بنگلہ دیش میں نوجوانوں کے انقلاب کے بعد پہلے عام انتخابات: جین زی کا خواب اب بھی ادھورا کیوں؟

بی بی سی اردو  |  Feb 07, 2026

BBCشیخ حسینہ کے خاتمے کے بعد ڈھاکہ کی سڑکوں پر کی گئی گریفیٹی

راحت حسین اپنے دوست کو بچاتے ہوئے خود بھی مارے جانے والے تھے، کیونکہ ان جیسے کئی نوجوانوں کی بغاوت بنگلہ دیش کی تاریخ کے سب سے خونریز واقعات میں سے ایک بن گئی تھی۔

ملک میں حالیہ انقلاب کے دوران وائرل ہونے والی ان کی ایک ویڈیو میں وہ امام حسن تایم بھویان کو محفوظ مقام تک لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں پولیس نے گولی مار دی تھی۔

20 جولائی 2024کو احتجاج پر کریک ڈاؤن کے دوران 24 سالہ راحت حسین اور 19 سالہ امام حسن بھویان نے ڈھاکہ کے ایک چائے کے سٹال میں پناہ لی لیکن پولیس نے انھیں باہر نکالا، مارا پیٹا اور بھاگنے کا حکم دیا۔

بھویان کو گولی مار دی گئی۔ اسے زمین پر گرا دیکھ کر راحت حسین نے اسے گھسیٹنا شروع کیا، لیکن پولیس نے فائرنگ جاری رکھی۔

راحت حسین نے محسوس کیا کہ ایک گولی ان کی اپنی ٹانگ میں لگ گئی ہے۔

راحت حسین کہتے ہیں کہ ’مجھے اسے پیچھے چھوڑنا پڑا۔‘ بعد میں امام حسن بھویان کو ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا۔

ایسے تشدد نے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کو بڑے پیمانے کے ملک گیر احتجاج میں بدل دیا۔ جس کا مرکز دارالحکومت ڈھاکہ تھا۔

دو ہفتوں کے اندر، حکومت اقتدار سے ہٹا دی گئی اور وزیر اعظم شیخ حسینہ ملک چھوڑ گئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق احتجاج کے دوران تقریبا 1,400 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے اکثریت شیخ حسینہ کے حکم پر کیے گئے سکیورٹی کریک ڈاؤن میں مارے گئے۔

شیخ حسینہ کا زوال ایک نئے دور کا وعدہ لگ رہا تھا۔ یہ بغاوت دنیا بھر میں جنریشن زی کا پہلا اور سب سے کامیاب احتجاج سمجھی جارہی تھی۔

بنگلہ دیش کے کچھ طلبہ رہنماؤں نے عبوری حکومت میں اہم عہدے سنبھالے اور ایک ایسے ملک کو تشکیل دینے کی کوشش کی جس کے لیے وہ سڑکوں پر نکلے تھے۔

شیخ حسینہ کی عوامی لیگ اور حریف بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی دہائیوں کی حکمرانی کے بعد اب ان سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ملک کی مستقبل کی انتظامیہ میں کردار ادا کریں گے۔

لیکن جیسے جیسے جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات قریب آ رہے ہیں، طلبہ کی نئی تشکیل شدہ سیاسی جماعت بری طرح تقسیم کا شکار نظر آ رہی ہے اور اس تحریک میں خواتین کو زیادہ تر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے دہائیوں سے قائم جماعتیں ہی اس خلا کو پر کرتی نظر آ رہی ہیں۔

BBCراحت حسین احتجاج کے دوران گولی لگنے سے بچ گئے لیکن ان کے دوست نہیں بچ پائے

راحت حسین سنہ 2024 کے طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں شامل تھے۔ ان مظاہروں بے نوجوان نسل، مرد و خواتین، سیکولر اور مذہبی ہر طرح کے لوگوں کو اکٹھا کر دیا تھا۔

