Getty Imagesانڈیا میں کوکنگ گیس کا حصول دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے اخراجات میں کمی کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کم از کم ایک سال تک سونا نہ خریدیں، بیرون ممالک کے سفر سے پرہیز کریں، ورک فرام ہوم اپنائيں اور ایندھن کی بچت کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کریں۔
ان کی اپیل کے بعد سونے کی درآمدی محصول میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور ایئر انڈیا نے اپنی بین الاقوامی پروازیں محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انڈیا کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو کم ہونے سے بچانے کی کوشش ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور تیل کا تیسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے جس کی 90 فیصد ضرورت دوسرے ممالک سے خریدے جانے والے تیل سے پوری ہوتی ہے۔
ان اقدامات سے ایسا گمان ہوتا ہے کہ انڈیا توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسی دوران کوٹک مہندرا بینک کے مالک ارب پتی اُدے کوٹک نے منگل کو انڈیا کے لوگوں کو بدترین حالات کے لیے تیار رہنے کے لیے خبردار کیا ہے کیونکہ ان کے مطابق مغربی ایشیا میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ظاہر ہونے والے ہیں۔
نئی دہلی میں ایک صنعتی تقریب میں اُدے کوٹک نے کہا: ’ہمیں بدترین صورت حال کے لیے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ تاکہ زور کا جھٹکا نہ لگے۔‘
لیکن دوسری جانب پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا میں تیل اور گیس کا کوئی بحران نہیں ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انڈیا کی تیل کمپنیوں کو ماہانہ 30 ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے جس سے ماہرین یہ نتیجہ نکال رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا غالب امکان ہے۔
انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’وزیراعظم نے شہریوں کو صرف توانائی کی کھپت میں اعتدال کا مشورہ دیا ہے تاکہ معیشت پر کوئی مالی بوجھ نہ پڑے۔‘
وزیر اعظم کے اس بیان کے بعد سے اپوزیشن جماعتیں حکومت پر حملے کر رہی ہیں اور ملکی معیشت پر سوالات اٹھا رہی ہیں اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکی تصادم کا یہ بحران آج پیدا نہیں ہوا ہے تو کیا وزیر اعظم اس اعلان کے لیے صرف انتخابات کے اختتام کا انتظار کر رہے تھے۔
اس سے قبل سنہ 1965 میں خوراک کے بحران اور جنگ کے دوران اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے لوگوں سے ہفتے میں ایک دن پیر کی شام کا کھانا رضاکارانہ طور پر چھوڑنے کی اپیل کی تھی۔
آج کے برخلاف اس وقت سوشلسٹ رہنما مدھو لیمے نے پارلیمنٹ میں اس کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ مشکل وقت میں ’رضاکارانہ کفایت شعاری‘ ایک شہری فرض ہے، اور سیاسی طبقے کو محض اپیل کے بجائے مثالی رہنمائی کرنی چاہیے۔
Getty Imagesایران پر اسرائیل اور امریکی حملے کے بعد دنیا بھر میں تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھنا ہر حکومت کے لیے ایک چیلنج رہا ہے۔
سنہ 1990 میں خلیجی جنگ کا براہ راست اثر انڈیا پر پڑا تھا اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے انڈیا کو متاثر کیا تھا۔
سنہ 1990-91 میں پیٹرولیم کا درآمدی بل 2 بلین ڈالر سے بڑھ کر 5.7 بلین ڈالر ہو گیا۔ اس کی وجہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور درآمدی حجم میں اضافہ تھا۔
آج انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 700 بلین ڈالر ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم مودی اب بھی ایسی اپیل کیوں کر رہے ہیں؟
کیا انڈیا نے اب بھی اپنے پرانے چیلنجز پر قابو نہیں پایا؟
