Getty Images
شنیل کے دو بیگ، بی ایم ڈبلیو کی ڈیلرشپ اور ایک متنازع چرچ۔ ان تینوں چیزوں کا جنوبی کوریا کی سابقہ خاتون اول کِم کیون ہی کے خلاف مقدمے میں مرکزی کردار رہا۔
وہ ملک کے سابق صدر یون سک یول کی بیوی ہیں۔ یول کو اگست میں بدعنوانی، رشوت، سٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور سیاسی مداخلت جیسے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جن کی وہ تردید کرتے ہیں۔
پراسیکیوٹرز کا الزام ہے کہ 52 سالہ کِم نے جنوبی کوریا میں بی ایم ڈبلیو کے ڈیلر ڈیوچ موٹرز کے حصص میں دھاندلی کی اور یوں انھوں نے اکتوبر 2010 سے دسمبر 2012 کے دوران ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر سے زیادہ کمائے۔
ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انھوں نے یونیفیکیشن چرچ سے قیمتی بیگز، ہیروں کا ہار اور دیگر تحائف بطور رشوت وصول کیے، جن کی مالیت 55 ہزار ڈالر سے زیادہ بنتی ہے، تاکہ انھیں کاروباری فائدہ پہنچایا جائے۔ اس کے علاوہ ان پر 2022 کے صدارتی الیکشن کے دوران بھی لین دین کا الزام لگا تھا۔
بدھ کو عدالت نے انھیں چرچ حکام سے رشوت اور تحائف لینے کے الزام میں قصوروار پایا اور انھیں 20 ماہ قید کی سزا سنائی۔
تاہم ان کے خلاف سٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور انتخابی مہم سے جڑے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔ ان کے خلاف اب بھی دو مزید کیسز زیرِ التوا ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب دو ہفتے قبل ان کے شوہر کو مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش پر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
مگر یہ پہلا بار نہیں کہ جب کِم تنازعات کی زد میں آئی ہیں۔
قابلِ اعتراض اسناد
جنوبی کوریا کی خاتونِ اوّل بننے سے پہلے کِم کیون ہی، جن کا پیدائشی نام کِم میونگ-سِن ہے، ایک کاروباری خاتون اور فنونِ لطیفہ کی شوقین تھیں۔
انھوں نے 1999 میں سوک میونگ ویمنز یونیورسٹی سے آرٹ میں ڈگری حاصل کی مگر بعد میں ان پر وہاں بطور طالبہ اپنے وقت کے دوران سرقہ کے بار بار الزامات لگے۔ تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ان کا تھیسس مشتبہ قرار دیے جانے کے بعد یونیورسٹی نے 2025 میں ان کی ڈگری منسوخ کر دی۔ کِم نے ان الزامات پر کبھی عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
2009 میں انھوں نے 'کووانا کنٹینٹس' کے نام سے ایک آرٹ ایگزیبیشن کمپنی قائم کی جس کی وہ آج بھی سی ای او اور صدر ہیں۔ مگر 2019 میں جنوبی کورین میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مبینہ طور پر انھوں نے ٹیکس چوری کی اور آرٹ نمائشوں کے بدلے مالی فائدے حاصل کیے۔
کِم، جو اب اس عہدے سے دستبردار ہو چکی ہیں، کو 2023 میں ان الزامات سے بری کر دیا گیا۔ تاہم خصوصی تفتیشی کونسل اس کیس کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے۔
پھر 2022 کے صدارتی انتخابات سے قبل، جو ان کے شوہر نے بالآخر جیتے، یہ الزامات سامنے آئے کہ کِم نے یونیورسٹیوں اور کمپنیوں کو جمع کرائی گئی درخواستوں میں جعلی تعلیمی اسناد اور اعزازات لکھے تھے جس سے نیا سکینڈل کھڑا ہو گیا۔
بعض اپوزیشن اراکین یُون پر یہ الزامات سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے تھے۔ کِم نے ان پر عوامی معذرت کی اور اپنی سی وی میں موجود معلومات کو 'مبالغہ آرائی' قرار دیا۔
انھوں نے مزید وعدہ کیا کہ اگر ان کے شوہر صدر منتخب ہوئے تو وہ 'صرف اپنے شوہر کی شریکِ حیات کے کردار پر توجہ دیں گی۔'
تاہم اپنی اسی حیثیت میں ان کا طرزِ عمل وہی ہے جس نے سب سے شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔
100 روپے رشوت لینے کا ملزم 39 سال بعد باعزت بری، ’انصاف ملا مگر بیوی چلی گئی، سب کچھ کھو دیا‘قطر گیٹ، نتن یاہو اور خفیہ ادارے کا سربراہ: رشوت اور فراڈ کا سکینڈل جس نے اسرائیل میں کھلبلی مچا دیکراچی ’ہائی سوسائٹی‘ کا سکینڈل جو ایک پراسرار موت پر ختم ہواوہ سکینڈل جس پر فلم سٹوڈیو نے ایک لیب ٹیکنیشن کو سٹار بنا دیاہینڈ بیگ سکینڈل
