خیبر پختونخوا میں ضم قبائلی اضلاع میں غیرت کے نام پر قتل میں پولیس مداخلت روایات کے خلاف کیوں سمجھی جاتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Dec 07, 2022

BBCفائل فوٹو

خیبر پختونخوا کے سابقہ قبائلی ضلع خیبر کی ایک مقامی عدالت نے نومبر کے دوران غیرت کے نام پر بیوی سمیت دو افراد کے قتل کے الزام میں ملزم زیور شاہ کو سزائے موت اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

یہ پہلی بار تھا کہ صوبے میں ضم کیے گئے کسی ضلع میں غیرت کے نام پر خواتین پر تشدد کے کسی کیس میں ملزم کو سزا سنائی گئی۔

چالیس سالہ زیور شاہ کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ سے ہے۔ اُن پر الزام تھا کہ اُنھوں نے 14 نومبر 2020 کو اپنی بیوی اور بیس سالہ چچا زاد بھائی محمد اللہ پر فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔

واقعے کے بعد کسی نے مقدمہ درج نہیں کیا تھا تاہم تیراہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر ایران گل کی مدعیت میں زیور شاہ کے خلاف قتل اور بدامنی پیدا کرنے کے دو مقامات درج کیے تھے۔

ایران گل نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح دوران گشت اُن کو ذرائع سے اطلاع ملی کہ تیراہ کے ایک علاقے میں دو لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’جائے وقوعہ پر پہنچ کر دیکھا کہ خاتون کی لاش گھر کے اندر جبکہ نوجوان لڑکے کی لاش گھر کے باہر پڑی تھی۔ انھیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔‘

پولیس اہلکار کے مطابق ’ابتدائی تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون کے شوہر زیور شاہ نے غیرت کے نام پر دونوں کو قتل کر دیا۔‘

’تاہم کوئی فرد مقدمہ درج کرنے کے لیے سامنے نہیں آیا جس کے وجہ سے پولیس کی مدعیت میں اُن کے خلاف دوہرے قتل کا مقدمہ درج کر کے اُن کو گرفتار کر لیا گیا۔‘

یہ عدالتی فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ غیرت کے نام پر خواتین پر تشدد کے واقعات میں پولیس کی مداخلت کو قبائلی جرگے کی روایات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔

بی بی سی نے اس رپورٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں غیرت کے نام پر قتل اور دیگر جرائم کتنا سنگین مسئلہ ہے اور خیبر پختونخوا میں خواتین کے تحفظ کے لیے کون سے قوانین موجود ہیں۔

’یہ حادثاتی واقعہ ہے، جس میں نامعلوم افراد ملوث ہیں‘

مقامی افراد اور پولیس کے مطابق واقعے کی صبح زیور شاہ کی پندرہ سالہ بیٹی نے فائرنگ کی آواز سنتے ہی گھر سے نکل کر تھانے پہنچ کر پولیس کو بتایا کہ اُن کی ماں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اُن کی جان کو بھی خطرہ ہے۔

ادھر علاقے کے ایک قبائلی رہنما واجد علی نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد علاقے کے عمائدین کا جرگہ منعقد ہوا اورفریقین سے ملاقات کر کے اُن سے پوچھا کہ آیا وہ واقعے کے خلاف پولیس تھانے میں رپورٹ درج کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

اُن کے بقول دونوں جانب سے جواب نہیں تھا۔ اُنھوں نے کہا کہ پولیس حکام کو بتایا گیا کہ واقعے کا کوئی فریق مقدمہ درج نہیں کرنا چاہتا جبکہ وہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم بھی نہیں کروانا چاہتے۔

اُن کا کہنا ہے کہ پولیس فریقین اور علاقے کے عمائدین سے دستخط لے کر چلی گئی لیکن اس کے باوجود بھی تینروز بعد زیور شاہ کو تھانے بلا کر اُن کے خلاف مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا۔

17 نومبر 2022 کو مقدمے کی آخری سماعت ہوئی جس میں سینیئر پبلک پراسیکیوٹر شفیع اللہ عدالت میں حاضر ہوئے۔

اُنھوں نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں ملزم کی بیٹی واحد چشم دید گواہ ہے اور اس نے خود بیان ریکارڈ کروایا ہے کہ اُن کے والد نے فائرنگ کر کے والدہ کو قتل کیا جبکہ بچی کو جان کے خطرے کے پیش نظر خواتین کے بحالی مرکز منتقل کر دیا گیا ہے۔