ابتدا میں تو یہ مظاہرے سول سروس کی ملازمتوں میں نئے کوٹہ جات کے خلاف تھے لیکن رفتہ رفتہ ان کا ایک ’ایک مشترکہ مقصد‘ بن گیا: ’آمرانہ حکمرانی کا خاتمہ‘۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’لیکن عبوری حکومت وہ خوبصورت بنگلہ دیش بنانے میں ناکام رہی ہے جو امن، مساوات اور انصاف پر مبنی ہوتا‘ اور جس کی ان سے امید کی جا رہی تھی۔

وہ اکیلے نہیں جو ایسا محسوس کرتے ہیں کہ طلبہ کی قیادت میں بننے والی نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) ناتجربہ کار ہے۔ اس کے بجائے وہ ایک دوسری پرانی جماعت، جماعت اسلامی سے متاثر ہیں۔

یہ ایک اسلام پسند جماعت ہے جو بنگلہ دیش کی سیاست میں ہمیشہ سے ایک چھوٹی اتحادی جماعت کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ لیکن 12 فروری کے انتخابات سے قبل اس کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔ ان انتخابات میں عوامی لیگ پر پابندی ہے۔

سنہ 1941 میں قائم ہونے والی جماعت کو ہمیشہ بنگلہ دیش کی 1971 میں پاکستان سے آزادی کی جنگ کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم رہی ہے۔ اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے جبکہ ایک کروڑ سے زائد افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا تھا۔

جماعت کے کچھ سیاستدانوں پر اس وقت کے مغربی پاکستان کا ساتھ دینے کا الزام تھا۔ لیکن یہ تاریخ راحت حسین کو پریشان نہیں کرتی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اب بدل چکی ہے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ ’جماعت نے جولائی کی بغاوت کرنے والوں اور طلبہ کی مختلف طریقوں سے حمایت کی۔‘

عثمان ہادی: قاتلانہ حملے میں مارے جانے والے بنگلہ دیش کے ’انڈیا مخالف‘ نوجوان رہنما کون ہیں؟’انڈیا پر حد سے زیادہ انحصار‘ سمیت وہ عوامل جنھوں نے شیخ حسینہ کے خلاف بغاوت میں کردار ادا کیا بنگلہ دیش کو مستقبل میں آمریت سے بچانے کی بحث: ’ڈکٹیٹرشپ سے بچنا ممکن ہے لیکن آئین میں ترمیم ضروری ہے‘پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟BBCنوجوان بنگلہ دیشیوں نے ان مظاہروں میں کلیدی کردار ادا کیا جو 2024 میں حکومت کے خاتمے کا باعث بنے

جماعت کے رہنما شفیق الرحمن نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی بدعنوانی کے خاتمے اور عدلیہ کی خودمختاری بحال کرنے کا وعدہ کر رہی ہے۔

یہ دعوے ایک ایسے ملک میں کرنا اگرچہ مشکل ہے جہاں تاریخی طور پر بدعنوانی کی سطح زیادہ ہے، لیکن یہ دعوے بہت سے لوگوں کے دلوں کو چھو رہے ہیں۔

ڈھاکہ کی نارتھ ساؤتھ یونیورسٹی کے پروفیسر توفیق حق کہتے ہیں کہ زیادہ تر نوجوان ووٹر، جو 1971 کے بعد پیدا ہوئے ہیں، جماعت کو اس کے ماظی سے الگ دیکھ سکتے ہیں اور وہ اسے ایک ’ریڈ لائن‘ نہیں سمجھتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک نسلی مسئلہ ہے‘ اور دلیل دیتے ہیں کہ نئی نسل ’اس بحث میں الجھنا‘ نہیں چاہتی۔

توفیق حق کہتے ہیں کہ نوجوان ووٹرز جماعت اسلامی کو بھی اپنی ہی طرح کی جماعت کے طور پر دیکھتے ہیں جو شیخ حسینہ کے مظالم کا شکار رہی، جس کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگی اور اس کے کئی سیاستدان کو جیل جانا پڑا۔

