کنگسٹن: متعدد شادیوں کا رواج رکھنے والا پراسرار امریکی فرقہ جس میں عورتوں کا مقصد صرف بچے پیدا کرنا ہے

بی بی سی اردو  |  Sep 25, 2022

Getty Images

انتباہ: اس رپورٹ میں موجود معلومات چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

بلیکلن 16 سال کی تھیں جب 2020 میں ان کو اپنے کزن ٹریوس سے زبردستی شادی کرنے پر مجبور کیا گیا۔ وہ کچھ ہی عرصے بعد حاملہ ہو چکی تھیں۔

ان کو اپنی زندگی سے متعلق کوئی فیصلہ خود کرنے کا اختیار نہیں رہا تھا۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف ’پاک کنگسٹن خون‘ کی افزودگی اور اپنے سے 11 سال بڑے خاوند کے احکامات کی تعمیل کرنا تھا۔

کبھی کبھار آدھی رات کو وہ گہری نیند سے بیدار ہوتیں تو معلوم ہوتا کہ ان کا شوہر سیکس کر رہا ہے تاہم وہ شکایت نہیں کر سکتیں تھیں۔ کنگسٹن فرقے میں مردانہ جنسی خواہشات کی تعمیل ضروری سمجھی جاتی تھی اور اسے ریپ نہیں مانا جاتا چاہے یہ عورت کی مرضی کے بغیر ہی کیوں نہ کیا جاتا ہو۔

لیکن جب بلیکلن نے دیکھا کہ ان کے شوہر نے ان کے بچے کو بھی جنسی کھلونا بنا لیا ہے تو انھوں نے فرار کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔

بلیکلن، جن کی اصل شناخت کو چھپایا گیا ہے، کی شادی کے وقت ان کے والد کی ایک ہی وقت میں چار بیویاں تھیں۔

ان کے والد اور سسر امریکی ریاست یوٹاہ کے سالٹ لیک سٹی شہر میں کنگسٹن فرقے کی قیادت کرنے والے ’سات برادران‘ میں شامل تھے۔ یہ مرمن چرچ کا ایک ایسا فرقہ ہے جس میں کثیرالازواجی اور خاندانی شادیوں کا رواج عام ہے۔

اس فرقے کے خلاف بلیکلن سمیت 10 افراد نے ستمبر میں مقدمہ دائر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کو خونی رشتوں سے زبردستی جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کو بچپن سے ہی ایسے نظریات کا پرچار کیا گیا جن کے تحت ان کو جسمانی سزا دی جاتی اور جبری مشقت کروائی جاتی جس میں فرقے کی کمپنیوں میں ان سے بلا معاوضہ کام لیا جاتا تھا۔ انھوں نے فرقے پر ریاست کو دھوکہ دینے کا الزام بھی لگایا ہے، جسے فرقے میں ’حیوان کا خون بہانا‘ کہا جاتا ہے۔

کنگسٹن گروپ، جس کے ماننے والے اسے ’دی آرڈر‘ کے نام سے پکارتے ہیں، ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

Getty Imagesیوٹاہ میں مرمن ثقافت کی جڑیں مضبوط ہیںکنگسٹن فرقے کی ابتدا

اس فرقے کا آغاز کرنے والے چارلس کنگسٹن تھے جو سالٹ لیک سٹی میں چرف آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈیز سینٹس یا مرمن سے تعلق رکھتے تھے جس نے ان کو 1929 میں کثیرالازواجی کی وجہ سے نکال دیا۔

مرمن فرقہ کثیرالازواجی کی روایت کو 19ویں صدی کے اختتام تک ختم کر چکا تھا۔ اس کی وجہ امریکی ریاست کی جانب سے یوٹاہ کو ریاست کا درجہ دینے کے لیے عائد کثیرالازواجی کے خاتمے کی شرط تھی۔

چھ سال بعد، کنگسٹن کے بیٹے، ایلڈن نے اپنا الگ چرچ قائم کر لیا جس کے خودساختہ قوانین تھے۔

کنگسٹن فرقے کا سرکاری نام ڈیوس کاؤنٹی کوآپریٹیو سوسائٹی ہے اور ان کے مذہبی فرقے کو چرف آف کرائسٹ آف لیٹر ڈیز کہا جاتا ہے۔

اس فرقے کے نظام میں سب سے اوپر ’نبی‘ کا عہدہ رکھنے والا وہ شخص ہے جس کے بارے میں یہ شرط درج ہے کہ وہ ’پاک کنگسٹن خون‘ رکھنے والا ہو گا جس کا براہ راست شجرہ مسیح سے جڑتا ہو گا۔

1987 سے یہ عہدہ پال ایلڈن کنگسٹن کے پاس ہے جو چارلس کنگسٹن کے پوتے اور ایلڈن کے بھتیجے ہیں۔ ان کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے 34 شادیاں کیں جن سے ان کے 500 بچے ہیں۔ فرقے میں تمام فیصلے ان کی مرضی سے مشروط ہیں۔

فرقے کے قوانین

فرقے میں شامل تمام افراد پر اپنے سے برتر شخص کا حکم ماننا ضروری ہے، چاہے وہ غلط ہو، غیر اخلاقی ہو یا مجرمانہ فعل ہو۔ فرقے کا ماننا ہے کہ حکومتی قوانین کا ان پر اطلاق نہیں ہوتا۔

