پاکستان سپر لیگ کے عالمی میڈیا رائٹس کی فروخت میں ’انڈین خطے کو شامل نہیں کیا گیا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

Getty Images

پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے 11ویں ایڈیشن کے میچز کی نشریات کے لیے انٹرنیشنل میڈیا رائٹس کی فروخت ہوئی ہے جس میں انڈین خطے کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ویب سائٹ پر منگل کے روز جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے انٹرنیشنل میڈیا رائٹس کی فروخت میں ’149 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا‘۔ مگر والی ٹیکنالوجیز کے ساتھ ہونے والے ایک سالہ معاہدے میں پی ایس ایل کے میچز کی نشریات کے لیے انڈین خطے کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ اس بار انڈین چینلز کو پی ایس ایل کی نشریات کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔ پی سی بی کا کہنا ہے کہ ’والی ٹیکنالوجیز نے پی سی بی کی مقررہ ریزرو قیمت سے بھی زیادہ بولی لگائی۔‘ بورڈ نے یہ نہیں بتایا کہ گلوبل میڈیا رائٹس کتنے میں فروخت ہوئے ہیں۔

سی ای او پی ایس ایل سلمان نصیرکے مطابق انٹرنیشنل میڈیا رائٹس میں 149 فیصد اضافہ پی ایس ایل پر دُنیا کے اعتماد کا عکاس ہے۔ پی ایس ایل کی مسابقتی اور معیاری کرکٹ نے دنیا بھر کے شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ نئے معاہدے نے لیگ کی بزنس گروتھ پر ہمارے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔‘

دوسری جانب ولی ٹیکنالوجیز کے سی ای او احسن طاہر نے کہا کہ ’یہ ہر اُس پاکستانی کی کامیابی ہے جو ’میڈ اِن پاکستان‘ ٹیکنالوجی پر یقین رکھتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ تو صرف ہماری ایچ بی ایل پی ایس ایل کے سفر کی شروعات ہے۔ ہمارے پاس بہت سے منصوبے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ سب لوگ ولی کے آئندہ اقدامات کا انتظار کریں۔‘

Getty Imagesگذشتہ سال پہلگام حملے کے بعد انڈیا میں پی ایس ایل کے میچز کی نشریات روک دی گئی تھی

یاد رہے کہ گذشتہ سال اپریل کے دوران انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں شدت پسندوں کے حملے کے بعد نشریاتی پلیٹ فارمز فین کوڈ اور سونی سپورٹس انڈیا نے پی ایس ایل کے میچز کی نشریات معطل کر دی تھی۔

سنہ 2024 میں پی سی بی نے سونی پکچرز نیٹ ورکس انڈیا کے ساتھ تین سالہ معاہدہ کیا تھا کہ جس کے تحت پاکستان کی تمام ہوم انٹرنیشنل سیریز اور پاکستان سپر لیگ کی نشریات دکھائی جانی تھیں۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

اس پیشرفت پر انڈیا میں بعض سوشل میڈیا صارفین نے بھی تبصرے کیے ہیں۔

انڈیا سے جیتن یادو نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’سونی سپورٹس نیٹ ورک (انڈیا) پی ایس ایل 2026 کے میڈیا رائٹس نہیں خریدے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ پی ایس ایل 2026 یوٹیوب پر براہِ راست بس چند ڈالرز کے عوض دیکھا جا سکتا ہے۔‘

جتین نے ایکس پر اپنی پوسٹ کے اختتام پر لکھا کہ ’انڈیا میں کوئی پی ایس ایل نہیں دیکھتا۔‘

سمیر نامی ایک اور انڈین ایکس صارف نے لکھا کہ ’انڈیا کا کوئی بھی چینل پی ایس ایل دکھانے کے رائٹس خریدنا ہی نہیں چاہتا اور نہ ہی انڈیا میں کوئی پی ایس ایل کو دیکھنا چاہتا ہے۔‘

اسی طرح اینوپ پال نے ایک پر لکھا کہ ’اگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انڈیا کو براڈ کاسٹنگ رائٹس نہیں دیے تو اس میں انڈیا کا نہیں بلکہ پی سی بی کا نقصان ہے۔‘

پی ایس ایل 11: نیلامی کے طریقہ کار کا اعلان، پاکستانی روپے میں ادائیگی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں اضافہسیالکوٹ کو ’کرکٹ ٹیم کا تحفہ‘ اور حیدر آباد میں ’سٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ‘: پی ایس ایل کی دو نئی ٹیموں کے مالکان کون ہیں؟پاکستان نے ٹی20 سیریز میں آسٹریلیا کو کلین سویپ کردیا: محمد نواز کی پانچ وکٹیں اور ’بابر اعظم ورلڈ کپ کے لیے مکمل تیار‘سرفراز احمد کی انڈر 19 میچ کے دوران فون استعمال کرنے کی تصویر پر شورسٹیو سمتھپی ایس ایل 11 کے لیے سیالکوٹ سٹالیئنز کے سکواڈ میں شامل

