Gentileza de Annika Waheedانیقہ گذشتہ آٹھ سال سے حیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کے عارضے میں مبتلا ہیں
اپنی جان لینے کی کوشش کے اگلے ہی دن صبح انیقہ وحید کو حیض آ گیا۔ مایوسی ان سے دور ہو گئی اور انھوں نے خود کو ایک بڑے بوجھ سے آزاد محسوس کیا۔
انھوں نے نیند آور دوا کی زیادہ مقدار لی تھی اور جب ان کی بہن نیند سے دور رکھنے کے لیے انھیں اپنے بازوؤں میں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھیں تو انھوں نے پوچھا: ’کیا میں نے واقعی یہ کیا؟‘
’ہاں، آپ نے ایسا کیا‘، بہن نے جواب دیا۔
انیقہ کو ہر ماہ دو ہفتے تک خود کشی کے خیالات آتے تھے اور پھر جیسے ہی انھیں حیض آتا تو لگتا کہ ایک جادو سے ان پر طاری تاریکی چھٹ گئی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ تب ’میں دوبارہ دیکھ سکتی تھی اور کام کر سکتی تھی۔‘
وہ سوال کرتی ہیں کہ ’میرے ہارمونز میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘
یہ 42 سالہ خاتون گذشتہ آٹھ سال سے پری منسٹروئل ڈسفورک ڈس آرڈر (حیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کا عارضہ) یا پی ایم ڈی ڈی کا شکار ہیں۔
پی ایم ڈی ڈی ایک ذہنی صحت کا عارضہ ہے جو شدید نفسیاتی اور بعض اوقات جسمانی علامات پیدا کرتا ہے۔
یہ خواتین کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں متاثر کر سکتا ہے، لیکن اکثر یہ ہارمونل تبدیلیوں کے بڑے ادوار، جیسے کہ بلوغت، زچگی یا ماہواری کے مستقل بند ہو جانے سے منسلک ہوتا ہے۔
یہ عارضہ حیض سے ایک یا دو ہفتے پہلے لاحق ہوتا ہے اور بے چینی، ڈپریشن اور شدید نفسیاتی اذیت کو جنم دے سکتا ہے۔
خواتین جسمانی علامات جیسے کہ تھکن، سر درد اور جوڑوں کے درد کا بھی سامنا کر سکتی ہیں لیکن پی ایم ڈی ڈی کی تشخیص کے لیے موڈ سے متعلق کم از کم ایک علامت کا ہونا ضروری ہے۔
’اس کے بارے میں آپ کچھ نہیں کر سکتے‘
ماہواری سے پہلے ہونے والے مسائل یا بیماریوں سے متعلق بین الاقوامی تنظیم (آئی اے پی ایم ڈ (آئی اے پی ایم ڈی) کے تخمینے کے مطابق پی ایم ڈی ڈی دنیا بھر میں ساڑھے 11 کروڑ کے قریب خواتین کو متاثر کرتا ہے۔
یہ تعداد بچہ پیدا کرنے والی خواتین کو دو یا پانچ فیصد بنتی ہے، یا ہر 20 میں سے ایک خاتون۔
لیکن ان میں سے خواتین کی ایک مختصر سی تعداد ہی تشخیص کے مرحلے تک پہنچی ہے۔
خودکشی ایک پیچیدہ موضوع ہے، لیکن تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عارضے میں مبتلا افراد میں عام آبادی کے مقابلے میں خودکشی کے خیالات اور کوششوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔
انیقہ کہتی ہیں کہ ’پریمینسٹرول سنڈروم واقعی مشکل ہو سکتا ہے‘ اور اس دوران وہ جسمانی علامات جیسے دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، شدید کمر درد اور سوجن کا بھی سامنا کرتی ہیں ’لیکن یہ؟ یہ کچھ اور ہی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں: ’ایسا لگتا ہے جیسے موت ہر ماہ ہماری تلاش میں آتی ہو۔ آپ اسے محسوس تو کرتے ہیں لیکن اس کے بارے میں کچھ کر نہیں سکتے۔‘
Getty Imagesحیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کا عارضہ خواتین کو زندگی کے کسی بھی مرحلے میں متاثر کر سکتا ہے، لیکن اکثر یہ اہم ہارمونل تبدیلیوں کے ادوار کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ پی ایم ڈی ڈی سے متاثر خواتین اپنے جسم میں حیض سے پہلے ہونے والے قدرتی ہارمونل اتار چڑھاؤ کے لیے شدید اور منفی ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔
اگرچہ سائنسی طور پر ابھی تک یہ پوری طرح معلوم نہیں کہ کچھ خواتین میں حیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کا عارضہ کیوں پیدا ہوتا ہے، سکاٹ لینڈ میں محققین نے خودکشی کی روک تھام کے لیے ایک جدید آلہ تیار کیا ہے جس کا مقصد ڈاکٹروں کو پی ایم ڈی ڈی کی علامات والی خواتین کی شناخت میں مدد دینا ہے۔
یونیورسٹی آف ویسٹ آف سکاٹ لینڈ کی ڈاکٹر لینزے میتھیوز نے اس تحقیق کی قیادت کی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ایک طویل عرصے سے خواتین اس حالت کے ساتھ گزارا کر رہی تھیں بغیر یہ جانے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔
’اگرچہ ماہواری کا ہر ماہ آنا خواتین کی صحت میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، لیکن طبی مشاورت میں اس کا ذکر کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔‘
میتهیوز کہتی ہیں کہ خواتین سے ان کی ماہواری کے بارے میں سوال کرنا ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کو پیٹرن کی شناخت اور یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آیا ان کی ذہنی صحت کا تعلق ان کی ماہواری سے ہے۔
یہ ماڈل اس بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے کہ پی ایم ڈی ڈی والی خواتین خودکشی کے حوالے سے دیگر خواتین کے مقابلے میں مختلف ردعمل ظاہر کر سکتی ہیں۔
دورانِ حیض گھر سے بے دخلی کے خلاف جنگبشالی: جس کی عمارت اور مکینوں کو ’چھونا‘ منع ہےمینسٹرل کپ: ’ڈر تھا کہ کہیں کنوار پن ضائع نہ ہو جائے، مگر یہ استعمال کر کے اکثر بھول جاتی ہوں کہ ماہواری چل رہی ہے‘’ماہواری نارمل ہے بس تم نے کسی کو بتانا نہیں‘خواتین کو سننا
خواتین کی صحت کی ماہر ڈاکٹر ہیلن وال کہتی ہیں کہ ڈاکٹرز ’ابھی بھی کچھ چیزوں کو خواتین کی ماہواری کے ساتھ جوڑنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔
’ہمیں خواتین کی کہانیاں سننی ہوں گی اور یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کے ہارمونز کے تناظر میں کیا ہو رہا ہے۔‘
Gentileza de Katie Cookزیادہ سے زیادہ خواتین سوشل میڈیا پر قبل از حیض سنڈروم کے متعلق اپنے تجربات شیئر کر رہی ہیں، انھی میں کیٹی کک بھی ہیں
زیادہ سے زیادہ خواتین سوشل میڈیا پر قبل از حیض سنڈروم کے متعلق اپنے تجربات شیئر کر رہی ہیں۔ پی ایم ڈی ڈی کے ہیش ٹیگ والی پوسٹس کو ٹک ٹاک پر 23 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا جا چکا ہے۔
انھی خواتین میں سے ایک کیٹی کک ہیں، جب وہ 21 سال کی تھیں تو ان میں حیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کے عارضے کی تشخیص ہوئی۔ اس وقت تک انھیں جسمانی اور ذہنی مسائل کا سامنا کرتے ایک دہائی بیت چکی تھی۔
وہ سمجھتی ہیں کہ پی ایم ڈی ڈی اس وقت ظاہر ہوا جب 12 سال کی عمر میں انھیں حیض آیا: ’میرے ذہن میں اسی وقت جنگ شروع ہو گئی تھی۔‘
وہ بتاتی ہیں کہ حیض سے بالکل پہلے ہر جانب اندھیرا چھا جاتا ہے، ان کا جسم درد کرتا ہے، وہ روشنی اور آواز کو نا پسند کرنے لگتی ہیں اور ہر چیز ناقابل برداشت لگتی ہے۔
لیکن ان کے خاندانی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ موڈ میں یہ تبدیلیاں بڑے ہونے کے عمل کا حصہ ہیں۔
کیٹی نے مہینے بھر اپنے موڈ میں تبدیلیوں اور دیگر علامات کو نوٹ کرنا شروع کیا تو لگا کہ یہ سب ایک ترتیب سے ہو رہا ہے۔
پھر یونیورسٹی کے پہلے سال میں ایک اور ڈاکٹر نے ان سے پوچھا کہ کیا انھوں نے شدید ذہنی اضطراب کے عارضے کے بارے میں سنا ہے اور ’اس وقت سب کچھ سمجھ میں آنا شروع ہو گیا۔‘