عدالت میں ملزم کے وکیل لیاقت علی نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کی بیٹی نے ایسے وقت میں گواہی ریکارڈ کرا دی کہ اُس سے وکیل کا کوئی سوال اور جواب نہیں ہوا تاہم جب دوسری بار گواہی کے لیے وہ عدالت پیش کی گئی اور سوالات اور جوابات کیے گئے تو وہ اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئیں اور عدالت سے اپیل کی اُن کے والد کو جیل سے رہا کیا جائے۔

زیور شاہ کے وکیل لیاقت علی نے عدالت کے فیصلے پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں کئی ایسے نکات موجود ہیں جس کی بنیاد پر ملزم کے خلاف موت کی سزا نہیں سنانی چاہیے تھی۔

اُنھوں نے پولیس کی گواہی کے سوال پر کہا کہ پولیس نے جائے وقوعہ سے نہ اسلحہ برآمد کیا اور نہ کوئی دوسرا ثبوت ثابت پیش کیا کہ جس سے معلوم ہوسکے کہ دوہرے قتل میں زیور شاہ ملوث ہیں۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے وقت ملزم افغانستان میں تھا جبکہ واقعے کے تیسرے دن گھر آنے کے بعدد خود پولیس تھانے گیا تاکہ معلوم کرسکے کہ کیسے یہ واقعہ پیش آیا۔

لیاقت علی نے اس بات کو رد کیا کہ یہ واقعہ غیرت کے نام پرہوا تاہم اُن کے بقول یہ حادثاتی واقعہ ہے جس میں نامعلوم افراد ملوث ہیں۔

BBCغیرت کے نام پر قتل پشتون علاقوں میں کتنا حساس مسئلہ؟

پشتون علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کو انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے جس پر کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا جبکہ اس بنیاد پر مرد اور عورت کے قتل کو جائز بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مئی 2018 میں پچیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے قبائلی علاقے خیبر پختونخوا صوبے کا حصہ بنایا گیا جبکہ مذکورہ علاقوں میں پہلے سے نافذ فرنٹئر کرائم (ایف سی) ریگولیشن 1901 کا خاتمہ ہو گیا اور پہلی بار یہاں پر پولیس اور عدالتوں کو کام کی اجازت مل گئی۔

انضمام کے مخالفین دیگر اعترضات کے ساتھ اس بات پر کافی اصرار کرتے ہیں کہ پولیس اور عدالتی نظام سے علاقے میں تنازعات کے حل کے لیے صدیوں سے رائج جرگہ نظام مفلوج ہو چکا ہے۔

انضمام مخالف تحریک کے سربراہ ملک محمد حسین آفریدی کا کہنا ہے کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کے معاملے کو روایات کے مطابق حل کیا جاتا تھا اور کوئی فریق اُس کا انتقام نہیں لیتا تھا اور نہ مقامی انتظامیہ اس میں مداخلت کرتی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس کی طرف سے اس قسم کے معاملات میں مداخلت سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اگر کوئی عزت اور آبرو کی خاطر خاندان کے کسی فرد کو قتل کر دیتا ہے تو یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہوتا۔

غیرت کے نام پر قتل کے بعض واقعات میں جرگے کی طرف سے دباؤ اور خصوصاً خواتین کے خلاف انتقامی سرگرمیوں کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

پچھلے سال اکتوبر میں باجوڑ کے مرکزی شہر خار میں جاوید کے بڑے بھائی، جو سات بچوں کے والد تھے، کو قتل کیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’پورے علاقے کو معلوم ہے میرا بھائی بے گناہ تھا لیکن اس کے باوجود علاقے کے عمائدین جمع ہوئے اور مجھے کہا کہ آپ انتقام نہ لیں کیونکہ روایات کو پورا کرنے کے لیے عورت کو بھی قتل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد میں خاموش ہوا تاہم پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا۔‘

پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کی صوبائی مینیجر صائمہ مینر کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وہاں پر تمام قوانین کی توسیع ہوچکی ہے اور اسی بنیاد پر غیرت کے نام پر قتل کے الزام میں سزائیں قانونی اور عملی طور پر ممکن ہیں۔

تاہم ان کے مطابق ملزمان کو سزائیں دلوانے میں اب بھی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Getty Images

