امریکہ اور ایران کے درمیان پانچ بڑے اختلافات کیا ہیں؟

بی بی سی اردو  |  Apr 12, 2026

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات ختم ہونے سے پہلے ہی یہ واضح تھا کہ دونوں کے درمیان پہاڑ جیسی رکاوٹیں موجود ہیں۔

اسلام آباد میں ہونے والے مزاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسمائیل بقائی نے کہا کہ بہت سے موضوعات پر ’مفاہمت‘ ہو گئی تھی تاہم دو یا تین اہم معاملات پر دونوں فریقوں میں اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس کے باعث بالآخر مذاکرات کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے اور ہر موضوع کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔

Reutersجوہری تنازع

سب سے بڑا اور یقینی طور پر سب سے پرانا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسللام آباد سے روانگی سے قبل کہا کہ 21 گھنٹے تک جو مذاکرات بند دروازوں کے پیچھے ہوئے، ان کی تمام تفصیلات تو وہ نہیں بتائیں گے، تاہم ’سادہ سی بات یہ ہے کہ ہم ان سے (ایران سے) یقین دہانی چاہتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے اور وہ جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے لیے درکار آلات بھی حاصل نہیں کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کا یہی بنیادی مقصد ہے اور ہم نے مذاکرات کے ذریعے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش کی۔‘

امریکی نائب صدر نے کہا کہ ایران کے پاس موجود یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت پہلے ہی تباہ کی جا چکی ہے، ’لیکن کیا ہم ایران میں یہ آمادگی دیکھ رہے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار کبھی بھی نہیں بنائیں گے۔ یہ آمادگی ابھی تک ہمیں نظر نہیں آئی۔‘

ایران کے مطابق جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دستخط کنندہ ہونے کے باعث اسے شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

ایران کی 10 نکاتی تجویز جسے ٹرمپ نے ’مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد‘ قرار دیا، اس میں اس کے افزودگی کے حق کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدگی کا مطالبہ شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اپنے 15 نکاتی منصوبے میں یہ مطالبہ شامل ہے کہ ایران ’اپنی سرزمین پر ہر قسم کی یورینیم کی افزودگی ختم کرے گا۔‘

رواں ہفتے کے شروع میں جب اس بارے میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے پوچھا گیا تو انھوں نے صرف یہ کہا کہ ایران کے پاس’کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکے گا اور نہ ہی ان تک پہنچنے کی صلاحیت۔‘

بین الاقوامی مذاکرات کاروں کو 2015 کے مشترکہ جامع منصوبۂ عمل (JCPOA) تک پہنچنے میں برسوں لگے، جس نے اس پیچیدہ مسئلے کو انتہائی تفصیل سے حل کیا تھا۔

لبنان

ایران کے لبنانی اتحادی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیاں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی انھیں متاثر کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس حوالے سے خبردار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے۔‘ اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان میں پاکستان کے مطابق لبنان بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل نے بعد میں کہا تھا کہ وہ لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گا۔

اتوار کو اسلآم آباد سے امریکی نائب صدر کی رونگی کے چند ہی لمحوں بعد اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نہ کہا تھا کہ لبنان میں اسرائیل کی کارروائی کی’ شدت میں کچھ کمی‘ ہو گی جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات اگلے ہفتے واشنگٹن میں ہوں گے۔

تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کم شدت کی یہ کارروائی ایران کو مطمئن کرنے کے لیے کافی ہوگی یا نہیں۔

آبنائے ہرمزReuters

ایک اور بڑا مسئلہ ہے اہم تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ، آبنائے ہرمز۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کے لیے راستہ دینے کے معاملے میں ایران کا فیصلہ صحیح نہیں ہے۔

انھوں نے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران پر بددیانتی کا الزام عائد کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہمارے درمیان یہ معاہدہ نہیں ہوا تھا۔‘

اس وقت بھی سینکڑوں بحری جہاز اور اندازاً 20 ہزار ملاح خلیج کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور بہت کم جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد، ایران اب اسے باضابطہ شکل دینے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے۔

ایران اسے خودمختار ایرانی پانی قرار دے رہا ہے اور ایسے نئے قواعد کی بات کر رہا ہے جو یہ طے کریں گے کہ یہاں سے کون گزر سکتا ہے اور کسے اجازت نہیں ہو گی۔

اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟کیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟

جمعرات کو ایران نے دو موجودہ بحری راستوں کے شمال میں نئے ٹرانزٹ راستے بنانے کا اعلان کیا۔

شپنگ کمپنیوں کے خدشات کو سامنے رکھ کر جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ نئے راستے اس لیے ضروری ہیں تاکہ ’مرکزی بحری راستے میں مختلف اقسام کی اینٹی شپ بارودی سرنگوں سے بچا جا سکے۔‘

حالیہ رپورٹس کے مطابق پچھلے چند ہفتوں میں جو چند جہاز یہاں سے گزرنے میں کامیاب ہوئے انھوں نے مبینہ طور پر 20 لاکھ ڈالر (15 لاکھ پاؤنڈ) ٹیکس ادا کیا ہے۔

ان رپورٹس کے سامنے آنے پر صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ ایران کو ’ٹینکرز سے فیس نہیں لینی چاہیے۔‘

ایران کے علاقائی اتحادی

ایران کے خطے میں موجود اتحادیوں اور پراکسی گروہوں نے تہران کو خطے میں خاص اثر و رسوخ دیا ہے، ان میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، غزہ میں حماس اور عراق میں مختلف ملیشیاؤں کے گروہ شامل ہیں۔

انھی کے ذریعے ایران اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے طویل تنازعات میں وہ حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے جسے اکثر ’فاروَرڈ ڈیفنس‘ کہا جاتا ہے۔

اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے مزاحمت کا محور کہلائے جانے والے اس نیٹ ورک کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔

اس کا ایک حصہ سابق شامی صدر بشارالاسد کی حکومت تھی تاہم اس حکومت کا وجود اب ختم ہو چکا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل’محورِ شر‘ قرار دیے جانے والے اس پورے ڈھانچے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتا ہے۔

ایسے وقت میں جب ایرانی معیشت شدید دباؤ میں ہے بہت سے ایرانی چاہتے ہیں کہ حکومت اس تمام مہم جوئی پر کم اور عوام کی زندگی بہتر بنانے پر زیادہ خرچ کرے۔

تاہم ابھی تک اس بات کے واضح آثار نہیں ہیں کہ ایران اپنے علاقائی اتحادیوں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے۔

پابندیوں میں نرمی

ایران کئی دہائیوں سے سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر وہ امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

جمعے کے روز ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے تقریباً 120 ارب ڈالر (89 ارب پاؤنڈ) کے منجمد اثاثے بحال کیے جانے چاہییں۔

ان کے مطابق یہ دو پہلے سے طے شدہ اقدامات میں سے ایک ہے جن میں دوسرا لبنان میں جنگ بندی سے متعلق ہے۔

تاہم سات اپریل کو پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان میں منجمد اثاثوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

یہ واضح نہیں کہ قالیباف کس معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔ بظاہر اس کا امکان کم ہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اتنی بڑی رعایت دینے پر آمادہ ہو۔

عالمی میڈیا، وفود کی آمد اور سخت ترین سکیورٹی کے درمیان پاکستان کا دارالحکومت کیا منظر پیش کر رہا ہے؟اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکہ اور اسرائیل کو کیسے حیران کیا؟اسرائیل اور ایران میں سے عسکری اعتبار سے زیادہ طاقتور کون ہے؟کیا امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں؟اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود میں کون سی اہم شخصیات شامل ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More