’فائیو سٹار ہوٹل میں نہیں، 50 روپے والے کمروں میں رہے‘: جب 17 برس چھوٹے نوجوان سے ملاقات نے برطانوی نرس کی زندگی بدل دی

بی بی سی اردو  |  Feb 15, 2026

Jacqui Furneauxبرطانیہ سے تعلق رکھنے والی 49 سالہ جیکوی فرناکس ایک نرس ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی

محبت کا تعلق، ہراساں کرنے والا شخص، اچانک پرتشدد واقعہ۔۔۔ یہ تجربات کسی کے ساتھ ہوں تو وہ ہل کر رہ جائے۔

تین افراد کے ساتھ ایسے واقعات پیش آئے اور ان کی زندگی بدل کر رہ گئی۔

وقت کے ساتھ انھوں نے اپنی خود اعتمادی اور شخصیت کو دوبارہ بحال کیا۔

آخر ان تینوں کی زندگیوں میں کیا ہوا اور وہ ان تجربات کے اثر سے کیسے نکلے؟

ان تینوں افراد نے بی بی سی ریڈیو 4 کی ’لائف چینجنگ‘ سیریز میں ڈاکٹر سیان ولیمز کو بتایا کہ ان پر کیا گزری ہے۔

دو دن کا تعارف ... تین سال کا سفر

49 سالہ جیکوی فرناکس برطانیہ میں نرس ہیں اور دو بچوں کی ماں بھی۔ انھیں ایک مرد سے محبت ہو گئی جس نے ان کی شادی شدہ زندگی کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنے شوہر سے الگ ہو گئیں۔

وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر اس مرد کے ساتھ رہنے لگیں لیکن یہ رشتہ زیادہ دیر چل نہ سکا۔

وہ بتاتی ہیں: ’میں سوچتی تھی کہ میں نے اپنا خاندان برباد کر دیا ہے۔‘

احساس جرم میں ڈوب کر انھوں نے برطانیہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

گناہ اور تکلیف کے احساس سے نکلنے کے لیے انھوں نے بنکاک کا یک طرفہ ٹکٹ لیا اور روانہ ہو گئیں۔

وہاں سے شروع ہونے والا ان کا سفر سات سال تک جاری رہا۔ تھائی لینڈ سے لاؤس، پاکستان اور پھر انڈیا تک پھیلا۔

ان کی زندگی میں سب سے اہم موڑ تب آیا جب انڈیا میں ان کا ایک ڈچ نوجوان سے تعلق قائم ہوا۔ وہ نوجوان ان سے 17 سال چھوٹا تھا اور موٹر بائیک پر ملک بھر کا سفر کر رہا تھا۔ اتفاقاً دونوں کی ملاقات ہوئی اور نوجوان نے انھیں بھی بائیک پر ساتھ چلنے کی دعوت دی۔

جیکوی کہتی ہیں: ’انڈیا میں زیادہ وقت گزارنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ جن چیزوں کو میں غیر معمولی سمجھتی تھی، وہ دراصل بالکل عام تھیں۔ زندگی ہمیں ایسے مواقع بار بار نہیں دیتی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم دونوں نے مل کر انڈیا کے کئی علاقوں کا سفر کیا۔ ہم دونوں بالکل عام لوگ تھے۔ ہم کبھی فائیو سٹار ہوٹلوں میں نہیں ٹھہرے، صرف 50 روپے والے کمروں میں رہتے تھے۔ حالات جیسے بھی ہوں، خوشی بے حد محسوس ہوتی تھی۔‘

’قرض محبت کی قینچی‘: دوستوں یا رشتے داروں کو پیسے ادھار دینا اکثر مصیبت کیوں بن جاتا ہے؟کیا لڑکے بھی ارینج میرج میں رشتوں سے انکار سنتے ہیں؟کیا ’بیوی کا زیادہ کمانا شوہر کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرتا ہے؟کیرالہ کا ہم جنس پرست جوڑا: ’جب ڈاکٹر ہمارے رشتے کو نہیں سمجھ سکے تو دوسرے کیسے سمجھیں گے؟‘جب بیٹی نے پوچھا… ’امی، یہ سب اور کتنے دن چلنے والا ہے؟‘

بعد میں جیکوی نے اپنی موٹر بائیک خرید لی۔ وہ کہتی ہیں کہ صرف دو دن کی واقفیت کے بعد ہی ایک طویل رشتے میں قدم رکھنا ان کی زندگی کو حیرت انگیز تجربات سے بھر گیا۔ تین سال بعد یہ رشتہ ختم بھی ہو گیا، مگر ان کے دل میں بے شمار خوبصورت احساسات چھوڑ گیا۔

ایک بار جب وہ بیمار پڑ گئیں تو ان کی بیٹی نے پوچھا: ’امی، آپ مزید کب تک دور رہیں گی؟‘

