کیا امریکا نےاپنی فلسطین مخالف پالیسی تبدیل کردی

سماء نیوز  |  Oct 27, 2021

بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی سخت مخالف ہے۔

مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکا کی سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے منگل 26 اکتوبر کو اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ اسے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں شدید فکر لاحق ہے۔

صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ اسرائیل کو اس سے قبل بھی متعدد بار خبردار کر چکی تھی کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی سرزمین پر اپنی بستیوں کی تعمیر کو روکے۔ اس تناظر میں اسے امریکی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالسی سے یکسر مختلف دکھائی دے رہی ہے جس میں نئی بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کی جاتی تھی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں جو کہ کشیدگی کم کرنے اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں سے قطعی طور پر مطابقت نہیں رکھتی اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی حکومت کی ہزاروں بستیوں کے یونٹس کو آگے بڑھانے کے منصوبے پر گہری تشویش لاحق ہے۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کیا کرتے تھے اور اس لحاظ سے یہ اقدام ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے۔

گزشتہ اتوار کو ہی اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے غرب اردن میں تقریباً ساڑھے 13 سو مزید مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی جس کے بعد امریکا نے یہ سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More