کیا موت سے نجات ممکن ہے؟

بی بی سی اردو  |  Aug 13, 2022

Getty Images

ہمارے سمندروں اور دریاؤں میں پائی جانے والی عجیب اور حیرت انگیز آبی حیات میں اگر آپ ہائیڈرا کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں، آپ کو اس پر معاف کیا جا سکتا ہے۔

اس مخلوق کا نامقدیم یونانی افسانوی سانب ہائیڈرا پر رکھا گیا ہے جو اپنے سروں کو دوبارہ بڑھا سکتا ہے۔ ہائیڈرا جیلی فش، اور مرجانوں کا میٹھے پانی کا رشتہ دار ہے۔ تھوڑا سا ڈینڈیلین کے بیج کی طرح، ایک لمبا جسم اور ایک سرے پر خیمہ نما ٹوپی کے علاوہ اس میں دیکھنے کے لیے بہت کچھ نہیں ہے۔ لیکن ان کے پاس ایک قابل ذکر خصوصیت ہے جو انہیں حیاتیاتی تجسس کا ذریعہ بناتی ہے۔ اگر آپ ایک ہائیڈرا کو کئی ٹکڑوں میں کاٹتے ہیں، تو ہر ٹکڑا دوبارہ مکمل، نئے ہائیڈرا میں بدل جاتا ہے۔

ہائیڈرا میں تخلیق نو کی خصوصیات نے ایسےماہرین حیاتیات کی دلچسپی کو بڑھا دیا ہے جو فطرت میں لافانی ہونے کے ثبوت تلاش کر رہے ہیں۔

یہ انواع قدرتی وجوہات سے مرتی کیوں نظر نہیں آتیں؟ اور کیا موت ناگزیر ہے؟

20 ویں صدی کے وسط میں بڑھاپے کونئی زندگی کےلیے جگہ خالی کرنے یا خلیات کو برقرار رکھنے کے مابین ایکسمجھوتہ تصور کیا جاتا تھا۔

ابتدائی طور پر، حیاتیاتی خلیات اپنی تمام توانائیاں جسم کے بڑھنے اور اسے صحت مند رکھنے کے لیے صرف کرتے ہیں۔ بچپن اور بلوغت میں ساری توجہ زندہ رہنے اور جسم کو ہر ممکن حد تک مضبوط اور صحت مند بننے پر مرکوز ہوتی ہے۔

جنسی پختگی کے بعد، ترجیحات بدلنے لگتی ہیں اور ساری توجہ تولید پر ہو جاتی ہے، کیونکہ، زیادہ تر جانداروں کے لیے وسائل محدود ہیں، اولاد پیدا کرنے کو ترجیح دینا صحت مند رہنے کی قیمت پر آ سکتا ہے۔

سالمن مچھلی ہی مثال لے لیں۔ وہ سمندروں اور بڑے بڑے دریاؤں میں رہتی ہے لیکن انڈے دینے کے لیے وہ پانی کے بہاؤ کے خلاف تیرتے ہوئے چھوٹے دریاؤں یا ندیوں کا رخ کرتی ہیں ۔ سالمن مچھلی انڈے دینے والے مقامات تک پہنچنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کرتی ہے اور خطرات مول لیتی ہے۔

وہ انڈے دینے والے مقامات تک پہنچ کر اپنی نسل کی نمو کے لیے پورا فائدہ اٹھاتی ہے۔

سالمن کے نیچے کی طرف تیرنے کے امکانات، سمندر میں ایک اور سال زندہ رہنے، اور کامیابی کے ساتھ سمندروں یا دریاؤں میں پہنچنے کے امکانات اتنے کم ہیں جسے نظریہ قدرتی انتخاب بھی پسند نہیں کرے گا کیونکہ وہ پہلے ہی ایک بار کامیابی کے ساتھ اپنے نطفہ کو منتقل کر چکے ہیں۔

لیکن چیزوں کے خاتمے کی وجوہات کے بارے میں موجودہ سمجھ کچھ زیادہ ہی خاص ہے۔ جب انواع جنسی پختگی کو پہنچتے ہیں، قدرتی انتخاب کی قوت کمزور پڑ جاتی ہے، اور عمر بڑھنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے، جو بالآخر موت کی طرف جاتا ہے۔

