کراچی پولیس نے سونے کے زیورات کی ایک دکان میں ہونے والی چوری کی واردات میں مبینہ طور پر ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر کے 30 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کا سامان برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ واردات 13 فروری 2026 کو کراچی کے علاقے اورنگی کی اقبال مارکیٹ میں واقع پرنس جیولرز کی دکان میں ہوئی تھی۔
اقبال مارکیٹ تھانے میں 14 فروری کو دکان کے مالک محمد ایوب خان نے مقدمہ درج کروایا تھا۔
ایوب خان نے درج مقدمے میں کہا کہ ان کی اقبال مارکیٹ میں پرنس جیولرز کے نام سے دکان ہے اور جب صبح پونے نو بجے کے قریب ان کے کاریگر نے دکان کھولی تو اس نے فون پر اطلاع دی کہ چوری ہو گئی ہے، جس پر وہ دکان پہنچے۔
ایوب خان کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ’دکان کے دروازے سے اندر جا کر دیکھا تو پیچھے والے حصے سے دیوار ٹوٹی ہوئی تھی اور دکان کے اندر سامان چیک کیا تو باکس خالی تھے۔‘
درج مقدمے کے مطابق 606 تولے سونا اور 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کے مختلف اقسام کے ہیرے موجود نہیں تھے۔
تاہم آج کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے اس چوری میں شامل تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے لیکن پولیس ملزمان تک پہنچی کیسے، اس حوالے سے ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے پریس کانفرنس میں اس حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔
’چھ ماہ قبل دکان کی چابی کی نقل تیار کروائی گئی‘
ڈی آئی جی عرفان بلوچ نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سامنے آیا کہ ملزمان دکان کے تالے نہیں توڑ رہے بلکہ چابی سے تالا کھول رہے ہیں جس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ یا تو دکان کا کوئی ملازم اس واردات میں شامل ہے یا کسی ملازم نے چوروں کو چابی بنا کر دی اور سہولت کاری کی۔
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق پولیس نے دکان میں گزشتہ 14 سال سے کام کرنے والے ایک ملازم کو گرفتار کیا جس نے واردات میں ملوث ماسٹر مائنڈ اور دیگر ساتھیوں کی نشاندہی کی۔
جس کے بعد پولیس نے چھ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کی نشاندہی پر مسروقہ مال اور واردات میں استعمال ہونے والے سامان کو بھی برآمد کر لیا گیا۔
پولیس نے ملزمان سے جدید ڈرل مشین، چھینی، ہتھوڑا، دو پستول اور واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور ملزمان کے زیر استعمال 10 موبائل فونز بھی برآمد کر لیے ہیں۔
عرفان بلوچ نے بتایا کہ دکان کے ملازم نے ماسٹر مائنڈ کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی اور تقریباً چھ ماہ قبل دکان کی چابی کی نقل تیار کروائی۔
ایس ایچ او اقبال مارکیٹ شہباز یوسف کا کہنا تھا کہ جمعے کو یہ مارکیٹ بند ہوتی ہے اور اس کا فائدہ اٹھا کر ملزم پیچھے سے دیوار توڑ کر داخل ہوئے جہاں باہر کوئی سی سی ٹی وی کیمرہ نہیں لگا ہوا تھا تاہم اندر لگے کیمرے میں اس واردات کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے۔
اس واردات کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص لیٹ کر دیوار میں موجود ایک سوراخ سے دکان میں داخل ہوتا ہے۔
وائرل ویڈیو کے مطابق اس سوراخ سے پہلے ایک شخص کے پیر نکلتے ہیں، پھر ٹانگیں اور پھر وہ خود نیچے اتر کر چابی سے تالے کھولتا ہے۔
دکان کے مالک محمد ایوبنے بھی یہ ہی نشاندہی کی تھی کہ ملزمان کے پاس چابی تھی۔
مرسڈیز، آوڈی گاڑیوں کا استعمال اور 33 ارب روپے کی ’حیران کن چوری‘: جب لٹیروں نے پولیس اور فائر بریگیڈ دونوں کو چکمہ دے دیا100 روپے کی گندم چوری کا مقدمہ لیکن ملزم کی گرفتاری میں 45 سال کیوں لگے؟’دو دن میں دو بار چوری‘: سندھی گلوکار بیدل مسرور کے گھر میں گھی کے ڈبوں میں موجود لاکھوں روپے غائب1.7 ارب روپے کے ٹوائلٹ کی چوری میں تین افراد کو سزائیں لیکن ٹوائلٹ پھر بھی برآمد نہ کیا جا سکاچوری کی انوکھی واردات جس کے بعد راولپنڈی پولیس کباڑ خانوں پر چھاپے مار رہی ہےلاہور میں ڈیلیوری ایپ کا رائیڈر ’45 ہزار روپے کا‘ کھانا لے کر غائب: ’ہمارے گھر کے قیمتی برتن بھی گئے‘