2023 کے آخر میں خفیہ کیمرے کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ستمبر 2022 میں سیول کے ایک دفتر میں کِم کو ایک لگژری ہینڈ بیگ دیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو پادری چوئے جے یونگ نے اپنی گھڑی میں چھپے کیمرے سے خفیہ طور پر ریکارڈ کی تھی۔ ویڈیو سامنے آنے پر کِم اور یُون دونوں پر عوامی تنقید مزید بڑھ گئی۔
فوٹیج میں بظاہر دکھایا گیا کہ چوئے ایک سٹور میں جا کر سرمئی مائل نیلے رنگ کا بچھڑے کی کھال سے بنا بیگ خریدتے ہیں، جس کی رسید میں قیمت قریب 2200 ڈالر درج ہے۔ اس کے بعد چوئے 'کووانا کنٹینٹس' کے دفتر جاتے ہیں جہاں کِم پادری سے کہتی ہیں کہ 'آپ مجھے یہ چیزیں بار بار کیوں لا کر دیتے رہتے ہیں؟'
جنوبی کوریا کے قانون کے مطابق سرکاری افسران اور ان کے شریک حیات کے لیے ایک وقت میں 10 لاکھ وون سے زیادہ کا تحفہ یا مالی سال میں مجموعی طور پر 30 لاکھ وون سے زیادہ کے تحائف وصول کرنا غیر قانونی ہے۔
اگرچہ ویڈیو میں واضح طور پر یہ دکھایا نہیں گیا کہ کِم نے بیگ وصول کیا، مگر کوریا ہیرالڈ نے اس وقت رپورٹ کیا تھا کہ صدارتی دفتر نے بیگ کے موصول ہونے کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ 'حکومتی ملکیت کے طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔'
صدارتی دفتر نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی موقف نہیں دیا جس سے تنازع مزید بھڑک اٹھا۔ شہری تنظیموں نے اینٹی گرافٹ ایکٹ کی ممکنہ خلاف ورزی پر پراسیکیوٹرز کے پاس شکایات بھی جمع کرائیں۔
یہ 16 الزامات میں سے ایک تھا جن کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے چھان بین کی۔ ان میں سے 12 کیسز کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔
بدھ کے فیصلے میں توجہ ان الزامات پر رہی کہ کِم نے یونیفیکیشن چرچ سے رشوتیں اور تحائف لیے۔ وہ ڈیوچ موٹرز کے حصص میں ہیرا پھیری اور الیکشن میں مداخلت میں بھی شامل تھیں۔
کِم نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ انھیں شنیل کے کچھ بیگ ملے تھے مگر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وہ استعمال کیے بغیر واپس کر دیے تھے۔
گذشتہ ماہ پراسیکیوٹرز نے ان کے لیے 15 سال قید اور 20 کروڑ وون جرمانے کی سزائیں تجویز کی تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ کِم نے 'قانون سے بالاتر ہو کر رویہ اختیار کیا' اور یونیفیکیشن چرچ کے ساتھ ملی بھگت سے 'ریاست اور مذہب کی آئینی علیحدگی کو نقصان پہنچایا۔'
Getty Imagesبے توقیری
اگرچہ کِم کے متعدد سکینڈلز نے ان کے شوہر کے سیاسی کیریئر پر دباؤ ڈالا مگر یُون خود ہی اپنی بے توقیری کا باعث بنے۔
16 جنوری کو یُون کو اختیارات کے ناجائز استعمال، دستاویزات میں جعل سازی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا مجرم قرار دیا گیا۔ انھوں نے 2024 میں ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ انھیں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔
یہ یُون کے مارشل لا فیصلے سے جڑے چار مقدمات میں سے پہلا فیصلہ تھا۔ اگرچہ مارشل لا کا اعلان مختصر عرصے کے لیے تھا مگر اس نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی، احتجاج شروع ہو گئے اور قانون ساز یُون کے فیصلے کو کالعدم کرانے کے لیے اسمبلی کی طرف دوڑ پڑے۔
فیصلہ سناتے ہوئے جج نے کہا کہ یُون کی کارروائیوں نے ملک کو 'سیاسی بحران میں دھکیل دیا' اور یہ کہ انھوں نے 'مسلسل کسی قسم کی ندامت ظاہر نہیں کی۔'
یُون کی اس ناکام مارشل لا کوشش پر ہونے والی ایک سالہ تفتیش کے دوران ہی خصوصی پراسیکیوٹرز نے کِم کے خلاف لگنے والے متعدد الزامات کی بھی تحقیقات شروع کیں۔
یہ بااثر جوڑا اب تاریخ رقم کر چکا ہے۔ جنوبی کوریا میں سابق صدور پر مقدمات اور سزائیں نئی بات نہیں مگر یُون اور کِم پہلی جوڑی ہیں جن میں سابق صدر اور سابق خاتونِ اول دونوں کو قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
کڑھائی والے پرس اور بُرج پر بے وفائی: فرانس کا شاہی سکینڈل جو انگلستان کے ساتھ سو سالہ جنگ کی وجہ بناوہ سکینڈل جس پر فلم سٹوڈیو نے ایک لیب ٹیکنیشن کو سٹار بنا دیاکراچی ’ہائی سوسائٹی‘ کا سکینڈل جو ایک پراسرار موت پر ختم ہواhttps://www.bbc.com/urdu/articles/cvgmrv8n7j2oقطر گیٹ، نتن یاہو اور خفیہ ادارے کا سربراہ: رشوت اور فراڈ کا سکینڈل جس نے اسرائیل میں کھلبلی مچا دی