دہلی میں قائم گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو (جی ٹی آر آئی) کے ڈائریکٹر اجے سریواستو کا کہنا ہے کہ انڈیا کا درآمدی برآمدی توازن اب بھی معمول پر نہیں آیا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کے نمائندے رجنیش کمار سے بات کرتے ہوئے کہا: 'ہماری توانائی کی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے۔ الیکٹرانکس اور سونے کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں 700 بلین ڈالر بھی ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔ ماضی میں درآمدات برآمدات سے زیادہ تھیں، اور آج بھی صورت حال جوں کی توں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم وقتاً فوقتاً ایسی اپیلیں کرتے رہے ہیں۔'
Getty Imagesانڈیا اپنےغیر ملکی زر مبادلہ کو مستحکم رکھنے کی کوشش کر رہا ہےبحران کتنا گہرا ہے؟
امریکی پابندیوں کی وجہ سے روس سے انڈیا کی توانائی کی درآمدات میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ایران سے بھی پرانے شیریں مراسم نہ رہے۔
ایسے میں انڈیا نے تیل کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دوسرے ممالک کا رخ کیا۔ مارچ میں امریکی پابندیوں میں جزوی نرمی کے بعد، انڈیا نے روس سے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کی اور گھریلو ریفائنریوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی استعمال کے لیے کوکنگ گیس کی پیداوار کو ترجیح دیں۔
خلیجی ممالک میں کشیدگی کے بعد سے انڈین کرنسی ایشیا میں سب سے خراب کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کرنسیوں میں شامل ہے۔ جنگ کے آغاز میں روپے کی قیمت تقریبا 91 روپے فی ڈالر تھی، لیکن اب اس کی قدر مزید کم ہو کر 95 روپے فی ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مودی کی 'کفایت شعاری کی اپیل' غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کو کم کرنے کا واضح پیغام دیتی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مودی کی اپیل انڈین معیشت میں ایک بڑے بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اجے سریواستو کا کہنا ہے کہ 'فروری میں تیل کی قیمت 78 ڈالر فی بیرل تھی۔ ایران پر حملے کے بعد یہ 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ فی الحال یہ 105 ڈالر اور 110 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔ اس کی وجہ سے انڈیا کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں انڈیا کا تیل درآمد کرنے کا بل مزید 167 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
Getty Imagesانڈیا کے تقریبا 90 لاکھ لوگ خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں اور وہاں سے غیر ملکی زر مبادلہ بھیجتے ہیں
'خلیجی ممالک میں تقریباً 90 لاکھ انڈین کام کرتے ہیں، اور جو زر مبادلہ وہ انڈیا بھیجتے تھے وہ متاثر ہوئی ہیں۔ تیسرے، ہمارے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں نے انڈین مارکیٹ سے کافی رقم نکال لی ہے۔ ہمارا تجارتی اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے، جس کے سبب روپیہ فی ڈالر 100 کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ انڈیا برآمدات میں اضافہ کرے اور درآمدات کو کم کرے۔'
اسی دوران مئی کے اوائل میں حکومت ہند کے سب سے بڑے تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے بڑے پیمانے پر کفایت شعاری کی مہم تجویز پیش کی ہے، جس میں ڈویژنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معاشی اثرات کو منظم کرنے کے لیے ذاتی طور پر طے شدہ ورکشاپس، سیمینارز اور کانفرنسوں کو منسوخ کریں، اور آن لائن طریقوں کی جانب جائیں۔
اس کے ساتھ اس نے بڑے پیمانے پر تعمیرات اور انہدام کے منصوبوں پر دو سال کی پابندی لگانے کی تجویز بھی دی ہے۔
مسٹر مودی کے اعلان کے دو روز بعد انڈیا نے سونے اور چاندی کی درآمدات پر محصولات میں اضافہ کیا ہے جو چھ فیصد سے بڑھ کر اب 15 فیصد ہو گئی ہے۔
اقتصادی ماہرین مغربی ایشیا میں جنگ سے انڈیا کی ادائیگی کے توازن پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی متفکر ہیں۔ پی ایم مودی کی اپیل کے بعد سٹاک مارکیٹ بھی دو دن سے گراوٹ کا شکار ہے۔
Getty Imagesڈالر کے مقابلے انڈین روپے کی قیمت روز بروز گر رہی ہےزرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتا ہوا دباؤ
