Reuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان میں نیٹو افواج سے متعلق متنازع بیان کے معاملے پر برطانیہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے صدر ٹرمپ کے بیان کو ’توہین آمیز اور خوفناک‘ قرار دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس پر خود معافی مانگ لیں گے۔
افغانستان میں برطانوی فوج میں شامل رہنے والے شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سچائی اور عزت کے ساتھ بات کی جانی چاہیے۔
شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ ’میں نے وہاں خدمات سرانجام دی ہیں، میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے ہیں۔۔اور کچھ کو میں نے وہاں کھو دیا۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’سنہ 2001 میں نیٹو نے تاریخ میں پہلی بار آرٹیکل فائیو کا اطلاق کیا، اس کا مطلب یہ تھا کہ ہر اتحادی ملک مشترکہ سلامتی کے حصول کے لیے افغانستان میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہونے کا پابند ہے۔ اتحادیوں نے اس عمل میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔‘
واضح رہے کہ نیٹو کے آرٹیکل فائیو کے تحت ’ایک پر حملہ سب پر حملہ‘ تصور کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دِیے گئے انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’وہ کہیں گے کہ اُنھوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے۔۔ اُنھوں نے ایسا کیا۔۔۔ لیکن وہ کچھ پیچھے رہے۔۔۔ وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے۔‘
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اُن کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی ہم نے کبھی اُن سے کسی چیز کے لیے پوچھا۔
AFP via Getty Imagesشہزادہ ہیری’اُمید ہے کہ صدر ٹرمپ اس پر ضرور معافی مانگیں گے‘
برطانوی وزیر اعظم کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ’اگر خود احساس ہوا کہ اُنھوں نے غلط بات کی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر معافی مانگیں گے۔‘
برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں اپنی افواج کی ہمت اور بہادری اور اپنے ملک کے لیے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے فوجی بھی تھے، جو زخمی ہوئے اور کچھ زخموں نے اُن کی زندگی بدل کر رکھ دی۔
برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ 'میں صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو توہین آمیز اور واضح طور پر خوفناک سمجھتا ہوں اور مجھے کوئی تعجب نہیں ہے کہ اُن کے ان الفاظ نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے پیاروں کو اور درحقیقت پورے ملک میں تکلیف پہنچائی ہے۔'
برطانیہ کے علاوہ دیگر حکومتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔
پولینڈ کے وزیر خارجہ جو افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے 33 ہزار پولینڈ کے فوجیوں میں شامل تھے نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اُڑانے کا حق نہیں ہے۔
کینیڈا کے وزیر برائے قومی دفاع ڈیوڈ جے میک گینٹی نے کہا کہ کینیڈین فوجی پہلے دن سے ہی محاذ جنگ پر تھے اور قندھار میں اتحادی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ان کے 158 فوجیوں نے جانیں گنوائیں۔
افغان جنگ کے دوران نیٹو کے سیکریٹری جنرل رہنے والے جاپ ڈی ہوپ شیفر نے بی بی سی ورلڈ سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی امریکی صدر کو یہ آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان لوگوں کی توہین کرے جو افغانستان سے زندہ واپس نہیں آ سکے۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر امریکی صدر سے ’مخلصانہ معافی‘ کی توقع کرتے ہیں۔
امریکہ میں نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ اور اتحادی افواج نے اکتوبر میں افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ نیٹو ممالک نے امریکہ کی قیادت میں ہونے والی اس جنگ میں اپنے فوجی اور دیگر سازو سامان بھی بھیجا۔
’ٹرمپ ہیں، تو امن ہے‘: کیا ’بورڈ آف پیس‘ اقوام متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے؟عالمی سطح پر کشیدگی کو جنم دینے والا وہ تنازع جو روس کو اچانک صدر ٹرمپ کے ’قریب‘ لے آیاوہ لمحہ جب روسی صدر نے جوہری ہتھیار فعال کرنے والا ’بریف کیس‘ کھول لیا تھاوہ ’تجارتی بزوکا‘ جو فرانس کے خیال میں ٹرمپ کو خوف زدہ کر سکتا ہے
سنہ 2021 میں امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں 3500 اتحادی فوجی ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 2461 امریکی جبکہ 457 برطانوی فوجی تھے۔
ان 457 برطانوی فوجیوں میں سے زیادہ تر افغان صوبے ہلمند میں جارے گئے، جہاں اتحادی افواج اور طالبان فورسز کے مابین متعدد جھڑپیں ہوئی تھیں۔
