Getty Imagesپاکستان کرکٹ ٹیم نے سنہ 2009 میں ٹی 20 ورلڈ کپ میں کامیابی حاصل کی تھی
سنہ 2007 کا ٹی 20 ورلڈ کپ شروع ہوا تو پاکستان اس سے پہلے کچھ ٹی 20 میچز کھیل کر اس چھوٹے فارمیٹ میں اپنی صلاحیت کی دھاک بٹھا چکا تھا۔ یہ وہ فارمیٹ تھا جسے اُس وقت بعض ماہرین ’پاکستان کا فارمیٹ‘ قرار دیتے تھے۔
یہ وہ دور تھا، جب پاکستان کے بلے بازوں سے یہ شکایت رہتی تھی کہ وہ کریز پر زیادہ ٹھہرنے کے بجائے تیز رفتاری سے رنز بنانے کی کوشش میں اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔
شاہد آفریدی اور عمران نذیر ون ڈے کرکٹ میں دھواں دار بیٹنگ کے لیے مشہور تھے جبکہ لوئر آرڈر میں عبدالرزاق ایک مستند آل راونڈر کے طور پر اپنی پہچان بنا چکے تھے۔ ایسے میں یہ فارمیٹ ان بلے بازوں کے لیے موزوں ثابت ہوا۔
ستمبر 2007 میں جنوبی افریقہ میں پہلے ٹی 20 ورلڈ کپ کا آغاز ہوا تو اسی برس ون ڈے ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں ہی باہر ہونے والی پاکستانی ٹیم ایک الگ ہی رنگ میں نظر آئی۔
عمران نذیر، شاہد آفریدی، مصباح الحق، سلمان بٹ، شعیب ملک، کامران اکمل اور محمد حفیظ جیسے بلے بازوں جبکہ عمر گل، محمد آصف، سہیل تنویر اور یاسر عرفات جیسے بولرز نے حریف ٹیموں کو مشکل میں ڈالے رکھا اور پاکستان کی ٹیم آسانی سے نیوزی لینڈ کو سیمی فائنل میں شکست دے کر فائنل میں پہنچ گئی، جہاں اس کا مقابلہ روایتی حریف انڈیا کے ساتھ تھا۔
پاکستان کے فائنل تک کے سفر کی خاص بات شاہد آفریدی کی بولنگ، عمر گل کے یارکرز، محمد آصف کی سیم بولنگ اور عمران نذیر کی دھواں دار اوپننگ بلے بازی تھی۔
فائنل میں بھی مصباح الحق میچ آخری اوور تک لے گئے، لیکن پاکستان یہ میچ صرف پانچ رنز سے ہار گیا۔ پاکستان کی اس فارمیٹ میں کارکردگی ہی تھی جس نے شاہد آفریدی کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا حقدار ٹھہرایا۔ اُنھوں نے 12 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی ٹیم یہ ٹائٹل تو اپنے نام نہ کر سکی لیکن اس کے دو برس بعد انگلینڈ میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان نے یونس خان کی قیادت میں پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے نام کیا۔
یہ وہی یونس خان تھے جنھوں نے اس ایونٹ کے پہلے میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد کہا تھا کہ ٹی 20 کرکٹ محض ایک تفریح ہے۔
یونس خان نے کہا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیم عالمی مقابلے کے سپر ایٹ مرحلے تک نہیں پہنچتی ہے تو یہ دُکھ کی بات تو ہوگی لیکن وہ ٹی ٹوئنٹی کو کبھی بھی بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
پاکستان میں ان کے اس بیان کا شدید ردعمل سامنے آیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس بیان پر خوش نہیں تھا جبکہ متعدد سابق کرکٹرز نے اس بیان کو شائقین کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف قرار دیا۔
یونس خان نے بعد میں اپنے اس بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے یہ بات ٹورنامنٹ کے دوران اپنے کھلاڑیوں پر سے دباؤ ہٹانے کے لیے کہی تھی۔
Getty Imagesعمر گل کا شمار اپنے وقت کے بہترین ڈیتھبولرز اور یارکر سپیشلسٹ کے طور پر ہوتا تھا
پاکستان نے سنہ 2010 کے ٹی 20 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل کی، جہاں سیمی فائنل میں مائیکل ہسی کے چھکوں نے ایک یقینی فتح پاکستان سے چھین لی۔
سنہ 2012 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی ٹیم نے سیمی فائنل تک ضرور رسائی حاصل کی، لیکن اس کے بعد پاکستان ٹی 20 فارمیٹ میں جیسے راستہ بھٹک گیا۔
