شدت پسندی کے معاملے پر فوج کے ترجمان اور تحریک انصاف کی ایک دوسرے پر کڑی تنقید پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 07, 2026

پاکستانی فوج کے ترجمان نے منگل کے روز ایک طویل پریس کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شدت پسندی سے متعلق صوبائی حکومت کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے افغان طالبان کے طرز حکمرانی پر بھی تنقید کی اور ماہرین کے مطابق اس پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان کا مؤقف واضح تھا کہ اگر افغان طالبان نے کوئی عملی اقدام نہ کیا تو ’پاکستان کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور افغان طالبان کے ترجمان کی جانب سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے جبکہ دفاعی و سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ناصرف کوششوں کے باوجود پاکستان کی جانب سے دہشت گردی اور شدت پسندی جیسے حساس معاملات پر کوئی متفقہ پیغام سامنے نہیں آ سکا تو وہیں اس حوالے سے گذشتہ روز دیے گئے بیانات نے اندرونی تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین کی رائے جاننے سے قبل دیکھتے ہیں کہ فوجی ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا کہا اور اس پر خیبر پختونخوا حکومت اور افغان طالبان کی جانب سے کیا ردعمل سامنے آیا ہے۔

’آپریشن نہیں کرنا تو کیا دہشت گردوں کے پیروں میں بیٹھنا ہے‘Getty Images’گذشتہ سال پاکستان میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے‘ (فائل فوٹو)

پاکستان کی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے منگل کی دوپہر ملک کی سکیورٹی صورتحال پر بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے 80 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ’دہشت گردوں کو سازگار ماحول‘ فراہم کیا جاتا ہے۔

اپنی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت صوبائی وزرا اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے ویڈیو کلپس بھی چلائے، جن میں وہ صوبے کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے اور اس پر تنقید کرتے نظر آئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’اگر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن نہیں کرنا، تو کیا اُن کے پیروں میں بیٹھنا ہے۔‘

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں بیٹھ کر جھوٹا بیانیہ بنایا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے، اپنی سہولت کاری کے لیے، پتہ نہیں کس کی سہولت کاری کے لیے، اپنے صوبے کو اور اپنے علاقے کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیں۔‘

احمد شریف چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ ’ابھی بھی وہ کہتے ہیں کہ بات چیت سے مسئلہ حل کرو، وہ جو خبط تھا، وہ خبط ابھی بھی ہے۔ کوئی اُن سے پوچھے کہ آپ کو اِن طالبان یا دہشتگردوں سے کیا محبت ہے؟ آپ کو ان کے گمراہ کن نظریات سے کیا محبت ہے؟‘

’کس کے کہنے پر آپ پورے صوبے کو اس آگ میں جھونک چکے ہیں اور اب پورے ملک کو اس میں جھونک رہے ہیں، جس کا ایندھن آپ کے بچے بن رہے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث وہاں (خیبرپختونخوا) میں ترقی نہیں ہو رہی، کاروبار نہیں آ رہا اور وہاں پر لوگ محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔‘

پریس کانفرنس کے دوران فوج کے ترجمان نے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی ایک ٹویٹ کا سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا ’کئی غیور سیاسی جماعتیں دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہوئیں۔ انھوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں لیکن یہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم مرنے کو تیار نہیں۔ ہم نہیں کھڑے ہوں گے۔ ہم اُن (شدت پسندوں) کے ساتھ شامل ہوں گے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موقع پر یہ سوال بھی کیا کہ ’کبھی اِن فتنہ الخوارج، ان دہشتگردوں نے اُن پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ ہر سیاسی جماعت کے عمائدین اور سیاسی رہنماؤں پر حملے ہوئے: چاہے وہ اے این پی ہو، جے یو آئی ہو، پیپلز پارٹی ہو یا ن لیگ۔ اُن (پی ٹی آئی) پر کیوں نہیں کرتے۔‘

’ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی منفی سوچ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے‘Getty Images

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔‘

سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس پر اپنا مؤقف دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک ریاستی ادارے کے نمائندے کی اس طرح کی منفی سوچ نہ صرف قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پاکستان کے استحکام کے لیے بھی نقصانن دہ ثابت ہو سکتی ہے۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔‘

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ’یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں اب تک 22 بڑے ملٹری آپریشنز اور تقریباً 14,000 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس صورتحال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔ ایسے میں بند کمروں میں بیٹھ کر غیر مؤثر پالیسیوں پر اصرار کرنے کے بجائے ایک واضح پالیسی شفٹ ناگزیر ہو چکی ہے، کیونکہ ان ناکام حکمتِ عملیوں پر قوم کے وسائل بے تحاشہ خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کی جان و مال کا تحفظ مسلسل خطرے میں ہے۔‘

