امریکہ کی شکست کے بعد بیلجیئم کا ٹرمپ پر طنز: ’اب اس کو پلٹ کر دکھائیں‘

بی بی سی اردو  |  Jul 07, 2026

EPA

فیفا ورلڈ کپ میں امریکہ کے خلاف فتح کے بعد بیلجیئم کے مڈفیلڈر نکولس راسکن نے کہا کہ ان کی ٹیم نے امریکی فٹبالر فولارن بالوگن پر عائد کی گئی پابندی معطل کیے جانے کے معاملے میں ’ناانصافی‘ محسوس کی تھی۔

امکان یہی تھا کہ 25 سالہ بالوگن بیلجیئم کے خلاف میچ نہیں کھیل پائیں گے کیونکہ انھیں گذشتہ میچ میں ایک فاؤل پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔

تاہم اتوار کو فیفا نے یہ پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس پر اسے وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ یوئیفا، بیلجیئم اور انگلینڈ کے کوچ ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے فیفا سے بالوگن کی پابندی کا جائزہ لینے کے لیے کہا تھا جو ان کے بقول ٹورنامنٹ پر ایک ’بڑا داغ‘ چھوڑ سکتی تھی۔

تاہم امریکی ٹیم کے نمایاں کھلاڑی بالوگن کو کھیلنے کی اجازت ملنے کے باوجود بیلجیئم نے ٹورنامنٹ کے مشترکہ میزبان امریکہ کو ایک، چار سے باآسانی شکست دی۔

بیلجیئم کے مڈفیلڈر راسکن نے کہا کہ ’گذشتہ دو دنوں میں میدان سے باہر بہت کچھ ہوا۔‘

’ہماری ٹیم نے اس معاملے میں ناانصافی محسوس کی اور ہم میدان میں اس کا جواب دینے کے لیے پُرعزم تھے۔‘

Getty Imagesبیلجیئم کے چوتھے گول کے بعد کئی کھلاڑیوں نے ’ٹرمپ ڈانس‘ کیا

بیلجیئم کے کپتان یوری تیلانز نے اصرار کیا کہ اس معاملے نے ان کی ٹیم کو مزید حوصلہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے خود سے کہا کہ ہمیں میدان میں جواب دینا ہے۔ اور ہم نے یہی کیا۔‘

بیلجیئم کے چوتھا گول کرنے کے بعد ان کے کئی کھلاڑیوں کو ایک ایسے انداز میں رقص کرتے دیکھا گیا جو ’ٹرمپ ڈانس‘ سے مشابہ تھا۔ ٹرمپ کے اس انداز میں 2024 کی صدارتی مہم کے دوران خاصی شہرت پائی تھی۔

بیلجیئم کی قومی ٹیم کے انسٹاگرام اکاؤنٹ نے بھی بظاہر اسی معاملے پر طنز کیا۔

اکاؤنٹ پر فارورڈ رومیلو لوکاکو کی ایک تصویر شیئر کی گئی جس میں وہ کان پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے اور اس کے ساتھ کیپشن لکھا گیا تھا کہ ’اب اسے معطل کر کے دکھائیں۔‘

بیلجیئم کے ہیڈ کوچ روڈی گارسیا نے صحافیوں کو بتایا کہ میچ کے بعد بالوگن ’بات کرنے آئے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ بہت اچھا لگا۔ یہ ان کی غلطی نہیں ہے، قصور ان کا نہیں۔ میں نے انھیں یہی بتایا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس معاملے نے ان کی ٹیم کو کس طرح متاثر کیا تو گارسیا نے کہا کہ ’امریکہ کی ٹیم چاہے جو بھی ہوتی، ہمارے لیے اصل اہمیت ہماری حکمتِ عملی کی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بیلجیئم کے کھلاڑی سمجھدار ہیں اور ’میں نے انھیں بتایا کہ سب سے اہم چیز ہم خود ہیں۔‘

Getty Imagesفولارن ورلڈ کپ میں امریکہ کے لیے اب تک تین گول سکور کر چکے ہیںبالوگن کی سزا معطل ہونے پر تنازع

بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا اور ان پر ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ تاہم گذشتہ روز فیفا نے یہ پابندی معطل کر دی تھی۔