برطانیہ کی ایسٹ اینگلیا یونیورسٹی میں ارتقائی حیاتیات اور بائیو جیرونٹولوجی کے پروفیسر الیکسی مکلاکوف کےمطابق یہ عمل کسی نیک منصوبے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی نئی نسل کے لیے جگہ بنانا مقصود ہے۔

ہماری زندگی کے دوران، ہمارے جینز بدل جاتے ہیں۔ جینز میں کچھ تبدیلیاں تو بالکل بے ترتیب ہوتی ہیں جبکہ کچھ تبدیلیاں ہماری خوراک یا الٹرا والٹ روشنی جیسے بیرونی عوامل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

زیادہ تر تبدیلیاں بے ضرر ہوتی ہیں اور بہت کم ہی مفید ہوں گیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ بشریات میں ارتقائی ماہر حیاتیات گیبریلا کونڈریز کہتی ہیں کہ جنسی پختگی سے پہلےکسی بھی جین کی تبدیلی جو کسی جاندار کے دوبارہ پیدا ہونے کے امکانات کو کم کرتی ہے، یا جاندار کو دوبارہ پیدا کرنے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے، اس کا انتخاب نہیں کیا جاتا ہے۔

ایک بار جب کوئی جاندار جنسی پختگی کو پہنچ جاتا ہے، تو وہ اپنے جینز اگلی نسل کو منتقل کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر، قدرتی انتخاب کی قوت کمزور ہو جاتی ہے۔

سالمن مچھلی کے انڈے دینے کے لیے جگہ کی تلاش کے عمل کو ہی دیکھ لیں۔ جس نے اسے جوانی تک پہنچانے اور دوبارہ پیدا کرنے کے لئے بہت اچھا کام کیا ہے۔

اس کی اولاد میں بھی ممکنہ طور پر اپنے جینز کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا اچھا امکان ہو گا۔ سالمن کے جینز میں اگر تغیر انڈے دینے کے بعد واقع ہو تو شاید ایک اور سال زندہ رہ لے اور ایک بار پھر انڈے (جس کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے)لیکن اس کی نئی اولادوں کو اپنے بہن بھائیوں پر کوئی خاص فوقیت نہیں ہو گی۔

فطری انتخاب کے نظریے کی رو سے تولیدی عمل سے گزرنے کے بعد صحت مند رہنے کے لیے کوششوں کو جاری رکھنے میں بہت کم فائدہ ہے۔ اس کے نتیجے میں کوئی بھی جین جوتولیدی عمل کو ممکن بناتا ہے وہ فطری انتخاب کے دباؤ کے تابع نہیں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ زیادہ عام ہوتے ہیں۔

ماہر حیاتیات گیبریلا کونڈریز مطابق ’ایک فرد زندہ رہنا پسند کرے گا۔ لیکن فطری انتخاب اس پر اتنی محنت نہیں کرتا، کیونکہ اس کے پاس اگلی نسل کو دینے کے لیےزیادہ کچھ نہیں ہے۔‘

تمام جاندار سالمن مچھلی کی طرح انتہا پسند نہیں ہوتے۔ کچھ اپنی نسلی پیدا کرنے کے لیے تھوڑی دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے ڈی این اے میں زیادہ تر تغیرات کے منفی یا کوئی نتائج نہیں ہوں گے۔ ہمارے جسم ڈی این اے کے اس نقصان کو ٹھیک کرنے کے قابل ہیں، لیکن عمربڑھنے کے ساتھہماری صلاحیت کم پڑ جاتی ہے۔

لیکن بڑھاپا اور موت دو طرح سے وقوع پذیر ہوتا ہے، اولاًقدرتی چناؤ کے عمل میں جینز میں بہت زیادہ تغیرات، جو تولیدی عمل کے لیے تو فائدہ مند ہوں لیکن لمبی عمر میں اس کے اثرات منفی ہوتے ہیں۔

اس کی ایک مثال بی آر سی اے جینز میں تغیر ہے جس کے حوالے سے واضح ہے کہ اس سے چھاتی کے سرطان اور اورین سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔لیکن عورتوں میں یہ ہی جین تولید کی صلاحیت کا سبب بھی سمجھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سےبی آر سی اے جین زندگی کے اولین حصے میں تولیدی فوائد کا سبب ہوتا ہے لیکن بعد کی زندگی میں صحت کے مسائل میں اضافہ کا سبب بن جاتا ہے۔

