Reproduçãoخود کو وکٹر مولر فریرا کہنے والے دراصل روسی شہری چرکاسف ہیں
31 مارچ 2022 کو وکٹر مولر فریرا نے برازیل میں واقع ساؤ پاؤلو کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایک پرواز میں سوار ہوئے۔ وہ نیدر لینڈز کی طرف گامزن تھے جہاں انھیں انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں اپنی انٹرنشپ شروع کرنا تھی۔
لیکن جب ان کا طیارہ لینڈ کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ دراصل برازیل کے شہری ہی نہیں، جس کا وہ کئی برسوں سے دعویٰ کرتے تھے۔
نیدر لینڈز کی قومی سلامتی کی ایجنسی اے آئی وی ڈی نے ان کی شناخت 36 سالہ روسی شہری سرگئی ولادیمیروچ چرکاسف کے طور پر کی۔ ان پر روس کے فوجی انٹیلیجنس ادارے جی آر یو کا جاسوس ہونے کا الزام لگا اور انھیں پہلی ہی پرواز سے برازیل واپس بھیج دیا گیا جہاں انھیں فوراً گرفتار کر لیا گیا۔
اب وہ برازیل میں جعلی دستاویزات استعمال کرنے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
برازیلین پولیس اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی دونوں نے ہی ان کی شناخت روسی خفیہ افسر کے طور پر کی ہے۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ انھوں نے جعلی برازیلین شناخت استعمال کر کے امریکہ میں بھی معلومات جمع کی تھی۔ چرکاسف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ روسی شہری ہیں مگر انھوں نے جاسوس ہونے کے الزام کی تردید کی ہے۔
مگر اب بظاہر انھیں جلد ہی روس واپس بھیج دیا جائے گا۔ اس کے لیے سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں اور ماسکو نے ان کی حوالگی کی درخواست بھی کی ہے۔
تو ہمیں چرکاسف کے بارے میں کیا معلوم ہے اور ان کا کیس ہمیں اس بارے میں کیا بتاتا ہے کہ آج کی تاریخ میں روسی خفیہ آپریشنز کیسے کیے جاتے ہیں؟
برازیلین تفتیش کاروں اور پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ چرکاسف 2010 میں برازیل آئے تھے اور انھوں نے کئی ملکوں میں آپریٹ کرنے کے لیے جعلی برازیلین شناخت کا استعمال کیا۔ اس دوران وہ غیر ملکی انٹیلیجنس اداروں کی نظروں سے پوری طرح اوجھل رہے تھے۔
Justiça Federal de São Pauloچرکاسف کے پاس سے ملنے والی جعلی دستاویزات میں دو پاسپورٹ بھی شامل تھے
روس ایک طویل عرصے سے خفیہ ایجنٹوں میں مہارت رکھتا ہے جو اپنی اصل شناخت اور قومیت کو مکمل طور پر بدل کر کسی اور ملک کے شہری بن کر رہتے ہیں۔ یہ اس لیے تاکہ وہ ایسے حلقوں میں گھل مل سکیں جہاں روسیوں پر شک کیا جاتا ہو۔
ایسے ایجنٹس کی تربیت، ان کی جعلی شناخت تیار کرنا اور کسی غیر ملکی معاشرے میں مکمل طور پر ضم ہونے کا عمل کئی برسوں پر محیط ہوتا ہے۔
انھیں عموماً 'غیرقانونی ایجنٹس' کہا جاتا ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے چرکاسف کے خلاف جو فردِ جرم عائد کی گئی، اس میں ان کی تعریف ایسے خفیہ اہلکاروں کے طور پر کی گئی ہے جو جھوٹی شناختوں کے ساتھ روس کے باہر طویل مدتی مشنز پر بھیجے جاتے ہیں۔
فردِ جرم کے مطابق ایسے غیرقانونی ایجنٹس' اکثر ہدف ممالک کی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، یا وہاں ملازمت اختیار کرتے ہیں تاکہ ان کی فرضی شناخت زیادہ معتبر محسوس ہو۔