پاکستان سپر لیگ 11 کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی کی تقریب 11 فروری کو ہو گی لیکن سیالکوٹ سٹالیئنز نے سٹیو سمتھ کو ’ڈائریکٹ سائننگ‘ کا طریقۂ کار کا استعمال کرتے ہوئے پہلے ہی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ ادھر کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن کے لیے بالترتیب چار اور تین کھلاڑیوں کو ’ریٹین‘ کرنے یا نیلامی کے لیے پیش نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

خیال رہے پی ایس ایل انتظامیہ نے رواں برس پی ایس ایل کے سیزن 11 کے لیے کئی نئی تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں اور انڈین پریمیئر لیگ کی طرز پر پہلی مرتبہ کھلاڑیوں کی نیلامی کا طریقہ کار متعارف کرایا ہے۔

پاکستان سپر لیگ کے اب تک کھیلے جانے والے 10 سیزنز میں کھلاڑیوں کا انتخاب پلیئرز ڈرافٹ کے طریقہ کار کے تحت کیا جاتا تھا لیکن اب کھلاڑیوں کے لیے بیس پرائس مقرر کر کے آئی پی ایل کی طرز پر اُن کی نیلامی کی جائے گی۔

Getty Imagesسیالکوٹ سٹالینز نے سٹیو سمتھ کو 'ڈائریکٹ سائننگ' کے طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم میں شامل کیا ہے

پی ایس ایل انتظامیہ نے ہر فرنچائز کو کسی بھی ایسے غیر ملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی اجازت دی ہے، جو پی ایس ایل 10 کا حصہ نہیں تھا اور کہا تھا کہ اس کے ذریعے ٹیموں کو نئے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے علاوہ اپنے سکواڈز کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

سیالکوٹ سٹالیئنز نے اسی آپشن کا استعمال کرتے ہوئے سٹیو سمتھ کی خدمات ٹیم کے لیے حاصل کی ہیں۔ اس سے قبل سیالکوٹ کی ٹیم نے آسٹریلیا کے سابق کپتان ٹم پین کو ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کیا تھا۔

ٹیم انتظامیہ کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ سٹیو سمتھ سے معاہدے کی رقم کیا ہے لیکن پی ایس ایل کے نئے قواعد و ضوابط کے مطابق ہر ٹیم کے پاس نیلامی میں کھلاڑیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے 45 کروڑ روپے ہوں گے تاہم ڈائریکٹ سائننگ کے لیے وہ مزید پانچ کروڑ پچاس لاکھ روپے کا استعمال کر سکتے ہیں۔

سابق آسٹریلوی کپتان سٹیو سمتھ کسی تعارف کے محتاج نہیں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان کے مداحوں کی تعداد کروڑوں نہ سہی تو لاکھوں میں تو ضرور ہو گی۔

یہی وجہ ہے کہ پی ایس ایل میں پہلی بار ان کی شمولیت پر پاکستانی کرکٹ شائقین خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔

سیالکوٹ سٹالینز نے خود اسے ’پی ایس ایل کی تاریخ کی بڑی سائننگ‘ قرار دیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر محمد شہزاد اعجاز نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’سٹیو سمتھ کو سٹالینز کے رنگ میں دیکھنا شائقین کے لیے خواب ہے۔‘

’اس معاہدے سے سب کچھ بدل جائے گا اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ایس ایل اب ایک بین الاقوامی ایونٹ بن چکا ہے۔‘

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’سٹیو سمتھ جیسے لیجنڈ کو لا کر سٹالینز نے سب کو ہلا دیا۔‘

ایک اور ایکس صارف کہتے ہیں کہ ’آپ ان سے پیار کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں سٹیو سمتھ ایک میچ وِنر ہیں اور اب پی ایس ایل 2026 میں مقابلہ مزید سخت ہو گا۔‘

سٹیو سمتھ دنیا بھر میں کرکٹ کھیل چکے ہیں اور ان کا شمار جدید کرکٹ کے بڑے ناموں میں ہوتا ہے۔ وہ دنیا کی بڑی ٹی 20 لیگز میں اپنی بیٹنگ کا جادو جگاتے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ بگ بیش لیگ، دا ہنڈرڈ، انڈین پریمیئر لیگ، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ اور کیریبیئن کرکٹ لیگ بھی کھیل کھیل چکے ہیں۔

