رجب طیب یہ کام کرکے غداری کے مرتکب ہوئے ترک صدر نے قطرکے حکمران خاندان کیساتھ مل کر کیا کام کیا رجب طیب اردگان کے خلاف اپنے ہی ملک سے بڑی آواز

روزنامہ اوصاف  |  Jul 14, 2020

استنبول (ویب ڈیسک )ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور قطری حکومت کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات کے جلو میں ایک نیا انکشاف ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن امیر قطر کی ماں الشیخہ موزہ بنت ناصر المسند کو استنبول میں 44 ایکڑ قیمتی اراضی فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے استنبول کے میئر نے صدر طیب ایردوآن کے اس منصوبے کو منظور کرنے سے انکار کردیا ہے۔استنبول کے میئر اکرم امام اوگلو نے بتایا کہ استنبول واٹر کینال پروجیکٹ کے آس پاس قطر کے حکمران خاندان کے کچھ افراد کو اراضی فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر وہ اس منصوبے کو منظور کرنے کے لیے تیار نہیں۔امام اوگلو نے پیر کے روز استنبول میں منصوبوں کے معائنے کے دورے کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم استنبول چینل کی طرف ایک ایک کر کے اٹھائے گئے اقدامات پر عمل پیرا ہیں اور ہم اس منصوبے کے مختلف پہلوئوں کا سائنسی انداز میں مطالعہ کرتے ہوئے جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمیں ایسی غلطیوں کا پتا چلا ہے جن سے چینل منصوبے کے خلاف ہماری اعلان کردہ پوزیشن کی سو فی صد صداقت ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکی میں بے شمار مسائل ہیں۔ بے روزگاری اور معیشت کے ساتھ ہم ان مسائل میں زلزلوں کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔ حکومت لوگوں کے ایک مخصوص گروہ کے مفاد کے لیے استنبول کینال کے قیام میں تیزی لانا چاہتی ہے۔امام اوگلو نے کہا کہ وہ منگل کے روز وزارت ماحولیات اور شہری ترقی کے پاس چینل کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کریں گے۔ ہمیں کوئی فرق نہیں اگر وہ قطری ہیں یا کسی اور ملک سے ۔مجھے اس فیصلے پر اعتراض ہوگا۔ لہذا جو بھی اس میں سرمایہ کاری کو کرے گا۔ یہ فیصلہ استنبول کا قتل عام اور استنبول کے ساتھ ایک خیانت ہوگی۔ میں استنبول کے ساتھ خیانت نہیں ہونے دوں گا۔"استنبول کینال" پروجیکٹ ایک واٹر چینل پروجیکٹ ہے جو آبنائے باسفورس سے 45 کلومیٹر کے ہم آہنگ استنبول کے یورپی حصے میں بحر مرمر کو بحیرہ اسود کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے کے ذریعے باسفورس کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو کم کرنے اور دونوں طرف سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔لیکن استنبول کے میئراکرم امام اوگلو جو حزب اختلاف کی ریپبلکن پیپلز پارٹی سے ہیں اس منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے "تباہ کن اثرات" سے استنبول بری طرح متاثر ہوگا۔ خاص طور پر زلزلے کے خطرات ہیں۔ ان کے بارے میں وہ ایک سے زیادہ مرتبہ صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ براہ راست الجھ چکے ہیں۔ امام اوگلو نے اس منصوبے کو بلاجوا اور "استنبول کے ساتھ غداری" قرار دیا ہے۔امام اوگلو نے پیر ایک ٹی وی انٹرویو میں شیخہ موزہ بنت ناصر المسند پر تنقید کی اور کہا کہ امیر قطر کی ماں نےاستنبول کینال منصوبے کے اندر 44 ایکڑ اراضی خریدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مٹھی بھر لوگوں کے مفاد کے لیے کام کررہی ہے۔ حکومت کی مٹھی میں ایک طرف استنبول واٹر کینال پروجیکٹ ہے اور دوسری میں استنبول کے ساتھ غداری ہے۔İBB Başkanı Ekrem İmamoğlu : Bütün ihanetleri bir kenara koy, onları 100'le çarp = Kanal İstanbul..!#Kanalİstanbulİhanettir pic.twitter.com/Eb8A0nbT8I

— Oktay (@oktaydogan1983) July 13, 2020
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More