عید کا دن، راولپنڈی کی فضا اور دو پائلٹس کی گرفتاری: جب پاکستانی فضائیہ نے پہلی بار انڈیا کا جاسوس طیارہ مار گرایاپشاور سے امریکی جاسوس طیارے کی سوویت یونین تک پرواز جس نے دو دشمن ممالک کو مزید تلخیوں کی طرف دھکیل دیاجاسوسی سے جنگل میں موت تک: برطانوی جاسوس جس کی زندگی جیمز بانڈ کے کردار کی تخلیق کی بنیاد بنی’اسلام قبول کر کے‘ مکہ پہنچنے والے وہ یورپی ’جاسوس‘ جنھوں نے کعبہ کی ابتدائی تصاویر لیں اور تلاوت کی ریکارڈنگ کی
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ میں روسی امور کی ماہر ایمیلی فیرس کا کہنا ہے کہ 'غیرقانونی ایجنٹس' روایتی سفارتی مشنز سے جڑے جاسوسوں سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ سفارت کار جاسوس سفارتی استثنیٰ رکھتے ہیں جبکہ یہ ایجنٹس مکمل طور پر پردے میں رہتے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ نظام سوویت دور سے چلا آ رہا ہے۔ مثلاً 2010 کے دوران منظر عام پر آنے والے روسی 'سلیپر ایجنٹس' کی نشاندہی ہوئی تھی جو ایک دہائی تک امریکہ میں امریکی شہری بن کر رہتے رہے۔
وہ کہتی ہیں کہ روس ان ایجنٹس کو مختلف ممالک میں بسانے کے لیے غیر معمولی محنت کرتا رہا ہے اور یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ آج بھی وہ ایسی ہی سرگرمیوں پر کام کر رہا ہے۔
لیکن یوکرین پر روسی حملے کے بعد روس کے بیرونِ ملک جاسوسی کے نیٹ ورکس کمزور پڑ گئے ہیں۔ متعدد ممالک نے روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کیا ہے جبکہ یورپ، شمالی امریکہ اور لاطینی امریکہ میں کئی روسی جاسوس پکڑے گئے ہیں۔
ایمیلی فیرس کے مطابق ان اقدامات نے یورپ میں سفارت خانوں کے ذریعے چلنے والے جاسوسی نیٹ ورکس کو عارضی طور پر شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
بین الاقوامی اور برازیلین تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ چرکاسف ایسے ہی نیٹ ورک کا حصہ تھے جو برازیلین شناختوں کا استعمال کر رہا تھا۔ 2022 سے اب تک کم از کم نو مشتبہ افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جو مختلف ممالک میں برازیلین بن کر کام کر رہے تھے۔
ان میں سے کسی پر برازیل کے خلاف جاسوسی کا الزام نہیں تھا۔ برازیل محض ایک آسان کور تھا جسے دستاویزات کے نسبتاً نرم نظام اور بین الاقوامی تنازعات میں غیرجانبداری کی وجہ سے استعمال کیا گیا تھا۔
’وکٹر فریرا‘ نے کیسے امریکہ اور برازیل کو جھانسہ دیا؟
ایمیلی فیرس کے مطابق روس اب اس نوعیت کے ایجنٹس پر زیادہ انحصار کر رہا ہے جو براہِ راست روسی نیٹ ورکس سے وابستہ نہیں ہوتے۔ سفارت خانوں کے ذریعے چلنے والے روایتی جاسوسی نیٹ ورکس کمزور پڑنے کے بعد روس اب مقامی لوگوں کو بطور تیسرا فریق استعمال کر رہا ہے۔
ان کے مطابق روس مقامی افراد، جنھیں عموماً سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کیا جاتا ہے، کی مدد سے ریلوے نظام میں خلل ڈال رہا ہے، یوکرین کی طرف جانے والی سپلائی لائنوں کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور گوداموں میں دھماکے کروا رہا ہے۔ یہ لوگ عموماً مالی لالچ یا زندہ رہنے کے مقصد سے کام کرتے ہیں، نہ کہ کسی نظریاتی وابستگی کی وجہ سے اور اکثر انھیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اصل میں ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے۔
