یوکرین جنگ: کیا روس ’گیم چینجر‘ کے طور پر 'ٹیکٹیکل' جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Sep 25, 2022

Getty Images

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ وہ روسی سرزمین کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیارکے استعمال کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اس بیان سے اس بات کا خدشہ بڑھ گیا ہے کہ وہ یوکرین میں چھوٹے یا 'ٹیکٹیکل' جوہری ہتھیار استعمال کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے انھیں خبردار کیا ہے کہ ایسا کرنا دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے سنگین فوجی صورت حال ہوگی۔

روس کے انتباہ کے درمیان آئیے جانتے ہیں کہ ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کیا ہیں، روس کے پاس کتنے ہیں اور کیا روس واقعی انھیں استعمال کر سکتا ہے؟

ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار کیا ہیں؟

یہ چھوٹے ایٹمی ہتھیار ہیں، جو جنگ میں یا محدود حملے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

یہ ہتھیار دشمن کے علاقے میں کسی مخصوص مقام کو نشانہ بناتے ہیں، تاکہ آس پاس کے علاقوں میں ریڈیو ایکٹو (تابکار شعاؤں) نقصانات کم ہوں۔

سب سے چھوٹے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار کا وزن ایک کلو ٹن یا اس سے کم ہو سکتا ہے (لیکن اس میں ہزاروں ٹن دھماکہ خيز مواد ٹی این ٹی کی قوت کا اخراج ہوتا ہے) جبکہ سب سے بڑا ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار 100 کلو ٹن تک وزنی ہو سکتا ہے۔

اس کے برعکس سٹریٹجک جوہری ہتھیار بڑے ہوتے ہیں اور انھیں طویل فاصلے سے داغا جاتا ہے۔ ان کا وزن ایک ہزار کلو ٹن تک ہوتا ہے۔

اس کی تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے یہ سمجھ لیں کہ امریکہ نے سنہ 1945 میں جاپان کے شہر ہیروشیما پر جو ایٹم بم گرایا تھا اس کا وزن 15 کلو ٹن تھا۔

روس کے پاس کس قسم کے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار ہیں؟

امریکی انٹیلی جنس کے مطابق روس کے پاس تقریباً دو ہزار ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار ہیں۔

ان کے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار مختلف قسم کے میزائلوں سے داغے جا سکتے ہیں جیسا کہ وہ عام طور پر کروز میزائل اور توپ کے گولے جیسے روایتی دھماکہ خیز مواد لے جانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار طیاروں اور جنگی جہازوں سے بھی چھوڑے جا سکتے ہیں جیسے کہ جہاز شکن میزائل، ٹارپیڈو اور ڈیپتھ چارجرز (آبدوزوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد) داغے جاتے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ روس ان ہتھیاروں کی رینج اور درستگی کو بہتر بنانے کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

Reutersکیا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار پہلے کبھی استعمال ہوئے ہیں؟

ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار پہلے کبھی کسی جنگ میں استعمال نہیں ہوئے ہیں۔

امریکہ اور روس جیسی جوہری طاقتوں کا خیال ہے کہ وہ میدان جنگ میں اہداف کو تباہ کرنے میں اسی طرح موثر ہیں جیسا کہ جدید روایتی گولہ بارود وغیرہ۔

مزید برآں، کوئی بھی ملک جوہری ہتھیاروں کی مکمل جنگ شروع کرنے کے خوف سے ان ٹیکٹیکل ہتھیاروں کے استعمال کرنے سے گریزاں ہے۔

تاہم روس بڑے سٹریٹجک میزائلوں کی جگہ چھوٹے ٹیکٹیکل ہتھیار کے استعمال کا زیادہ خواہاں ہوسکتا ہے۔

چیٹہم ہاؤس تھنک ٹینک میں بین الاقوامی سکیورٹی پروگرام کی سربراہ پیٹریشیا لیوس کہتی ہیں: 'وہ شاید اسے جوہری حملے کی حد پار کرنے کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ وہ اسے اپنی روایتی طاقت کے حصے کے طور پر دیکھتے ہیں۔'

Getty Imagesروس روایتی توپ سے بھی ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار داغ سکتا ہےکیا پوتن کی ایٹمی حملے کی دھمکی حقیقی خطرہ ہے؟

رواں سال فروری میں یوکرین پر حملے سے کچھ دیر پہلے صدر پوتن نے روس کی جوہری طاقت کو خصوصی طور پر جنگ کے لیے تیار رہنے کے لیے کہا اور اعلی سطح کی فوجی جوہری مشق بھی کی۔

ابھی حال ہی میں انھوں نے کہا کہ 'اگر ہمارے ملک کی سرحدوں کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم بلاشبہ روس اور اپنے لوگوں کی ہر ممکن حفاظت کریں گے۔ یہ کوئی دھونس نہیں ہے۔'

روس نے اپنے طور پر رائے شماری کرا کے جنوبی اور مشرقی یوکرین کے جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے، ضم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ صدر پوتن کا کہنا ہے کہ وہ 'ہر طرح سے' اپنے 'علاقے کی سالمیت' کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔

