’ہیر آکھیا جوگیا۔۔‘ وارث شاہ کا کلام سناتے پنجاب کے گلوکار

اردو نیوز  |  Sep 25, 2022

ہیر وارث شاہ آج بھی پورے پنجاب کا ایک مقبول کلام ہے اور نہ صرف پاکستان اور انڈیا بلکہ بیرون ملک بھی جہاں جہاں برصغیر کے لوگ بستے ہیں وہاں شوق سے سنا جاتا ہے۔ 

تقریباً تین سو سال گزرنے کے باوجود اب بھی پنجاب کے کئی علاقوں میں شام کو سورج ڈھلتے ہی چوپالیں سجائی جاتی ہیں، جہاں دور دور سے ہیر پڑھنے والوں کو بلایا جاتا ہے اور  بزرگ اور نوجوان حقہ گُڑگڑاتے ہوتے ہیر وارث شاہ سنتے ہیں۔  

ہیر رانجھا کے پیار کی یہ کہانی قصہ گوئی کی روایت کا ایک حصہ ہے جسےلوگ نسل در نسل سنتے آئے ہیں اور اس نے پنجابی زبان کی ترویج میں بھی خاصا کردار ادا کیا ہے۔  

اس وقت پاکستان میں ہیر پڑھنے والے کئی گروپ اور انفرادی قصہ گو ہیں جو مختلف علاقوں میں جا کر لوگوں کو کلام سناتے ہوئے محظوظ کرتے ہیں۔

بابا گروپ  حسنین اکبر اور محمد اسلم باہوپر مشتمل یہ گروپ اپنے مخصوص لباس اور انداز میں ہیر وارث شاہ پڑھنے کے لیے مشہور ہے۔ 

ان کا تعلق ضلع شیخوپورہ سے ہے اور یہ دونوں سرکاری ملازم ہیں۔ دونوں اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر صوفیا کے کلام کے فروغ کے لیے مختلف دیہات، شہروں اور علاقوں میں جا کر کلام پڑھتے ہیں۔  

کئی سو سال گزرنے کے باوجود آج بھی ہیر بہت مقبول ہے اور اس کے لیے محفلیں سجتی ہیں (فوٹو: اردو نیوز)انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت وارث شاہ میوزیم بھی بنا رکھا ہے جس میں پنجابی کلچر اور ثقافت سے متعلق اثاثہ محفوظ کر رکھا ہے۔  

 عارفہ سسٹرز جنڈیالہ شیر خان سے تعلق رکھنے والے ایک محنت کش گھرانے کی تین بہنیں بھی چار سال سے ہیر وارث شاہ پڑھ رہی ہیں ان کے گروپ کا نام عارفہ سسٹرز ہے۔

پنجاب کے لوگ گلوکار آج بھی ہیر کے لیے تان کھینچتے ہیں تو سامعین جھوم اٹھتے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)پنجابی زبان تحریک  پنجابی کے لیے نمایاں خدمات سرانجام دینے والے الیاس گھمن اس تحریک کے بانی ہیں۔ یہ اپنی خدمات کے باعث صدارتی ایوارڈ سمیت ساٹھ سے زائد اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔ پنجابی زبان تحریک بھی ہیر وارث شاہ کو نئی نسل تک پہنچانے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف شہروں میں پروگرام منعقد کرتےہیں۔  

وارث پرھیا وارث پرھیا سے ویر سپاہی، تیمور افغانی اور شبیر قدیمی جیسے پنجابی ادب کے لیے کام کرنے والے نام وابستہ ہیں۔ جو وارث شاہ کے کلام کے فروغ کےلیے شب و روز کوشاں ہیں۔

حضوری باغ لاہور لاہور والڈ سٹی کے زیراہتمام حضوری باغ لاہور میں ہر اتوار کو عصر سے مغرب تک ہیر گوئی کی جاتی ہے۔ جس میں پنجاب بھر سے گائیک حصہ لیتے ہیں۔ سیاحتی مقام ہونے کے سبب یہاں دوسرے ممالک سے آنے والے افراد کو بھی ہیر وارث شاہ سننے کو ملتی ہے۔ 

منظور ملنگ لاہور کے علاقے موہلنوال سے تعلق رکھنے والے منظور ملنگ نقیب محفل ہونے کے ساتھ ساتھ خوبصورت انداز میں ہیر گائیکی کرتے ہیں۔ انہیں محفل کی جان سمجھا جاتا ہے۔ یہ 40 سال سے باقاعدہ ہیر پڑھ رہے ہیں اور ٹی وی، ریڈیو پر بھی اپنا فن لوگوں کو پہنچاتے رہتے ہیں۔