راحت حسین اکیلے نہیں ہیں جن کا جھکاؤ جماعت اسلامی کی جانب ہے: گذشتہ سال ستمبر میں بنگلہ دیش کی اعلیٰ یونیورسٹیوں کے طلبہ انتخابات میں جماعتِ اسلامی کے طلبہ ونگ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے زبردست کامیابی حاصل کی اور اسے قومی رجحان کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہاں یہ قابل ذکر ہے کہ آزادی کے بعد پہلی بار کسی اسلام پسند جماعت نے بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ یونین پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔

یہ طلبہ رہنماؤں کے لیے بھی پہلی بڑی علامت تھی، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں تقریبا 10 میں سے چار ووٹر 37 سال سے کم عمر کے ہیں۔

ایک متنازع سمجھوتہ

این سی پی پر اعتماد کا فقدان طلبہ رہنماؤں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔

27 سالہ آصف محمود عبوری حکومت کے سابق مشیر اور اب این سی پی کی انتخابی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ’ہمیں امید تھی کہ ہم اس سے کہیں بہتر کر پائیں گے‘۔

لیکن وہ دلیل دیتے ہیں کہ ان کے لیے مشکلات بہت زیادہ تھیں۔ ’گذشتہ 50 سالوں سے صرف دو جماعتیں بنگلہ دیش پر حکمرانی کرتی آئی ہیں۔۔۔ ہم خود کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

لہٰذا این سی پی نے ایک فیصلہ کیا۔ دسمبر میں انھوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ کثیر الجماعتی اتحاد کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی کی طرح، این سی پی بھی بدعنوانی ختم کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔

اس کے منشور میں نوجوان ووٹرز کے لیے دیگر وعدے بھی شامل ہیں جن میں بغاوت میں مارے گئے خاندانوں کے لیے انصاف، ووٹنگ کی عمر 16 سال کرنا، اور ٹیکس اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے روزگار پیدا کرنا شامل ہے۔

آصف محمود کا کہنا ہے کہ بے شک کچھ معاملات پر ہمارا اتفاق نہیں لیکن جماعت اسلامی کو عوام میں نچلی سطح تک پہنچ حاصل ہے اور این سی پی کو اس کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ ہم اسلام پسند جماعت نہیں ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی اتحاد نہیں ہے۔‘

لیکن جماعت کی جانب سے این سی پی کو 30 امیدوار کھڑے کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور ان میں سے صرف دو خواتین ہیں۔ جماعت کے اپنے 200 سے زائد امیدوار ہیں اور وہ سب مرد ہیں۔

یہ وہ سمجھوتہ ہے جسے تسنیم زارا جیسی این سی پی کی سینیئر خواتین ارکان ’اخلاقی ریڈ لائن‘ قرار دیتی ہیں۔ اور اسی وجہ سے انھوں نے اور کئی دیگر نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

25 سالہ طالبہ شیما اختر جنھوں نے احتجاج کے دوران کلیدی کردار ادا کیا تھا کہتی ہیں، ’وہ ہمیں ہٹانا چاہتے تھے‘۔

اگرچہ خواتین نے بغاوت میں مرکزی کردار ادا کیا مگر شیما کا کہنا ہے کہ محمد یونس کے تحت عبوری حکومت اب بھی زیادہ تر مردوں کے زیر اثر ہے۔ ’عورتیں کہاں ہیں؟‘

BBCشیما اختر کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاسی صف بندی میں خواتین کو نظرانداز کیا جا رہا ہے

بغاوت کے بعد شیما اور دیگر خواتین کارکنوں کو سوشل میڈیا پوسٹس میں نشانہ بنایا گیا۔

وہ یاد کرتی ہیں کہ ’کچھ میم ویڈیوز بہت پرتشدد اور مایوس کن تھیں۔ ہمیں بدنام کیا گیا، مذاق بنایا گیا۔‘

ان کی ویڈیوز گردش کرنے لگیں، جن میں انھیں کم عقل کہا گیا، دعویٰ کیا گیا کہ ان کی شادی کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور کچھ نے تو شیما کی رنگت کا بھی مذاق اڑایا۔