تاہم امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ یہ ایٹمی حملے کی منصوبہ بندی کے بجائے مغربی ممالک کے لیے دی جانے والی دھمکی ہے کہ وہ یوکرین کی مدد نہ کریں اور ان علاقوں کو واپس لینے کی کوشش نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا یوکرین جیسا چھوٹا ملک روس جیسی عالمی طاقت کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے؟

روسی فوجی مشقوں میں چین کی شمولیت پر امریکہ ناراض

لیکن کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ اگر روس کو مزید ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ جمود کو توڑنے یا شکست سے بچنے کے لیے یوکرین میں 'گیم چینجر' کے طور پر چھوٹے ٹیکٹیکل ہتھیار کو استعمال کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم کارنیگی انڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس ادارے میں جوہری امور کے ماہر جیمز ایکٹن نے کہا: 'مجھے تشویش ہے کہ ان حالات میں لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور اپنا راستہ نکالنے کے لیے پوتن یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن ابھی وہ حالات نہیں آئے ہیں۔'

Getty Imagesامریکہ کا اب تک ردعمل کیا رہا ہے؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے روس کو یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔

سی بی ایس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں جو بائیڈن نے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں 'جنگ کی تصویر کو بدل سکتی ہیں جیسا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہیں ہوا۔ اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔'

یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکہ اور نیٹو جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ حالات کو مزید خراب کرنے اور جوہری جنگ کا خطرہ مول نہ لیں، لیکن وہ روس کے لیے ایک حد مقرر کرنا چاہیں گے۔

ساتھ ہی جوہری طاقت کا حامل چین بھی روس کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حق میں نہیں ہوگا۔

کنگز کالج لندن میں جوہری امور کے ماہر ڈاکٹر ایچ ولیمز کہتے ہیں کہ 'روس کو چین کی حمایت پر بہت زیادہ انحصار ہے، لیکن چین کی 'پہلے جوہری ہتھیار نہ استعمال کرنے' کی پالیسی ہے۔ اگر پوتن نے اسے استعمال کیا تو چین کے لیے ان کی حمایت میں کھڑا ہونا مشکل ہو جائے گا۔ ایسی صورت حال میں روس چین کی حمایت کھو سکتا ہے۔'

BBCروس کے پاس کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں؟

جوہری ہتھیاروں کے تمام اعداد و شمار اندازوں پر ہی مبنی ہیں لیکن، فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کے مطابق، روس کے پاس 5,977 جوہری وار ہیڈز ہیں یعنی وہ آلات جو جوہری دھماکے کو متحرک کرتے ہیں، حالانکہ اس میں تقریباً 1,500 ایسے ہیں جن کی مدت پوری ہو گئی ہے اور اب ان کو تلف کیا جانا باقی ہے۔

BBC

بقیہ 4,500 یا اس سے کچھ زیادہ ایسے ہیں جن کی اکثریت کو سٹریٹجک جوہری ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جو عام طور پر صرف جوہری جنگ کے دوران استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں اور جو طویل فاصلے پر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔

باقی چھوٹے، کم تباہ کن جوہری ہتھیار ہیں جو میدان جنگ یا سمندر میں کم فاصلے تک استعمال کے لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا پوتن نیوکلیئر بٹن دبا سکتے ہیں؟

انڈیا اور پاکستان ممکنہ جوہری حادثات یا جنگ روکنے کے لیے کس حد تک تیار ہیں؟

پاکستان کا ایٹمی پروگرام بند کروانے کے لیے امریکی دباؤ کی کہانی خفیہ دستاویزات کی زبانی

وہ کانیں جن کی وجہ سے ایٹم بم بنا

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روس کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہزاروں جوہری ہتھیار تیار ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت صرف 1,588 روسی وار ہیڈز 'تعینات' ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہتھیار میزائلوں، بمبار اڈوں یا سمندر میں آبدوزوں پر نصب ہیں۔

دوسرے ممالک کے ساتھ موازنہBBC

دنیا بھر کے 200 سے زیادہ ملکوں میں صرف نو چین، فرانس، انڈیا، اسرائیل، شمالی کوریا، پاکستان، روس، امریکہ اور برطانیہ کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

چین، فرانس، روس، امریکہ اور برطانیہ بھی ان 191 ریاستوں میں شامل ہیں جنہوں نے جوہری عدم پھلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر رکھے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت انھیں اپنے جوہری وار ہیڈز کے ذخیرے میں تخفیف کرنی ہے، کہنے کی حد تک وہ انھیں مکمل طور پر تلف کرنے کے پابند ہیں۔

اسی وجہ سے 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے بعد جوہری طاقتیں اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں کمی کرتی رہی ہیں۔

شمالی کوریا سنہ 2003 میں جوہری عدم پھلاؤ کے عالمی معاہدے سے الگ ہو گیا تھا جبکہ انڈیا، اسرائیل اور پاکستان نے اس معاہدے پر کبھی دستخط ہی نہیں کیے ہیں۔

جوہری ہتھیار رکھنے والے دنیا کے نو ملکوں میں سے اسرائیل واحد ملک ہے جس نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں یا اس نے جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ لیکن سب کو معلوم ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

یوکرین کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہیں اور صدر پوتن کے الزامات کے باوجود اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس نے انھیں حاصل کرنے کی کوشش کی ہو۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More