اس کی توجیہ میں ایلڈن کنگسٹن کی جانب سے بائبل کے ایک پیرا کی تشریح پیش کی جاتی ہے۔

اس فرقے میں ’نبی‘ کے عہدے کے نیچے ’سات برادران‘ ہیں۔ ان کے بعد ’نمبرڈ مین‘ ہیں جن کو فرقے میں برتر درجہ حاصل ہے جن کے بعد باقی مرد اور ان کے بعد خواتین اور بچے آتے ہیں۔

Getty Images

اس فرقے میں شامل خواتین کو زبردستی شادی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اکثر ایسا کم عمری میں ہوتا ہے اور ان کے لیے چنا جانے والا شوہر قریبی عزیز ہوتا ہے جیسا کہ بھائی، کزن یا پھر انکل۔

مرد ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتے ہیں لیکن عورت کو یہ اجازت نہیں۔ تاہم عورت کے لیے شادی کرنا لازمی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کر سکے چاہے یہ اس کی مرضی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا مقصد فرقے کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے۔ کسی عورت کا حمل ضائع ہونا گناہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کی سزا دی جاتی ہے۔

فرقے کے خلاف مقدمہ درج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جب کم عمری میں بچے پیدا ہو جائیں تو پھر عورتیں فرار نہیں ہو سکتیں۔

اس فرقے پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ بچوں سے کمپنیوں میں جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔ ان کاروبار میں سٹور، سپر مارکیٹ، کھیت اور سکول شامل ہیں۔ ماضی میں اس فرقے کے پاس کانیں اور توانائی کی کمپنی بھی تھی جن پر دو سال قبل ہونے والے ایک مقدمے میں پانچ سو ملین ڈالر فراڈ کا الزام لگا۔

فرقہ اندرونی طور پر اپنی کرنسی استعمال کرتا ہے اور اراکین کو ڈالر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

اس فرقے میں رازداری کی وجہ سے اس کے مجموعی اراکین کی تعداد نامعلوم ہے تاہم اندازوں کے مطابق اس کے اراکین کی تعداد پانچ ہزار سے 10 ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'دنیا کے سب سے بڑے خاندان' کے سربراہ کی انڈیا میں وفات

ایران کا پراسرار اور قدیم مذہبی فرقہ ’یارسان‘

وہ نیا ’مذہب‘ جس نے عرب ممالک میں شدید بحث چھیڑ رکھی ہے

کثیر الازواجی

امریکہ میں ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج کنگسٹن کے علاوہ دیگر ایسے گروہوں میں بھی موجود ہے جو مرمن سے الگ ہوئے۔

2011 میں وارن جیفس نامی شخص کو بچوں سے جنسی زیادتی پر سزا سنائی گئی جو چرچ آف جیسس کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس نامی گروہ کا رہنما تھا۔

اس سے 10 سال قبل یوٹاہ مرمن مشنری ٹام گرین کو بھی سزا ہوئی تھی جس کی پانچ بیویاں اور 35 بچے تھے۔

Getty Imagesٹام گرین کے خلاف مقدمے کے وقت ان کے حامیوں نے مظاہرے کیے

یوٹاہ میں ایک سے زیادہ شادیوں پر پانچ سال قید کی سزا تھی تاہم 2020 میں ری پبلکن اکثریت رکھنے والی امریکی کانگریس نے سزا کو ختم کرتے ہوئے اس کا درجہ ایک ٹریفک ٹکٹ جیسے جرم جیسا کر دیا۔

رازداری

کنگسٹن قوانین میں فرقے سے باہر لوگوں سے رابطہ کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور کسی اجنبی کے سوالات کا جواب دینا بھی۔

فرقے کے مطابق یہ ضروری ہے کہ بیرونی دنیا کو اندر کی زندگی کے بارے میں کم سے کم علم ہو۔ رازداری اس حد تک برقرار رکھی جاتی کہ فرقے کے خلاف مقدمے کا اندراج کرنے والے ایک شخص کے مطابق شادیوں کے کارڈ بھی فرقے کی اپنی کمپنی میں ہی چھاپے جاتے تھے۔

فرقے میں شادی کے بعد جوڑے کے نام بھی کاغذات میں بدل دیے جاتے تاکہ کسی قسم کی تفتیش سے بچا جا سکے۔

Getty Imagesڈیوڈ اورٹیل کنگسٹن جن کو 1999 میں سزا سنائی گئی

ایسا بھی ہوا کہ کسی بچے کی پیدائش پر اس کے باپ کا نام سرٹیفیکیٹ پر موجود نہیں تھا اور رجسٹریشن کے وقت ماں نے جھوٹ بول دیا کہ اس کو معلوم نہیں کہ بچے کا باپ کون ہے یا یہ کہہ دیا گیا کہ وہ چھوڑ کر چلا گیا۔

فرقے کے خلاف شکایت میں کہا گیا ہے کہ یہ عام سی بات ہے کہ فرقہ والدین کا نام بچوں کے سرٹیفیکیٹ پر نہیں لکھواتا تاکہ ابہام باقی رہے اور کم عمر شادیوں یا خونی رشتوں سے جنسی تعلق پر مجرمانہ سزا سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ یہ گروپ 25 سال سے قانون کی نظر میں رہا ہے اور ماضی میں اس کے کئی اراکین کو فراڈ، منی لانڈرنگ اور جنسی جرائم پر سزا سنائی جا چکی ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More