گمشدہ بریف کیس، خون کے دھبے اور کھوجیوں کی خدمات: سلطان راہی کا قتل سازش تھی یا ڈکیتی کی واردات؟

بی بی سی اردو  |  Jan 09, 2026

’سردیوں کی رات تھی اور وقت تھا لگ بھگ ساڑھے بارہ بجے کا۔ سڑک مکمل طور پر سنسان تھی۔ اِکا دُکا کوئی لائٹ نظر آ جاتی تھی اور اسی دوران اچانک گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔‘

’راہی صاحب نے کہا کہ گاڑی کے نیچے جہاں جگہ ملتی ہے جیک لگا لو تاکہ ہم جلدی سے ٹائر تبدیل کر کے اس جگہ سے نکل جائیں۔ میں تمہارے پیروں کی طرف کھڑا ہو جاؤں گا تاکہ یہ نہ ہو کہ دُھند میں کوئی گاڑی تمہارے اُوپر سے گزر جائے۔‘

یہ الفاظ پاکستان کے معروف اداکار سلطان راہی کے ڈرائیور حاجی احسن علی کے ہیں جو 30 سال قبل آٹھ اور نو جنوری کی درمیانی رات ٹائر کو پنکچر لگانے کے لیے گاڑی کے نیچے لیٹے ہی تھے کہ اچانک پہلے ایک فائر اور فوراً ہی چیخ کی آواز آئی۔ یہ فائر سلطان راہی کو لگا تھا جو ’مولا جٹ‘ کے کردار سے پنجابی سینما میں امر ہونے والے اداکار کی جان لے گیا۔

یہ سنہ 1996 کا واقعہ ہے جب پاکستان فلم انڈسٹری کے سپرسٹار سلطان راہی اسلام آباد سے لاہور واپس آ رہے تھے۔ سفید رنگ کی شیورلیٹ گاڑی، جس کا نمبر 8983 ایل او اے تھا، جب گوجرانوالہ بائی پاس روڈ پر پہنچی تو اچانک گاڑی کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا۔

تھانہ صدر گوجرانوالہ میں درج ہونے والی اِس قتل کی ایف آئی آر (نمبر 19/1996) کے مدعی ڈرائیور حاجی احسن ہی تھے۔ پولیس کو اپنا ابتدائی بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے حاجی احسن نے بتایا کہ انھوں نے دیکھا کہ ’شلوار قمیض پہنے دو افراد، جن کے قد درمیانے، جسم پتلے، عمر 30 سے 32 سال کے لگ بھگ، نے مجھے کالر سے پکڑا اور زبردستی قریبی کھیت کی طرف لے گئے جہاں میری تلاشی لی گئی اور کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو۔‘

ایف آئی آر کے مطابق دونوں ملزمان نے بعدازاں گاڑی سے سلطان راہی کا بریف کیس اٹھایا اور موقع سے پیدل ہی فرار ہو گئے۔

لیکن پھر اس کیس کی تفتیش کے سلسلے میں مدعی یعنی حاجی احسن ہی گرفتار کر لیے گئے۔

یہ ایک ایسے قتل کی کہانی ہے جس کی گتھی 30 سال بعد بھی حل نہیں ہو سکی ہے۔

گولی جبڑے میں لگی اور دماغ سے پار ہو گئی

بی بی سی پر 2021 میں شائع ہونے والی عقیل عباس جعفری کی تحقیق کے مطابق سلطان راہی ڈاکوؤں کے ساتھ گتھم گتھا ہو گئے تھے جس کی وجہ سے ڈاکوؤں نے بظاہر گھبرا کر فائر کر دیا اور گولی سلطان راہی کا جبڑا چیرتی ہوئی دماغ سے پار ہو گئی۔

ڈاکو فرار ہو گئے اور حاجی احسن مختلف گاڑیوں کو رُکنے کے لیے اشارے کرتے رہے مگر کوئی بھی گاڑی نہ رُکی۔ حاجی احسن نے کسی نہ کسی طرح قریبی پٹرول پمپ پر پہنچ کر پولیس کو واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد سلطان راہی کے جسد خاکی کو ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال پہنچا دیا گیا۔