لیکن چونکہ جنسی پختگی کے بعد قدرتی انتخاب کمزور ہو جاتا ہے، اس لیے تولیدیفوائد نقصان سے زیادہ ہے

اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہر حیاتیات کیٹلن میک ہگ کہتے ہیں کہ زندگی میں بلوغت سے پہلے جو کچھ بھی پہلے ہوتا ہے وہ تولیدی عمر کے بعد سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے، کیونکہ تولیدی صلاحیت واقعی اہم ہوتی ہے۔

سن ایسنس کا عمل جب خلیے تقسیم ہونا بند کر دیتے ہیں، ابتدائی زندگی کے فائدے کی ایک اور مثال ہو سکتی ہے جو بعد کی زندگی کا لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ سن ایسنس ہمیں کینسر سے بچاتی ہے کیونکہ یہ ڈی این اے کے نقصان دہ خلیوں کو بڑھنے سے روک سکتی ہے۔ تاہم، بعد کی زندگی میں سن ایسنس کی وجہ سے خلیے ٹشوز میں جمع ہو سکتے ہیں، جو نقصان اور سوزش کا باعث بنتے ہیں، اور عمر سے متعلقہ بیماریوں کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔

اگرچہ زیادہ تر انواع کی عمر ہوتی ہے لیکن کچھ استثنا بھی موجود ہیں. مثال کے طور پر بہت سے پودے نہ ہونے کے برابر بڑھاپا (سن ایسنس) دکھاتے ہیں، اور کچھ انواع کو ہزاروں سالوں سے زندہ رہنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک خاص طور پر دلچسپ مثال یوٹاہ میں فش لیک نیشنل فارسٹ میں پینڈو کا درخت ہے۔ درخت درحقیقت جینیاتی طور پر ایک جیسے درختوں کی کالونی ہے جو ایک جڑ کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ 100 ایکڑسے زیادہ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا وزن 6613 ٹنسے زیادہ ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق یہ 10,000 سال سے زیادہ پرانا ہو سکتا ہے۔

ہائیڈرا کی ایک رشتہ دارجیلی فش کے پاس لمبی عمر کو یقینی بنانے کا ایک اور ذہین طریقہ ہے - اگر یہ چوٹ، بیمار یا دباؤ کا شکار ہو تو یہ اپنی بالغ زندگی کے مرحلے سے واپس اپنے ابتدائی مرحلے میں واپس آنے کے قابل ہے۔ مسٹر میکوف کہتے ہیں: "اگرچہ ایک خاص مقام پر، آپ کو اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا کہ کیا یہ ایک ہی کے فرد ہے یا کچھ مختلف ہے۔"

میکلاکوف کا کہنا ہے کہ یہ خیال بھی پایا جاتا ہے کہ کچھ انواع عمر کے ساتھ زیادہ کامیاب ہو جاتی ہیں۔ جنہیں "منفی سن ایسنس " کہا جاتا ہے - لیکن اس کے شواہد کم ہیں۔

میکلاکوف کہتے ہیں، "اگر انواع کی ماحولیات ایسی ہے کہ کسی وجہ سے تولید عام طور پر کم ہے یا آپ ابتدائی زندگی میں کمہےتو اس سے قدرتی انتخاب کے کام کرنے کا طریقہ بدل جاتا ہے،"

میکلاکوف کہتے ہیں کہ اس کی مثالیں ان جانوروں میں مل سکتی ہیں جہاں ایک نر کئی مادہ سے ملاپ کرتا ہے۔مثال کے طور پر والرس یا ہرن۔ ایک نر مادؤںکے پورے گروپ کو کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس وجہ سے اس گروپ کا سائز، اور اولاد کی تعداد اسی کے مطابق بڑھتی رہتی ہے۔ لہذا، اس کی تولیدی پیداوار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

میکلاکوف کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ سچ ہے کہ کچھ انواع اپنی تولیدی صلاحیت کو عمر کے ساتھ برقرار رکھ سکتی ہیں، لیکن وہ منفی سن ایسنسکی صحیح مثالیں نہیں ہیں، اور جن مطالعات میں اس دعویٰ کیا گیا ہے وہ ممکنہ طور پر ناقص ہیں۔ بالآخر، ایک والرس غیر معینہ مدت تک اپنےحرم (مادہ کے گروہ) کا کنٹرول نہیں رکھ سکے گا۔