کسی ملک کی معیشت کی مضبوطی کا ایک پیمانہ اس کے مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر کی مقدار ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں امریکی ڈالر، یورپی یونین کی کرنسی یورو اور چینی کرنسی یوآن شامل ہیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر کہاں سے آتے ہیں؟ جب انڈیا سامان خریدتا ہے تو ڈالر میں ادائیگی کرتا ہے اور جب بیچتا ہے تو ڈالر وصول کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ زیادہ فروخت کرتے ہیں، تو آپ زیادہ ڈالر کماتے ہیں، اور اگر آپ زیادہ خریدتے ہیں، تو آپ کو زیادہ ڈالر خرچ کرتے ہیں۔
مالی سال 2025-26 میں انڈیاکا تجارتی خسارہ 333.2 بلین ڈالر تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا نے برآمد سے زیادہ درآمد کی ہے۔
ممبئی میں قائم ایچ ڈی ایف سی سیکیورٹیز کے پرائم ریسرچ کے سربراہ دیورش وکیل نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو بتایا: ’خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی عدم استحکام انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔ انڈیا سونے کی درآمد اور غیر ملکی سفر پر اخراجات کو کم کرکے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔‘
Getty Imagesانڈیا دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل کا درآمد کنندہ ہےتیل کی فراہمی پر اثر
ایم کے گلوبل فنانشل سروسز کی چیف اکانومسٹ مادھوی اروڑہ نے ایف ٹی کو بتایا: ’اب جبکہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں، مسٹر مودی ایران جنگ سے متعلق معاشی مسائل کے بارے میں زیادہ حقیقت پسندانہ بات کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ شہری ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے لیے تیار ہو رہے ہیں، جس کا بوجھ حکومت اور سرکاری تیل کمپنیاں اٹھا رہی ہیں۔‘
مشرق وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے انڈیا کو کوکنگ گیس کی قلت اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ یہ بحران ایک ایسے ملک کے لیے ایک اہم چیلنج ہے جس نے گذشتہ سال 174 بلین ڈالر کا تیل اور گیس درآمد کیا تھا۔ انڈیا کی قدرتی گیس کی دو تہائی اور اس کی خام تیل کی درآمدات کا نصف خلیجی ممالک سے آتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی، سعودی عرب کی آرامکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند رہتا ہے تو پیٹرول اور ہوابازی کے ایندھن کے ذخائر خطرناک حد تک نچلی سطح پر پہنچ سکتے ہیں۔
Getty Imagesسونے کی درآمدات کے محصول میں اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ ہونا لازمی نظر آ رہا ہےکیا سونا بحران پیدا کر رہا ہے؟
انڈیا دنیا میں سونے کے سب سے بڑے صارفین میں سے ایک ہے۔ انڈین ثقافت میں سونے کی خاص اہمیت ہے اور اسے ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
یہ قیمتی دھات ریزرو بینک آف انڈیا کے زرمبادلہ کے ذخائر کا بھی ایک اہم جزو ہے اور مارچ کے آخر تک ملک کے کل زرمبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 17 فیصد سونے کی شکل میں تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روپے کے مستقبل کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہو گا کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع کس سمت کو جاتا ہے۔
’جنگ کہیں دور ہو رہی ہے اور چولہے ہمارے بند ہو جائیں گے‘: دلی سمیت انڈیا میں ریسٹورنٹس بند ہونے کے خدشات کیوں؟کھربوں ڈالر کے اثاثے ہونے کے باوجود متحدہ عرب امارات امریکہ کے ساتھ ’کرنسی سواپ‘ کیوں چاہتا ہے؟مودی نے ’سونا خریدنے کے شوقین‘ انڈین شہریوں سے یہ قیمتی دھات نہ خریدنے کی اپیل کیوں کی؟کیا ایران جنگ خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان اتحاد کا خاتمہ کر دے گی؟بحرِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز کی تباہی پر انڈین اپوزیشن جماعتوں کی تنقید: ’ہمارے مہمان مارے گئے اور مودی خاموش ہیں‘