سلطان راہی کے قتل کی خبر گوجرانوالہ شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور اُن کے پرستار جوق درجوق ہسپتال پہنچا شروع ہو گئے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد سلطان راہی کی لاش لاہور منتقل کر دی گئی۔ اُن کے اہلخانہ امریکہ میں تھے، ان کے آنے کا انتظار کیا گیا اور 14 جنوری 1996 کو انھیں لاہور میں شاہ شمس قادری کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

سلطان راہی کے قتل کو آج 30 برس مکمل ہو چکے ہیں، بی بی سی نے اس قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والے سابق پولیس افسر سمیت گجرانوالہ میں اُس وقت اس واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں سے بات کی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس مقدمے کی تفتیش کے دوران کیا کچھ ہوا۔

تفتیش کے لیے فوجی سراغ رساں کتے لائے گئے

اقبال مرزا گوجرانوالہ میں ڈان نیوز کے ساتھ وابستہ صحافی ہیں۔ جب سلطان راہی کا قتل ہوا وہ کرائم رپورٹر تھے۔

اقبال مرزا بتاتے ہیں کہ سلطان راہی قتل کیس اُن کی پروفیشنل زندگی کا پہلا بڑا واقعہ تھا ’جس نے پنجاب پولیس کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھی دوڑیں لگوا دی تھیں کیونکہ ہر نئے دن کے ساتھ کیس کی صورتحال تبدیل ہو رہی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے ایک سپرسٹار کا قتل تھا جس میں سنسنی بھی تھی اور بہت سے جواب طلب سوالات بھی۔

اقبال بتاتے ہیں کہ ’ایسے میں اخبارات ہر اینگل سے سٹوریز چاہتے تھے۔‘ اُن کے مطابق ’سلطان راہی کے قتل کے بعد 40 روز تک اِس واقعے سے متعلق فالو اپ سٹوریز فرنٹ پیج پر چلی تھیں۔‘

انھیں یاد ہے کہ قاتل کی تلاش کے لیے آرمی ڈاگ سینٹر سے سراغ رساں کتے منگوائے گئے تھے اور پیروں کے نشانات کی مدد سے ملزم تک پہنچنے کی صلاحیت رکھنے والے کھوجیوں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سراغ رساں کتے جس ڈیرے پر جا کر بیٹھے اُس ڈیرے کے مالک اور ملازمین کو حراست میں لے کر پولیس نے خوب مارپیٹ کی لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکا۔‘

دوسری جانب ’کھوجیوں نے جائے وقوعہ سے کُھرا چلایا (یعنی مبینہ ملزمان کے قدموں کا تعاقب کیا) جو کہ گاؤں کے اندر سے ہوتا ہوا دوبارہ بائی پاس روڈ پر آ کر ختم ہو گیا، چونکہ یہ پکی سڑک تھی اس لیے کُھرا اس جگہ سے آگے نہ گیا اور کھوجی کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ قاتل اس جگہ سے آگے کسی بس پر بیٹھ کر فرار ہو گیا ہو گا، یوں سراغ رساں کتے اور کھوجی بظاہر اس کیس میں قاتل کا سراغ لگانے میں ناکام ہو گئے۔‘

’قاتل تو وہی تھا جس کے پاس سلطان راہی کا بریف کیس ہوتا‘

مہر طارق محمود بھی اُس دور میں نوجوان صحافی تھے اور روزنامہ ’پاکستان‘ کے لیے کرائم رپورٹںگ کرتے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پولیس نے اردگرد کے علاقوں کے تمام سابقہ ریکارڈ یافتہ افراد کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ کی۔‘

’قریبی گاؤں کے 12 سال سے لے کر 80 سال تک کی عمر کے تمام مردوں کو تفتیش کے مرحلے سے گزارا گیا۔‘

تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’پولیس کی مختلف ٹیموں نے دو سے اڑھائی ماہ میں لگ بھگ پانچ سے سات سو لوگوں سے سلطان راہی قتل کیس کی تفتیش کی لیکن قاتل تو وہ ہونا تھا جس سے سلطان راہی کا بریف کیس برآمد ہوتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بریف کیس میں رقم، پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور کئی ضروری دستاویزات بھی تھیں۔ اس پکڑ دھکڑ سے شہر بھر میں خوف و ہراس تو پھیل گیا لیکن کوششوں کے باوجود قاتل نہ پکڑے جا سکے۔‘

تاہم کچھ عرصہ بعد گوجرانوالہ پولیس نے سلطان راہی کے قتل کے الزام میں ایک شخص ساجد عرف ساجو کانا کو پولیس مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔ ساجد کا تعلق گائوں مدوخلیل سے تھا۔

جس مقام پر سلطان راہی قتل ہوئے اس جگہ کا مدوخلیل سے فاصلہ لگ بھگ 10 کلومیٹر کا ہے۔ تو کیا ساجد عرف ساجو ہی سلطان راہی کا قاتل تھا؟

اس سوال کا جواب جاننے کے لیے بی بی سی نے اس وقت کی تفتیشی ٹیم کے رُکن اور سابق پولیس افسر کو تلاش کیا۔

’میرے منھ سے بے اختیار نکلا پھر تو میں ہی مر گیا‘

سلطان راہی قتل کیس کی تحقیقات کے لیے پولیس کے سینیئر افسران پر مشتمل تین رُکنی ٹیم بنائی گئی تھی جس کے دو ممبران ملک طاہر محمود اور شاہد محبوب خان ایس ایس پی بننے کے بعد پولیس سروس سے ریٹائر ہوئے اور وفات پا چکے ہیں۔

اس ٹیم کے تیسرے رکن راشد محمود سندھو تھے جو اُس وقت تھانہ صدر کے ایس ایچ او تھے۔ اسی تھانے کی حدود میں سلطان راہی کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا۔

بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے راشد محمود سندھو نے بتایا کہ اُن کو وہ رات اب بھی یاد ہے اور اُس روز وہ ایک اشتہاری ملزم کی گرفتاری کے لیے لاہور میں موجود تھے۔ ’رات 12 بجے تھانے واپس آ کر سونے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک کال آئی۔‘

راشد کہتے ہیں کہ ’فون کرنے والے نے بتایا کہ سلطان راہی کا قتل ہو گیا ہے، میں نے کہا کہ پھر میں کیا کروں۔ کال کرنے والے نے جب یہ کہا کہ یہ قتل آپ کے تھانے کی حدود میں ہوا ہے، تو میرے منھ سے بے اختیار نکلا کہ پھر تو سمجھو میں ہی مر گیا۔‘

سلطان راہی جنھوں نے ’گنڈاسا کلچر‘ سے 25 سال پنجابی فلموں پر راج کیاجنرل آصف نواز جنجوعہ: ایک حاضر سروس پاکستانی آرمی چیف کی اچانک موت جس نے بہت سے سوالات کو جنم دیاکراچی ’ہائی سوسائٹی‘ کا سکینڈل جو ایک پراسرار موت پر ختم ہواجاوید اقبال: ’100 بچوں‘ کا سفاک قاتل کیا شہرت کا بھوکا ذہنی مریض تھا؟

راشد محمود کے مطابق انھیں اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ ایک ہائی پروفائل قتل کی واردات ہے جس پر پورے ملک کی نظریں ہوں گی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے فوری طور پر نفری ساتھ لی اور جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہوا۔‘ راشد کے مطابق وہ اس مقام پر پہنچنے والے پہلے پولیس افسر تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے بعد وہاں ایس پی سٹی میاں جاوید اسلام پہنچے اور پھر کچھ ہی منٹوں بعد افسران کی لائنیں لگ گئیں۔ چونکہ یہ ایک ہائی پروفائل قتل تھا تو اس کا جلد سراغ لگایا جانا ایک چیلنج تھا۔‘