لاہور میں سجی ایک محفل میں گلوکار ہیر پڑھ رہے ہیں (فوٹو: اردو نیوز)ندیم اقبال باہو ندیم اقبال باہو معروف لوک فنکارمحمد اقبال باہو کے بیٹے ہیں۔ ان کا تعلق لاہور سے ہے اور وہ اپنا کاروبار کے ساتھ ساتھ والدکے فن کو عرصہ دس سال سے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ والد کی طرح ان کی شناخت بھی صوفیانہ کلام ہے۔ اور یہ ہیر وارث شاہ پڑھنے کے لیے بھی مشہور ہیں۔ 

شبانہ عباس شبانہ عباس کا تعلق ضلع قصور سے ہے۔ یہ محمد اقبال باہو کی طرز پر ہیر وارث شاہ پڑھتی ہیں۔یہ اب تک مختلف ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔ 

رمضان شکوری رمضان شکوری کے بارے میں مشہور ہے کہ جس محفل میں انہیں بلایا جاتا ہے وہاں صرف ان کی ہیر سننے کےلیے لوگ جمع ہوتے ہیں۔ اس محفل میں لوگ کسی اور گائیک کو سننا پسند نہیں کرتے۔ ان کا ہیر گائیکی کا سفر جوانی سے شروع ہوا اور اب بڑھاپے میں بھی جاری ہے۔ ان کا تعلق ضلع شیخوپورہ سے ہے۔ 

معروف گلوکار اقبال باہو ہیر پڑھنے میں نمایاں مقام رکھتے تھے (فوٹو: سکرین گریب)پنجابی چونترہ پنجابی ادب سے تعلق رکھنے والے چوہدری اعظم خاں چوہان کی سرپرستی میں قائم پنجابی چونترہ گزشتہ دو سال سے کام کر رہا ہے۔ یہ ہر ماہ پنجابی بیٹھک کا انعقاد کرواتا ہے۔ جس میں ہیر وارث شاہ پڑھنے کےلیے مقامی اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے گائیک آتے ہیں۔ 

تیمور افغانی تیمور افغانی پچپن سے ہی ہیر گائیکی کر رہے ہیں۔ سکو ل، کالجز اور پھر پنجاب کی سطح پر ہونے والے مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا تعلق جنڈیالہ شیر خان ضلع شیخوپورہ سے ہے۔ یہ پنجابی میگزین پنج پانی کے مدیر بھی ہیں۔ 

تحسین سکینہ گجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی ہیر گائیک تحسین سکینہ پرسوز آواز میں ہیر وارث شاہ پڑھتی ہیں۔ یہ اب تک ہیر گائیکی کے مختلف مقابلوں میں نمایاں پوزیشنز حاصل کر چکی ہیں۔ 

ہیر وارث شاہ کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟ وارث شاہ جن کو مداحوں کی جانب سے ’پنجابی ادب کے شیکسپیئر‘ کا خطاب بھی دیا جاتا ہے، نے ہیر پر نظم لکھی تو یہ لوک دستان پنجابی کلچر کا حصہ بن گئی اور ہیر وارث شاہ کے نام سے معروف ہوئی۔ اس نظم کے کلام میں ایک میٹھی تاثیر ہے جو سننے والے کی سماعتوں کو جکڑ لیتی ہے۔ 

اس نظم میں پنجاب کی ثقافت، اس دور کے رسوم و رواج اور تہذیب و تمدن کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس میں عوامی، رومانوی اور علاقائی رنگ، دکھ، درد، تصوف، اور معاشرتی عکس کا موجود ہوناہے۔ 

پاکستانی صوفی اور لوک گلوکار محمد اقبال باہو جو وارث شاہ کے کلام کی خوبصورت ادائیگی کے لیے مشہور تھے ،کے بیٹے ندیم اقبال باہوکا کہنا ہے کہ وارث شاہ کے کلام میں بہت مشکل بات آسانی سے سمجھ آ جاتی ہے کیونکہ ان کی محبت کا اسلوب ہی کچھ ایسا ہے۔ ہیر وارث شاہ میں مختلف استعارے استعمال کر کے ہمارے لیے وضاحت کی گئی ہے۔ 

بابا وارث شاہ کون تھے؟ بابا وارث شاہ کا تعلق پنجاب کے ضلع شیخوپورہ سے تھا (فوٹو: مکالمہ)بابا وارث شاہ 1718 میں شیخوپورہ کے تاریخی قصبہ جنڈیالہ شیر خان میں پیدا ہوئے۔ ان کے آباؤ اجداد سرائیکی علاقے سے ہجرت کر کے شیخوپورہ آئے تھے۔وارث شاہ نے متعدد کتابیں تحریر کیں۔’ہیر‘ کے علاوہ ان کی دوسری تصانیف میں معراج نامہ، نصیحت نامہ، چوہریڑی نامہ اور دوہڑے شامل ہیں۔  ہیر رانجھا کی داستان متعدد دیگر قصے لکھنے والوں نے بھی تحریر کی ہے لیکن جو مقبولیت ہیر وارث شاہ کو ملی وہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوئی۔ 
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More