سہیل آفریدی نے مزید لکھا کہ ’اس تناظر میں یہ بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر اس بار ایسی کون سی ٹھوس ضمانت موجود ہے کہ ایک اور ملٹری آپریشن واقعی پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکے گا؟ اگر ماضی کی حکمتِ عملی، بھاری جانی نقصانات اور بے پناہ وسائل کے استعمال کے باوجود مطلوبہ نتائج نہ دے سکی، تو عوام اور اُن کے منتخب نمائندوں کو یہ اعتماد کیسے دلایا جا رہا ہے کہ وہی طریقہ کار اس بار مختلف نتائج دے گا؟‘

انھوں نے کہا کہ ’پالیسی سازی میں شفافیت، واضح اہداف اور قابلِ پیمائش نتائج کے بغیر کسی بھی نئے اقدام سے امن کے بجائے مزید غیر یقینی صورتحال جنم لینے کا خدشہ رہے گا۔‘

’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ ’مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ’پارٹی کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزرا دہشت گردی کا نشانہ بنے، کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔‘

’ایسے میں ایک ریاستی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر مدلل الزامات نہ صرف پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے خلاف نفرت کو ہوا دیتے ہیں بلکہ یہ تاثر بھی دیتے ہیں کہ گویا کسی سیاسی قوت کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی خواہش پالیسی کا حصہ بن چکی ہو، جو ایک خطرناک اور افسوسناک سوچ کی عکاس ہے۔‘

انھوں نے تجویز دی کہ 'دہشتگردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو پریس کانفرنسز اور یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے بند کمروں اور فرد واحد کی خواہشات کی بجائے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔‘

’صوبائی حکومت اور فوج کو تحمل اور مفاہمت کی طرف بڑھنا ہو گا‘

خراسان ڈائری سے وابستہ صحافی احسان ٹیپو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس سے افغانستان کو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اندرونی طور پر اختلافات کا شکار ہے۔

اُن کے مطابق افغانستان پر بھی تب اثر پڑے گا جب پاکستان سے ایک پیغام جائے گا۔ احسان کے مطابق اس وقت صورتحال یہ ہے کہ فوج اور وفاقی حکومت ایک سخت پیغام دے رہی ہے مگر صوبائی حکومت کہتی ہے کہ مذاکرات سے حل نکالنا ہو گا۔

’اس پریس کانفرنس سے یہ پیغام گیا ہے کہ اس وقت شدت پسندوں کے خلاف اقدامات اٹھانے سے متعلق صوبائی حکومت اور فوج میں اختلافات ہیں جس کے سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں، کیونکہ دوسری طرف شدت پسند متحد ہیں اور وہ ایک کمانڈ کے تحت اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ وہ موقع تھا جب دہشتگردی جیسے سنگین نوعیت کے مسئلے پر متفقہ پیغام جانا چاہیے تھا۔

سابق سیکریٹری دفاع لیٹفیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی اس رائے سے متفق ہیں۔ اُن کے مطابق حکمت عملی سے متعلق ’اختلافات کو عام نہیں کرنا چاہیے بلکہ دونوں (فوج اور تحریک انصاف) کو بیٹھ کر آرام سے بات کرنی چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ابھی یہ بھی اختلاف ہے کہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست اُن سے بات کریں گے جن کے پاس اختیارات ہیں (یعنی فوج) جبکہ فوج کا مؤقف ہے کہ انھیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

جنرل لودھی کے مطابق سیاست کی حد تو فوج کا مؤقف درست ہے مگر سکیورٹی امور پر اسے بیٹھ کر پی ٹی آئی سے ضرور بات کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق مطابق اس وقت دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے کثیر جہتی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت جہاں ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے لڑائی کی جائے، وہیں افغان طالبان پر سفارتی، معاشی، سیاسی اور اخلاقی دباؤ بڑھایا جائے اور افغان عوام سے متعلق نرم رویہ اختیار کیا جائے۔

سابق سیکریٹری دفاع لیٹفیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی نے فوج اور صوبائی حکومت کو مفاہمت کی پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیں گے۔

صحافی احسان ٹیپو کی رائے میں گذشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس کے ذریعے فوج نے پی ٹی آئی کو چارج شیٹ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پریس کانفرنس سے اختلافات کے بجائے اتفاق کا پیغام جانا چاہیے تھا کیونکہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کے ساتھ آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

