Getty Images
ہماری عینک سے لے کر دوربینوں، کیمروں اور جدید فائبر آپٹک نیٹ ورکس تک، آج کی دنیا ایک ایسے اصول پر کھڑی ہے جسے دسویں صدی کے بغداد میں ایکمسلم ریاضی داننے دریافت کیا تھا مگر تاریخ نے ان کا نام تقریباً فراموش کر دیا۔
روشنی کے سب سے پیچیدہ رازوں میں سے ایک کو حل کرنے والے اسلامی سنہری دور کے یہ ماہرِ ریاضی اور طبیعیات دان تھے ابو سعد العلاء بن سَہل، جنھیں دنیا اب ابنِ سَہل کے نام سے جانتی ہے۔ ان کے نام سے ان کی جائے پیدائش کا کوئی واضح اشارہ نہیں ملتا۔
انھوں نے سب سے پہلے ریاضیاتی انداز میں بیان کیا کہ کہ پانی، شیشے یا دوسرے شفاف مادوں میں داخل ہوتے وقت روشنی کس طرح مڑ جاتی ہے اور اپنا راستہ تبدیل کرتی ہے۔
لیکن ان کی یہ حیرت انگیز دریافت، جو مخطوطات میں محفوظ رہی، تاریخ کی گرد میں گم ہو گئی اور تقریباً چھ سو سال بعد یورپ میں دوبارہ دریافت کی گئی۔
یہ وہی اصول ہے جسے ہم آجسنل کے قانونِ انعطاف (Snell's Law of Refraction) کے نام سے جانتے ہیں۔یوں کہہ لیں کہ یہ روشنی کے مڑنے کا اصول ہے۔
ہندسی اصولوں اور غیرمعمولی دقتِ نظر کی مدد سے ابن سہل نے ایسے خمیدہ عدسے بھی ڈیزائن کیے جو روشنی کو کامل انداز میں مرتکز کر سکتے تھے۔
یہ ایک ایسی سائنسی پیش رفت تھی جو اپنے عہد سے کئی صدیاں آگے تھی۔
اپنی کتاب ’فزکس اینڈ ایپلیکیشنز آف نیگیٹو ریفریکٹو انڈیکس میٹیریلز‘ میں ایس انانتھا راماکرشنا اورٹوماش ایم گریگرشک نے لکھا ہے کہ علمِ بصریاتیا آپٹکس کی جڑیں قدیم یونانی تہذیب تک پہنچتی ہیں۔
’ارسطو نے انسانی بصارت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ سمجھا تھا کہ آنکھ اور کسی شے کے درمیان موجود درمیانی مادہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بعد میں یونانی ماہرِ فلکیات بطلیموس نے دوسری صدی عیسوی میں کئی تجربات کیے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ روشنی کے مُڑنے سے اشیا کو دیکھنے کے عمل پر کیا اثر پڑتا ہے۔
'تاہم، شفاف مادوں میں روشنی کے مُڑنے کے عمل کو پہلی بار ایک عددی پیمانے سے بیان کرنے کا اصل سہرا ابن سہل کے سر جاتا ہے‘۔
راما کرشنا اور گریگرشک کے مطابق ابن سہل ایک عرب عالم تھے جو تقریباً سنہ 984 میں بغداد میں مقیم تھے۔ انھوں نے ایک رسالہ تحریر کیا، جس میں واضح طور پر یہ بتایا کہ جب روشنی کسی مادے سے نکل کر ہوا میں داخل ہوتی ہے تو اس کا راستہ کس اصول کے تحت بدلتا ہے۔
’یہ اصول بالکل وہی تھا جسے آج ہم "سنل کا قانون" کہتے ہیں‘۔
انھوں نے لکھا کہ ’ابن سہل نے آنے والی اور مُڑ جانے والی شعاعوں کی مدد سے یہ بھی واضح کیا کہ مختلف مادے روشنی پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعد ازاں انھوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے محدب عدسے اور روشنی کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے والے دوسرے آلات کی خصوصیات کا مطالعہ کیا‘۔
رینزو شامے کی ادارت میں چھپے ’انسائیکلوپیڈیا آف کلرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ کے مطابق ابن سہل نے اپنی کتاب میں انھوں نے تحقیق کی کہ عدسوں اور آئینوں کی کون سی شکل روشنی کو کسی مخصوص مقام پر سب سے مؤثر انداز میں مرتکز کر سکتی ہے۔
مؤرخین کے مطابق ابن سہل غالباً تاریخ کے پہلے سائنس دان تھے جنھوں نے روشنی کو مرتکز کرنے والے عدسوں پر باقاعدہ سائنسی تحقیق کی۔
بعد ازاں انھوں نے مختلف اقسام کے آئینوں اور عدسوں کا مطالعہ کیا، جن میںبیضوی آئینہ، ایک جانب سے ہموار اور دوسری جانب سے ابھرا ہوا عدسہ، اور دونوں جانب سے ابھرا ہوا عدسہ شامل تھے۔
روشنی میں پیدا ہونے والی ہندسی خرابیوں کے بارے میں ان کے حسابات، فرانسیسی فلسفی رینے ڈیکارٹ کے سترھویں صدی میں کیے گئے اسی نوعیت کے حسابات سے تقریباً چھ سو سال پہلے کے تھے۔ ابن سہل نے یہ حسابات نہ صرف سورج جیسے بہت دور واقع نوری ذرائع کے لیے کیے بلکہ نسبتاً قریب موجود روشنی کے ذرائع کے لیے بھی انجام دیے۔
ان تحقیقات کے دوران میں ابن سہل کو روشنی کے مُڑنے کا ایک اصول درکار تھا۔ انھوں نے ایسا اصول استعمال کیا جو ریاضیاتی اعتبار سے بالکل اسی قانون کے برابر تھا جسے بعد میں یورپی سائنس دانوں نے دوبارہ دریافت کیا۔ دوسرے لفظوں میں، روشنی کے مُڑنے کے اس اصول کی دریافت ابن سہل نے ان سائنس دانوں سے کئی صدیاں پہلے کر لی تھی۔
ان کے مخطوطے میں موجود ایک شکل اس کی وضاحت کرتی ہے۔
Getty Images
شکل کے اوپری حصے میں دو ایک دوسرے پر چڑھے ہوئے مثلث دکھائے گئے ہیں۔ بیرونی مثلث کا وتر آنے والی روشنی کی سمت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ اندرونی مثلث کا وتر شفاف مادے کے اندر مُڑ جانے والی روشنی کی سمت کو ظاہر کرتا ہے۔ ابن سہل نے ہندسی اصولوں کی مدد سے یہ ثابت کیا کہ ان دونوں سمتوں کے درمیان ایک خاص ریاضیاتی تعلق قائم رہتا ہے۔ یہی تعلق دراصل روشنی کے مُڑنے کے اس قانون کے برابر ہے جو آج جدید بصریات کی بنیادوں میں شامل ہے۔
ابن سہل نے اپنی تحریروں میں اس اصول کو کئی مرتبہ استعمال کیا، لیکن انھوں نے اسے الگ سے کسی ’قانون‘ کے طور پر بیان نہیں کیا۔
اس زمانے میں سائنسی قوانین کا تصور آج کی طرح واضح نہیں تھا۔ وہ اس اصول کو ایک معروف ریاضیاتی تعلق کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
انھوں نے بار بار یہ دکھایا کہ آنے والی اور مُڑ جانے والی شعاعوں کے زاویوں کے مخصوص تناسب میں تبدیلی نہیں آتی۔
بعد میں ابن سہل کے اس رسالے سے ابن الہیثم نے بھی روشنی کے مُڑنے کے بارے میں اپنے مطالعے میں استفادہ کیا۔اس رسالے کا متن بعد میں رشدی راشد نے دو مخطوطات کی مدد سے دوبارہ مرتب کیا۔
تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابن الہیثم نے ابن سہل کے استعمال کردہ اس اصول کو بطور قانون تسلیم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے روشنی کے مُڑنے کے اصول کو دریافت کرنے کے لیے اپنی الگ تجرباتی تحقیقات شروع کیں۔ البتہ ابن سہل ابن الہیثم کی ’کتاب المناظر‘ سے تقریباً تیس سال پہلے ایک اہم پیش رو سمجھے جاتے ہیں۔
تاریخ کی کتابوں میں گُم مسلمان خواتین سائنسدانڈھائی سیکنڈ میں 60 میل: 15 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ’لوس‘ الیکٹرک کار جسے کوئی ’کباڑ‘ تو کوئی ’گیم چینجر‘ کہہ رہا ہےگوگل گلاس کی ناکامی کے بعد ایک اور کوشش: اس بار گوگل کے سمارٹ چشموں میں کیا مختلف ہے؟پولی سسٹک اووری سنڈروم کا نام تبدیل: کیا اس سے تشخیص اور علاج میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟Getty Images
ماہرینِ فلکیات کے سوانحی انسائیکلوپیڈیا، سپرنگر ریفرنس، نیویارک سے علم ہوتا ہے کہ ان کا حوالہ ابن الہیثم کی تحریروں میں موجود ہے، جن کا علمی دور دسویں اور گیارہویں صدی کے درمیان پھیلا ہوا ہے۔
ابن سہل کے قانونِ انعطافِ نوریا روشنی کے مُڑنے کا قانون 600 بعد 1621ء میں ایک ڈچ ماہرِ فلکیات اور ریاضی دان ولیبرورڈ سنلیئس (جسے سنل بھی کہا جاتا ہے) نے وضع کیا۔
اس قانون نے جدید سائنس کو وہ بنیاد دی جس پر آج کی بصری دنیا کھڑی ہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا اور دیگر تحقیقی مطالعات سے علم ہوتا ہے کہ یہی قانون ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ روشنی ایک مادے سے دوسرے مادے میں داخل ہو کر کیسے مڑتی ہے اور اسی اصول پر آج کی کئی اہم ٹیکنالوجیز قائم ہیں۔
چشمے اور کانٹیکٹ لینس اسی اصول پر بنائے جاتے ہیں تاکہ نظر کے نقائص درست کیے جا سکیں۔
کیمرے، دوربین اور خوردبین اسی قانون کی مدد سے روشنی کو مرکوز کر کے واضح اور بڑا عکس بناتے ہیں۔
فائبر آپٹکس میں یہی قانون روشنی کو طویل فاصلے تک بغیر نقصان منتقل کرنے میں مدد دیتا ہے، جس سے تیز رفتار انٹرنیٹ ممکن ہوا۔
سائنس میں یہ قانون مختلف مائعات اور مادوں کی شناخت، ان کی خالصیت اور ساخت جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
روشنی کے رنگوں کو الگ کر کے مادوں کی کیمیائی تحقیق بھی اسی اصول سے ممکن ہوتی ہے۔
مختصر یہ کہ روشنی کے مُڑنے کا یہی اصول آج کی جدید بصری، طبی اور ڈیجیٹل دنیا کی خاموش مگر بنیادی طاقت ہے۔
ہماری آج کی کہانی تاریخ کے دھندلکوں میں کھو جانے والے اسی سائنسی نابغے کی دوبارہ کھوجکی کوشش ہےجس نے خاموشی سے جدید علمِ بصریات کی بنیادیں استوار کیں اورجس نے روشنی کے سفر کو محض فلسفیانہ سوال نہیں، بلکہ ایک قابلِ پیمائش سائنسی مظہر سمجھا۔
ماچس جو دو سو سال قبل حادثاتی طور پر ایجاد ہوئی، گمنام موجد کی حیران کن کہانیڈھائی سیکنڈ میں 60 میل: 15 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی ’لوس‘ الیکٹرک کار جسے کوئی ’کباڑ‘ تو کوئی ’گیم چینجر‘ کہہ رہا ہےجب آئن سٹائن نے اسرائیل کا صدر بننے سے انکار کر دیابلیو اوریجن کا راکٹ دھماکے سے تباہ، کیا ناسا کا خلاباز چاند پر بھیجنے اور مون بیس بنانے کا خواب پورا ہو گا؟ گوگل گلاس کی ناکامی کے بعد ایک اور کوشش: اس بار گوگل کے سمارٹ چشموں میں کیا مختلف ہے؟پولی سسٹک اووری سنڈروم کا نام تبدیل: کیا اس سے تشخیص اور علاج میں بہتری لائی جا سکتی ہے؟