حکومت سندھ نے سوشل میڈیا پر مبینہ متنازع ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس میں تعینات پرو وائس چانسلر اور فوکل پرسن اظہر شاہ کو معطل کر دیا ہے۔
حکومت نے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اظہر شاہ کی مبینہ ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد اسماعیل راہو نے انھیں اُن کے عہدے سے ہٹانے کا حکمنامہ جاری کیا تھا۔
دوسری جانب پروفیسر اظہر شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سٹوڈنٹس ویک اور فئیر ویل کی تقریبات کی سرگرمیوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر میڈیا پر پیش کیا گیا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیوز میں رد و بدل کر کے اُنھیں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اصل مسئلہ حاضری کے نظام کو بحال کرنا تھا جس کے لیے اُن کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے بعد اُن کی مخالفت شروع ہو گئی۔
یاد رہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا پر گذشتہ چند روز سے سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس کے پرو وائس چانسلر اظہرعلی شاہ کی دو ویڈیوز وائرل ہوئیں۔ ایک مبینہ ویڈیو میں اُنھیں اساتذہ سے الجھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں وہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ اساتذہ ڈیوٹی نہیں کرتے۔
دوسری ویڈیو میں وہ طلبہ کے گھیرے میں ہیں اور اپنی گاڑی میں سوار ہو رہے ہیں اس دوران وہ بظاہر لڑکھڑاتے ہیں، ہاتھ بلند کر کے جھومتے ہیں اور بظاہر ٹھیک طریقے سے کھڑے نہیں ہو پا رہے۔ اس دوران ان کے پیچھے موجود سٹاف کا ایک ممبر انھیں گاڑی میں بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔
بی بی سی آزادانہ ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا تاہم سندھ حکومت کی جانب سے جاری پروفیسر اظہر شاہ کی معطلی کے نوٹیفیکیشن میں ان مبینہ ویڈیوز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ جبکہ پروفیسر اظہر شاہ کا دعویٰ ہے کہ ان ویڈیوز میں اے آئی کی مدد سے رد و بدل کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض ویڈیوز، جن میں مبینہ طور پر پروفیسر اظہر شاہ موجود ہیں، یونیورسٹی کی ساکھاور وقار کو متاثر کرنے کا باعث بنی ہیں۔
مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے شفافیت، غیر جانبداری اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری کارروائی ضروری سمجھی گئی۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ انکوائری قانون کے مطابق کی جائے گی اور متعلقہ افسر کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کیا جائے گا۔ حکومت سندھ نے ہدایت کی ہے کہ 15 دن میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ حکام کو پیش کی جائے۔
’اصل مسئلہ حاضری کے نظام کو بحال کرنا تھا‘
ڈاکٹر اظہر علی شاہ نے اپنے خلاف چلنے والی مہم اور سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ حاضری کے نظام کو بحال کرنا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ یونیورسٹی کا دادو کئمپس تین شعبوں انگلش، بی بی اے اور آئی ٹی پر مشتمل ہے جہاں 650 کے قریب طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
ڈاکٹر اظہرعلی شاہ کے مطابق دادو کیمپس میں اساتذہ کی حاضری کا باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں تھا، اس کے باوجود ملازمین کو تنخواہیں جاری کی جا رہی تھیں۔
اُنھوں نے کہا کہ بطور انتظامی سربراہ ان کی ذمہ داری تھی کہ ماسٹر رول (حاضری کا رجسٹر)کو بحال کیا جائے اور حاضری کو لازمی بنایا جائے، کیونکہ بغیر ریکارڈ کے تنخواہوں کی ادائیگی قانونی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کے منافی ہے۔
اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ حاضری کو لازمی قرار دینے کے بعد بعض اساتذہ اور یونین عہدیداران کی جانب سے مخالفت شروع ہو گئی۔
وائرل ویڈیوز کے حوالے سے ڈاکٹر شاہ نے کہا کہ سٹوڈنٹس ویک اور فئیر ویل کی تقریبات کی سرگرمیوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیوز میں ردو بدل کر کے اُنھیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب، یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے تک ڈاکٹر اظہرعلی شاہ کو عہدے سے عارضی طور پر ہٹایا گیا ہے۔ تاہم ڈاکٹر شاہ کا مؤقف ہے کہ انکوائری کمیٹی کی مکمل کارروائی سے قبل ہی یکطرفہ فیصلہ کیا گیا۔
ڈاکٹر اظہر علی شاہ اس سے قبل نوشہرو فیروز اور لاڑکانہ کیمپس کے بھی فوکل پرسن رہے ہیں۔
اُنھوں نے یونیورسٹی آف ناٹنگھم سے آئی ٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے اور وہ متعدد بار سندھ یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنظیم کے صدر بھی منتخب ہو چکے ہیں۔
پروفیسر اظہر شاہ کی مبینہ ویڈیوز کا معاملہ سوشل میڈیا پر بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ بعض صارفین اُن کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد حقائق سامنے لائے جانے چاہیں۔
میر صدام نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ دادو کیمپس نے نے فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔ یہ قدم شفافیت، احتساب اور دیانتداری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
ساجد علی نامی صارف نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر بعض صارفین اس معاملے کو ’صوبائی‘ قرار دے رہے ہیں حالانکہ یونیورسٹیز وفاق کے کنٹرول میں ہوتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پر تنقید سے بہتر ہے کہ جس کے پاس اختیار ہے، اُس پر تنقید کی جائے۔
وفاقی اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا بیان ہراسانی قرار: کیا عمر کے ساتھ ہارمونل تبدیلیاں خواتین کے رویے یا صلاحیتوں پر اثر ڈالتی ہیں؟’مجھے میری برہنہ تصاویر پوسٹ کرنے والے کے خلاف مقدمہ واپس لینے کو کہا گیا‘گومل یونیورسٹی: ’ہراس کے مسئلے کا حل صرف برطرفی میں نہیں ہے‘تعلیمی اداروں میں جنسی ہراس: ’گھر والوں کو لگتا ہے کہ استاد کبھی غلط نہیں ہو سکتا‘