنا تھا کہ وہ نامساعد اور غیرمحفوظ حالات میں اپنی حفاظت یقینی بنا سکیں۔ تربیتی سیشن میں مختلف ماڈیولز اور مشقیں شامل ہیں جن میں معروضیت پر مبنی رپورٹنگ، خطرے کی جانچ پڑتال، زندگی کے ثبوت کی دستاویزات کی تیاری، ابتدائی طبی امداد، غیرمحفوظ  صورتحال سے نمٹنے کے لئے تدابیر اور ڈیجیٹل سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے نکات شامل ہیں۔

ورکشاپ میں صحافیوں کے تحفظ کے قومی اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے، آئین پاکستان کے آرٹیکل 19،10 اور 19- اے پر تفصیلی تبادلہء خیال کیا گیا جو بالترتیب  غیرقانونی گرفتاری، اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حق سے متعلق قانونی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

صحافیوں کے تحفظ  کیلیے فوری اور موثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پی ڈی آئی نے یورپی یونین کے مالی معاونت سے جاری کردہ پراجیکٹ سول سوسائٹی فار انڈیپینڈنٹ میڈیا اینڈ ایکسپریشن (سائم) میں آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کیلیے صحافیوں کی تربیت کو اولین ترجیح دی۔ مذکورہ تربیتی نشست پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں مرحلہ وار منعقد کی گئی۔ شرکاء میں شامل عائشہ یوسفزئی، عبدالقیوم آفریدی، محمد الیاس، ناہید جہانگیر، عمر فاروق، شاہین آفریدی اور دیگر نے کہا کہ اس قسم کی تربیتی نشستیں صحافیوں کی سکیورٹی، نیٹ ورکنگ اور تحفظ  کے لیے بہتر قانون بنانے میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

Square Adsence 300X250
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More