Getty Imagesآئی سی سی نے بتایا کہ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود بی سی بی اپنے مؤقف پر قائم ہے
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم کی شمولیت کے حوالے سے فیصلہ حکومت لے گی۔
سنیچر کے روز آئی سی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کی جانب سے شائع شدہ میچ شیڈول کے مطابق ٹورنامنٹ میں شرکت سے انکار کے بعد سکاٹ لینڈ آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کی جگہ لے گا۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی قومی ٹیم کو انڈیا میں کسی بھی قسم کے سیکورٹی خطرے کی قابل تصدیق ثبوت نہ ملنے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کر پانے والی ٹیموں میں سکاٹ لینڈ کی رینکنگ سب سے زیادہ ہے۔
آئی سی سی کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ہونے والے اجلاس کے بعد بنگلہ دیش کو 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا تاہم ڈیڈ لائن گزرجانے کے باوجود بنگلہ دیش کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
بنگلہ دیش کو ہر صورت کھلانا چاہیے، پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ حکومت کرے گی، محسن نقوی
آئی سی سی کے اعلان سے کچھ دیر قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان اس معاملے میں بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے اور پاکستان ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے انڈیا بھیجنے کے متعلق فیصلہ حکومت کرے گی۔
سنیچر کے روز لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں میڈیا سے باتکرتے ہوئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا، ’حکومتِ پاکستان ہمیں جو حکم دے گی ہم وہ کریں گے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس وقت پاکستان میں نہیں ہیں، جب وہ واپس آئیں گے تو اس کے بعد ہم آپ کو [اپنے] حتمی فیصلے کے متعلق بتا سکیں گے۔‘
’ہم آئی سی سی سے زیادہ حکومتِ پاکستان کے تابع ہیں، تو ہمیں وہی کرنا ہے جو حکومت کہے گی۔‘
محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں بنگلہ دیش کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ ’میں نے آئی سی سی کی بورڈ کی میٹنگ میں بھی یہی کہا تھا کہ آپ دہرا معیار نہیں اپنا سکتے کہ ایک ملک کے لیے کہیں کہ جب مرضی فیصلہ کر لے اور دوسری ملک کے لیے بالکل الگ فیصلہ کریں۔‘
پی سی بی چیئرمین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو ہر صورت ورلڈ کپ میں کھلانا چاہیے۔ 'وہ ایک بڑے سٹیک ہولڈر ہیں اور ان کے ساتھ یہ زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔'
ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے کے میچز کے لیے ہائبرڈ نظام اپنایا جا سکتا ہے تو بنگلہ دیش کے لیے کیوں نہیں۔
ان کا اشارہ گذشتہ برس پاکستان میں منعقد ہونے والے ایشیا کپ کی جانب تھا جب انڈیا کے پاکستان میں میچ کھیلنے کے انکار کے بعد انڈیا کے تمام میچز متحدہ عرب امارات منتقل کر دیے گئے تھے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایک ملک کسی کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتا۔ 'اگر ڈکٹیشن کی کوشش ہو گی تو پھر پاکستان کا اپنا موقف ہے اور وہ اسی پر رہے گا۔'
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہمارے پاس بہت سارے متبادل منصوبے ہیں۔
یاد رہے کہ جمعرات کے روز بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنا فیصلہ تبدیل نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے انڈیا میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔
ڈھاکہ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے مشیر برائے سپورٹس آصف نذرل سے ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے فیصلے سے آگاہ کیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنی بورڈ میٹنگ میں بنگلہ دیش کو انڈیا میں ورلڈ کپ کھیلنے سے متعلق فیصلہ کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا تھا لیکن اس سے پہلے ہی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
آئی سی سی نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے انڈیا میں شیڈول میچز کہیں اور منتقل کرنے سے معذرت کر لی تھی۔
مشیر برائے سپورٹس آصف نذرل نے جمعرات کے روز صحافیوں کو بتایا کہ حکومت کا فیصلہ واضح ہے، بنگلہ دیش کی ٹیم انڈیا میں نہیں کھیلے گی۔
اُنھوں نے کہا کہ ہمیں آئی سی سی سے انصاف نہیں ملا، اُمید ہے کہ آئی سی سی ہمارے سکیورٹی خدشات پر غور کرے گا اور سری لنکا میں کھیلنے کی ہماری درخواست قبول کر لے گا۔