اُن کی رائے میں ’اِس وقت فوج انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ہی جاری رکھنا چاہتی ہے اور کسی بڑے آپریشن کی طرف نہیں بڑھ رہی مگر اس میں بھی اسے یہ مشکل پیش آ رہی ہے کہ جب صوبائی حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہو رہی تو عوام کے ذہنوں میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں جس سے بداعتمادی کی فضا بڑھ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ 23 برس سے پاکستان دہشتگردی کے خلاف لڑ رہا ہے مگر ابھی بھی یہ مسئلہ ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے کھڑا ہے۔ ’اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ طاقت کے استعمال کو ہی ترجیح دی ہے جبکہ ادارہ سازی اور گورننس کو بہتر نہیں بنایا گیا۔‘

اُن کی رائے میں اس وقت افغانستان سے جن صوبوں کی سرحد ملتی ہے وہاں گورننس کے شدید مسائل ہیں۔

فوجی ترجمان کی جانب سے افغانستان کے سیاسی ڈھانچے پر سوال کیا معنی رکھتا ہے؟Reuters

دوسری جانب افغان طالبان نے پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیانات کو ’غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی فوج کے ترجمان کی جانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران افغانستان کے حکومتی اور سماجی ڈھانچے پر کی گئی تنقید، حقائق کے منافی ہے اور ایک ذمہ دار عسکری منصب کے تقاضوں سے بھی متصادم ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امارت اسلامیہ افغانستان اس طرح کے بیانات کو مسترد کرتی ہے اور پاکستان کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان کے خلاف ’بے بنیاد پروپیگنڈے‘ کے بجائے اپنے داخلی مسائل کے حل پر توجہ دیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق افغانستان ایک خودمختار اور مستحکم ملک ہے، جو مضبوط سکیورٹی ڈھانچے اور مقتدر قیادت کا حامل ہے اور اپنی پوری سرزمین پر مکمل حاکمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’افغانستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور دھمکی آمیز زبان افغان عوام کے لیے کسی صورت قابل قبول نہیں۔‘

امارت اسلامیہ نے پاکستان کے اداروں پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں اور سنجیدہ بیانات دیں۔

افغان صحافی سمیع اللہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ’پاکستان اور چین کی اعلیٰ سطح ملاقات کے فوراً بعد ہی ڈی جی آئی ایس پی آر کی سخت پریس کانفرنس سامنے آئی ہے، جسے محض اتفاق نہیں بلکہ ایک واضح پیغام سمجھا جا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ’اس پریس کانفرنس میں فوجی ترجمان نے نہ صرف خیبر پختونخوا کی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ افغانستان کے سیاسی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھائے۔‘

سمیع اللہ یوسفزئی کے مطابق ’انھوں نے بار بار افغانستان کو ’عبوری حکومت‘ قرار دیا اور شمولیت کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پشتون آبادی تقریباً 42 فیصد ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانیہ افغان حکام کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے اور اس کے ذریعے مستقبل میں مختلف اقدامات کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے، جن میں سفارتی دباؤ، سرحدی اور فضائی حدود کی خلاف ورزیاں، انٹیلی جنس اور پراکسی آپریشنز، اور ’سیکیورٹی خدشات‘ کے نام پر یکطرفہ اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔‘

افغان صحافی کے مطابق اگرچہ یہ صورتحال مکمل جنگ کی طرف اشارہ نہیں کرتی، لیکن بظاہر کشیدگی میں اضافے کا عندیہ ضرور دیتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر شدید غصہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ’افغان طالبان کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے عوام مشکلات کا شکار ہیں یا عالمی برادری مزید ناراض اور مخالف ہو رہی ہے۔ طالبان وہی کرتے ہیں جو انھیں درست لگتا ہے، چاہے اس کی جو بھی قیمت چکانی پڑے۔‘

’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ اور ’نئی سُرخ لکیر‘: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس فوج اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟عمران خان سے قبل پاکستان میں کب کب سابق وزرائے اعظم کو ’قومی سلامتی کا خطرہ‘ قرار دیا گیا؟وزیرِاعلیٰ کی تبدیلی یا دہشتگردی کے خلاف ’عدم تعاون‘: فوج اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان تناؤ کی وجہ کیا ہے؟خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی باز گشت: ’سکیورٹی حالات ٹھیک نہیں تو صوبے میں جمہوریت کی زیادہ ضرورت ہے‘عظمیٰ خان کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات: ’اسی طرح چلتے رہیں گے تو آئندہ پابندی نہیں لگے گی‘فیض حمید: ایک ’متحرک جنرل‘ جن کا کریئر تنازعات میں گِھرا رہا
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More