ایسے مقامی کارندوں کا طریقہ کار چرکاسف جیسے 'غیرقانونی ایجنٹس' سے بالکل مختلف ہے۔ امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق 2022 میں برازیل میں گرفتاری کے وقت چرکاسف کے پاس ایک ہارڈ ڈرائیو تھی جس میں جعلی بیک گراؤنڈ کہانی اور ایسے کاغذات شامل تھے جن کا مقصد خود کو ایک برازیلین شہری ثابت کرنا تھا۔
یہ تفصیلی کہانی غالباً 2010 کے آس پاس چرکاسف نے خود تیار کی تھی اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خفیہ روسی ایجنٹس کس طرح اپنی شناخت بناتے ہیں۔ چار صفحات پر مشتمل تفصیلات کی شروعات اس جملے سے ہوتی ہے کہ 'میں وکٹر مولر فریرا ہوں۔'
اس جعلی داستان میں ان کے خاندان، بچپن اور سکول کے دنوں کے بارے میں باریک تفصیلات شامل تھیں۔ مثلاً یہ کہ ان کی والدہ تتلیاں جمع کرتی تھیں لیکن علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انھیں ساری جمع پونجی بیچنا پڑی۔ یا یہ کہ سکول میں ان کے لہجے اور شکل صورت کا مذاق اڑایا جاتا تھا کہ وہ 'جرمن یا گرنگو (لاطینی امریکی) جیسے دکھتے ہیں، اس لیے میرے زیادہ دوست نہیں تھے۔'
ایک اور دعویٰ یہ تھا کہ 'میرے والد دوستانہ اور اچھے انسان تھے لیکن میں انھیں اپنی والدہ اور آنٹی کی اموات اور اپنی مشکلات کا قصوروار ٹھہراتا تھا۔'
ایمیلی فیرس کہتی ہیں کہ چونکہ ایک 'غیرقانونی ایجنٹ' کی تربیت اور تیاری میں بہت زیادہ وقت اور وسائل خرچ ہوتے ہیں اس لیے یہ بات دلچسپ ہے کہ روس اب بھی ایسے مہنگے منصوبوں پر سرمایہ لگا رہا تھا۔
تاہم وہ کہتی ہیں کہ روسی انٹیلیجنس کا ڈھانچہ اس وقت ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے لیکن یوکرین میں جاری جنگ کے باعث زیادہ تر وسائل محاذ پر لگ رہے ہیں جس سے ان خفیہ پروگراموں کو جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
Pierre Crom/Getty Imagesچرکاسف نیدر لینڈز جا کر آئی سی سی میں بطور انٹرن کام کرنا چاہتے تھے، یہ ایسا حساس وقت تھا جب کچھ ہفتوں بعد روس نے یوکرین جنگ شروع کی
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق چرکاسف 2018 میں اعلیٰ تعلیم کے بہانے واشنگٹن ڈی سی منتقل ہوئے تھے۔ خیال ہے کہ انھوں نے 2020 کے ستمبر میں ہی انٹرنیشنل کریمینل کورٹ میں انٹرنشپ کے لیے درخواست دی تھی لیکن کووِڈ وبا کے باعث اس عمل میں تاخیر ہوئی۔
ڈچ انٹیلیجنس سروس کے مطاب چرکاسف ہیگ میں بغیر معاوضے کے انٹرنشپ کرنا چاہتے تھے۔ انٹرنیشنل کریمینل کورٹ طویل عرصے سے روس کا مرکزی انٹیلیجنس ہدف رہا ہے۔
ان کی گرفتاری کے کچھ ہفتوں بعد روس نے یوکرین میں مکمل قوت سے مداخلت شروع کی۔ تب سے آئی سی سی نے یوکرین میں جنگی جرائم سے متعلق روس کے خلاف کئی تحقیقات شروع کی ہیں۔
سنہ 2023 کے دوران اس نے صدر ولادیمیر پوتن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جو ان دعوؤں پر مبنی تھے کہ غیر قانونی طور پر یوکرین سے روس بچے ڈی پورٹ کیے گئے تھے۔ ماسکو نے ان الزامات اور وارنٹ کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
اے آئی وی ڈی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'آئی سی سی کی معلومات تک خفیہ طریقے سے رسائی روسی انٹیلیجنس سروسز کے لیے کافی قیمتی ہو سکتی ہے۔'
اور اگر چرکاسف اس عدالت میں داخل ہونے میں کامیاب ہوتے تو ماہرین کے بقول وہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ یا انھیں مٹا سکتے تھے۔
