’افغان سامورائی‘: جب ایک جاپانی شہری ’موت کی تلاش میں‘ سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے افغانستان پہنچا

بی بی سی اردو  |  Jul 07, 2026

Koshiro Tanakaکوشیرو تاناکا مارشل آرٹس کے لباس میں مجاہدین کو تربیت دیتے ہوئے

میں جاپانی زبان نہیں سمجھتا اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ جاپانی زبان میں ’ہیلو‘ کیسے کہتے ہیں۔ اس لیے جب میں نے کوشیرو تاناکا کے ساتھ انٹرویو کا فیصلہ کیا تو یہ میرے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔

تاناکا ایک جاپانی شہری ہیں جو تقریباً 40 سال قبل سوویت افواج کے خلاف جنگ کے لیے افغانستان آئے تھے۔

میں نے انٹرویو کا دعوت نامہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جاپانی زبان میں ترجمہ کیا اور پھر اے آئی کی ایک دوسری ایپ سے اس کا جائزہ لے کر انھیں بھیج دیا۔

چند دن بعد مجھے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ جاپانی زبان میں ایک ای میل موصول ہوئی جس میں تاناکا نے انٹرویو کے لیے آمادگی ظاہر کی تھی۔

سب سے اہم سوال یہ تھا کہ آخر ایک جاپانی شہری اپنے ملک سے ہزاروں کلومیٹر دور افغانستان جانے اور وہاں سوویت افواج کے خلاف لڑنے پر کیوں آمادہ ہوا؟

میرے اور تاناکا کے اسسٹنٹ کے درمیان 20 ای میلز کا تبادلہ ہوا۔ اب جب میں ان ای میلز کو دیکھتا ہوں تو ایک لفظ بھی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ یہ سب جاپانی زبان میں ہیں۔

بالآخر کوشیرو تاناکا افغانستان کا روایتی لباس اور واسکٹ پہنے کیمرے کے سامنے بیٹھ گئے اور اُس سٹوڈیو سے منسلک ہو گئے جہاں میں موجود تھا۔

لیکن اس بار مصنوعی ذہانت ہماری مترجم نہیں تھی۔ بلکہ ہمارے پاس ایک حقیقی مترجم تھا جو ہماری باتیں ایک دوسرے تک بیک وقت منتقل کر رہا تھا۔

BBCبی بی سی کے علی حسینی کی کوشیرو تاناکا کے ساتھ گفتگو

میں نے پہلا سوال پوچھا کہ وہ افغانستان کیوں گئے؟ اس پر ان کا جواب تھا کہ ’میں مرنے کے لیے افغانستان گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جاپان کی سامورائی ثقافت میں زندگی کا اختتام موت پر ہوتا ہے۔ اسی لیے میں بچپن ہی سے بودو (مارشل آرٹس) کی دنیا میں رہا ہوں۔ میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آیا واقعی ہم اسی جگہ مرتے ہیں جہاں ہمارا مرنا طے ہے۔ کیا میرے اندر ایسی تیاری اور جرات ہے؟ اسی لیے میں ایسی جگہ گیا جہاں موت کا امکان تھا۔‘

لیکن افغانستان کے سفر کے پیچھے ایک اور وجہ بھی تھی، یعنی سوویت یونین۔

سوویت یونین نے 1945 میں بحرالکاہل میں واقع چار کوریل جزائر پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس واقعے کے 34 سال بعد افغانستان کا سفر اور وہاں سوویت افواج کے خلاف جنگ، ایک ایسے قرض کی ادائیگی تھی جس کی ذمہ داری کوشیرو تاناکا خود پر محسوس کرتے تھے۔

سب کی مخالفت کے باوجود انھوں نے پاکستان میں اپنے دوستوں سے رابطہ کیا اور وہاں سے افغانستان روانہ ہوئے جہاں برہان الدین ربانی کی قیادت میں جمعیت اسلامی پارٹی کے کارکن اُن کے استقبال کے لیے آئے تھے۔

اُس وقت مجاہدین سوویت یونین کی افواج کے خلاف لڑ رہے تھے۔

سوویت افواج ایک ایسی حکومت کی حمایت کے لیے افغانستان آئی تھیں جو بڑی حد تک سوویت یونین پر انحصار کرتی تھی۔

مجاہدین اس بات پر بہت خوش تھے کہ ایک جاپانی اُن کے ساتھ مل کر سوویت افواج کے خلاف لڑ رہا ہے۔ وہ یاد کرتے ہیں کہ مجاہدین ان کی حمایت میں ’تاناکا، تاناکا، تاناکا‘ کے نعرے لگاتے تھے۔ ’وہ میرا بہت احترام کرتے تھے اور مجھے ایک اہم شخصیت سمجھتے تھے۔‘