’قاتل خود بھی زخمی ہوا تھا‘

راشد محمود سندھو بتاتے ہیں کہ ’ہم نے فوری طور پر حاجی احسن علی (ڈرائیور) سے وقوعہ کے بارے میں پوچھا۔‘

اُن کے مطابق ’قاتل جس طرف فرار ہوئے تھے وہاں گاؤں کے اندر کوئی 40 فٹ تک خون کے دھبے اور 200 فٹ تک پیروں کے نشانات جاتے تھے۔‘

راشد محمود کے مطابق ابتدائی تفتیش میں دو باتیں واضح ہو چکی تھیں۔ ’ایک تو یہ کہ قاتل جو کوئی بھی تھا وہ خود بھی زخمی ہوا تھا، اور دوسرا یہ کہ وہ فائر کرنے کے بعد اس راستے سے فرار ہوا تھا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’پنجاب کے اُس وقت کے پنجاب کے مانے ہوئے دو کھوجیوں کو بلایا گیا جنھوں نے اپنی پوری کوشش کی لیکن چونکہ کھرا گاؤں سے اندر سے ہو کر دوبارہ بائی پاس روڈ پر آ رہا تھا تو ایسے میں کھوجیوں کی طرف سے یہی رپورٹ دی گئی کہ قاتل یہاں سے آگے کسی گاڑی میں سوار ہو کر چلے گئے ہیں۔‘

انھوں نے آرمی ڈاگ ہاؤس کے سراغ رساں کتے منگوانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’دو سراغ رساں کتے جن کے نام ’کے ٹو‘ اور ’میش‘ تھے، بھی منگوائے گئے تھے اور یہ کتے جس گھر اور ڈیرے سے گزرے اس کے تمام مردوں کو تفتیش کے مرحلے سے گزارا گیا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’پھر یہ کتے ایک مقامی شخص رانا اختر کے ڈیرے پر بیٹھ گئے جس پر انھیں اور ملازمین کو پکڑ کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔‘

راشد محمود سندھو بتاتے ہیں کہ ’بعد میں ہونے والی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ رانا اختر کے ڈیرے پر کتے اس لیے بیٹھ گئے تھے کیونکہ قاتل یہاں دو تین منٹ کے لیے رُکے تھے اور جب ڈیرے کے ایک ملازم نے پوچھا کہ کون ہے، تو جواب میں ایک مبینہ قاتل نے آواز لگائی کہ بھائی جی آپ اندر ہی رہو، باہر تیز ہوا چل رہی ہے۔ اور پھر وہ آگے سڑک کی طرف نکل گئے۔‘

مبینہ قاتل اور زخم کا نشان

تفتیشی ٹیم کے ممبر راشد محمود کو اِس بات کا یقین ہے کہ پولیس نے بعدازاں درست مجرم کی نشان دہی کر لی تھی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ (ملزم) سلطان راہی کو صرف لوٹنا چاہتے تھے اور جب انھوں نے ہینڈز اپ کہا تو سلطان راہی اُن کی جانب پلٹے جس پر گھبراہٹ میں گولی چل گئی۔‘

’میری تفتیش کے مطابق کاربین کی گولی سلطان راہی کے جبڑے کے آرپار ہو گئی، تاہم چھرے قاتل کے اپنے بائیں ہاتھ پر بھی لگے جس سے وہ زخمی ہو گیا اور اس کا خون بھی گاڑی پر لگ گیا۔‘

راشد محمود سندھو نے بتایا کہ ’پولیس کے خفیہ اہلکار اردگرد کے علاقوں میں پھیل گئے تھے اور روزانہ کی بنیاد پر معلومات اکٹھی کر رہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ قاتل کہیں اردگرد کے علاقے سے ہی ہے۔‘

اسی دوران پولیس کو وہ پہلا سراغ ملا جس کی مدد سے تفتیش آگے بڑھی۔

راشد بتاتے ہیں کہ ’ایک حجام نے بتایا کہ اس کے جاننے والے ایک شخص نے اس رات اپنی کاربین اس کی دکان میں بطور امانت رکھوائی تھی اور اگلے روز وہ آ کر کاربین لے گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص ساجو کانا نامی شخص تھا۔‘

