ٹی وی پر نشر ہونے والا وہ انٹرویو جس کے بعد برسوں پرانے قتل کا معمہ حل ہوا

بی بی سی اردو  |  Feb 12, 2026

BBCپراسیکیوٹرز نے کہا کہ رافل زالیوسکی کے اینا پوڈیڈوورنا سے کیے گئے انٹرویو نے اُس کے جرائم کے اعتراف میں اہم کردار ادا کیا

پولینڈ کے صحافی رافل زالیوسکی جب ڈربی میں اینا پوڈیڈوورنا کے گھر انٹرویو کے لیے پہنچے تو انھیں شک ہوا کہ وہ کچھ چھپا رہی ہیں۔ بعد ازاں پراسیکیوٹرز نے زالیوسکی اور ان کی رپورٹنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی وہ ’ٹِپنگ پوائنٹ‘ تھا جس کے نتیجے میں اینا نے ڈربی شائر پولیس کو ای میل کر کے بتایا کہ ان کے ساتھی ایزابیلہ زابلوکا کی لاش کہاں دفن ہے۔

اینا، جو پیشے کے اعتبار سے قصاب تھیں، نے سنہ 2010 میں ڈربی میں اپنے گھر پر ایزابیلہ کو قتل کیا، لاش کو دو حصوں میں کاٹ کر باغ میں دفن کر دیا۔ منگل کو عدالت نے انھیں قتل کا مجرم قرار دیا اور بدھ کو عمر قید کی سزا سنائی، جس میں انھیں کم از کم 21 سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زالیوسکی نے کہا کہ ’وہ اس گفتگو کے دوران بہت حیران اور شدید گھبراہٹ کا شکار تھیں۔‘

یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک صحافی کی تفتیشی کوششیں کسی پرانے قتل کیس کو حل کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Derbyshire Policeایزابیلہ زابلوکا کو قتل کر دیا گیا تھا اور اینا پوڈیڈوورنا نے ان کی لاش کو دو حصوں میں کاٹ کر گھر کے پیچھے باغیچے میں دفن کر دیا تھا

انتباہ: اس مضمون میں ایسے تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ثابت ہو سکتی ہیں۔

ڈربی کراؤن کورٹ میں اینا کے مقدمے کے دوران جیوری کو بتایا گیا کہ وہ اور ایزابیلہ ملازمت کی تلاش میں پولینڈ سے برطانیہ منتقل ہوئی تھیں اور شہر کے نورمینٹن علاقے میں رہائش پذیر تھیں۔ استغاثہ کے مطابق 30 سالہ ایزابیلہ نے 28 اگست 2010 کو پولینڈ میں اپنی والدہ کو فون کیا تھا اور اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں ملی۔

پراسیکیوٹر گورڈن ایسپڈن کے سی کے مطابق اس کال کے کچھ ہی دیر بعد اینا نے ایزابیلہ کو قتل کر دیا اور ’ایک بڑے چاقو سے ان کی لاش کو دو حصوں میں کاٹ دیا۔‘

پولیس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ 40 سالہ اینا پہلے بطور قصاب کام کر چکی تھیں اور ان کا کام بڑے چاقو سے گوشت کے حصے بنانا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ایزابیلہ کی لاش کو پچھلے باغ میں دفن کیا گیا اور بعد میں اس کے اوپر کنکریٹ ڈال کر سخت فرش بنا دیا گیا۔

یہ تفصیلات مقدمے کے دوران سامنے آئیں اور اس کے بعد جیوری کو اس لرزہ خیز قتل کی پوری کہانی سنائی گئی۔

BBCایزابیلہ کی لاش پرنسز سٹریٹ کے ایک گھر کے باغ میں دفن کی گئی تھی

پولینڈ کے ٹی وی صحافی رافل زالیوسکی، جو پول سیٹ — پولینڈ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ٹی وی چینلز میں سے ایک — میں رپورٹر کے طور پر کام کرتے ہیں، کو ایزابیلہ کی بیٹی کاتارزینا، جو کاسیا کے نام سے جانی جاتی ہیں، کی طرف سے ایک خط موصول ہوا جس میں انھوں نے اپنی والدہ کی گمشدگی کی تحقیقات کی درخواست کی۔

سنہ 2024 میں کاسیا نے پولش تنظیم ’مسنگ فار ایئرز‘ سے رابطہ کیا، جس نے فیس بک کے ذریعے اینا پوڈیڈوورنا سے بات کی۔ اینا نے دعویٰ کیا کہ وہ نہیں جانتیں کہ ایزابیلہ کہاں ہیں اور نہ ہی یہ کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔

ایک سال بعد، مئی 2025 میں زالیوسکی نے اینا سے انٹرویو کی درخواست کی اور سماجی امور کے پروگرام ’انٹروینچا‘ کے لیے ڈربی کے بوئیر سٹریٹ پر واقع ان کے گھر پہنچ کر سوالات کیے۔ ایزابیلہ کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی اینا نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

تاہم رافل زالیوسکی نے کہا کہ کچھ گڑبڑ ہے اور انھیں لگا کہ وہ سچ نہیں بول رہیں۔ ان کے مطابق ’یہ وہی شخصیت تھیں جن کی طرف ایزابیلہ کے خاندان نے ابتدا ہی سے اشارہ کیا تھا کہ شاید ان کا تعلق اس پراسرار گمشدگی سے ہو اور انھیں اس بارے میں کچھ علم ہو۔‘

اس گفتگو کے دوران اینا واضح طور پر گھبرا گئی تھیں۔

BBCرافل زالیوسکی ڈربی کراؤن کورٹ میں مقدمے کے دوران ہر روز پیش ہوئے اور بُدھ کے روز سزا سنائے جانے کی سماعت پر بھی وہ موجود تھےاستنبول میں غیر ملکی خاتون کا قتل: کوڑے دان میں لاش کے ٹکڑے ملنے کے بعد پولیس مبینہ قاتلوں تک کیسے پہنچی؟شوہر کے قتل کے الزام میں بیوی گرفتار: ’وہ زہر دینے کے بعد پورن ویڈیوز دیکھتی رہی‘

اس دروازے پر کی گئی گفتگو کے بعد اینا کو اندازہ ہو گیا کہ اب وہ نرغے میں آ چکی ہیں۔ استغاثہ کے مطابق بڑھتے ہوئے دباؤ نے بالآخر پندرہ سال بعد انھیں اعترافِ جرم پر مجبور کر دیا۔

رافل زالیوسکی سے ملاقات کے بعد، انھوں نے 15 مئی 2025 کو ڈربی شائر پولیس کو ایزابیلہ کے بارے میں ای میل کی۔ ابتدا میں پولیس کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ معاملہ کیا ہے کیونکہ اینا کی ای میل بالکل اچانک آئی تھی۔ پولیس نے ملزمہ کو مزید تفصیلات فراہم کرنے کے لیے ای میل کی اور اگلے چند دنوں میں دونوں کے درمیان ای میلز کا تبادلہ ہوتا رہا۔

یہ سلسلہ 24 مئی کو اس وقت ختم ہوا جب ملزمہ نے تفتیش کاروں کو ای میل کر کے اطلاع دی کہ ایزابیلہ کی لاش نورمینٹن کے پرنسز سٹریٹ پر واقع ایک گھر کے پچھلے باغ میں دفن ہے۔

Derbyshire Policeایزابیلہ کی بیٹی کاسیا اُس وقت پولینڈ میں ہی رہ رہی تھیں جب اُن کی والدہ لاپتہ ہوئیں، اور بعد میں بالغ ہونے پر اُنھوں نے رافل زالیوسکی سے مدد کے لیے رابطہ کیا

اسی دن بعد میں اینا ڈربی کے پیر ٹری پولیس سٹیشن پہنچیں اور اعتراف کیا کہ دراصل انھوں نے ایزابیلہ کو قتل کیا تھا۔

لیکن ان کا دعویٰ تھا کہ ایزابیلہ ایک ’حادثے‘ میں اس وقت ہلاک ہوئیں جب دونوں کے درمیان پرتشدد جھگڑا ہوا، اور اس دوران انھوں نے صرف اپنا دفاع کیا تھا۔

تاہم جب وہ گواہی کے لیے کٹہرے میں آئیں تو جیوری نے اس دفاع کو مسترد کر دیا۔

رافل زالیوسکی نے اینا کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اینا نے ایزابیلہ کے خاندان سے ’بے شمار جھوٹ‘ بولے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے معلوم تھا کہ وہ کچھ چھپا رہی ہیں، کہ وہ شاید کچھ زیادہ جانتی ہیں جو ہمیں نہیں بتا رہی ہیں۔ مگر اس وقت بہت کچھ واضح ہو گیا جب میں ان کے دروازے پر پہنچا تو وہ بہت گھبراہٹ میں نظر آئیں۔