جب اسامہ بن لادن کو بندوق نہیں مگر بلڈوزر چلانا آتا تھا: ’اسامہ کا بیٹا ہونا بہت مشکل ہے، لوگ آج بھی ہم سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں‘افغانستان کے صدر کا قتل: حفیظ اللہ امین کی اہلیہ نے محل پر سوویت حملے کے دوران کیا دیکھا تھا؟جب کنپٹی پر کلاشنکوف نہیں، راکٹ کی نوک محسوس ہوئیکابل کا ’مجاہدین بازار‘ جس کا کاروبار ہمیشہ جنگ کی مرہونِ منت رہاKoshiro Tanakaکوشیرو تاناکا 1980 کی دہائی میں احمد شاہ مسعود کے ساتھ’میں مجاہدین سے اشاروں میں بات کرتا تھا‘

میں نے کوشیرو تاناکا سے پوچھا کہ کیا یہ درست ہے کہ وہ افغانستان جاتے وقت اپنے ساتھ 10 ہزار امریکی ڈالر لے گئے تھے تاکہ مجاہدین کی مدد کر سکیں؟

انھوں نے جواب دیا کہ انھوں نے افغانوں کی اس سے کہیں زیادہ مدد کی تھی۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’درحقیقت میں نے گذشتہ 40 برسوں میں تقریباً دس لاکھ ڈالر خرچ کیے ہیں۔ میں افغان پناہ گزین کی مدد کے لیے اپنی پوری کوشش کرنا چاہتا تھا۔ اسی وجہ سے میں نے اپنا گھر بھی کھو دیا۔‘

یہ مجاہدین جاپانی زبان نہیں جانتے تھے اور کوشیرو تاناکا فارسی اور پشتو نہیں جانتے تھے۔

تو پھر وہ ایک دوسرے سے کیسے بات کرتے تھے؟

جب میں نے یہ سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ’اشاروں کی زبان میں‘۔

پھر انھوں نے اپنا ہاتھ تکیے کی طرح سر کے نیچے رکھا اور کہا کہ ’سونا، کھانا اور دیگر باتیں ہم اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچاتے تھے۔‘

Koshiro Tanakaایک چٹان کے ساتھ کوشیرو تاناکا سر پر روایتی ٹوپی پہنے ہوئے ہیں۔ اُن کے پاس کلاشنکوف سمیت تین قسم کے ہتھیار ہیں

اُن کی مجاہدین سے تین درخواستیں تھیں۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’پہلی یہ کہ مجھے ہتھیار دیں اور سوویت افواج کے خلاف لڑنے دیں۔ دوسری یہ کہ مجھے اجازت دیں کہ میں مجاہدین کو جاپانی مارشل آرٹس سکھاؤں۔‘

ان کی تیسری درخواست یہ تھی کہ ’اگر مجھے زندہ واپس جانے کا موقع ملا تو میں ایک افغان بچے یا کسی پناہ گزین کو گود لے کر اپنے ساتھ جاپان لے جانا چاہوں گا۔

’یہ میری تین درخواستیں تھیں۔‘

Koshiro Tanakaکوشیرو چند مجاہدین کے ساتھ بیٹھے ہیں

کوشیرو تاناکا کم از کم چھ سالتک افغانستان میں رہے۔

وہ بھاری اسلحہ، خاص طور پر کندھے پر رکھ کر چلایا جانے والا راکٹ، استعمال کرتے تھے۔ وہ محمد انور جگدلک کی کمان میں سوویت افواج کے خلاف لڑے جو ایک دور میں کابل کے میئر بھی رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’ایک واقعے میں ہم نے خود 50 سے زیادہ افراد کو دفن کیا۔ احمد شاہ مسعود کے 27 کمانڈر مارے گئے۔ مجھے بھی اُس گروہ میں ہونا چاہیے تھا لیکن مسعود نے مجھے بلایا اور پیچھے بھیج دیا۔

’جو مجاہدین میری جگہ آگے گئے تھے وہ سب مارے گئے۔ مجموعی طور پر تقریباً 52 افراد نے اپنی جانیں گنوائیں۔‘

وہ تقریباً چھ ماہ احمد شاہ مسعود کے ساتھ رہے۔

1994 میں ہیروشیما ایشیئن گیمز کے دوران کوشیرو تاناکا کی کوششوں اور افغانستان کی جمعیت اسلامی پارٹی کے رہنما برہان الدین ربانی کے تعاون سے 30 افغان کھلاڑی اور اہلکار ان مقابلوں میں شرکت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس وقت افغانستان خانہ جنگی کا شکار تھا۔

Koshiro Tanakaکوشیرو تاناکا نے روایتی افغان لباس پہنے سرد موسم میں ’کئی بار موت کے قریب پہنچا‘

افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے دوران ایک جاپانی کی شرکت ایسی بات نہیں تھی جو مغربی میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہتی۔

لیکن کوشیرو تاناکا کے مطابق جاپان میں اس کی میڈیا کوریج بہت کم تھی۔ اس کے برعکس دنیا بھر سے افغانستان آنے والے صحافی مسلسل پوچھتے تھے کہ ’تاناکا، تاناکا، کیا آپ نے تاناکا کو دیکھا ہے؟‘

میں نے تاناکا سے پوچھا کہ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ آپ کو ’افغان سامورائی‘ کہا جاتا ہے تو آپ اس لقب سے کس حد تک اتفاق کرتے ہیں؟

انھوں نے جواب دیا کہ وہ اس پر ’شکر گزار ہیں‘۔ انھوں نے کہا کہ ’مجموعی طور پر سامورائی طرزِ زندگی وہ چیز ہے جسے جاپان میں ’بوشیدو‘ (جنگجوؤں کا طرزِ زندگی) کہا جاتا ہے، جو ایک بہت بڑی ثقافت سمجھی جاتی ہے۔

’یہ جاپانی عوام کی روح اور ذہنیت کی بنیاد بنتی ہے۔ مجھے اس بات پر دلی خوشی محسوس ہوتی ہے کہ میں ایسی ثقافت میں زندگی گزارتا ہوں۔‘

کوشیرو تاناکا نے افغانستان میں قیام کے چھ سے زائد برسوں کے دوران مختلف شہروں کا سفر کیا جن میں کابل، قندھار، مزار شریف، جلال آباد اور سروبی شامل ہیں۔

جب میں نے پوچھا کہ اُنھیں افغانستان کا کون سا کھانا پسند ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’وہی کھانا جو چاول اور گوشت سے بنتا ہے (پلاؤ)۔ یہ بہت مزیدار ہے۔‘

Koshiro Tanakaکوشیرو تاناکا چند مجاہدین کے ساتھ بیٹھے ہیں اور اُن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ہے

اُن کے مطابق وہ کئی بار موت کے قریب پہنچے۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ’ایک بار میرا کان زخمی ہوا، ایک دوسرے واقعے میں میں اپنے ساتھی کو بچانے کے لیے بارودی سرنگوں والے علاقے میں داخل ہوا۔ ایسے واقعات کا مجھے بہت زیادہ سامنا کرنا پڑا۔‘

لیکن اُس وقت شدید مشکلات کے شکار افغانستان میں ان کی زندگی کیسی تھی؟

کوشیرو تاناکا نے کہا کہ وہ بہت جلد دوسرے تمام لوگوں کی طرح انھی حالات اور ماحول میں جینا سیکھ گئے تھے۔ ’میں نے کبھی واقعی ایسا نہیں سوچا کہ ایک دن جاپان واپس جاؤں گا۔ اسی لیے میں ہر روز اپنے آپ سے سوچتا تھا کہ شاید آج وہ دن ہو جب میں اپنی جان کھو دوں۔ ہر روز میں اس تصور کے ساتھ جیتا تھا کہ آج مر جاؤں گا۔‘

لیکن وہ ملک جہاں تاناکا نے کم از کم چھ سال جنگ لڑی اور جس کے لوگوں کے لیے نیک تمنائیں رکھیں، آج بھی کم مسائل کا شکار نہیں ہے۔

میں نے اُن سے پوچھا کہ وہ اس وقت افغانستان کے معاملے سے کس حد تک وابستہ ہیں؟

انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ بہت افسوسناک بات ہے کہ ایک قوم اور ملت آپس میں جنگ اور تنازعات میں مصروف ہو۔ اسی لیے مجھے امید ہے کہ ایک دن سب متحد ہوں گے اور ایک پُرامن ملک قائم کریں گے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اسی طرح جاپان کی صورتحال بھی ہے۔ جاپان مکمل طور پر امریکی رنگ میں رنگ چکا ہے اور یوں کہہ لیجیے کہ جاپانی اب جاپانی نہیں رہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی ’اعتدال اور نظم پر مبنی ہے۔ اسی لیے میں اب بھی نظم و ضبط کے مطابق زندگی گزارنا چاہتا ہوں اور اسی منظم انداز میں زندگی اور موت چاہتا ہوں۔‘

پیپسی میں زہر دینے سے لاش شاہی محل کے قالین میں لپیٹنے تک: حفیظ اللہ امین کو قتل کرنے کے روسی مشن کی کہانیجب اسامہ بن لادن کو بندوق نہیں مگر بلڈوزر چلانا آتا تھا: ’اسامہ کا بیٹا ہونا بہت مشکل ہے، لوگ آج بھی ہم سے رابطہ کرنے سے ڈرتے ہیں‘عبدالاحد مومند: وہ خلا باز جو پہلی مرتبہ خلا میں قرآن لے کر گئے اور تلاوت کیکابل کا ’مجاہدین بازار‘ جس کا کاروبار ہمیشہ جنگ کی مرہونِ منت رہاجب کنپٹی پر کلاشنکوف نہیں، راکٹ کی نوک محسوس ہوئی
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More