25 سالہ فولارن اس ٹورنامنٹ میں تین گولز کے ساتھ امریکہ کے سب سے کامیاب فٹبالر ہیں۔ انھیں بوسنیا و ہرزیگووینا کے ڈیفینڈر طارق محریمووچ کے خلاف فاؤل کرنے پر براہِ راست ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا۔ اس میچ میں امریکہ نے 2-0 سے کامیابی حاصل کی تھی۔

ٹرمپ نے فیفا کی جانب سے فولارن پر عائد پابندی معطل کرنے کے فیصلے کو ایک ’درست فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ پابندی برقرار رہتی تو اس سے ٹورنامنٹ پر ’بڑا داغ‘ لگ جاتا۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے فیفا سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست اس لیے کی تھی کیونکہ انھیں ’نہیں لگتا تھا کہ یہ فاؤل تھا۔‘

انھوں نے تصدیق کی کہ ان کی فیفا کے صدر جیانی انفانتینو سے بات ہوئی تھی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیصلے پر نظرثانی کی محض درخواست کی تھی، یہ نہیں کہا تھا کہ بالوگن کی معطلی ختم کر دی جائے۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’میرا خیال ہے کہ یہ [معطلی] ایک بڑا داغ چھوڑ دیتی۔ میں انھیں یہ نہیں بتا سکتا کہ انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میرا نہیں خیال کہ یہ فیصلہ انھوں نے کیا تھا؛ میرا خیال ہے کہ یہ فیصلہ کمیشن نے کیا۔ اور یہ درست فیصلہ تھا۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ریفری رافائل کلاوس کا بالوگن کو میدان سے باہر بھیجنے کا فیصلہ ’انتہائی خراب‘ تھا، اور انھوں نے برازیلی ریفری کو ’کچھ مشکوک‘ قرار دیا۔

ایکس پر جاری ایک بیان میں انفانتینو کا کہنا ہے کہ جب انھیں صدر ٹرمپ کی فون کال موصول ہوئی تو انھوں نے امریکی صدر کو بتایا کہ ’فیفا کے آزاد عدالتی اداروں کے تحت ایک قانونی عمل جاری ہے اور متعلقہ ادارے مناسب وقت پر اس معاملے کا فیصلہ کریں گے۔‘

ادھر فیفا کا کہنا تھا کہ فولارن پر عائد ایک میچ کی پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ فیفا نے اس فیصلے کی کوئی تفصیلی وجہ بیان نہیں کی، صرف اس ضابطے کا حوالہ دیا جس کے تحت بعض سزاؤں کو معطل کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب، رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن (آر بی ایف اے) نے فیفا کے اس فیصلے پر ’حیرت‘ کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ وہ اس کے جواب میں ’تمام ممکنہ قانونی اور انتظامی آپشنز‘ کا جائزہ لے رہی ہے۔

فیفا کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ’فیفا کے ڈسپلنری کوڈ کے آرٹیکل 27 کے مطابق ایک میچ کھلینے پر عائد پابندی کے نفاذ کو ایک سال کی آزمائشی مدت (پروبیشنری پیریڈ) کے لیے معطل کیا جاتا ہے۔‘

Getty Imagesامریکی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر فولارن بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا

رائل بیلجیئن فٹ بال ایسوسی ایشن کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ اس ورلڈ کپ میں جاری کیے گئے تمام سابقہ ریڈ کارڈز کے نتیجے میں کھلاڑیوں پر خودکار طور پر پابندیاں عمل میں آئی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ فیفا کا حالیہ فیصلہ ٹورنامنٹ کے ضوابط سے ’براہِ راست متصادم‘ ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق یہ ضوابط مئی میں فیفا کی جانب سے تمام شریک ممالک کو ’واضح طور پر دوبارہ بتائے گئے‘ تھے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا: ’تمام شریک ٹیموں کے جائز حقوق کے تحفظ اور اس ورلڈ کپ سمیت مستقبل کے مقابلوں میں ہمارے کھیل کے بنیادی اصول، یعنی منصفانہ کھیل (فیئر پلے) کے تحفظ کے لیے، آر بی ایف اے تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔‘

فٹبال ورلڈ کپ میں وائرل ہونے والے کھلاڑی اس شہرت سے مالی فائدہ اٹھا پائیں گے؟24 میچ دیکھنے کے لیے 50 ہزار کلومیٹر کا سفر: فیفا کے صدر اور اُن کے زیر استعمال نجی طیارہ تنقید کی زد میں کیوں؟فیفا ورلڈ کپ اور فٹبالرز کے گلابی رنگ کے جوتےامریکہ آنے والے فٹبال شائقین کو ’کنجوسی‘ کے طعنے اور ’ٹپنگ کلچر‘ سے تنگ سیاح: ’پانی کی بوتل پر بھی ٹپ مانگی جاتی ہے‘

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی ان شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران جب امریکہ کی ورلڈ کپ کارکردگی کے بارے میں پوچھا گیا تو روبیو نے کہا: ’کارکردگی شاندار رہی۔ اس ریڈ کارڈ کے معاملے میں ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ایسے فیصلوں کے خلاف اپیل کا کوئی طریقۂ کار ہونا چاہیے۔ غالباً اب اس کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔‘

امریکہ میں مجموعی طور پر شائقین کی ایک بڑی تعداد اپنے سٹار کھلاڑیوں میں سے ایک کو ریڈ کارڈ دکھائے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہی تھی۔ متعدد میڈیا اداروں نے نہ صرف اس فیصلے پر سوال اٹھائے بلکہ فٹ بال کے قوانین کے نفاذ کے طریقۂ کار پر بھی تنقید کی، خصوصاً اس حوالے سے کہ ریڈ کارڈ ملنے پر کھلاڑی کو فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑتا ہے اور پھر آئندہ میچ کے لیے بھی معطل کر دیا جاتا ہے۔

Getty Imagesفولارن جب گیند کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو محریمووچ ان کے آگے آ گئے

فیفا کے ضوابط کے مطابق ریڈ کارڈ ملنے کی صورت میں کھلاڑی کو خودکار طور پر اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا جاتا ہے، تاہم گورننگ باڈی کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اضافی معطلی یا دیگر تادیبی سزائیں عائد کر سکے۔

ورلڈ کپ کے گروپ مرحلے میں اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی تھی جب قطر کے مڈفیلڈر عاصم مدیبو پر عائد ایک میچ کی پابندی کو کو بڑھا کر پانچ میچوں تک محیط کر دیا گیا تھا۔ مدیبو نے کینیڈا کے اسماعیل کونے کے خلاف فاؤل کیا تھا جس کے نتیجے میں کینیڈین کھلاڑی کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔

تاہم ورلڈ کپ میں معطلی کو معطل کرنے کی حالیہ مثال بھی موجود ہے۔

پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو کو ورلڈ کپ کوالیفائرز میں آئرلینڈ کے خلاف ریڈ کارڈ ملنے کے باوجود ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں کھیلنے کی اجازت دی گئی تھی۔

41 سالہ رونالڈو کو نومبر میں پرتگال کی 2-0 کی شکست کے دوران دارا او شی کے پیٹھ میں کہنی مارنے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر انہیں تین میچوں کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم آرمینیا کے خلاف ایک میچ نہ کھیلنے کے بعد، فیفا نے 25 نومبر کو باقی ماندہ معطلی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا، جس کے نتیجے میں رونالڈو پرتگال کے ورلڈ کپ کے ابتدائی دو میچوں میں شرکت کے قابل ہو گئے۔

’آپ رونالڈو کو ایک سینٹی میٹر جگہ دیں وہ آپ کا کھیل ختم کر دیں گے‘فٹبال ورلڈ کپ: میکسیکو میں کورین مداحوں کی مقبولیت’آبنائے بیرانوند بند ہے‘: فیفا ورلڈ کپ میں ایرانی گول کیپر کے چرچے جنھیں عراقچی نے بھی داد دی30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانی’پینلٹی شوٹ آؤٹ‘: جس نے فٹبال میں قرعہ اندازی اور سکّہ اچھال کر جیت کے فیصلے کا نظام ختم کیاایک میچ میں میسی کے تین گول اور دو ریکارڈ: ’اب یہ بحث ختم ہو چکی کہ سب سے عظیم کھلاڑی کون ہے‘
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More