ان کے مطابق چند ماہ بعد ساجو کانا پکڑا گیا تو ’اُس کے بائیں ہاتھ پر زخم کا نشان موجود تھا۔‘ لیکن وہ اس جرم کا اعتراف نہیں کر رہا تھا۔

راشد محمود کے مطابق ’ساجو کانا دوران تفتیش پولیس کو چکمہ دینے کی کوشش کرتا رہا۔ ہم نے مارپیٹ کے بجائے نفسیاتی حربوں سے تفتیش کی۔‘

’پہلے اسے رات 12 سے تین بجے تک اپنی موجودگی کسی جگہ ثابت کرنے کو کہا گیا جس میں وہ ناکام ہو گیا۔ پھر جب اس کے دوست حجام کو اس کے سامنے لایا گیا تو وہ اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا لیکن پھر اس نے حجام سے کسی تعلق سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’اپنے ہاتھ کے زخم کے بارے میں بھی ساجو غیرمنطقی کہانی سناتا رہا۔‘

راشد محمود سندھو نے بتایا کہ سلطان راہی قتل کیس میں مقامی پولیس نے بعد ازاں ایک اور شخص یوسف تیلی کو چالان کیا لیکن ان کے مطابق ’وہ درحقیقت قاتل نہیں تھا اور اس کا اس وقوعہ سے بھی دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

راشد محمود کہتے ہیں کہ ’مجھے بھی سیشن عدالت سے بیان ریکارڈ کروانے کے لیے بلایا گیا تھا اور میں نے عدالت میں جا کر بیان دے دیا تھا کہ یہ شخص قاتل نہیں، اور اگر اسے اس قتل کیس میں رہا کر دیا جاتا ہے تو یہ انصاف پر مبنی ہو گا۔‘

سلطان راہی کے ڈرائیور پر شک

کچھ لوگوں نے اس مقدمے میں سلطان راہی کے ڈرائیور حاجی احسن پر بھی شک کا اظہار کیا تھا اور انھیں گرفتار کر لیا گیا۔

اس بارے میں راشد محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سلطان راہی کے ڈرائیور حاجی احسن پر شک پولیس نے نہیں بلکہ مقتول کے بیٹے حیدر سلطان نے کیا تھا کیونکہ لوگ اُن سے آ کر ایسی باتیں کر رہے تھے جو حاجی احسن کے خلاف جاتی تھیں۔‘

اُن کے مطابق ’پولیس نے حاجی احسن کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک شامل تفتیش کیے رکھا۔ میں خود حاجی احسن سے کئی روز تفتیش کرتا رہا اور میں نے اسے قتل کے الزام میں ہر لحاظ سے بےگناہ پایا۔‘

’اس کا واحد قصور یہ تھا کہ جب سلطان راہی کا قتل ہوا تو وہ ڈر کے مارے گاڑی کے نیچے سے ہی نہیں نکلا۔ اگر وہ اس موقع پر بہادری اور حاضردماغی کا مظاہرہ کرتا تو قاتل موقع پر ہی پکڑے جا سکتے تھے۔‘

حاجی احسن علی نے ماضی میں ایک ویب چینل کے پروگرام ’کون کہاں پر تھا‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سلطان راہی کے ساتھ 40 سال سے تھے اور اُن کا آپس میں ’بھائیوں جیسا رشتہ تھا۔‘

انھوں نے اس پروگرام میں بتایا تھا کہ ’جب ہم گوجرانوالہ کے قریب پہنچے تو سلطان راہی نے مجھ سے پوچھا کہ اندرون شہر کی طرف سے چلیں یا بائی پاس روڈ سے۔ میں نے کہا کہ جہاں سے آپ کہتے ہیں، جس پر انھوں نے کہا کہ پہلے تو اندرون شہر سے گزرتے تھے، اب بائی پاس روڈ نئی بنی ہے، اس لیے اسی سڑک سے چلتے ہیں، جس پر میں نے گاڑی بائی پاس روڈ کی طرف موڑ لی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ وہ میری جان بچاتے ہوئے خود اس دنیا سے چلے گئے اور راہی صاحب کا قتل میرے لیے زندگی کا سب سے دردناک واقعہ بن گیا کیونکہ میں واحد چشم دید گواہ تھا اور بار بار بتانا پڑتا ہے کہ کس طرح واقعہ ہوا۔‘