لیکن جنسی عمل ہماری عمر کے بارے میں ایک دلچسپ کردار ادا کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن کی میگن آرنوٹ اور روتھ میس کی ایک تحقیق کے مطابق جو خواتین باقاعدگی سے جنسی تعلق کرتی ہیں ان میں مینو پاز دیر سے شروع ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حالات سے سمجھوتے کی ایک مثال ہے کہ جب حمل کا کوئی امکان ہی نہیں تو بیضہ ریزی پر خرچ ہونے والی توانائی کو باقی جسم کی بہتری کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔

لیکن باقی جانوروں کی سلطنت زیادہ زرخیزی بھی بڑھاپے کا سبب بنتی ہے۔ مثلاً ایسی چمگادڑیں جن کی اولاد زیادہ ہوتی ہےان کی زندگی کا دورانیہ کمہو گا ۔

پھر ایسی انواع بھی ہیں جن کی عمریں صنفوں کے درمیان بہت مختلف ہوتی ہیں۔ عام طور پر، چیونٹیوں، شہد کی مکھیوں اور دیمکوں میں ایک بادشاہ یا ملکہ ہوتا ہے جو اپنے بانچھ کارکنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ زرخیز اور دیرپا ہو سکتا ہے۔

ان کے معاملے میں تولیدی لاگت ان کی عمر میں کمی کیوں نہیں کرتی؟ اس کا جواب یہ ہو سکتا ہے کہ بادشاہ یا ملکہ مزدوروں کو درپیش بہت سے خطرات سے محفوظ رہتے ہیں اور ان دونوں کے طرز زندگی میں اتنا فرق ہے کہ عمر بڑھنے کے نظریات ان پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوتے۔

Getty Imagesجن خاندانوں کے بزرگ قریب ہوتے ہیں ان کی تولیدی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے

لہذا اگر تولید کا ہماری عمروں پر اتنا مضبوط اثر ہے، تو ہم میں سے بہت سے انسان بچے پیدا کرنے کے بعداتنے عرصے تک کیوں زندہ رہتے ہیں؟

دادی مفروضے سے پتہ چلتا ہے کہ بزرگوں کا زندہ رہنا ضروری ہے کیونکہ تولید ایک مہنگا اور خطرناک کاروبار ہے۔ ایک دادی اپنے پوتے پوتیوں پر توجہ مرکوز کر کے اپنے کچھ جینز کی بقا کو یقینی بنا سکتی ہے۔

کورینٹس کہتے ہیں"جن خاندانوں کے بزرگ قریب ہوتے ہیں ان کی تولیدی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، شاید اس کی وجہ سے ایک ماں زیادہ بچے پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کر سکتی ہے اور دادی ان بچوں کی پرورش میں اس کا ہاتھ بٹا سکتی ہے۔

لیکن چونکہ پوتے پوتیاں کے اپنی دادی کے ساتھ صرف 25 فیصد جینز مشترک ہوتے ہیں، اور وہ دادی کے اتنے ہی رشتہ دار ہوتے ہیں جنتے دادی کے بھانجے، بھانجیاں ہوتے ہیں کیونکہ وہ ان کے اپنی پھوپھی سے اتنے ہی جینزمشترک ہوتے ہیں جتنے دادی کے پوتے پوتیوں سے۔

میکلاکوف کا کہنا ہے کہ "یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماضی میں بہت کم عورتیں تولید کے لیے پچاس سال کی عمر تک جی پاتی تھیں جس کی وجہ سے قدرتی انتخاب کا اثر پچاس برس کی عمر تولید پر بہت کم ہوتا ہے۔

لہذا عمر بڑھنے کے بنیادی اصول کی طرف لوٹتے ہیں کہ دوبارہ پیدا کرنے کے بعد قدرتی انتخاب کمزور ہو جاتا ہے۔ بعد کی زندگی میں ہمارے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس میں سے زیادہ تر شاید خوشگوار نہ ہو لیکن ایسی کوئی ارتقائی طاقت نہیں ہے جو ہمیں اس سے بچانے میں مدد دے سکے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More