امیتابھ کی کسی اور شاعر کی نظم والد سے منسوب کرنے پر معذرت

وائس آف امریکہ اردو  |  Aug 06, 2020

ویب ڈیسک — 

بالی وڈ اسٹار امیتابھ بچن نے غلطی سے اپنے والد کے بجائے کسی دوسرے شاعر کی نظم سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر معذرت کر لی ہے۔

امیتابھ اکثر و بیشتر اپنے والد ہری ونش رائے بچن کی نظمیں سوشل میڈیا پرشیئر کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی انہوں نے ایک نظم 'اکیلا پن' شیئر کی لیکن یہ نظم ان کے والد کی نہیں تھی بلکہ یہ ایک اور شاعر پرسون جوشی کی تخلیق تھی۔

اس غلطی کا احساس امیتابھ کو جمعرات کی صبح ہوا جس پر انہوں نے فوری طور پر معذرت کی اور بتایا کہ یہ نظم ان کے والد کی نہیں بلکہ پرسون جوشی کی تھی تاہم وہ غلطی سے اسے اپنے والد سے منسوب کرگئے۔

امیتابھ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ "میں نے جو نظم کل شیئر کی تھی وہ میرے والد ہریونش رائے بچن نے نہیں لکھی تھی۔ یہ نظم پرسون جوشی نے لکھی تھی۔ لہذٰا میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔"

ہریونش رائے بچن اپنے دور کے مشہور شاعر تھے۔ ان کی کچھ ادبی تخلیقات کئی فلموں کا حصہ بھی بن چکی ہیں۔ ان فلموں میں 'اگنی پتھ'، 'آلاپ' اور 'سلسلہ' شامل ہیں۔ یہ فلمیں 'ہٹ رہی تھیں اور ان میں امتیابھ نے ہی اداکاری کی تھی۔

دوسری جانب پرسون جوشی شاعر، نغمہ نگار اور اسکرین رائٹر ہیں۔ ان کے دو گانوں کو قومی ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

ان کی قابل ذکر فلموں میں 'بھاگ ملکھا بھاگ' اور 'تارے زمین پر' شامل ہیں۔

اس وقت وہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کے سربراہ بھی ہیں۔

امیتابھ بچن حال ہی میں کرونا وائرس سے صحت یاب ہوئے ہیں لیکن ان کے اداکار بیٹے ابھیشیک بچن تاحال اسپتال میں داخل ہیں۔

امیتابھ بچن کو گزشتہ ہفتے اسپتال سے فارغ کیا گیا تھا۔ دو دن بعد انہوں نے اپنے بلاگ میں لکھا تھا کہ انہیں یہ دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا کہ ابھیشیک اب بھی اسپتال میں داخل ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ کرونا وائرس کو شکست دینے کے بعد اسپتال سے واپس آنا خوشی کی بات ہے لیکن ابھیشیک تاحال زیر علاج ہیں، جو میرے لیے تکلیف دے ہے۔

امتیابھ بچن کی اب تک ریلیز ہونے والی آخری فلم 'گلابو سیتابو' ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More