’اب ہمیں معلوم ہے کہ میرے ساتھ اس گفتگو کے فوراً بعد وہ پولیس کے پاس گئیں اور بتایا کہ ایزابیلہ کی باقیات کہاں چھپائی گئی ہیں۔ اب ہمیں پتا ہے کہ ایزابیلہ کے ساتھ موت کے بعد کیا سلوک ہوا، یہ بالکل ہیبت ناک اور خوفناک ہے۔‘

’یقین نہیں آ رہا بہو نے میرے بیٹے کو قتل کر دیا‘: وہ واردات جس میں ’خاوند نے بیوی کو خود گولی مارنے کو کہا‘وزیرآباد میں تین سالہ بچی کے قتل کے الزام میں پھوپھی گرفتار: ’اس کی وجہ سے میرا رشتہ نہیں ہو رہا تھا‘Derbyshire Policeجیوری نے اینا کو منگل کے روز قتل کا مجرم قرار دیا

پولیس نے ایزابیلہ کی بیٹی کے اقدامات کی بھی تعریف کی ہے، جنھوں نے اپنی والدہ کی تلاش ترک نہیں کی۔

کانسٹیبل ایما برچ نے کہا کہ ’جب وہ ایزابیلہ کے بغیر مشکل نوعمری کے سال گزار رہی تھیں تو وہ ایک مضبوط ذہن رکھنے والی نوجوان عورت بن گئیں جسے جواب چاہیے تھے۔ ان کی ثابت قدمی کی وجہ سے پولینڈ میں لاپتہ افراد کی تنظیموں سے رابطہ کیا گیا اور رپورٹرز کی دلچسپی بھی بڑھی۔‘

’اینا کو تلاش کرنا ہی ایزابیلہ کی گمشدگی کے پیچھے سچائی کو بے نقاب کرنے کے سفر کی شروعات تھی۔ ایزابیلہ نے کاتارزینا کو چھوڑا نہیں تھا بلکہ انھیں قتل کر دیا گیا تھا۔ اگر کاتارزینا نے یہ ماننے سے انکار نہ کیا ہوتا کہ ان کی والدہ انھیں چھوڑ کر چلی گئی ہیں، تو مجھے کوئی شک نہیں کہ اینا آج بھی اپنی آزاد زندگی گزار رہی ہوتیں اور ایزابیلہ کا خاندان اندھیرے میں ہی رہتا۔‘

رافل زالیوسکی نے کہا کہ یہ مقدمہ پولینڈ میں اور برطانیہ میں رہنے والے پولش شہریوں کے درمیان ایک نمایاں کیس تھا۔

ان کے مطابق ’جب ہم ڈربی کی گلیوں میں چلتے ہیں، جہاں ہم ایک ہفتے سے زیادہ وقت سے موجود ہیں، لوگ ہر وقت ہمارے پاس آتے ہیں اور اس کیس کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ہم اور کیا جانتے ہیں، مقدمہ کب شروع ہوگا۔‘

فیصلے کے بعد انسپکٹر کین مارٹن نے کہا کہ اس کیس میں کاسیا اور زالیوسکی کے کردار کو کم نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی سمجھنا چاہیے۔

یہ ان کے ہی اقدامات تھے جنھوں نے اینا کو مجبور کیا کہ وہ آخرکار پولیس سے رابطہ کریں اور یہ بتائیں کہ ایزابیلہ کی لاش کہاں ملے گی اور پھر ہم نے وہیں سے لاش کو دریافت کیا۔

جڑواں بھائی، دہرا قتل اور ایک جیسا ڈی این اے: وہ پیچیدہ مقدمہ جس میں قاتل کی شناخت معمہ بن گئیتالاب سے ملنے والے انسانی اعضا پر انگوٹھی کا نشان: چکوال میں پولیس کو اندھے قتل کی واردات کا سراغ کیسے ملا؟الیکشن سے نااہلی کا ڈر: باپ نے ’محبت کرنے والی‘ اپنی چھ سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر قتل کر دیاکاجل اور ارمان کا قتل: ’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے گاؤں میں بھی ایسا ہوگا‘پسند کی شادی سے انکار پر والدین کو انجیکشن لگا کر قتل کرنے کا الزام: ’توقع نہیں تھی بہن ایسی حرکت کرے گی‘سندھی شاعر آکاش انصاری کے قتل کے مقدمے میں بیٹے کو سزائے موت: ’ثبوت مٹانے کے لیے لاش کو آگ لگائی گئی‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More