رونالڈو کے ورلڈ کپ کریئر کا آنسوؤں کے ساتھ اختتام: ’میری آنکھوں میں بھی آنسو ہیں اور یہی اس عظیم کھلاڑی کا ورثہ ہے‘

بی بی سی اردو  |  Jul 07, 2026

فٹبال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ میں سفر پرتگال کی سپین کے ہاتھوں ایک صفر سے شکست کے ساتھ بالآخر اس سب سے بڑے اعزاز کے بغیر اختتام پذیر ہو گیا۔

ڈلاس میں کھیلے گئے اس میچ کے اختتام پر جب پرتگال کو آخری 16 کے مرحلے میں سپین کے ہاتھوں 1-0 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا تو رونالڈو کی ورلڈ کپ داستان آنسوؤں کے ساتھ ختم ہوئی۔

میکل میرینو کے انجری ٹائم میں کیے گئے فیصلہ کن گول نے سپین کو کوارٹر فائنل میں پہنچا دیا جبکہ پرتگال اور رونالڈو کے عالمی کپ کے خواب بھی ٹوٹ گئے۔

41 سالہ رونالڈو اپنے شاندار کیریئر میں پانچ بار بیلون ڈی اور جیت چکے ہیں، پانچ مرتبہ چیمپئنز لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کر چکے ہیں اور سنہ 2016 میں پرتگال کو یورپی چیمپیئن بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

کلب اور قومی ٹیم کی سطح پر وہ 976 گول کر کے عالمی ریکارڈ قائم کر چکے ہیں جبکہ چھ مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول کرنے والے واحد فٹبالر بھی ہیں۔

اس کے باوجود، ورلڈ کپ ٹرافی ان کے ہاتھ نہ آ سکی۔ وہ اس اعزاز کے سب سے قریب 2006 کے ورلڈ کپ میں پہنچے تھے، جب پرتگال سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

رونالڈو پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ یہ ان کے کیریئر کا آخری ورلڈ کپ ہو گا تاہم جب میچ کے بعد ان سے قومی ٹیم کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے خاندان سے ملوں گا اور پھر سکون سے بیٹھ کر مستقبل کے بارے میں فیصلہ کروں گا۔‘

یہ سوال بحث کا موضوع بنا رہے گا کہ اگر کرسٹیانو رونالڈو کو ہر میچ میں لازمی کھلانے کا دباؤ نہ ہوتا تو کیا پرتگال اس ورلڈ کپ میں زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا تھا یا نہیں۔

بی بی سی کے مبصر اور سابق انگلش سٹرائیکر کرس سٹن اس معاملے پر اپنی رائے میں بالکل واضح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’وہ میدان میں دادا کی طرح آہستہ آہستہ چل رہے تھے، اسی لیے پرتگال باہر ہوا۔ کرسٹیانو رونالڈو نے کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا، وہ کچھ بھی نہیں کر پائے۔‘

کرس سٹن نے پرتگال کے کوچ روبرٹو مارٹینز کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’مارٹینز آخر کر کیا رہے ہیں؟ کسی ایک کھلاڑی کی خاطر آپ اتنی رعایت اور خوشامد کیسے کر سکتے ہیں؟ پرتگال کی ناکامی کی بڑی وجہ روبرٹو مارٹینز ہیں۔‘

میچ کے اختتام کے بعد روبرٹو مارٹینز نے اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے رونالڈو کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انھوں نے 41 سالہ فارورڈ کو ’فٹبال کا عظیم آئیکن‘ قرار دیا اور کہا کہ پوری ٹیم کو ان کی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔

مارٹینز کے مطابق ’رونالڈو کا خواب ورلڈ کپ جیتنا تھا اور انھوں نے اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوشش کی۔ وہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین مثال ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’رونالڈو نہ صرف ایک غیرمعمولی فٹبالر ہیں بلکہ میدان کے باہر بھی اعلیٰ انسانی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں اور یہی چیز انھیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔‘

کیا رونالڈو کو کھیلنا چاہیے تھا؟BBCرونالڈو نے سپین کے خلاف 90 منٹ میں صرف 19 مرتبہ گیند کو چھوا، تین شاٹس لیے اور ایک موقع اپنے ساتھی کھلاڑی کے لیے بنایا