یہ سوال جیکوی کو گہری سوچ میں ڈال گیا۔ انھیں احساس ہوا کہ اب بھی ایسے لوگ ہیں جو سچ میں انھیں چاہتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں اپنے پہلے رشتے کے بارے میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پائی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ دوسرے لوگ بھی مجھے معاف نہیں کریں گے۔ میں سمجھتی تھی کہ ساری زندگی اسی بد نامی کے ساتھ گزارنی پڑے گی۔‘

جیکوی نے کہا: ’اب میرے دونوں بچوں اور سابق شوہر کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کئی دہائیاں گزرنے کے بعد انھوں نے خود کو کسی حد تک معاف کرنا سیکھ لیا ہے۔ سب سے بڑھ کر انھوں نے یہ سیکھا کہ ’خود کے ساتھ کیسے خوش رہا جا سکتا ہے۔‘

تاہم جیکوی یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ دوسروں کو اپنے جیسا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ نہیں دیتیں۔ لیکن ان کا سفر انھیں بہت کچھ سکھا گیا۔

وہ کہتی ہیں: ’ہر شخص کو کبھی نہ کبھی اپنی حدود سے باہر قدم رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ یہ انسان کا اعتماد بڑھاتا ہے۔‘

Angela Tilleyاینجلا کو ملازمت کے دوران ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا’ایک سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی ہراسانی اور گھبراہٹ کے شدید دورے‘

بہادر خاتون کے طور پر پہچان رکھنے والی اینجلا ٹِلی ابھی 16 برس کی ہی تھیں جب ان کی زندگی میں ایک بڑا موڑ آیا۔ اپنی پہلی ملازمت کے دوران وہ ایک شخص کی جانب سے مسلسل ہراسانی کا شکار ہوئیں۔

اس شخص کی جانب سے ہونے والی ہراسانی اور جذباتی دباؤ ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک جاری رہا مگر دفتر میں کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی۔

آخرکار جب اس شخص کا تبادلہ ہوا تو اینجلا نے سکون کا سانس لیا، لیکن یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہا۔ کچھ ہی عرصے بعد ایک دن ٹرین میں سفر کرتے ہوئے انھیں پہلی بار شدید گھبراہٹ کا دورہ (پینک اٹیک) پڑا۔

اینجلا کہتی ہیں: ’مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اسے پینک اٹیک کہتے ہیں۔ مجھے لگا شاید میں پاگل ہو رہی ہوں۔ مجھے ڈر لگتا تھا کہ کہیں میں بے ہوش نہ ہو جاؤں، کہیں مجھے دل کا دورہ نہ پڑ جائے، یا سب کے سامنے میں بالکل پاگل نہ دکھائی دوں۔‘

اس کے بعد پینک اٹیک ان کے لیے معمول بن گئے۔ وہ ان کے جسم کو ’جکڑ‘ لیتا تھا۔ سفر کرنا، خریداری کرنا، ٹریفک میں جانا، یہ سب روزمرہ کے کام بھی ان کے لیے نا قابل برداشت ہو گئے۔

ان میں ایگورافوبیا (کھلی جگہوں یا ہجوم کا خوف) کی تشخیص ہوئی لیکن اینجلا نے ہار نہیں مانی۔ انھوں نے شادی کی، بچے پیدا کیے، علاج کروایا، کتابیں پڑھیں اور خود کو سنبھالا۔

ان کے مطابق وہ خود کو کہتی رہتی تھیں ’خوف کو محسوس کرو، مگر آگے بڑھتے رہو۔‘

اینجلا ٹِلی کی زندگی میں اصل تبدیلی سنہ 2015 میں آئی جب انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ ایک موٹر ہوم خریدا۔ اس سے پہلے وہ اکثر اپنے والدین کا کاروان کرایے پر لیا کرتی تھیں اور دونوں سوچتے تھے کہ کاش اپنا موٹر ہوم ہوتا۔

اپنا گھر اپنے ساتھ لے کر سفر کرنے کا احساس اینجلا کے لیے بے مثال تھا۔ وہ کہتی ہیں: ’اس نے میری زندگی کو راستہ دکھایا۔ میں بڑے چیلنجز کا مقابلہ کرتی گئی اور چھوٹی مشکلات آسان لگنے لگیں۔‘

پہلے انھیں 70، 80 کلومیٹر سے زیادہ سفر کرنا مشکل لگتا تھا، آج وہ پورے یورپ میں گھوم رہی ہیں۔

اینجلا کہتی ہیں کہ ’میں شاید سب کچھ نہ کر سکوں، لیکن جو کچھ کر سکتی ہوں، اپنی پوری توجہ اسی پر رکھتی ہوں۔‘

Ed Stewartڈاکٹر سیان ولیمز کے ساتھ ایڈ اسٹیورٹ’روکنے کی کوشش پر میری بینائی چھین لی گئی‘