پاکستان کی ٹیم سنہ 2014 اور 2016 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل نہ کر سکی۔
2021 کا ورلڈ کپ پاکستان کے لیے اچھا رہا اور ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی، لیکن 2024 کے ورلڈ کپ میں بھی پاکستان پہلے راؤنڈ سے باہر ہوا اور اسے گروپ میچ میں امریکہ سے شکست کی ہزیمت بھی اُٹھانا پڑی۔
اب صورتحال یہ ہے کہ ایک وقت میں ٹی 20 فارمیٹ میں نمبر ون پوزیشن پر براجمان رہنے والی پاکستان کی کرکٹ ٹیم عالمی ٹی 20 رینکنگ میں چھٹے نمبر پر ہے۔
پاکستان اس فارمیٹ کے آغاز میں دوسری ٹیموں سے آگے کیوں تھا اور بعد میں پیچھے کیوں رہ گیا؟ سنہ 2009 کے بعد پاکستان کوئی ٹی 20 ورلڈ کپ کیوں نہیں جیت پایا؟ ان عوامل اور پاکستان کی اس فارمیٹ میں تنزلی پر بی بی سی نے پاکستان ٹیم کے سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں سے بات کی ہے۔
انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پاکستان کے ٹی20 ورلڈ کپ سکواڈ میں ’خوش قسمت بابر‘ شامل اور حارث رؤف ٹیم سے باہر: ’بے خوف ہو کر کرکٹ کھیلنا ہو گی‘92 کا ورلڈ کپ: ʹایک سینیئر نے مجھے گالیاں دیں اور کہا تم سفارش سے آئے ہو ʹ1999 کا ورلڈ کپ فائنل: جب دنیا دھندلا گئی، خواب ٹوٹ گئے’ہمیں گلی محلوں میں کھیلی جانے والی ٹیپ بال کرکٹ کا فائدہ ہوا‘
پاکستان کے لیے سنہ 2007، 2009 اور 2014 کا ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے والے سہیل تنویر کا شمار پاکستان کے مستند آل راونڈرز میں ہوتا تھا۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل تنویر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹی 20 فارمیٹ میں ابتدائی کامیابیوں کی بڑی وجہ ٹیپ بال کرکٹ تھی، پاکستان کے گلی محلوں میں یہ کھیلی جاتی تھی۔
’ہماری انڈسٹری ٹیپ بال کرکٹ ہے۔ ہمارے گراس روٹ لیول سے 90 فیصد کھلاڑی ٹیپ بال کرکٹ، سٹریٹ کرکٹ اور پھر ڈومیسٹک کرکٹ کی طرف جاتے ہیں۔ تو ٹیپ بال کرکٹ میں بولنگ اور بیٹنگ پاکستان کی کامیابی کا ایک بڑا فیکٹر تھا۔ کیونکہ باقی دُنیا میں ٹیپ بال کرکٹ نہیں ہوتی تھی۔‘
سہیل تنویر کہتے ہیں کہ 2007 کے ورلڈ کپ سکواڈ میں شامل اُن سمیت کئی کھلاڑی ٹیپ بال کرکٹ کھیلتے رہے تھے اور جب یہ 20 اوورز کی کرکٹ میں آئے تو ان کے لیے یہ فارمیٹ شناسا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹیپ بال کرکٹ میں کلائیوں کے استعمال سے پاور ہٹنگ اور بولنگ میں یارکرز اور سلو بال کا رجحان زیادہ تھا، اور اُن سمیت عمر گل جیسے بولرز نے جب یہ ہنر ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ میں آزمائے تو دیگر ٹیموں کے لیے رنز بنانا مشکل تھا۔
Getty Images’ہماری ٹیم میں ہر کوئی میچ ونر تھا‘
سنہ 2009 میں فاتح ٹی 20 ٹیم کے رکن کامران اکمل کہتے ہیں کہ اُس دور میں ٹیم میں خصوصیت یہ تھی کہ کھلاڑی ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے تھے۔
بی بی سی سے گفتگو میں اُن کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کا انتخاب بھی ٹی 20 فارمیٹ کے تقاضوں کے مطابق کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم اس فارمیٹ میں بہت اچھا کھیلتی تھی۔
’ہم 2007 کا فائنل کھیلے، 2009 میں ہم ورلڈ کپ جیتے، 2010 کا سیمی فائنل کھیلے۔ ہماری ٹیم میں ہر کوئی میچ ونر تھا۔ ہر کوئی جان لڑاتا تھا۔‘
کامران اکمل کہتے ہیں کہ اس فارمیٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی تنزلی کی وجہ یہ ہے کہ اب کھلاڑیوں کو سکروٹنی کے بغیر ایک یا دو میچز کی بنیاد پر ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