حالیہ برسوں میں بڑے ٹورنامنٹس کے دوران ایک سوال بار بار سامنے آتا رہا: کیا کرسٹیانو رونالڈو اب بھی پرتگال کی ٹیم میں جگہ کے مستحق ہیں؟

اگرچہ رونالڈو 146 بین الاقوامی گولز کے ساتھ مردوں کے عالمی فٹبال میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ حالیہ برسوں میں وہ گول کرنے کے علاوہ ٹیم کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچا پا رہے۔ ان کی غیرمعمولی شہرت اور اثر و رسوخ کے باعث بھی یہ تاثر پیدا ہوا کہ کوچ روبرٹو مارٹینز انھیں بینچ پر بٹھانے یا ٹیم سے باہر رکھنے کا مشکل فیصلہ نہیں کر سکے۔

دوسری جانب پرتگال کے پاس ایسے باصلاحیت کھلاڑیوں کا مجموعہ موجود تھا جس سے آخری 16 سے آگے جانے کی توقع کی جا رہی تھی۔ ٹیم میں کئی ایسے ستارے شامل تھے جنھوں نے حالیہ برسوں میں یورپی کلب فٹبال میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ ان میں نونو مینڈیز، ویٹینیا، ژواو نیویش اور گونکالو راموس جیسے کھلاڑی شامل تھے جبکہ برونو فرنینڈیز بھی شاندار فارم میں تھے۔

بی بی سی مبصر کرس سٹن نے کوچ روبرٹو مارٹینز کے فیصلوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گونکالو راموس کو مناسب موقع کیوں نہیں دیا گیا۔ ان کے بقول ’یہ مینیجر کی جانب سے مایوس کن فیصلہ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ ٹیم کی ضرورت کے بجائے اپنے سب سے بڑے سٹار کو خوش رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

سٹن نے مزید کہا کہ اگرچہ رونالڈو پرتگال کی تاریخ کے کامیاب ترین اور سب سے زیادہ اعزاز یافتہ کھلاڑی ہیں لیکن بعض اوقات کوچ کو ٹیم کے مفاد میں مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔

اعداد و شمار بھی اس بحث کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ رونالڈو نے ٹورنامنٹ میں تین گول کیے، جن میں ازبکستان کے خلاف دو اور کروشیا کے خلاف ایک پنلٹی شامل تھی تاہم کئی دیگر کھلاڑیوں نے ان سے زیادہ گول کیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رونالڈو نے پورے ٹورنامنٹ میں 18 شاٹس لیے، جو مشترکہ ٹاپ سکورر ایرلنگ ہالینڈ کے برابر تھے مگر ان مواقع سے وہ نسبتاً کم فائدہ اٹھا سکے۔

اسی طرح پانچ میچوں کے دوران انھوں نے اپنے ساتھیوں کے لیے صرف ایک واضح موقع بنایا جبکہ تقریباً مکمل ٹورنامنٹ کھیلنے کے باوجود ورلڈ کپ میں سینکڑوں کھلاڑی ان سے زیادہ مرتبہ گیند کو چھو چکے تھے۔ ناقدین کے نزدیک یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ ان کا مجموعی اثر پہلے جیسا نہیں رہا۔

اس تنقید کے باوجود روبرٹو مارٹینز اپنے فیصلے کا دفاع کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب ٹیم کو گول کی ضرورت ہو تو آپ کرسٹیانو رونالڈو جیسے کھلاڑی کو میدان سے باہر نہیں نکال سکتے۔ وہ جسمانی طور پر اب بھی مقابلے کے قابل ہیں۔ ان کا تجربہ، ان کی موجودگی اور فری ککس جیسی صورتحال میں ان کی اہمیت ٹیم کے لیے قیمتی ہے۔‘

مارٹینز کے مطابق رونالڈو صرف گول کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے بلکہ اپنی موجودگی سے مخالف دفاع پر دباؤ بھی ڈالتے ہیں، جس سے دیگر کھلاڑیوں کے لیے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم پرتگال کی ناکامی کے بعد یہ بحث بدستور جاری ہے کہ آیا ٹیم کو اپنے عظیم ترین کھلاڑی پر انحصار جاری رکھنا چاہیے تھا یا نئے کھلاڑیوں کو زیادہ ذمہ داریاں سونپنی چاہیے تھیں۔

