شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی بوئنگ 737 کارگو پرواز کے لاپتہ ہونے کے بعدتاحال اس طیارے کی تلاش کا کام تاحال جاری ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ پاکستانی فضائیہ بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے۔
یاد رہے کہ شارجہ سے کراچی آنے والی کے ٹو ایئرویز کی کارگو پرواز میں عملے کے پانچ افراد سوار تھے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق اس پرواز نے مقامی وقت کے مطابق منگل کی رات نو بج کر 18 منٹ پر نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی تھی جس کے بعد کراچی ایریا کنٹرول سینٹر (اے سی سی) نے فوری طور پر طیارے کی رہنمائی کی۔
بیان کے مطابق رات 9 بج کر 21 منٹ پر ریڈار پر طیارہ تیزی سے نیچے آتا ہوا نظر آیا اور اس کا رخ اچانک تبدیل ہوتا دیکھا گیا، جس کے بعد کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں طیارے سے ریڈار اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہو گیا۔
دوسری جانب کے ٹو ایئر ویز نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈی نیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا جبکہ لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے تعاون سے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے: فلائٹ ریڈار 24
پروازوں کی نگرانی کرنے والی سروس فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس طیارے نے 28 جون کے بعد کوئی پرواز نہیں کی تھی۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے پاس ایک 737 فریٹر طیارہ ہے جو 2024 میں کراچی پہنچا تھا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے کے آخری لمحات غیر معمولی تھے۔ یہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تقریباً 5,000 فٹ نیچے آیا، پھر صرف 30 سیکنڈ میں تقریباً 6,000 فٹ اوپر گیا، جس کے بعد 36,550 فٹ کی بلندی سےغیر معمولی انداز میں نیچے آیا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق آخری موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق طیارہ سطحِ سمندر سے 1,100 فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ ایک منٹ میں 22,400 فٹ کی رفتار سے نیچے آ رہا تھا، جو تقریباً 400 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ یہ نیچے آنے کی انتہائی غیر معمولی اور بہت تیز رفتار تھی۔
یاد رہے کہ کے ٹو ایئر ویز پاکستان کے شہر کراچی میں قائم ایک نجی فضائی کمپنی ہے۔
یہ فضائی کمپنی مئی 2018 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایئرلائن چارٹر لائسنس کے تحت قائم کی گئی تھی۔
روئٹرز کے مطابق لاپتہ طیارہ بوئنگ 737کا ایک پرانا ماڈل 737-400 ہے۔ یہ 1999 میں روس کی ایروفلوٹ ایئر لائن کو مسافر طیارے کے طور پر فراہم کیا گیا تھا اور 2012 میں اسے کارگو طیارے میں تبدیل کیا گیا۔
یہ کے ٹو ایئر ویز کا واحد طیارہ ہے اور 2024 میں اس کی سروس میں شامل ہوا تھا۔
لاپتہ طیارہ بوئنگ 737 سیریز کا ایک پرانا ماڈل تھا۔ یہ 737 میکس طیارے سے دو جنریشن پرانا ہے اور اسے حالیہ برسوں میں حفاظتی مسائل کا سامنا رہا ہے۔
پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘وہ جنھیں موت کھینچ کر حادثے والے طیارے میں لے گئیایئر انڈیا کے طیارے کی ٹیک آف کے 30 سیکنڈز میں گِر کر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟’میں نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا‘: ایک چھوٹا سا پرندہ ہوائی جہاز کو کیسے تباہ کر سکتا ہے؟اپنے ساتھیوں کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں: کے ٹو ایئر ویز
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ ایک بوئنگ 737 کارگو طیارے نے ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کھونے سے قبل اپنے نیویگیشن نظام میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔
روئٹرز کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 کےڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ طیارہ آخری لمحات میں تیزی سے اوپر اور نیچے ہوتا رہا، جس کے بعد یہ 36,550 فٹ کی بلندی سے اچانک نیچے آیا۔
روئٹرز کے مطابق اس طیارے میں سی ایف ایم انٹرنیشنل کے تیار کردہ انجن نصب ہیں، جو جی ای ایرو اسپیس اور فرانس کی سفراں کی مشترکہ ملکیت والی کمپنی ہے۔
کے ٹو ایئر ویز نے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کی سلامتی کے لیے دعاگو ہیں اور وہ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
ہوابازی کے حفاظتی امور کے ماہر انتھونی برک ہاؤس نے روئٹرز کو بتایا کہ’یہ غیر معمولی صورتحال ہے، لیکن مزید معلومات کے بغیر کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔‘
AFP via Getty Imagesلاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے ذریعے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے
کے ٹو ایئرویز کے لاپتہ کارگو طیارے کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاکستانی بحریہ، فضائیہ اور دیگر ادارے بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں۔
واقعے کے بعد ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹر کو فعال کر دیا گیا ہے اور لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مختلف اداروں کے ذریعے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مختلف ادارے مشترکہ طور پر تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔پاکستانی بحریہ کا جہاز پی این ایس ذوالفقار متاثرہ علاقے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے طیارے بھی تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔
بیان کے مطابق پاکستانی بحریہ کا اے ٹی آر طیارہ تربت سے پرواز کر چکا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کا تجارتی جہاز لاہور بھی جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہا ہے۔
ایئر انڈیا کے طیارے کی ٹیک آف کے 30 سیکنڈز میں گِر کر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟’میں نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا‘: ایک چھوٹا سا پرندہ ہوائی جہاز کو کیسے تباہ کر سکتا ہے؟پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘وہ جنھیں موت کھینچ کر حادثے والے طیارے میں لے گئیپی آئی اے طیارہ حادثہ: ’پائلٹ، معاون آخری وقت تک کورونا پر گفتگو کر رہے تھے‘’پر میں پھنسا پرندہ۔۔۔‘ جنوبی کوریا کی تاریخ کا سب سے جان لیوا طیارہ حادثہ کیسے پیش آیا