سعودی عرب: غیرملکی عازمین سے حج درخواستیں طلب

سماء نیوز  |  Jul 07, 2020

سعودی وزارت حج وعمرہ نے سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی عازمین سے حج کی درخواستیں طلب کرلیں، رجسٹریشن 10 جولائی تک جاری رہے گی، حجاج کرام میں 70 فیصد غیر ملکی جبکہ 30 فیصد سعودی شہری شامل ہوں گے۔

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کی حج کیلئے رجسٹریشن پیر 6 جولائی 15 ذی القعدہ سے شروع ہوگئی، درخواست دینے کی آخری تاریخ 10 جولائی 19 ذی القعدہ ہے۔

وزارت حج و عمرہ کے مطابق رواں برس اندرون مملکت سے 70 فیصد مقیم غیرملکی اور 30 فیصد سعودی شہریوں کو حج کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اردو نیوز کے مطابق سعودی شہریوں میں صرف صحت کی خدمات فراہم کرنیوالے اور کرونا وائرس سے شفایاب ہونیوالے سیکیورٹی اہلکار شامل ہوں گے۔

وزارت حج کا کہنا ہے کہ اس سال عازمین حج کا انتخاب کرونا وائرس سے صحتیاب افراد کے ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا، ان میں ایسے لوگوں کا انتخاب کیا جائے گا جو صحت کے معیار پر پورے اتر رہے ہوں گے۔

سعودی حکومت نے یہ فیصلہ کرونا کی وباء سے ہر مرحلے پر نمٹنے کے سلسلے میں معاشرے کے مختلف طبقوں کی خدمت گزاری میں سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والوں کے کردار کے اعتراف میں کیا ہے۔

سعودی حکومت نے رواں سال کرونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے باعث صرف مقامی افراد کو حج کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں وہاں مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

وزارت حج کا کہنا ہے کہ مملکت میں مقیم غیر ملکیوں میں سے حج کیلئے ترجیح ان تارکین وطن کو دی جائے گی جو لاعلاج امراض سے پاک ہوں گے، جو کرونا وائرس کا پی سی آر لیبارٹری ٹیسٹ سرٹیفکیٹ پیش کریں گے کہ وہ کورونا سے پاک ہیں، ساتھ ہی ایسے غیر ملکیوں کو ترجیح دی جائے گی جنہوں نے اس سے قبل حج نہیں کیا ہوگا اور ان کی عمریں 20 سے 50 برس کے درمیان ہوں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ حج کا ارادہ کرنے والے غیر ملکیوں سے یہ اقرار نامہ لیا جائے گا کہ حج سے پہلے اور حج کے بعد وزارت صحت کی طرف سے مقرر کردہ قرنطینہ کے دورانیے کی پابندی کریں گے۔

وزارت حج کا کہنا ہے کہ حج کے خواہشمند جو غیر ملکی مقررہ شرائط پر پورے اتر رہے ہوں وہ وزارت کی ویب سائٹ (نیچے دی جارہی ہے) کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکتے ہیں۔

localhaj.haj.gov.sa

وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سال حج کیلئے ہنگامی اسکیمیں تیار کر لی گئی ہیں۔ درخواست کی منظوری پر امیدوار کو ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More