اپنے ڈومیسٹک اور فرنچائز ٹی 20 کریئر میں انھوں نے اب تک 272 میچ کھیلے ہیں، جن میں انھوں نے 131 سے زیادہ کے سٹرائیک ریٹ سے 6242 رنز بنائے ہیں جن میں 30 نصف سنچریاں اور پانچ سنچریاں بھی شامل ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے بِگ بیش لیگ کا 15واں سیزن سڈنی سکسرز کے لیے لیے کھیلا تھا، جہاں انھوں نے چھ میچوں میں 167 سے زیادہ کے سٹرائیک ریٹ سے 299 رنز بنائے تھے۔ اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے ایک سنچری اور دو نصف سنچریاں بھی بنائی تھیں۔

کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے کن کھلاڑیوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے؟

پی ایس ایل کی دو ٹیموں اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز نے منگل کو 11ویں سیزن کے لیے ’ریٹین‘ کیے جانے یا نیلامی کے لیے دستیاب نہ ہونے والے کھلاڑیوں کا اعلان کیا ہے۔

کراچی کنگز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ حسن علی، خوشدل شاہ، سعد بیگ اور عباس آفریدی پی ایس ایل 11واں سیزن بھی اسی فرنچائز سے کھیلیں گے۔

دوسری جانب اسلام آباد یونائیٹڈز نے بھی پی ایس ایل 11 کے لیے کپتان شاداب خان کو پلاٹینم کیٹیگری، سلمان ارشاد کو گولڈ کیٹیگری اور اندریس گوس کو سلور کیٹیگری میں سکواڈ میں برقرار رکھا ہے۔

پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی نیلامیGetty Imagesاپنے ڈومیسٹک اور فرنچائز ٹی20 کیریئر میں انھوں نے اب تک 272 میچ کھیلے ہیں

پاکستان کرکٹ بورڈ نے گذشتہ مہینے پی ایس ایل سیزن 11 میں کھلاڑیوں کے معاوضے، ٹیموں اور نیلامی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات کا اعلان کیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کی نیلامی کے لیے اس بار بھی چار کیٹیگریز رکھی گئی ہیں۔

پہلی کیٹیگری میں بنیادی معاوضہ چار کروڑ 20 لاکھ، دوسری میں دو کروڑ 20 لاکھ روپے، تیسری میں ایک کروڑ 10 لاکھ روپے جبکہ چوتھی کیٹیگری میں 60 لاکھ روپے رکھا گیا ہے۔

پی ایس ایل کے پہلے 10 سیزنز میں کھلاڑیوں کو ڈالرز میں ادائیگی کی جاتی تھی تاہم اس مرتبہ اُنھیں پاکستانی روپوں میں معاوضہ دیا جائے گا۔ نیلامی کی تقریب 11 فروری کو ہو گی۔

پی سی بی کے مطابق نیلامی کے دوران جس کھلاڑی کی بولی چار کروڑ 20 لاکھ سے شروع ہو گی، اس کے بعد ہر بولی کے دوران فرنچائز کو کم سے کم 15 لاکھ روپے کا اضافہ کرنا لازمی ہو گا۔

اسی طرح جس کھلاڑی کی بیس پرائس دو کروڑ 20 لاکھ ہو گی، اس میں ہر بولی کے دوران پانچ لاکھ جبکہ ایک کروڑ 10 کروڑ والے کرکٹر کی بولی بڑھانے کے لیے کم از کم ڈھائی لاکھ روپے بڑھانا ہوں گے۔

ہر سکواڈ میں کم سے کم 16 یا زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑی شامل کیے جائیں گے۔ سکواڈ کے حجم کے لحاظ سے غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد پانچ سے سات ہو گی۔

فرنچائز کے لیے پلیئنگ الیون میں کم از کم تین اور زیادہ سے زیادہ چار غیر ملکی کھلاڑیوں کو کھلانا لازمی ہو گا۔

ٹیموں کے لیے سکواڈ میں کم از کم دو انڈر 23 کھلاڑی اور پلیئنگ الیون میں ایک کھلاڑی کو شامل کرنا ہو گا۔

کرکٹ میں ’سیاست اور پیسے کی کہانی‘: ٹی 20 ورلڈ کپ کے بحران میں آئی سی سی بے بس کیوں ہے؟انڈیا کے خلاف میچ سے دستبرداری کا پاکستان کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سفر پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟کروڑوں کا کمرشل ٹائم اور اربوں کی سرمایہ کاری: ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟پی ایس ایل 11: نیلامی کے طریقہ کار کا اعلان، پاکستانی روپے میں ادائیگی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو راغب کرنے کے لیے بجٹ میں اضافہملتان سلطانز کی نیلامی کے اشتہار پر علی ترین کا طنز: ’جب آپ کی ایکس کی دوبارہ شادی ہو رہی ہو‘وہ ’خفیہ ہتھیار‘ جس کی مدد سے مچل سٹارک نے وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More