حاجی احسن کا مقدمہ لڑنے والے وکیل ہاشم نیازی ایڈووکیٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کی اس وقت کی جج جسٹس ناصرہ جاوید اقبال کی عدالت سے انھیں بیلف مقرر کیا گیا اور پھر تھانہ صدر سے حاجی احسن کو پولیس کی حراست سے 26 فروری 1996 کو بازیاب کروایا گیا۔

حاجی احسن 40 روز تک پولیس کی حراست میں رہے۔

سلطان راہی کا بریف کیس کیوں نہ مل سکا؟

تفتیشی ٹیم کے رکن ریٹائرڈ ڈی ایس پی راشد محمود سندھو نے بتایا کہ ’ملزم ساجد عرف ساجو کانا کو گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا اور اس کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا جس کے بعد پولیس پارٹی زیرحراست ملزم کو سلطان راہی کے بریف کیس اور پاسپورٹ کی برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ ملزم کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا اور دوطرفہ فائرنگ میں ساجو کانا اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا تھا۔‘

راشد محمود سندھو کا کہنا تھا کہ چونکہ 30 سال پہلے ڈی این اے میچ کرنے کی سہولت موجود نہیں تھی اس وجہ سے ملزم ساجو کانا کا ڈی این اے گاڑی پر لگے خون سے نہیں کروایا جا سکا، جس کے بارے میں شبہ تھا کہ یہ ملزم کا خون ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں پہلی ڈی این اے اور فرانزک لیب کا قیام پنجاب میں ہوا، جہاں پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سنہ 2007 میں قائم ہوئی، جس کے تحت ڈی این اے ڈیٹا بیس بنا کر کئی پیچیدہ کیسز حل کرنے میں مدد ملی

راشد محمود کہتے ہیں کہ ’اس وقت کے افسران نے پولیس مقابلہ کرنے میں جلد بازی سے کام لیا۔ میرے خیال کے مطابق اسے میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہیے تھا تاکہ شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔‘

انھوں نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ سلطان راہی کا پاسپورٹ، بریف کیس اور ذاتی استعمال کی اشیا کبھی بھی برآمد نہیں کی جا سکیں۔ یہ اشیا فرار ہونے والے ملزمان راہی کو قتل کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔‘

تاہم راشد محمود سندھو کہتے ہیں کہ ’اس قتل سے پہلے بائی پاس روڈ پر ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں کافی تیزی آئی ہوئی تھی جس کی وجہ سے بائی پاس روڈ کے دونوں اطراف میں رات کے اوقات میں ایک ایک موبائل گاڑی چلتی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس علاقے کا محل وقوع ایسا ہے کہ قاتل کسی دوسری جگہ سے آ کر یہاں واردات نہیں کر سکتا تھا اور ساجو کانا علاقے کا ریکارڈ یافتہ ملزم تھا جس کے خلاف ڈکیتی و راہزنی کے پہلے ہی متعدد مقدمات درج تھے۔‘

جنرل آصف نواز جنجوعہ: ایک حاضر سروس پاکستانی آرمی چیف کی اچانک موت جس نے بہت سے سوالات کو جنم دیاشاہنواز بھٹو کی ’پراسرار‘ موت جس نے بھٹو خاندان کو ہلا کر رکھ دیاکراچی ’ہائی سوسائٹی‘ کا سکینڈل جو ایک پراسرار موت پر ختم ہواجاوید اقبال: ’100 بچوں‘ کا سفاک قاتل کیا شہرت کا بھوکا ذہنی مریض تھا؟نواب آف کالا باغ: سیاہ و سفید کے مالک سیاستدان جو اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More