خیبر پختونخوا کے سماجی کارکنان کا خیال ہے کہ قبائلی جرگے اس قسم کے تنازعات میں کم ہی مداخلت کرتے ہیں اورخاتون کے خاندان کے فیصلے کو حتمی سمجھا جاتا ہے تاہم بعض اوقات فریقین کی رضا مندی سے جرگہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ایسے میں فیصلوں پر عملدرآمد کا نظام کمزور ہوتا ہے۔

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے چالیس سالہ عظمت علی کو جمرود بازار میں اُس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اُس مقدمے میں عدالت میں پیشی کے لیے جا رہے تھے جو ساڑھے تین سال پہلے لڑکی کے اغوا کے الزام میں ان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔

اُن کے چھوٹے بھائی بہار علی نے بی بی سی کو بتایا کہ عظمت نے اپنے پڑوس کی ایک لڑکی سے عدالت میں شادی کی تھی جس میں دونوں کی مرضی شامل تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کے بعد علاقے کے عمائدین کے ایک جرگے کے فیصلے کے مطابق عظمت کو علاقہ بدر کر دیا گیا اور لڑکی کے خاندان کو پابند بنایا گیا کہ وہ اس معاملے میں لڑکے اور لڑکی کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائیں گے ’لیکن اس کے باوجود تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا اور گذشتہ روز اُنھوں نے دوسرے ساتھی کی مدد سے عظمت کو عدالت میں پیشی کے دوران جمرود بازار میں قتل کر دیا۔‘

واقعے کے بعد پولیس نے دو ملزمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کیا تھا۔

غیرت کے نام پر خواتین کو قتل کرنے والوں کو سزائیں کیوں نہیں ملتیں؟

ایف سی آر قانون میں خواتین کے تحفظ کے لیے کوئی شق شامل نہیں تاہم اجتماعی ذمہ داری میں بچوں، بزرگ اور خواتین کو استثنیٰ حاصل تھا۔

سماجی کارکنان کے مطابق پولیس نظام سے پہلے قبائلی علاقوں میں غیرت کے نام پر جرائم اور دیگر واقعات اکثر انتظامیہ کو نہیں بتائے جاتے تھے تاہم اب بھی اس قسم کے مسائل موجود ہیں۔ واقعات پولیس کو رپورٹ نہیں کیے جاتے اور بعض اوقات رازداری کے نام پر اس پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔

ضلع خیبر میں پولیس حکام کے مطابق 2021 میں ایک ہزار مقدمات درج ہوئے جن میں قتل کے 114 جبکہ غیرت کے نام پر 14 واقعات ہوئے۔

رواں سال 1175 کیسز میں قتل کے 78 جبکہ غیرت کے نام پر قتل کے تین مقدمات درج ہوئے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا خیال ہے کہ کئی واقعات میں ذاتی دشمنی کی بنیاد پر خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے۔

سماجی کارکن ثنا احمد کے مطابق خواتین کے تحفظ کے لیے سابقہ قبائلی اضلاع میں قوانین موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد کے لیے مسائل درپیش ہیں۔

’تشدد کے واقعات نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ملوث افراد کو سزائیں دینے کا نظام بھی کمزور ہے۔‘

انھوں نے ایسے واقعات کی مثال دی ہے جن میں متاثرہ خواتین کے خاندانوں سے راضی نامے حاصل کر کے مجرموں کو سزاؤں سے بچایا گیا۔

ثنا احمد کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 میں غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترامیم کر کے اس کو مزید سخت کر دیا گیا۔

اُن کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دیگر قوانین جن میں سورہ، غگ، جنسی تشدد، ونی، گھر سے زبردستی بے دخلی، صلح میں لڑکیوں کو دینا اور قرآن کے ساتھ لڑکیوں کی شادی کی روک تھام کے قوانین موجود ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس حوالے سے پولیس، عدلیہ، وکلا اور خواتین کو موجودہ قوانین کے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

صوبائی محکمہ داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ مکمل طور پر ضم اضلاع میں مختلف نوعیت کے بیس ہزار کیسز عدالت میں زیرِ سماعت ہیں جن میں بڑی تعداد ضلع خیبر میں ہیں۔

مذکورہ اضلاع کی خواتین وکلا کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار میں بمشکل ڈھائی سے تین سو کیسز خواتین سے متعلق ہیں اور اس کی ایک وجہ پولیس میں خواتین اہلکاروں کی محدود تعداد ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More