’عظیم ترین کھلاڑی‘ کی بحث میں میسی کے حق میں ایک اور دلیل؟

کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کی دہائیوں پر محیط رقابت نے فٹبال شائقین کے کھیل کو دیکھنے اور اس سے جڑنے کے انداز کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ اب بہت سے مداح کسی کلب سے زیادہ اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے ساتھ وابستگی محسوس کرتے ہیں، اور عموماً خود کو یا تو رونالڈو کا حامی سمجھتے ہیں یا میسی کا۔

اسی غیرمعمولی رقابت نے فٹبال کی دنیا میں ایک ایسی بحث کو جنم دیا جو آج بھی جاری ہے: تاریخ کا عظیم ترین فٹبالر کون ہے؟ رونالڈو یا میسی؟ اس موضوع پر اس موسمِ گرما میں بی بی سی آئی پلیئر نے ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی، جس میں دونوں سپر سٹارز کے کیریئر اور ان کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

کئی برسوں تک دونوں کھلاڑیوں پر ایک تنقید مشترک رہی۔ بے شمار انفرادی اور اجتماعی کامیابیوں کے باوجود وہ ورلڈ کپ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے جبکہ فٹبال کے دو عظیم نام پیلے اور ڈیاگو میراڈونا اپنے اپنے ممالک کو عالمی چیمپیئن بنا چکے تھے۔

تاہم 2022 کے قطر ورلڈ کپ میں لیونل میسی نے ارجنٹینا کو ٹائٹل جتوا کر یہ کمی پوری کر دی اور اپنے کیریئر میں وہ واحد بڑا اعزاز بھی حاصل کر لیا جس کا انتظار انھیں برسوں سے تھا۔

دوسری جانب کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ کا سفر اس سب سے بڑے اعزاز کے بغیر ختم ہو گیا۔ پرتگال کے ساتھ متعدد عالمی کپ کھیلنے اور بے شمار ریکارڈ قائم کرنے کے باوجود وہ اپنے ملک کو عالمی چیمپیئن نہ بنا سکے۔

اگرچہ دونوں عظیم کھلاڑی اب اپنے کیریئر کے آخری مراحل میں ہیں، جہاں رونالڈو سعودی عرب میں النصر جبکہ میسی امریکہ میں انٹر میامی کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن حالیہ ٹورنامنٹ میں میسی کا اثر زیادہ نمایاں دکھائی دیا۔ انھوں نے سات گول کر کے مشترکہ ٹاپ سکورر کا اعزاز حاصل کیا جبکہ رونالڈو چار گولوں تک محدود رہے۔

رونالڈو کے سابق ساتھی اور انگلینڈ کے سابق کپتان وین رونی نے بھی پرتگالی سٹار کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’رونالڈو حقیقی سپر سٹار ہیں۔ انھوں نے فٹبال اور دنیا بھر کے لاکھوں مداحوں کو جو کچھ دیا، وہ بہت کم کھلاڑیوں کے حصے میں آتا ہے۔‘

وین رونی کے مطابق ’رونالڈو یقیناً مایوس ہوں گے کیونکہ انھیں اپنے ملک کے ساتھ ورلڈ کپ جیتنے کی امید تھی، لیکن وقت بالآخر ہر کسی پر غالب آ جاتا ہے۔ فٹبال کے لیے یہ جذباتی اور افسوسناک لمحہ ہے۔‘

’وہ جیتنے کے لیے نہیں کھیلتا‘ کے طعنے کے باوجود رونالڈو اپنے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کی ’اُمیدوں کا مرکز‘کرسٹیانو رونالڈو: ’فٹبال کی تاریخ کے مکمل کھلاڑی‘ جنھوں نے کھیل کے میدان سے باہر کاروباری سلطنت بھی قائم کی30 سیکنڈ سے 12 سیکنڈ تک: ورلڈ کپ کے دو تاریخی گول بہترین فٹبالرز کی جسمانی ساخت میں تبدیلی کی نشانیامریکہ آنے والے فٹبال شائقین کو ’کنجوسی‘ کے طعنے اور ’ٹپنگ کلچر‘ سے تنگ سیاح: ’پانی کی بوتل پر بھی ٹپ مانگی جاتی ہے‘’ہمیں ہنسنا چاہیے کیونکہ ہم نے انھیں دیکھا‘