سنہ 1977 میں ایڈ اسٹیورٹ 17 برس کے ایک پُر جوش نوجوان تھے۔ انجینیئرنگ کی نئی نوکری، ایک خاتون ساتھی، ہاتھ میں موٹر بائیک ۔۔۔ زندگی بہت خوش گوار تھی۔

لیکن ایک پارٹی میں پیش آئے واقعے نے ان کی پوری زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس پارٹی میں ایک نوجوان نے دھمکیاں دینا شروع کیں تو اسٹیورٹ نے اسے جواب دیا۔ اسٹیورٹ کہتے ہیں کہ اس نوجوان نے ان کی آنکھوں کے درمیان شاٹ گن سے سیدھا فائر کر دیا۔

اگرچہ کارتوس میں چھرّے نہیں تھے مگر کارک اور بارود کے دھماکے نے اسٹیورٹ کے چہرے کو شدید زخمی کر دیا۔ وہ کہتے ہیں: ’اس نے میرا چہرہ چیر کر رکھ دیا۔ اور فوراً ہی میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔‘

شدید درد سے زمین پر ٹرپتے اسٹیورٹ کو یاد ہے کہ وہ دل ہی دل میں کہہ رہے تھے ’اوہ میرے خدا، مجھے مرنے نہ دینا۔ میں مرنا نہیں چاہتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ آئی سی یو میں جب معلوم ہوا کہ وہ مکمل طور پر نابینا ہو چکے ہیں تو انھوں نے کوشش کی کہ اس حقیقت کے بارے میں زیادہ نہ سوچیں۔

اسٹیورٹ اعتراف کرتے ہیں: ’اندھا ہونے کے بعد، خود کو عام انسان ہونے کا احساس دلانے کے لیے میں نے کچھ بے وقوفانہ کام بھی کیے۔‘ ان میں سے ایک تھا کثیر منزلہ عمارت کے کنارے پر کھڑے ہونا۔

اس واقعے کے ایک سال بعد وہ ٹورکی کے ایک بحالی مرکز گئے۔ وہاں ایک مرحلے پر انھیں شدید غصہ بھی آیا لیکن اسی دوران انھیں نئی امیدیں اور نئے امکانات بھی دکھائی دینے لگے۔

نئی راہ دکھانے والا پیانو

جب وہاں موجود ڈاکٹروں نے اسٹیورٹ سے کہا کہ ان کی بینائی کبھی واپس نہیں آئے گی تو وہ شدید صدمے میں چلے گئے۔ لیکن وہاں رکھا ہوا پیانو ان کے لیے ایک نیا راستہ بن گیا۔

اسٹیورٹ کہتے ہیں کہ ’شام کے وقت میں وہاں بیٹھ کر پیانو بجاتا رہتا تھا۔‘

یہی دلچسپی انہیں پیانو سیکھنے کی طرف لے گئی۔

چند سال بعد انھوں نے لندن کے مورفیلڈز آئی ہسپتال میں اپنی آنکھ سے خون کا لوتھڑا نکالنے کی ایک پیچیدہ سرجری کروانے کا فیصلہ کیا۔

یہ فیصلہ کامیاب رہا، صرف چار ماہ میں ایک آنکھ کی بینائی واپس آگئی۔

اس لمحے کو وہ ’نایاب اور ناقابل یقین‘ قرار دیتے ہیں۔

سرجری کے بعد اسٹیورٹ پہلی بار اپنا چہرہ دیکھ سکے، پہلی بار دوسروں کے تاثرات بھی دیکھ سکے۔ یہ سب ان کے لیے بالکل نئے تجربات تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ان کے ذہن میں یہ سوال آتا ہے: ’یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟‘

لیکن یہ خیالات زیادہ دیر نہیں رہتے۔

اسٹیورٹ کہتے ہیں کہ ’میں زندہ ہوں، یہی میری خوش قسمتی ہے۔‘

’ابو سے کہا، میرا مُجرا بند کروا دیں‘’رشتے داروں کا ڈر نہ ہی رُخصتی کے آنسو‘: دلہا، دلہن کے بغیر ہونے والی ’فیک شادیاں‘ جو نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہیںآسام میں نابالغ لڑکیوں سے شادی کے جرم میں ڈھائی ہزار افراد گرفتار، چار ہزار ایف آئی آر درجبلوچستان میں میاں بیوی کی مبینہ خودکشی کی تحقیقات جاری، خاندان کا سی ٹی ڈی پر ہراسانی کا الزامپاکستان کی پلس سائز انفلوئنسرز: ’شوہر دبلے پتلے دیکھ کر لوگوں نے پاکیزہ رشتے کو ماں بیٹے کا رشتہ بنا دیا‘’میں نے بھائی کو منع کیا کہ آپ کی عمر زیادہ ہے، ڈنکی نہ لگانا‘: عراق اور یورپ جانے کے خواہشمند افراد جن کے اہلخانہ ان کی راہ تکتے رہ گئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More