ان کارروائیوں کے دوران سینکڑوں برطانوی فوجی زخمی ہوئے اور کچھ کے اعضا بھی ضائع ہوئے۔ ان میں اینڈی ریڈ نامی برطانوی فوجی بھی شامل تھے، جو بارودی سرنگ کی زد میں آنے کی وجہ سے اپنی دونوں ٹانگوں اور دائیں بازو سے محروم ہو گئے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہم جسمانی یا ذہنی طور کسی قسم کی تکلیف میں نہ ہوں۔‘
امریکی فوجیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر ریڈ کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ فرنٹ لائن پر تھے اور میں اُن کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم بھی فرنٹ لائن پر تھے۔‘
ڈیان ڈرنی، جن کے بیٹے بین پارکنسن 2006 میں موسیٰ قلعہ کے قریب ایک بارودی سرنگ کی زد میں آنے سے شدید زخمی ہوئے تھے، نے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ ’بہت توہین آمیز‘ اور سننے میں مشکل تھے۔
41 سالہ بین پارکنسن ایک اور آپریشن کے بعد صحت یاب ہو رہے ہیں۔ لیکن ڈرنی نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرمپ کے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’ایک بچگانہ آدمی اپنے اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
Getty Imagesبین پارکنسن 2006 میں موسیٰ قلعہ کے قریب ایک بارودی سرنگ کی زد میں آنے سے شدید زخمی ہوئے تھے
ڈرنی نے برطانوی وزیر اعظم پر زور دیا کہ وہ اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں اور امریکی صدر کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
ڈرنی کا مطالبہ جب برطانوی وزیر اعظم کے سامنے رکھا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے اور میں ڈیان سے کہتا ہوں کہ اگر میں نے اس طرح کی کوئی غلط بات کی ہوتی تو میں معافی مانگتا۔‘
سٹارمر کے بیان کے چند لمحوں بعد بی بی سی کو دوسرا انٹرویو دیتے ہوئے ڈرنی نے کہا کہ وزیر اعظم کا موقف کافی مضبوط ہے، لیکن انھیں اس معاملے پر مزید سخت رویہ رکھنا چاہیے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’سٹارمر کے الفاظ بالکل وہی تھے، جو ہم سننا چاہتے تھے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سٹارمر یہ باتیں صدر ٹرمپ کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہیں۔‘
جمعے کو برطانیہ کی مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی ٹرمپ کے اس متنازع بیان پر ردِعمل دیا ہے۔
قدامت پسند رہنما کیمی بیڈینوک نے کہا: ’صدر ٹرمپ کی طرف سے بہت زیادہ لاپرواہی کی گئی ہے۔ وہ واضح طور پر تاریخ نہیں جانتے کہ کیا ہوا۔‘
لبرل ڈیموکریٹ رہنما سر ایڈ ڈیوی نے امریکی صدر کے ریمارکس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ فوجیوں کی قربانیوں پر سوال اُٹھائیں۔
Getty Images
امریکی سیاسی اور عسکری شخصیات نے بھی ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق تبصرے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
سابق قومی سلامتی کے مشیر ہربرٹ ریمنڈ میک جنھوں نے افغانستان میں سینئر امریکی افسر کے طور پر خدمات انجام دیں، کہا کہ برطانوی افواج ہر روز انسداد بغاوت کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
میک ماسٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں یہ ان لوگوں کی توہین ہے جو ہمارے ساتھ لڑ رہے تھے۔‘
اپنی دوسری مدت صدارت کے دوران، ٹرمپ نے نیٹو پر بار بار تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ رہا ہے کہ نیٹو کے رُکن ممالک نے امریکہ کے مقابلے میں اس پر بہت کم پیسہ خرچ کیا ہے۔
ٹرمپ کئی روز سے گرین لینڈ سے متعلق تبصرے کر رہے ہیں، جو نیٹو کا رُکن ملک ہے۔
وائٹ ہاؤس نے برطانیہ میں پائے جانے والے غصے پر تاحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔
جمعے کو برطانوی وزیر اعظم کی جانب سے صدر ٹرمپ سے معافی مانگنے کے مطالبے سے قبل وائٹ ہاؤس نے نیٹو سے متعلق اُن کے خیالات کا دفاع کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’صدر ٹرمپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔ نیٹو میں امریکی فوج کا حصہ دیگر ممالک سے مقابلے میں زیادہ ہے۔۔۔ نیٹو اتحادیوں کی جانب سے زیادہ اخراجات اُٹھانے کا وعدہ یورپ کے دفاع میں مدد کر رہا ہے۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نیٹو کا وہ واحد پارٹنر ہے جو گرین لینڈ کا تحفظ کر سکتا ہے اور صدر ایسا کر کے نیٹو کے مفادات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
نیٹو کیا ہے، کب بنا اور اب اس اتحاد کا مستقبل کیا ہے؟کیا صدر ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے ذریعے چین اور روس سمیت ’آمرانہ حکومتوں‘ کو نیا راستہ دکھا دیا ہے؟’یورپ میں تہذیب کے خاتمے کا خطرہ‘: امریکہ کی قومی سلامتی کی نئی حکمت عملی جس کا روس نے خیر مقدم کیا’طاقت کے بل پر‘ چلنے والی دنیا اور امریکہ، چین اور روس کے درمیان غلبہ حاصل کرنے کی دوڑٹرمپ کی گرین لینڈ میں فوجی مداخلت کی دھمکی جس نے نیٹو اور یورپی یونین کو مشکل میں ڈال دیا