رونالڈو کا کیریئر غیرمعمولی ریکارڈز اور بے شمار کامیابیوں سے بھرپور رہا اور ورلڈ کپ میں بھی ان کے نام کئی منفرد اعزازات موجود ہیں۔ وہ دنیا کے واحد فٹبالر ہیں جنھوں نے چھ مختلف ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں گول کیے جبکہ چھ ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز صرف دو کھلاڑیوں، کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی، کے پاس ہے۔

ورلڈ کپ کی تاریخ میں رونالڈو کے 11 گول انھیں ہمہ وقت گول سکوررز کی فہرست میں نویں نمبر پر رکھتے ہیں، تاہم ان میں سے صرف ایک گول ناک آؤٹ مرحلے میں آیا، جو اس سال کروشیا کے خلاف پنلٹی کِک پر کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس میسی 20 گول کے ساتھ اس دوڑ میں سرفہرست ہیں۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں رونالڈو کو ناک آؤٹ مرحلے کے دوران بینچ پر بٹھا دیا گیا تھا۔ سنہ 2008 کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب انھوں نے کسی بڑے ٹورنامنٹ کا میچ ابتدائی الیون میں شروع نہیں کیا۔ اس وقت پرتگال کے کوچ فرنانڈو سانتوس کے ساتھ ان کے اختلافات بھی خبروں کی زینت بنے تھے۔

گذشتہ رات میچ کے بعد پرتگال کے مداح بھی جذباتی دکھائی دیے اور متعدد شائقین نے رونالڈو کے ورلڈ کپ سفر کے اختتام پر افسوس کا اظہار کیا۔

ایک مداح نے کہا کہ ’میرا ایک خواب رونالڈو کو براہِ راست کھیلتے دیکھنا تھا۔ انھیں کھیلتے دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ وہ ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔‘

ایک اور مداح کا کہنا تھا کہ ’میں بہت جذباتی ہوں۔ اس مرتبہ قسمت نے ہمارا ساتھ نہیں دیا لیکن رونالڈو نے اپنے کیریئر میں جو کچھ حاصل کیا، وہ واقعی شاندار ہے۔‘

ایک مداح نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’ہمیں رونے کے بجائے مسکرانا چاہیے کیونکہ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں رونالڈو کو کھیلتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا۔‘

سوشل میڈیا پر بھی رونالڈو کے آخری ورلڈ کپ میچ پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف امتیاز محمود نے لکھا کہ سپین کے خلاف شکست کے بعد رونالڈو آنسوؤں کے ساتھ میدان سے رخصت ہوئے۔ ان کے مطابق کوچ روبرٹو مارٹینیز کی حکمتِ عملی مایوس کن رہی اور گونکالو راموس کو زیادہ مواقع ملنے چاہییں تھے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے طنزیہ تبصرے بھی کیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’رونالڈو کو داد دینی پڑے گی، کم از کم آنسو بہانے میں تو وہ ہمیشہ مستقل مزاج رہے ہیں۔‘

رونالڈو کے اس ورلڈ کپ سفر کے اختتام پر ایک صارف نے لکھا کہ ’میری آنکھوں میں بھی آنسو ہیں اور یہی اس عظیم کھلاڑی کا ورثہ ہے۔‘

امریکہ کی شکست کے بعد بیلجیئم کا ٹرمپ پر طنز: ’اب اس کو پلٹ کر دکھائیں‘فٹبال ورلڈ کپ 2026 کے 104 میچوں کا شیڈول اور نتائجکیا پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش جیسے بڑی آبادی والے ممالک میں کرکٹ کی مقبولیت فٹبال کی ترقی میں رکاوٹ ہے؟فٹبال ورلڈ کپ میں وائرل ہونے والے کھلاڑی اس شہرت سے مالی فائدہ اٹھا پائیں گے؟ارجنٹینا کی ’جادوگرنیاں‘ جو میسی کو ایک اور ورلڈ کپ جتوانا چاہتی ہیں24 میچ دیکھنے کے لیے 50 ہزار کلومیٹر کا سفر: فیفا کے صدر اور اُن کے زیر استعمال نجی طیارہ تنقید کی زد میں کیوں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More