کویت: تارکینِ وطن کی تعداد محدود کرنے کا مجوزہ قانون، لاکھوں انڈینز کیسے متاثر ہوں گے؟

بی بی سی اردو  |  Jul 07, 2020

Getty Images

کویت میں تارکینِ وطن سے متعلق ایک مجوزہ قانون نے مشرق وسطیٰ میں رہنے والے انڈین افراد کو ایک بار پھر اس فکر میں مبتلا کر دیا ہے جس سے دو برس قبل انڈین انجینیئر متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت بھی قوانین میں تبدیلی کے سبب سینکڑوں انڈین انجینیئرز کو نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

کورونا وائرس کی وبا کے سبب پیدا ہونے والے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے بہت سے ممالک نے اپنی معاشی پالیسیاں تبدیل کی ہیں اور کویت بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔

کویت ایک ایسی قانون سازی کرنے جا رہا ہے جس کے بعد غیر ملکی ورکرز کی تعداد میں کمی کی جا سکے گی تاکہ کویتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کم نہ پڑ جائیں۔

عرب نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کی قانون ساز کمیٹی نے ایک بل کے مسودے کی قانونی معقولیت کی منظوری دے دی ہے جس میں غیر ملکی ورکرز کے لیے ایک کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ یہ مسودہ پانچ ارکان اسمبلی نے تیار کیا ہے۔ قانون میں تبدیل ہونے کے لیے اب اس بل کو دیگر کمیٹیوں سے بھی منظوری حاصل کرنی ہوگی۔

متعلقہ کمیٹیاں اس بل کا جائزہ لینے کے بعد اس پر اپنی رائے دیں گی۔ اس بل کے مندرجات کے مطابق کویت میں سب سے زیادہ غیر ملکی ورکرز انڈیا سے آئے ہوئے ہیں۔ اگر یہ بل منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر لیتا ہے تو پھر کویت کی کل آبادی کے 15 فیصد آبادی سے زیادہ انڈین باشندوں کو کویت میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اس وقت کویت میں تقریباً 10 لاکھ سے زائد انڈین رہ رہے ہیں۔ اگر یہ نیا بل منظور ہو جاتا ہے تو پھر آٹھ لاکھ انڈین تارکین وطن کو کویت سے کام چھوڑ کر واپس انڈیا جانا ہوگا۔

کویت کی کل آبادی تقریباً 45 لاکھ ہے جس میں سے کویتی نژاد باشندے محض 13 لاکھ کے قریب ہی ہیں۔

وہاں موجود تارکِ وطن آبادی میں مصر، فلپائن، پاکستان، بنگلادیش، سری لنکا اور دیگر ممالک کے افراد کے مقابلے میں سب سے بڑی آبادی انڈین شہریوں کی ہے۔

مسودے میں دیگر ملکوں سے آکر کویت میں کام کرنے والوں کی تعداد بھی کم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے مطابق غیر ملکی افراد کی تعداد ملک کی کل آبادی کے 30 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

Getty Images

کویت کی ایک کثیرالقومی کمپنی میں کام کرنے والے ناصر محمد (فرضی نام) کو انجینیئر ہونے کے باوجود مجبوری میں سپروائزر کے طور پر کام کرنا پڑ رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہاں رہنے والے انڈین افراد فکرمند ہیں کہ اگر قانون بن گیا تو کیا ہوگا۔‘

ناصر نے بتایا کہ 2018 میں نئے کویتی قوانین کے دائرے سے باہر ہو جانے پر انڈیا کے مقبول اداروں سے انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والے افراد کی نوکریاں بھی چلی گئی تھیں۔ وہ خود کو خوش قسمت مانتے ہیں کہ انھیں پرانی کمپنی میں نوکری جانے کے بعد نئی جگہ کام مل گیا۔

انڈیا کی سابق وزیر خارجہ سشما سواراج نے انجینیئروں کے معاملے کو کویتی حکومت کے سامنے اٹھایا بھی تھا لیکن اس کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔

محمد ناصر نے بتایا کہ ’حالات یہ ہیں کہ انجینیئرنگ کی ڈگری یافتہ متعدد انڈینز کویت میں سپروائزر اور فورمین جیسے عہدوں اور ان کی تنخواہوں پر کام کر رہے ہیں، جبکہ کام انھیں انجینیئر والا کرنا پڑتا ہے۔‘

اںڈین ریاست حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے محمد الیاس کویت میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ تارکینِ وطن سے وابستہ قانون کی آہٹ 2008 کی کساد بازاری کے دور سے بار بار سنائی دیتی رہی ہے۔ یہ آہٹ 2016 میں اور بھی تیز ہوئی تھی جب سعودی عرب نے ایک ایسا قانون نافذ کیا جس کا مقصد سرکاری محکموں اور مستقل عہدوں پر مقامی لوگوں کی نوکری کی شرح کو اوپر لے جانا تھا۔

گذشتہ برس ایک کویتی رکن پارلیمان خالد الصالح نے ایک بیان جاری کر کے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ’تارکین وطن کے طوفان کو روکا جانا چاہیے جنھوں نے نوکریوں اور حکومت کی جانب سے ملنے والی خدمات پر قبضہ کر رکھا ہے۔‘

ایک اور رکن پارلیمان صفا الہاشم ہے نے چند برس قبل کہا تھا کہ ’تارکین وطن کو ایک برس تک ڈرائیونگ لائسنس نا دینے اور ایک سے زیادہ کار رکھنے کی اجازت نہ دیے جانے کے لیے قانون لایا جانا چاہیے۔‘

صفا الہاشم کے اس بیان کی کچھ حلقوں میں مذمت بھی ہوئی تھی۔

کویت کی قومی اسمبلی میں 50 رکن پارلیمان انتخابی عمل کے ذریعے آتے ہیں حالانکہ وہاں فیصلہ لینے کا اختیار سلطنت کے امیروں کے پاس ہی ہے۔

حال ہی میں جب نئے قانون کی بات چلی تو چند مقامی افراد نے اس کے خلاف بیان بھی دیے۔

انیسویں صدی کے آخر میں 1961 تک برطانیہ کے زیر نگرانی رہنے والے ملک کویت میں انڈینز کا جانا طویل عرصے سے جاری ہے۔ اس وقت وہاں تقریباً سبھی شعبوں میں انڈینز کام کرتے ہیں۔ کویتی گھروں میں ڈرائیورز اور خانساموں سے لے کر گھریلو ملازموں تک کی تعداد تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہے۔ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جگہیں خالی ہونے پر انھیں بھرنا بھی آسان نہیں ہوگا۔

Faisal Mohammad Ali
ریون ڈیسوزا کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کو واپس قبول نہ کرنے کی وجہ سے کویت میں کچھ حلاقے نڈیا سے ناراض ہیں

ریون ڈیسوزا کا خاندان 1950 کی دہائی میں انڈیا سے کویت چلا گیا تھا۔ ان کی پیدائش وہیں ہوئی۔ ریون ڈیسوزا مقامی اخبار کویت ٹائمز کے ایڈیٹر ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فی الحال تارکین وطن سے متعلق مسودے کو محض قانونی معقولیت کی منظوری ملی ہے۔ ابھی اسے کئی اور کمیٹیوں جیسے افرادی قوت کی کمیٹی اور دیگر مراحل سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ بل کے طور پر منظوری کے لیے پیش ہو سکے گا۔ اور اس کے بعد ہی اس کا قانون بننا ممکن ہے۔'

ریون ڈیسوزا اسے دوسرے نظریے سے بھی دیکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ کووڈ 19 سے پیدا ہونے والے بحران کے علاوہ کویت میں غیر قانونی طور پر رہنے والے لوگوں کو واپس انڈیا لے جانے کے مقامی حکومت کے مطالبے کو انڈین حکومت کی جانب سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، جس کی وجہ سے بھی کویتی حکومت کے کچھ حلقوں میں ناراضی ہے، اور اب وہ کسی ایک ملک کے کارکنان پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More