کلیجی کھانے کے شوقین حضرات پہلے اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان سن لیں

روزنامہ اوصاف  |  Aug 06, 2020

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم محترم دوستو میرے دوستو آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کلیجی کے بارے میں شریعت اسلامی کیا کہتی ہے آیا کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلیجی کھایا کرتے تھے یا نہیں کیا انہوں نے کلیجی کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو کلیجی کھانے کی ترکیب دی یا نہیں آئیے ہم آپ کو سرور کائنات حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں کلیجی کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جس چیز میں اتنے زیادہ فوائد ہیں آیا کہ وہ حلال ہے یا نہیں کیا ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کلیجی کا استعمال کیا کرتے تھے تو میرے دوستو ابن ماجہ کی حدیث میں کلیجی کے بارے میں یہ ارشاد گرامی ملتا ہے۔ روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ ہمارے لئے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے دو مردے تو مچھلی اور ٹینڈے ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہے یعنی دونوں جانور بغیر ذبح حلال ہیں کیونکہ ان میں بختہ خون نہیں اور ذبح کرنا اسی کو اللہ کے نام پر نکال دینے کے لئے ہوتا ہے جب وہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کا زبح بھی نہیں خیال رہے کہ مچھلی بہت اقسام کی ہے اور ہر قسم کی مچھلی حلال ہے مگر ذبح خانہ درست ہے بعض مچھلیوں میں خون نکلتا معلوم ہوتا ہے مگر وہ خون نہیں ہوتا بلکہ سرخ پانی ہوتا ہے اس لئے دھوپ میں سفید ہو جاتا ہے خون کی طرح نہ سیاہ پڑتا ہے اور نہ جمتا ہے ایک اور ضعیف روایت ہے جس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ سب سے پہلے کلیجی کھانا سنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ نماز عیدالاضحی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور کو ذبح فرماتے اور کلیجی پکانے کا حکم دیتے جب وہ تیار ہو جاتی تو اسے تناول فرماتے قربانی کرنے والے کے لیے یہ سنت ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے سب سے پہلے کلیجی کھائی جائے کہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت اور نیک شگون ہے کیونکہ اہل جنت کو جنت میں سب سے پہلے اس مچھلی کی کلیجی کھلائی جائے گی جس پر زمین ٹھہری ہوئی ہے تو اس لیے میرے دوستو ہم آپ سے یہ گذارش کرتے ہیں کہ کلیجی کا استعمال ضرور کیا کریں اس کا کھانا سنت ہے اور میڈیکل کے لحاظ سے اس کا کھانا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے میرے دوستو ہم آخر میں آپ کے بہت مشکورہیں کہ آپ نے اپنے قیمتی وقت میں سے وقت نکال کر اس اچھی بات کو پڑھا ہے اور امید کرتے ہیں کہ اس اچھی انفارمیشن کو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شئیر کریں گے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More