باجوڑ چیک پوسٹ دھماکے میں 11 سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق: ’جب ملبے سے لوگوں کو نکال رہے تھے تب بھی فائرنگ ہوئی‘

بی بی سی اردو  |  Feb 17, 2026

Anadolu via Getty Imagesفائل فوٹو

’ہم جب ملبے تلے سے لوگوں کو نکال رہے تھے، اُس وقت بھی چیک پوسٹ پر فائرنگ ہو رہی تھی جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ اور جب ایمبولینس اور گاڑیوں پر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا اُس وقت بھی فائرنگ ہوئی۔‘

یہ کہنا ہے ایک عینی شاہد کا جو پیر کی شام صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں واقع ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر ہونے والے دھماکے کے بعد وہاں مدد کے لیے پہنچے تھے۔ علاقے کی صورتحال کے پیشِ نظر انھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

ان کے مطابق عشا کی نماز کے بعد علاقے میں دھماکے کی زوردار آواز سُنی گئی اور انھیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے یہ دھماکہ بالکل اُن کے قرب و جوار میں ہوا ہے۔ ’کم و بیش یہی حالات اِس علاقے کے ہر گھر کے تھے، جہاں لوگوں کو محسوس ہوا کہ جیسے زوردار دھماکہ اُن کے مکان کے آس پاس ہی ہوا ہے۔‘

منگل کی دوپہر پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اس حملے کے نتیجے میں 11 سکیورٹی اہلکار اور ایک بچی ہلاک ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سوموار کے روز شرپسندوں نے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک مشترکہ چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔بیان کے مطابق شدت پسندوں نے دھماکہ خیز سے لدی ایک گاڑی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ کی عمارت منہدم ہو گئی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جس کے باعث ایک بچی ہلاک جبکہ سات شہری زخمی ہوئے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے اس موقع پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 12 شدت پسند بھی ہلاک ہوئے۔

’زخمیوں کو لے جاتے وقت بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کی‘

اس واقعے کے بعد سے ضلع باجوڑ میں خوف کی سی صورتحال ہے اور مقامی افراد کے مطابق سکیورٹی فروسز نے لوے ماموند کے علاقے میں دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

علاقہ مکینوں نے بتایا ہے کہ صبح سویرے فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی دکھائی دیے، جس کے بعد لاشوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

تحصیل ناواگئی کے چیئر مین ڈاکٹر خلیل الرحمان نے بتایا کہ کل رات وہ اپنے حجرے میں موجود تھے کہ اچانک حجرے کا دروازہ زوردار دھماکے کے نتیجے میں کُھل گیا، ’کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ہمارا حجرہ اس دھماکے کے مقام سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ انھیں قریبی علاقوں سے فون آئے کہ اُن کے گھر کے قریب دھماکہ ہوا ہے، قریب گاؤں سے بھی اس طرح کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں مگر یہ معلوم نہیں ہو رہا تھا کہ کیا ہوا۔

ڈاکٹر خلیل الرحمان کے مطابق وہ اطلاعات ملنے کے بعد متاثرہ چیک پوسٹ پر گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ اس چیک پوسٹ کے قریب واقع رہائشی مکانات کو بھی دھماکے کے نتیجے میں نقصان پہنچا ہے اور چند شہری زخمی ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ جب زخمیوں کو ایمبولینس میں لے جایا جا رہا تھا، اس وقت بھی نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس پر فورسز کی جانب سے جوابی کاررائیاں کی گئیں۔

ایک عینی شاہد نے واقعے اور اس کے بعد کی جانے والی ریسکیو کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ منہدم ہونے والی چیک پوسٹ ایک دو منزلہ عمارت تھی۔

انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد مقامی مساجد سے اعلان کروا کر مقامی لوگوں کی اطلاع دی گئی اور کہا گیا کہ وہ ملبے تلے پھنسے افرادکو نکالنے میں مدد کے لیے موقع پر پہنچیں۔

مقامی افراد کے مطابق یہ عمارت ماضی میں ایک دینی مدرسے کے طور پر بھی زیر استعمال رہی ہے۔

عینی شاہد کے مطابق ’ہم جب وہاں پہنچے اور ملبے سے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کیا تو اس وقت بھی نامعلوم افراد کی جانب سے چیک پوسٹ پر فائرنگ کی جا رہی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’یہ ایک مشکل وقت تھا۔ رات کے وقت چھ لاشوں کو نکالا گیا تھا۔‘

وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ باجوڑ دھماکے کے بعد ریسکیو اداروں کو فوری اور بھرپور امدادی کارروائیوں کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جامع اور نتیجہ خیز حکمت عملی ناگزیر ہے۔

AFPاس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے (فائل فوٹو)’ڈیڑھ ماہ قبل لوگوں کو یہ کہہ کر واپس بھیجا گیا تھا کہ یہ علاقہ اب کلیئر ہے‘

اس علاقے لوئے ماموند میں چند ماہ پہلے مسلح شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن بھی کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر خلیل الرحمان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی تھی اور اپنے گھر بار خالی چھوڑ کر کیمپوں میں رہائش اختیار کی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے کوئی ڈیڑھ ماہ کیمپوں میں گزارا۔ ڈاکٹر خلیل الرحمان کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل یہ کہہ کر لوگوں کو ان کے علاقوں میں واپس بھیجا گیا تھا کہ یہ علاقہ اب کلیئر ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ اپنی پالیسوں پر نظر ثانی کرے کیونکہ اس طرح کی پالیسیوں سے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہے۔

باجوڑ میں ایک عرصے سے حالات کشیدہ ہیں اور اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے علاوہ مذہبی رہنماؤں اور ان کی جلسوں پر بھی حملے ہو چکے ہیں۔ کچھ حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔

30 جولائی 2023 کو خار کے علاقے میں جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان کے جلسے میں ِخود کش دھماکے کے نتیجے میں 60 افراد ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

اس طرح جولائی 2025 میں باجوڑ میں ناواگئی روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا جس میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان دنوں پولیس کی ٹارگٹ کلنگ یا قبائلی رہنماؤں پر بھی حملے ہوئے ہیں۔

’ٹی ٹی پی خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے‘: ’پاکستانی موقف کی تائید کرتی‘ اقوامِ متحدہ کی افغانستان سے متعلق نئی رپورٹ کیا معنی رکھتی ہے؟ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب کے دوران خودکش حملے میں ہلاک ہونے والے وحید ’جگری‘ محسود کون تھے؟کیا پاکستانی شدت پسند تنظیموں کی افغان جنگجوؤں کو حملوں سے دور رکھنے کی ہدایات افغان طالبان کے دباؤ کا نتیجہ ہیں؟طالبان کی نئی حکمت عملی، دوحہ معاہدہ یا سیاسی چپقلش: خیبرپختونخوا میں کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں شدت کیسے آئی؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More