’اگر کوئی پی ایس ایل میں ایک اچھا میچ کھیل جائے، کوئی بولر وہاں زیادہ وکٹیں لے لے، اسے براہ راست پاکستان ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ حالانکہ 2006 یا 2007 میں جب ٹی 20 کرکٹ شروع ہوئی تو اُس وقت پاکستان ٹیم میں شامل کھلاڑی بین الاقوامی کرکٹ اور ڈومیسٹک میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔‘
کامران اکمل کے بقول سنہ 2012 سے پہلے کی ٹیم بعد کی پاکستان کی ٹی 20 ٹیم سے بہت مختلف تھی، وہ ایک ٹیم کے طور پر کھیلتی تھی۔ اُس ٹیم میں انفرادی کارکردگی کے بجائے پوری ٹیم کی کارکردگی کو زیادہ اہمیت ملتی تھی۔
’پھر پسند ناپسند آ گئی، اگر کسی کی شکل پسند نہیں ہے تو اُسے ٹیم سے نکال دو، فارم نہ ہونے کے باوجود کئی کھلاڑیوں کو مسلسل کھلایا گیا، تو اس کا لامحالہ اثر ٹیم کی کارکردگی پر پڑنا تھا۔‘
Getty Imagesتو پھر پاکستان باقی دنیا سے پیچھے کیوں رہ گیا؟
سہیل تنویر کہتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقی دنیا نے بھی ٹی 20 کرکٹ کو سنجیدہ لینا شروع کر دیا۔
اُن کے بقول وہاں سسٹم بنائے گئے، انگلینڈ، آسٹریلیا جیسے ممالک میں چونک سسٹم بہت مضبوط ہے تو اس کا اُنھیں فائدہ ہوا اور اُنھوں نے ٹی 20 فارمیٹ پر بھی کام شروع کیا۔
’انھوں نے نیچے تک پیغام بھیجا کہ اب کرکٹ بدل رہی ہے اور ہم نے اس سے ہم آہنگ ہونا ہے تو پھر انھوں نے اس پر کام شروع کیا، لیکن پاکستان نے بدلتے ہوئے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کیا۔‘
اُن کے بقول اب پاکستان کے گلی محلوں میں بھی ٹیپ بال کرکٹ کا رجحان کم ہو رہا ہے اور وہاں اتنی کرکٹ نہیں کھیلی جاتی، جتنی پہلے کھیلی جاتی تھی۔
’باقی ٹیموں نے پاور ہٹنگ اور بولنگ میں نئی تبدیلیاں متعارف کرائیں اور وہ اس فارمیٹ میں آگے نکل گئے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ محدود اوورز کی کرکٹ میں مہارت پر کام کیا جاتا ہے، چاہے وہ پاور ہٹنگ ہو، سلو باؤنسر ہو یا اس طرح کی دیگر ورائٹیز ہر چیز پر کام ہوتا ہے۔
سہیل تنویر کہتے ہیں کہ پاکستان کی گذشتہ چھ ماہ کی ٹی 20 کی کارکردگی حوصلہ افزا ہے اور اُمید کی جانی چاہیے کہ ورلڈ کپ میں پاکستان کو فائدہ ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کا سپن کا شعبہ بہت اچھا ہے اور خاص طور پر عثمان طارق کو سکواڈ میں شامل کرنے کا فیصلہ بہترین ہے۔ شاداب کے آنے سے ٹیم میں توازن آیا ہے۔ لہذا سری لنکا کی کنڈیشنز کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان کو اس کا فائدہ ہو سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ جہاں 170 رنز تک کا ہدف ہو تو وہ پاکستان کے لیے نسبتاً آسان ہو گا، لیکن جہاں ہدف 200 تک جائے گا تو یہ پاکستان کے لیے اب بھی بہت مشکل ہے۔
Getty Imagesعمران نذیر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اُس وقت جارحانہ بیٹنگ کرتے تھے، جب باقی بلے باز بہت پیچھے تھے’پاکستان میں بہت پہلے سے ٹی 20 کرکٹ ہو رہی تھی‘
ڈیٹا اینالسٹ عظیم صدیقی کہتے ہیں کہ جس دور میں ٹی 20 فارمیٹ کا آغاز ہوا، اُس وقت پاکستان، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز جیسی ٹیموں کی کارکردگی مسلسل نیچے آ رہی تھی۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ یہی وجہ تھی کہ پاکستان کے لیے یہ فارمیٹ ایک غنیمت تھا اور اس نے اس وقت اس سے بھرپور فائدہ اُٹھایا۔
اُن کے بقول دوسری طرف آسٹریلیا، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں اُس وقت ٹی 20 فارمیٹ کو سنجیدہ نہیں لے رہی تھیں۔
