وفاقی حکومت نے نیو الیکٹرک وہیکل (NEV) پالیسی 2025.30 کا اعلان کردیا ہے، اس پالیسی کے ذریعے 2030 تک پوری آٹو مارکیٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد تک پہنچانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
پالیسی میں ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جس کے ذریعے الیکٹرک گاڑیاں درآمد، تیار کرنے اور چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے والوں کو سہولیات فراہم کی جائیں گی جب کہ الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کو قیمت میں خصوصی رعایت بھی دی جائے گی۔
حکومت الیکٹرک گاڑیوں کو خصوصی رعایتیں کیوں دے رہی ہے ؟
وفاقی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ پالیسی کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے زریعے آلودگی میں کمی آئے گی اسکے علاوہ پاکستان سالانہ تقریباً16 ارب ڈالرکا تیل باہر سے منگواتا ہے جس کا 79 فیصد گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے تیل درآمدی بل میں کمی لائی جاسکتی ہےپٹرول اور ڈیزل کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیوں کا خرچ 68 فیصد کم ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے اہداف بھی طے کرلیے گئے
پاکستان میں پچھلے پانچ سال میں الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے اگرچہ اس کی رفتار سست ہے لیکن اس کے باوجود جون 2025 تک الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 80 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جولائی تک موٹر سائیکل اور رکشہ بنانے والے 65 اور 2 کار مینوفیکچرز نے لائسنس حاصل کیے ہیں۔اس کے علاوہ کئی بین الاقوامی برانڈز نے پاکستانی مارکیٹ میں دلچسپی ظاہر کی ہے جب کہ الیکٹرک بیٹریوں، اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ اس رفتار کو تیز کرنے کے لیے حکومت نے اگلے پانچ سال میں 2030 تک مارکیٹ میں ای وی کا شیئر 30 فیصد تک اور 2040 تک 50 فی صد جب کہ 2050 تک 100 فی صد تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے ہیں۔
چارجنگ کا کیا ہوگا ؟
الیکٹرک وہیکل پالیسی کے مطابق چھ ماہ میں موٹر ویز اور این 5 پر 40 مقامات پر 120 کلو میٹر فاصلے سے لیول تھری فاسٹ چارجنگ اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور اگلے سال جون تک 240 اسٹیشنز بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تدریجاً 50 کلو میٹر پر اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ 2030 تک 3 ہزار چارجنگ اسٹیشنز بنانے ہیں جس میں لیول ٹو اور لیول ون چارجنگ اسٹیشنز بھی شامل ہوں گے۔ یہ سارے اسٹیشنز وزارت مواصلات، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے اشتراک سے بنائے جائیں گے جب کہ آئل کمپنیوں کو پابند کیا جارہا ہے کہ ان کے فیول اسٹیشن میں 10 فیصد الیکٹرک اسٹیشن لازمی ہوں گے۔ پالیسی کے مطابق پاور ٹیرف 39.7 روپے فی کلو واٹ فکس ہوگا۔ بس اڈے اپنے بھی چارج اسٹیشن بنا سکیں گے تمام چارج اسٹیشن پر اسمارٹ میٹر لگائے جائیں گے۔
الیکٹرک گاڑیوں کی قیمتوں کو کم کیسے کیا جائے گا ؟
عام گیسولین گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک گاڑیاں مہنگی پڑتی ہیں جس کو دیکھتے ہوئے کوسٹ شیئرنگ کی اسکیم پالیسی میں شامل کی گئی ہے جس کے تحت موٹر سائیکل پر 65 ہزار روپے، رکشے پر 4 لاکھ روپے اور کاروں پر 15 ہزار روپے کلو واٹ بیٹری کے حساب سے سبسڈی دی جائے گی۔ اسلام آباد کو ماڈل الیکٹرک موبلٹی سٹی بنایا جائے گا جس میں چارجنگ اور بیٹری سوئپنگ فیسیلٹی شہر بھر میں فراہم کی جائے گی، صوبوں سے مشاورت کے بعد دیگر شہر بھی ماڈل سٹی بنائے جائیں گے، ابتدائی طور پر اسلام آباد میں گاڑی رجسٹریشن کی فیس نہیں ہوگی، سالانہ ٹوکن بھی وصول نہیں ہوگا اور ٹول ٹیکس بھی وصول بھی وصول نہیں کی جائے گی۔ بینکوں سے قرض میں سہولت فراہم کی جائے گی اور بینکوں کو پابند کیا جائے گا کہ آٹو فنانسگ میں الیکٹرک وہیکل کے لیے فنانسنگ کے اہداف طے کرے۔
ایکس چینج اسکیم بھی لائی جائے گی
پٹرول یا ڈیزل پر چلنے والی گاڑیوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی ایکس چینج کی پالیسی 2027 میں متعارف کی جائے گی جس کے تحت پرانی گاڑی کی قیمت لگا کر الیکٹرک گاڑی فراہم کی جائے گی اور پرانی گاڑی اسکریپ کی جائے گی۔ بکنگ میں کسٹمرز کے مفاد کو یقینی بنانے کے لیے گاڑیوں کے اسٹاک، بکنگ اور ڈلیوری کی پوری معلومات ڈسپلے کی جائے گی، زیادہ سے زیادہ چھ روز میں ڈلیوری دی جائے گی جس سے اون منی نہیں لیا جاسکے گا۔ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس بنانے اور درآمد کرنے والوں کو ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں رعایت دی جارہی ہے جب کہ مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے مشینری امپورٹ اور دیگر سرگرمیوں کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔ پالیسی میں موٹر سائیکل، رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے۔