پی ٹی آئی غیر ملکی فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی سے17 اگست تک رپورٹ طلب

ہم نیوز  |  Aug 06, 2020

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ 17 اگست تک جمع کرادے۔

اس سے قبل پی ٹی آئی کی مبینہ غیرملکی پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئے الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

پی ٹی آئی کےوکیل شاہ خاوراوردرخواست گزاراکبرایس بابراسکروٹنی کمیٹی کےسامنے پیش ہوئے۔

پی ٹی آئی کی مبینہ غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات کیلئےاسکروٹنی کمیٹی کااجلاس کل دوبارہ ہوگا ۔ اسکروٹنی کمیٹی پی ٹی آئی کی جانب سےجمع کرائی گئی دستاویزات کاکل مزیدجائزہ لے گی۔

مزید پڑھیں: 

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی مبینہ غیرملکی فنڈنگ کے خلاف جماعت کے سابق بانی ممبر اکبرایس بابر نے درخواست دائرکررکھی ہے۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے وکلاء نے 23 اکتوبر 2019 کو غیرملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرنے والے اسکروٹنی کمیٹی کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے اپنے تحریری فیصلے میں پی ٹی آئی کے وکیل ثقلین حیدر کی بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل پیشی پر اعتراض کیا تھا۔

 الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ثقلین حیدر بطور ڈپٹی اٹارنی جنرل سیاسی جماعت کا کیس لڑنے کا حق نہیں رکھتے، پارٹی فنڈنگ کیس میں ریاست اہم فریق، ریاست اور پارٹی کا وکیل ایک کیسے ہوسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ پارٹی فنڈنگ کیس قانونی طریقہ کار کی بد ترین مثال ہے۔

فیصلے کے مطابق تحریک انصاف نے اکبر ایس بابر کا نام استعمال کرکے معاملہ تاخیر کا شکار کیا۔

الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ اکبر ایس بابر نے شواہد دینے ہیں، اسکروٹنی کمیٹی کو کارروائی سے کیسے باہر کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ 25 جنوری 2020 کو وزیراعظم عمران خان نے پارٹی سربراہ کی حیثیت سے پاکستان تحریک انصاف کیخلاف غیرملکی فنڈکیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کیا تھا۔

عمران خان نے بطور چیئرمین پی ٹی آئی اپنی درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ ہائی کورٹ نے انٹراکورٹ اپیل پر 4 دسمبر کو خلاف قانون آرڈر پاس کیا۔ حنیف عباسی بنام عمران خان کیس میں سپریم کورٹ نے قوائد طے کر دیے تھے۔ قانون کی نظر میں الیکشن کمیشن کوئی کورٹ یا ٹریبونل نہیں۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More