’جب آسٹریلیا کی ٹیم 2007 میں ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے جنوبی افریقہ آئی تو اس کے چند کھلاڑیوں نے کہا تھا کہ ہم یہاں صرف اس فارمیٹ سے لطف اندوز ہونے آئے ہیں۔ یعنی وہ صرف یہاں انجوائے کرنے آئے تھے اور اُن کو اس ورلڈ کپ کی اہمیت کا زیادہ ادراک نہیں تھا۔‘
اُن کے بقول یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے اس صورتحال سے فائدہ اُٹھایا، کیونکہ ہمارے پاس اُس دور میں شاہد آفریدی، عمران نذیر، محمد حفیظ، شعیب ملک، مصباح الحق، خالد لطیف، احمد شہزاد، کامران اکمل اور عبدالرزاق جیسے کھلاڑی تھے، جو ون ڈے کرکٹ اچھی کھیلتے تھے۔ لہذا انھیں چھوٹے فارمیٹ سے ہم آہنگ ہونے میں زیادہ مسئلہ نہیں ہوا۔
Getty Images
عظیم صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان کی کامیابی کی ایک اور وجہ یہاں بہت پہلے سے ٹی 20 کرکٹ کا ہونا تھا۔
اُن کے بقول پاکستان میں رمضان ٹورنامنٹس ہوتے تھے اور اس کے بعد ایک نجی بینک کے تعاون سے ٹی 20 کپ ہونے لگا، جس میں پاکستان کے قومی کرکٹرز باقاعدگی سے حصہ لیتے تھے۔ اسی طرح پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی متنازع انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل) کا بھی حصہ بنے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ جب دوسری ٹیموں کو یہ ادراک ہوا کہ اب کرکٹ میں پیسہ اس فارمیٹ سے ہی آ رہا تھا اور پھر انھوں نے اس فارمیٹ پر توجہ دینا شروع کی، اس میں سائنس اور ڈیٹا سے مدد لی گئی اور نئی ٹیمیں بنائی گئیں اور یہی وجہ تھی کہ پاکستان آہستہ آہستہ پیچھے آنے لگا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ کے ذریعے ابتدائی دو، تین سیزنز میں پاکستان کو نیا ٹیلنٹ ملا، حارث رؤف، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان جیسے کھلاڑی پی ایس ایل نے ہی دیے۔
’جب تک یہ ٹورنامنٹ متحدہ عرب امارات میں کھیلا جاتا تھا تو وہاں اچھے غیر ملکی کھلاڑی آ جاتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے کرکٹرز کو اُن کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے کا موقع ملا۔ لیکن پی ایس ایل کے گذشتہ چار پانچ سیزنز میں اس لیگ کا معیار بھی نیچے آیا ہے۔‘
کامران اکمل بھی عظیم صدیقی سے اتفاق کرتے ہیں، اُن کے بقول آئی پی ایل کی وجہ سے ہی آج انڈیا کی ٹی 20 ٹیم پہلے نمبر پر ہے۔
اُن کے بقول اگر پاکستان کو پی ایس ایل سے فائدہ ہو رہا ہوتا تو پاکستان کی ٹیم اس فارمیٹ میں ساتویں یا آٹھویں نمبر تک نہ جاتی۔
کامران اکمل کہتے ہیں کہ جب پی ایس ایل کو میرٹ بنا کر ٹی 20 ٹیم بنائی جاتی ہے تو پھر نتائج سامنے آ جاتے ہیں، پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کی ٹیم ایک اوسط درجے کی ٹیم کے خلاف کیسا کھیلتی ہے اور ایک ٹاپ رینک ٹیم کے خلاف اس کی کارکردگی کیسی ہوتی ہے۔
سابق وکٹ کیپر بلے باز کے مطابق پاکستان نے ٹی 20 سیریز میں آستریلیا کو شکست دی ہے، جس سے اُمید ہے کہ ورلڈ کپ میں ٹیم اچھا پرفارم کرے گی۔
اُن کے بقول آسٹریلیا کی ٹیم میں اُن کے پانچ، چھ بڑے کھلاڑی نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود آسٹریلیا کی ٹیم کو شکست دینے سے اعتماد ملتا ہے، جو پاکستان کو ورلڈ کپ میں فائدہ دے گا۔
ٹی 20 ورلڈکپ 2009: سخت گیر کپتان، ٹیم میں اختلافات اور ایک ناقابل یقین فتحʹلوگ کہتے ہیں ہروا دیا کوئی یہ نہیں کہتا میچ آخری اوور تک میں ہی لایا تھاʹوہ رن جو یونس خان نے اپنی ذات کے لیے نہیں، پاکستان کے لیے بنایامائیکل ہسی کے وہ چھکے جن کے بعد غیر تو غیر گھر والے بھی سعید اجمل کے لیے بدل گئےبڑے کپتان کے پاس بڑا کھلاڑی تھا