دونوں جماعتیں خواتین کو نظر انداز کرنے کے الزام سے انکار کرتی ہیں اور دعویٰ کرتی ہیں کہ انتخابات میں خواتین امیدواروں کی تعداد بنگلہ دیش کے ’سماجی ڈھانچے‘ کا نتیجہ ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما شفیق الرحمن نے مزید کہا کہ انھیں امید ہے کہ یہ صورتحال بدل جائے گی۔

شیما اسے ’صرف ایک پدرشاہی بہانہ‘ قرار دے کر مسترد کر دیتی ہیں۔

وہ بی این پی کی طرف جھکاؤ رکھتی ہیں، جو 250 سے زائد امیدواروں میں سے 10 خواتین کو میدان میں اتار رہی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ کم سے کم برے سے تو بہتر ہے۔‘

کیا خاندانی سیاست قائم رہے گی؟

این سی پی کی حمایت کی کمی اور عوامی لیگ پر پابندی بھی بی این پی کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جو خود کو اب ایک لبرل جمہوری قوت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

ہزاروں حامیوں اور سینیئر ارکان کو عوامی حکومت کے تحت قید ہوتے دیکھنے کے بعد، بی این پی اب سب سے بڑی جماعت ہے جو ابتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور طلبہ پارٹی کو مزید دباؤ میں ڈال رہی ہے۔

عوامی لیگ جس کی رہنما حسینہ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہیں، جنھیں ملک کا بانی سمجھا جاتا ہے ویسے ہی بی این پی بھی ایک سیاسی خاندان سے جڑی ہوئی ہے۔

اس کے نئے رہنما طارق رحمان، خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں، جو بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔

خالدہ ضیا خود اس وقت اقتدار میں آئیں جب ان کے شوہر اورسابق صدر کو فوجی بغاوت میں قتل کر دیا گیا۔

سابق بی این پی کے وزیر تجارت امیر خسرو محمود چودھری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چاہے آپ کسی خاندان سے ہوں یا نہ ہوں، یہ غیر متعلقہ ہے۔‘

ستم ظریقی یہ ہے کہ یہ خاندانی سلسلہ طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کی بدولت ہی پھر سے شروع ہوا، جس کے بعد رحمان 17 سال خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس آ سکے۔

شیخ حسینہ کے جانے سے انھیں اور ان کی والدہ دونوں کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کر دیا گیا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ وہ سیاسی بنیادوں پر لگائے گئے تھے۔

انھوں نے جماعت اسلامی پر تنقید کی ہے کہ وہ مذہبی جذبات کو ووٹ حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے، اور اقتصادی اور جمہوری اصلاحات کے ساتھ ساتھ ایک ’قوس قزح قوم‘ کا وعدہ کر رہے ہیں، جہاں ایک نیا ’قومی مفاہمتی کمیشن‘ ملک کو اس کی تقسیم سے نکلنے میں مدد دے گا۔

BBCشیخ حسینہ کے والد شیخ مجیب الرحمان کو 1975 میں قتل کر دیا گیا تھا

شیخ حسینہ نے 15 سال تک بنگلہ دیش پر حکومت کی، معاشی ترقی کی نگرانی کی، لیکن سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں، گمشدگیوں اور غیر قانونی قتل کے ذریعے وہ مسلسل اپوزیشن کو خاموش کرنے کی کوشش کرتی رہیں۔

انھیں گذشتہ سال بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے 2024میں کریک ڈاؤن کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی۔

جلاوطنی کے بعد انھوں نے اپنی پارٹی پر پابندی کی مذمت کی ہے۔ عوامی لیگ کے بہت سے دیگر سینیئر عوامی رہنما بھی ان کے ہمراہ انڈیا میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

کچھ لوگ اپنے وطن میں گرفتار ہیں۔

بی بی سی نے پارٹی کے ایک چھپے ہوئے ضلعی رہنما سے بات کی، اور انھوں نے کہا کہ ’عوامی لیگ کو خارج کر کے آزاد اور منصفانہ انتخاب ممکن نہیں۔ اگر شیخ حسینہ نے اس کا حکم دیا تو پارٹی اور اس کے حامی انتخابات کی ’مزاحمت‘ کریں گے‘۔

انھوں نے خبردار کیا کہ ’اگر وہ فیصلہ کرتی ہیں کہ لوگوں کو پولنگ سینٹرز نہیں جانا چاہیے، تو ہم نہیں جائیں گے۔ اگر وہ کہتی ہے کہ انتخابات میں رکاوٹ ڈالنی چاہیے، تو ہم انتخابات میں رکاوٹ ڈالیں گے۔‘

انھوں نے آزاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سیاسی بنیادوں پر گرفتاریوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کو ’جھوٹے‘ اور ’من گھڑت‘ قرار دیا۔

BBCبنگلہ دیش میں بہت سے لوگ عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے پر خوش تھے، لیکن پارٹی اپنے دور حکومت میں غلط کاموں سے انکار کرتی ہے

12 فروری کے انتخابات کے بعد طلبہ کو معلوم ہو جائے گا کہ آیا ان کا انقلاب اور خونریزی کسی کام آیا بھی یا نہیں۔

راحت حسین ڈھاکہ کے جتراباری فلائی اوور کے پاس بیٹھے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں انھوں نے اپنے دوست کو کھویا تھا۔ راحت کو اب بھی اپنے دوست کی موت کے الزام میں گرفتار پولیس افسران کے خلاف مقدمے کے مکمل ہونے کا انتظار ہے۔

امام حسن بھویان کے والد خود بھی پولیس افسر ہیں۔ جب انھوں نے اپنے بیٹے کی لاش کی شناخت کی، تو انھوں نے فورس کے ایک سینیئر افسر کو فون کیا اور پوچھا ’سر، ایک لڑکے کو مارنے کے لیے کتنی گولیاں لگتی ہیں؟‘

handoutامام حسن تیم بھویاں کو احتجاج کے دوران پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا

راحت حسین کہتے ہے کہ وہ آج بھی اس دن سے خوف محسوس کرتے ہیں جب ان کے دوست کو گولی ماری گئی۔

انھوں نے یہ ویڈیو آٹھ دن بعد دیکھی، جب ملک کا انٹرنیٹ بحال ہو چکا تھا۔

’میری چیخیں سنی جا سکتی ہیں۔۔۔ میں مسلسل روتا رہا۔‘

ایک سال بعد انھوں نے پانچ اگست کو حسینہ کی برطرفی کی پہلی سالگرہ اپنے دیگر ’بغاوت کے ساتھیوں‘ کے ساتھ منائی۔

لیکن راحت حسین تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا ’نیا بنگلہ دیش‘ اب تک نہیں بن سکا ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک منتخب حکومت ملک میں اصلاحات نہ کرے۔

وہ کہتے ہیں ’املی کے درخت سے آم کی توقع نہیں کی جا سکتی‘۔

اضافی رپورٹنگ: شارلٹ سکار، پریم بومیناتھن اور سردار رونی

پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟عثمان ہادی: قاتلانہ حملے میں مارے جانے والے بنگلہ دیش کے ’انڈیا مخالف‘ نوجوان رہنما کون ہیں؟’انڈیا پر حد سے زیادہ انحصار‘ سمیت وہ عوامل جنھوں نے شیخ حسینہ کے خلاف بغاوت میں کردار ادا کیا بنگلہ دیش کو مستقبل میں آمریت سے بچانے کی بحث: ’ڈکٹیٹرشپ سے بچنا ممکن ہے لیکن آئین میں ترمیم ضروری ہے‘پاکستان اور بنگلہ دیش میں معافی پر سیاست، آگے کیسے بڑھا جائے؟’شیخ حسینہ نے مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دیا‘: بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کی آڈیو لیک کی تصدیق
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More