آصف نذرل کا مزید کہنا تھا کہ کسی کے سامنے سر جھکانے اور اپنے کھلاڑیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے نتائج پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے اس معاملے پر کرکٹرز سے ذاتی طور پر بات بھی کی۔
اس موقع پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبل نے کہا کہ ہم آئی سی سی سے دوبارہ رابطہ کریں گے اور اپنا موقف دہرائیں گے کہ ہم انڈیا میں نہیں بلکہ سری لنکا میں کھیلنا چاہتے ہیں۔
آئی سی سی نے اپنے بیان میں کیا کہا تھا؟
بدھ کے روز ایک بیان میں آئی سی سی کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ کئہ ہفتوں سے آئی سی سی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ساتھ تمعیری بات چیت میں مصروف ہے، جس کا مقصد ٹورنامنٹ میں بنگلہ دیش کی شمولیت یقینی بنانا ہے۔‘
آئی سی سی نے کہا تھا کہ اس دوران اس نے بی سی بی کے ساتھ آزادنہ طور پر لیے گئے سکیورٹی جائزے اور انڈیا کے حکام کی طرف سے سکیورٹی کی باقاعدہ یقین دہانی شیئر کیں، جس سے ’نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ انڈیا میں بنگلہ دیش کی ٹیم کے تحفظ اور سکیورٹی کے خلاف کوئی مستند یا تصدیق شدہ خطرہ موجود نہیں۔‘
آئی سی سی نے مزید بتایا تھا کہ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود بی سی بی اپنے مؤقف پر قائم ہے اور ’ٹورنامنٹ میں شمولیت کو ڈومیسٹک لیگ میں اس کے کھلاڑی سے متعلق ایک واحد اور تنہا واقعے سے جوڑ رہا ہے۔‘
یوں تو بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ہی خراب ہیں لیکن گذشتہ ماہ بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک ہندو شخص کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید خراب کر دیا تھا۔
اب دونوں ہمسایہ ممالک تواتر سے ایک دوسرے پر تعلقات خراب کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں، ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں اور عوامی سطح پر بیانات جاری کیے جا رہے ہیں۔
Getty Imagesآئی سی سی نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ کسی ’آزاد سکیورٹی جائزے کی عدم موجودگی‘ میں میچز کو کہیں اور منتقل نہیں کر سکتا
بنگلہ دیش کی جانب سے ٹیم انڈیا نہ بھیجنے کا فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا، جب انڈین کرکٹ بورڈ نے عوامی مخالفت اور تنقید کے بعد بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمن کو انڈین پریمیئر لیگ سے ریلیز کر دیا تھا۔
تاہم آئی سی سی نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا کہ وہ کسی ’آزاد سکیورٹی جائزے کی عدم موجودگی‘ میں میچز کو کہیں اور منتقل نہیں کر سکتا۔
آئی سی سی نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کا مطالبہ قبول کرنے سے دیگر ٹیموں اور دنیا بھر میں شائقین کے لیے لاجسٹیکل اور شیڈول کے مسائل جنم لیں گے۔
خیال رہے اس سے قبل بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے مشیر برائے کھیل آصف نذرل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بی سی بی کو ایک خط کے ذریعے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے انڈیا جا کر ورلڈ کپ کھیلنے کے معاملے پر ’تین خدشات‘ ظاہر کیے ہیں۔
یہ خط بنیادی طور پر آٹھ جنوری کو بھیجی گئی ایک ای میل ہے جو آئی سی سی کے سکیورٹی مینیجر نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے سکیورٹی ایڈوائزر کو بھیجی۔
ای میل کے متن میں ان خطرات پر بات کی گئی جو انڈیا جا کر کرکٹ کھیلنے پر بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اور ان کے حامیوں کے لیے پیدا ہو سکتے ہیں۔
ای میل میں آئی سی سی کے سیکیورٹی مینیجر نے ’خطرات کے جائزے کا خلاصہ‘ پیش کیا تھا۔
واضح رہے کہ سات فروری 2026 سے شروع ہونے والی ٹی 20 ورلڈ کپ کی میزبائی انڈیا اور سری لنکا کے پاس ہے۔ انڈیا کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان بھی ورلڈ کپ کے اپنے تمام میچز انڈیا کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔
انڈیا نے اپنے سفارتکاروں کے اہلخانہ کو بنگلہ دیش سے واپس بُلا لیا: ’اگر وہ ہمیں پاکستان کے زمرے میں رکھنا چاہتے ہیں تو یہ اُن کا فیصلہ ہے‘بنگلہ دیشی بورڈ کے ڈائریکٹر کا متنازع بیان جس پر کھلاڑیوں نے پریمیئر لیگ کا میچ کھیلنے سے ہی انکار کر دیا’سیون سسٹرز‘ الگ کرنے کی دھمکی: بنگلہ دیش میں انڈین ہائی کمشنر کی ملک بدری کا مطالبہعثمان ہادی: قاتلانہ حملے میں مارے جانے والے بنگلہ دیش کے ’انڈیا مخالف‘ نوجوان رہنما کون ہیں؟بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں ’تاریخی بحران‘ شدید تر کیوں ہو رہا ہے؟ٹاس کے دوران ’نو ہینڈ شیک:‘ انڈیا کے ساتھ میچ سے قبل تنازع جس پر بنگلہ دیش بورڈ کو وضاحت دینی پڑی