فیرس کے مطابق روس بدلتی خبروں کے ساتھ مختلف اداروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انھوں نے یورپی یونین کی جانب سے منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کرنے سے متعلق بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اب بڑا ہدف یوروکلیئر (بینک) اور بلغاریہ ہیں کیونکہ یہی خبروں میں چل رہا ہے اور اس سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔'
روس کے منجمد اثاثوں کی اکثریت یورو کلیئر میں ہے جو کہ برسلز میں واقع ہے۔
اب کیا ہو گا؟
بظاہر چرکاسف جلد ہی اپنے گھر یعنی روس واپس بھیج دیے جائیں گے۔ اگست 2022 میں ماسکو نے ان کی حوالگی کی درخواست کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ وہ مطلوب منشیات ڈیلر ہیں۔ برازیل کی سپریم فیڈرل کورٹ نے درخواست منظور کی۔ حال ہی میں ساؤ پاؤلو کی وفاقی عدالت اور ریو ڈی جنیرو کے پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ ان کی حوالگی کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کر لیے گئے ہیں۔ انھوں نے تصدیق کی کہ ان کی روس روانگی کے لیے اب کوئی بقیہ رکاوٹیں باقی نہیں ہیں۔
یہ فیصلے اب صدر یا وزیر انصاف کے حتمی دستخظ کا منتظر ہے۔
سنہ 2023 میں امریکہ نے بھی چرکاسف کی حوالگی کی درخواست کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ انھوں نے امریکی سرزمین پر بلااجازت غیر ملکی ایجنٹ بن کر جاسوسی کی۔ ان پر فنانشل اور ویزا فراڈ کا الزام بھی عائد کیا گیا۔
تاہم برازیل کے حکام نے اس درخواست کو مسترد کیا اور کہا کہ روس نے پہلے ہی ان کی حوالگی کی درخواست کر رکھی ہے۔
بی بی سی نیوز برازیل نے برازیل میں روسی اور امریکی سفارت خانوں سے رابطہ کیا مگر انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ جبکہ چرکاسف کے وکلا کی طرف سے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
فیرس کا خیال ہے کہ اگر چرکاسف روس لوٹ جاتے ہیں تو وہاں ان کا اچھا استقبال ہو گا۔ ان کے مطابق امریکہ میں رہنے والی ’غیر قانونی ایجنٹ‘ اینا چیپمین بھی 2012 میں روس واپسی پر معروف شخصیت بن گئی تھیں۔
Sputnik/Mikhail Voskresensky/Pool via REUTERSماسکو میں روسی خفیہ ایجنٹ اور ان کے بچوں کا صدر پوتن نے استقبال کیا تھا
انھوں نے مزید بتایا کہ 2006 میں الیگزینڈر لیتوینینکو کو زہر دینے کے مقدمے میں ملزم اندری لوگووائے کو 2007 میں روسی ریاست دوما میں رکن پارلیمان منتخب کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اپنی جان اور آزادی کی اس طرح قربانی دیتے ہیں تو ظاہر ہے کریملن آپ کی قربانی کو تسلیم کرتا ہے۔ میرے خیال میں یہ کسی ہیرو کے استقبال جیسا ہو گا۔‘
اضافی رپورٹنگ: فیونا میکڈونلڈ
جاسوسی سے جنگل میں موت تک: برطانوی جاسوس جس کی زندگی جیمز بانڈ کے کردار کی تخلیق کی بنیاد بنی’اسلام قبول کر کے‘ مکہ پہنچنے والے وہ یورپی ’جاسوس‘ جنھوں نے کعبہ کی ابتدائی تصاویر لیں اور تلاوت کی ریکارڈنگ کی1971 میں انڈیا کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے دو جاسوس کراچی بندرگاہ تک کیسے پہنچےپشاور سے امریکی جاسوس طیارے کی سوویت یونین تک پرواز جس نے دو دشمن ممالک کو مزید تلخیوں کی طرف دھکیل دیاعید کا دن، راولپنڈی کی فضا اور دو پائلٹس کی گرفتاری: جب پاکستانی فضائیہ نے پہلی بار انڈیا کا جاسوس طیارہ مار گرایا