شاہ رخ خان چار سال بعد بڑی سکرین پر، ’اندر کا فنکار ابھی زندہ ہے‘

اردو نیوز  |  Jul 02, 2022

انڈین اداکار شاہ رخ خان چار سال بعد بڑی سکرین پر اپنی جھلک کیا دکھائی کہ ان کے مداح خوشی سے جھوم اٹھے۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق مدھاون کی ہدایت کاری میں بننے والی پہلی فلم ’راکٹری، دی نامبی افیکٹ‘ میں شاہ رخ خان نے مہمان اداکار کے طور پر کام کیا ہے۔

سٹار اداکار آخری بار 2018 میں فلم ’زیرو‘ میں دکھائی دیے تھے جس میں ان کے ساتھ انوشکا شرما اور کترینہ کیف نے بھی کام کیا تھا۔

راکٹری فلم میں شاہ رخ خان کی شمولیت کی اطلاع سامنے آتے ہی سوشل میڈیا خصوصاً ٹوئٹر پر خوشی کا اظہار ہونا شروع ہوا۔

ایک صارف نے لکھا ’صرف چند سیکنڈ کے رول میں ہی انہوں نے ہمیں یاد دلا دیا کہ شاہ رخ خان کے اندر کا فنکار ابھی زندہ ہے۔‘

ایک اور ٹوئٹر صارف نے کچھ یوں خیالات کا اظہار کیا ’ان کا نظر آنا اہم ہے، کم یا زیادہ سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔‘

کچھ ایسی ہی بات ایک اور ٹویٹ میں کی گئی ہے۔

’شاہ رخ کی موجودگی چیزوں کو سو گنا بہتر بنا سکتی ہے، ان کو پھر سے بڑی سکرین پر دیکھ کر خوشی ہوئی، دورانیے سے فرق نہیں پڑتا‘‘

شاہ رخ خان آخری بار 2018 میں فلم ’زیرو‘ میں دکھائی دیے تھے (فوٹو: فلم فیئر)ایک اور صارف کا کہنا تھا ’کچھ بھی کر لیں شاہ رخ خان کا دس منٹ کا کردار کئی لوگوں کے پورے کیریئر پر بھاری ہے۔‘

جبکہ ان الفاظ میں بھی تبصرہ کیا گیا ’چھوٹا کردار، بڑی کارکردگی، شاہ رخ خان آپ کو چھوٹے سے کردار سے بھی جذباتی بنانا جانتے ہیں، ان کا جادو چل کر رہتا ہے۔‘

ایک ٹوئٹر نے تو ایک ایک لمحہ گنوا دیا جب سے انہوں نے اداکار کو بڑی سکرین پر نہیں دیکھا تھا۔

’42 ماہ، 184 ہفتے، 1288 دنوں، 30898 گھنٹوں، 1853901 منٹوں اور 111234082 سکینڈ بعد شاہ رخ خان کو دیکھ رہا ہوں۔ مدھاون سر، شکریہ‘

راکٹری فلم کے ہدایت کار مدھاون نے پی ٹی آئی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ شاہ رخ خان اور نور سوریا نے فلم میں کرداروں کے لیے کسی قسم کی کوئی رقم وصول نہیں کی۔

’حتٰی کہ سٹارز نے کپڑوں اور آنے جانے کے اخراجات بھی خود ہی برداشت کیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سوریا اپنی ٹیم کے ساتھ اپنے خرچے پر خود ممبئی پہنچے تھے۔

خیال رہے راکٹری فلم انڈین سائنس دان اور ایروسپیس انجینئر نامبی نارائن کی زندگی پر بنائی گئی ہے جن پر جاسوسی کا الزام لگا تھا اور بعد ازاں بری کر دیا گیا تھا۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More