کیا آپ جانتے ہیں کہ بے شمار کمپنیاں ایسی ہیں جو آپ کا نام، گھر کا پتہ، فون نمبر اور دیگر اہم معلومات آن لائن فروخت کرنے میں مصروف ہیں؟
’ڈیٹا بروکرز‘ کہی جانے والی اِن کپمنیوں کا واحد کام آپ کی معلومات کسی کو بھی انتہائی سستی قیمت پر فراہم کرنا ہے۔ ان کمپنیوں کو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ آپ کی ذاتی نوعیت کی تفصیلات کس کو فراہم کر رہی ہیں۔
جن کو یہ تفصیلات فراہم کی جاتی ہیں اُن میں شناخت چرانے والے گروہ یا افراد، آپ کا کوئی سابق پارٹنر یا ٹیلی مارکیٹنگ کمپنیاں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
ایک بات ضرور ہے کہ یہ کام آپ کے تحفظ کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
لیکن ایک ایسا ٹول دستیاب ہے جو ڈیٹا بروکرز کے لیے آپ کی اس نوعیت کی معلومات کو تلاش کرنے کا کام مشکل بنا دیتا ہے۔
یہ گوگل کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت سروس ہے اور اس ٹول کو ’رزلٹس آباؤٹ یو‘ Results About You کہا جاتا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس ٹول کے بارے میں جانتے ہی نہیں۔
گوگل انٹرنیٹ پر موجود مواد کو سکین کرتا رہتا ہے تاکہ اپنے سرچ انجن کو مزید بہتر بنایا جا سکے، اس مواد میں ایسی حساس تفصیلات بھی شامل ہو جاتی ہیں جنھیں آپ خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔
اس عمل کے ذریعے کمپنی نادانستہ طور پر آپ کو ہر طرح کے سنگین خطرات سے دوچار کر دیتی ہے۔ لیکن ’رزلٹس اباؤٹ یو‘ کے ذریعے (صرف ایک بٹن دبا کر) آپ گوگل سے اپنی ذاتی معلومات (نام، پتہ وغیرہ) ہٹانے کی درخواست کر سکتے ہیں۔
یہ کرنے میں اتنا ہی آسان ہے جتنا پڑھنے میں آپ کو لگا، یعنی صرف ایک بٹن دبانے جیسا۔ گوگل نے حال ہی میں اس سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپ ڈیٹ کیا ہے۔
تھورِن کلوسوسکی امریکہ میں قائم ایک ڈیجیٹل رائٹس گروپ ’الیکٹرانک فرنٹیئر فاؤنڈیشن‘ سے منسلک ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’رزلٹس اباؤٹ یو‘ مارکیٹ میں دستیاب سب سے اہم اور استعمال کرنے میں آسان پرائیویسی ٹولز میں سے ایک ہے۔
وہ بتاتے ہیں ’جہاں تک فوری رسائی کی بات ہے، تو یہ (ٹول) شاید پہلے نمبر پر ہے۔‘
Getty Images
جب آپ اس ٹول کو سیٹ اپ کر لیتے ہیں، تو گوگل کو جب بھی آن لائن آپ کا نام، ای میل، فون نمبر یا پتہ ملتا ہے تو وہ فوراً آپ کو ای میل بھیجتا ہے۔ یہ ای میل آنے کے بعد آپ ایک کلک کر کے اُن ویب سائٹس کا جائزہ لے سکتے ہیں جہاں آپ کی یہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔
امریکہ میں ’رزلٹس اباؤٹ یو‘ سوشل سکیورٹی نمبرز، پاسپورٹ یا ڈرائیور لائسنس کی تفصیلات کو بھی فلیگ کر سکتا ہے۔
گوگل کی اِس خودکار سروس کو استعمال کرنے کے لیے آپ کو گوگل اکاؤنٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر آپ خود سرچ نتائج میں اپنی حساس معلومات پاتے ہیں تو ایک مینوئل طریقہ کار بھی موجود ہے اور آپ اسے گوگل اکاؤنٹ کے بغیر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
اپنے نام، پتہ اور فون نمبر جیسیتفصیلات انٹرنیٹ پر کُھلی چھوڑ دینا آپ کو کئی طرح کے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔
آپ کو یہ ٹول یہاں مل سکتا ہیں، لیکن اس لنک پر کلک کرنے سے پہلے کچھ اہم باتیں ہیں جنھیں سمجھنا ضروری ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
جرائم پیشہ افراد ہیکنگ اور ڈیٹا لیکس کے ذریعے موصول ہونے والی حساس معلومات خریدتے اور فروخت کرتے رہتے ہیں۔ اور یہ وہ معاملہ ہے جس میں گوگل آپ کی مدد نہیں کر سکتا۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ’رزلٹس اباؤٹ یو‘ آپ سے متعلق معلومات کو دیگر ویب سائٹس سے ختم نہیں کرتا، بلکہ صرف گوگل سرچ سے ان کے لنکس ہٹا دیتا ہے۔ تاہم، ایسا کر دینا بھی انتہائی اہم ہے۔
یہ ٹول آپ کو مکمل پرائیویسی اور سکون نہیں دے گا، لیکن یہ ایسے رکاوٹیں پیدا کر دیتا ہے کہ آپ آن لائن جعل سازوں کا آسان ہدف نہ رہیں۔
کلوسوسکی کہتے ہیں کہ اس کے باوجود اگر اپنے کام میں انتہائی دلچسپی رکھنے والا کوئی جعل ساز آپ کو ڈھونڈنا چاہے تو وہ آپ کو ڈھونڈ لے گا۔
’لیکن گوگل اتنا عام اور استعمال میں آسان ہے کہ سب سے بڑی اور نمایاں مسائل سے چھٹکارا پانا کافی مددگار ہوتا ہے۔ آپ اپنے سے متعلق اُن دستیاب معلومات کی پہلی تہہ ہٹا رہے ہیں جو آسانی سے مل جاتی ہے۔‘
آن لائن کمائی اور سرمایہ کاری کا جھانسہ: پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار کیسے ہو رہے ہیں؟یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر خدشات: ’ایسی کوششیں ڈیجیٹل معیشت کو متاثر کر سکتی ہیں‘آن لائن ٹول کی مدد سے جانیے کہ فیس بک سے آپ کا ڈیٹا تو لیک نہیں ہواصارفین کو آن لائن پرائیویسی کے لیے رقم کی ادائیگی پر مجبور کرنا صحیح ہے؟
اگر آپ اپنے آن لائن دستیاب ڈیٹا کو مکمل طور پر صاف کرنا چاہتے ہیں تو اضافی اقدامات کی ضرورت ہو گی۔ (اس پر ہم مزید آگے چل کر بات کریں گے۔)
آپ کو رزلٹس اباؤٹ یو کو یہ بھی بتانا پڑتا ہے کہ اسے آن لائن کیا تلاش کرنا ہے، اور اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اپنے سے متعلق حساس معلومات گوگل کے سسٹم میں ٹائپ کرنی پڑیں گی۔
آپ کو اس بات پر تحفظات ہو سکتے ہیں کہ یہ ڈیٹا ایک ایسی کمپنی کو دینا ہو گا جس کی اپنی پرائیویسی تنازعات کی تاریخ ہے۔
لیکن کلوسوسکی کہتے ہیں کہ گوگل کے پاس شاید پہلے ہی آپ کا پتہ اور فون نمبر جیسی معلومات موجود ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا ہارویسٹنگ آپریشنز میں سے ایک چلاتا ہے۔ اس کے علاوہ، گوگل اس سروس (رزلٹس آباؤٹ یو) کے بارے میں مخصوص پرائیویسی ضمانتیں بھی دیتا ہے۔
گوگل کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ رزلٹس اباؤٹ یو میں صارفین کی جانب سے ڈالا گیا ڈیٹا کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ (اور یہ بات اہم ہے۔ کمپنیاں لاکھوں یا اربوں ڈالر کے جرمانے کا سامنا کر سکتی ہیں اگر وہ آپ کی پرائیویسی کے بارے میں جھوٹ بولتے ہوئے پکڑی جائیں۔)
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ سخت سکیورٹی اور انکرپشن پروٹوکولز بھی استعمال کرتا ہے۔
Getty Imagesاسے کیسے استعمال کریں؟
یہ ٹول بالکل آسان ہے۔ بس رزلٹس اباؤٹ یو ہب پر جائیں اور فارم پُر کریں۔
آپ خود بھی گوگل پر نظر آنے والے کسی پریشان کن مواد کی تفصیلات وہاں جمع کرا سکتے ہیں۔
سرچ نتائج میں لنک کے ساتھ موجود تین نقطوں والے مینو کو کھولیں اور’ ریموو رزلٹ‘ پر کلک کریں، یا اس صفحے کا استعمال کریں۔
گوگل بعض صورتوں میں خاندان کے افراد سے متعلق معلومات والے نتائج بھی ہٹا دیتا ہے۔
تاہم، یہ سرچ انجن سے وہ سب کچھ نہیں ہٹائے گا جو آپ چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، سرکاری اور نیوز سائٹس پر موجود مواد اس سے مستثنیٰ ہے۔
اگر آپ گوگل پر معلومات نہ پائیں، تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ ایسے ہے جیسے وہ معلومات موجود ہی نہ ہو۔
لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ ڈیٹا کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر مٹا دیا جائے، تو یہ زیادہ مشکل ہے۔
آپ براہِ راست ڈیٹا بروکرز سے رابطہ کر کے ان سے اپنی معلومات حذف کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔ کچھ پیڈ سروسز یہ کام آپ کے لیے کر دیتی ہیں، یعنی معاوضے کے عوض۔
کیلیفورنیا کے رہائشی مفت ریاستی پلیٹ فارم ڈراپ کا استعمال کر سکتے ہیں، جو ہزاروں ڈیٹا بروکرز سے بیک وقت آپ کا ڈیٹا حذف کرنے کی درخواست کرتا ہے۔
یہ اب تک اپنی نوعیت کا واحد سرکاری ٹول ہے۔
گوگل کے مطابق، 2022 میں لانچ ہونے کے بعد سے اب تک 1 کروڑ سے زیادہ افراد نے رزلٹس اباؤٹ یو استعمال کیا ہے۔
یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے، لیکن گوگل کے رپورٹ شدہ 1.8 ارب اکاؤنٹس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
آپ کو مشکل ہی سے کوئی اور پرائیویسی ٹول ملے گا جو اتنی کم محنت کے ساتھ اتنی زیادہ حفاظت فراہم کرے۔
یوٹیوب اور سوشل میڈیا سے متعلق مجوزہ قوانین پر خدشات: ’ایسی کوششیں ڈیجیٹل معیشت کو متاثر کر سکتی ہیں‘ٹِنڈر پر صارفین کی حفاظت کے لیے نئے فیچر متعارفگوگل سے بھی پہلے ڈیٹا کی مدد سے امیر ہونے والا شخصآن لائن ٹول کی مدد سے جانیے کہ فیس بک سے آپ کا ڈیٹا تو لیک نہیں ہواصارفین کو آن لائن پرائیویسی کے لیے رقم کی ادائیگی پر مجبور کرنا صحیح ہے؟آن لائن کمائی اور سرمایہ کاری کا جھانسہ: پڑھے لکھے پاکستانی نوجوان فراڈ کا شکار کیسے ہو رہے ہیں؟