تشخیص کے لیے جدوجہد
اس کی تشخیص ہو جائے تو علاج کے لیے مختلف طریقے آزمانے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ لیکن انیقہ کے مطابق یہ بھی ایک تسکین بخش تجربہ ہے کہ ’آپ کو سمجھا جا رہا ہے۔‘
پی ڈی ایم ایم کی علامات کی تشخیص کے لیے میتھیوز نے جو آلہ تیار کیا ہے، کیا اس سے انیقہ کو مدد مل سکتی تھی یا انھیں اپنی زندگی کے اتنے مایوس کن مرحلے تک پہنچنے سے بچایا جا سکتا تھا؟
انیقہ کہتی ہیں ’بالکل، میں ڈاکٹروں کے ہاتھوں ذہنی طور پر اس طرح متاثر نہ ہوتی۔
’اگر ڈاکٹر سمجھتے ہیں تو مریض بھی سمجھتے ہیں۔ میں اپنے دوستوں اور خاندان کو خودکشی کے اپنے خیالات کے بارے میں بتا سکتی تھی اور شاید میں خود کو خود سے بچا سکتی تھی۔‘
مثال کے طور پر برطانیہ میں حکومت نے تسلیم کیا کہ پریمینسٹرول سنڈروم یا پی ایم ڈی ڈی میں مبتلا خواتین کو ’بہت طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے۔‘
محکمہ صحت و سماجی نگہداشت کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا: ’اکثر ان کی علامات کو معمول کا حصہ سمجھ لیا جاتا ہے، اور یہ تبدیل ہونا چاہیے۔‘
انھوں نے کہا کہ خواتین کی صحت کے متعلق نئی حکمت عملی ’یہ یقینی بنائے گی کہ خواتین کو پہلی ملاقات سے ہی سنا جائے اور سنجیدگی سے لیا جائے‘ اور انھیں شروع ہی سے مناسب طبی ماہر کے پاس بھیجا جائے۔
Gentileza de Lily Rose Winterللی روز ونٹر کو عارضے کی تشخیص میں کئی سال لگے
اس عارضے کے مختلف علاج موجود ہیں، لیکن مختلف علاج آزمانے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے کہ موثر علاج کون سا ہے۔
ڈپریشن کم کرنے والی ادویات کے علاوہ خواتین کو مانع حمل ادویات بھی دی جا سکتی ہیں جو ہارمونز کو منظم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
علاج کے اس سے زیادہ سخت طریقے بھی موجود ہیں، جیسے کہ کیمیائی عمل سے ماہواری کو بند کرنا، یا ماہواری روکنے کے لیے بیضہ دانی کو ہی نکال دینا۔
انیقہ پی ایم ڈی ڈی کے علاج کے لیے ہارمونز روکنے اور ماہواری بند کرانے والے انجیکشن لیتی ہیں۔ تاہم، وہ کہتی ہیں کہ جیسے ہی دوا کا اثر ختم ہوتا ہے، چند منٹوں میں انھیں اپنے اندر غصہ، اشتعال یا مایوسی بڑھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
پی ایم ڈی ڈی کے ساتھ زندگی گزارنے نے انیقہ کے لیے ماں بننے کے بارے میں سوچنا ناممکن بنا دیا ہے، کیمیائی عمل سے ماہواری ختم کرانے کے باعث ان کے حاملہ ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔
کبھی کبھی وہ ایک متبادل زندگی کا تصور کرتی ہیں جس میں وہ ماں بن سکتی تھیں، لیکن وہ کہتی ہیں کہ حیض سے پہلے شدید ذہنی اضطراب کے عارضے نے ان سے یہ امکان چھین لیا ہے۔
31 سالہ للی روز ونٹر بھی کیمائی طریقے سے ماہواری ختم کرانے پر غور کر رہی ہیں۔
للی کو مرض کی تشخیص میں برسوں لگے اور انھوں نے کئی علاج آزمائے، لیکن اب تک کوئی بھی ان علامات پر نمایاں اثر نہیں ڈال سکا جو وہ ہر ماہ برداشت کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں: ’میں خود سے کہتی ہوں کہ یہ گزر جائے گا، مجھے صبر کرنا ہو گا۔‘
’ہنڈائی کمپنی نے حیض کے باعث کنٹریکٹ ختم کر دیا‘ماہواری کے درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے؟ماہواری میں معمول سے زیادہ خون آنا خواتین میں کن مسائل کا باعث بن سکتا ہے؟'میرا صرف خون بہہ رہا ہے': ماہواری سے متعلق جھجھک مٹانے کے لیے سویڈن کی حکمت عملی'میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے'