ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات رواں ہفتے ترکی کے شہر استنبول میں متوقع ہیں اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد کو بھی ان مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ مذاکرات ترکی میں جمعے کو ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ان مذاکرات کی تاحال تصدیق نہیں کی گئی ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ اس بات چیت میں اس کی نمائندگی کون کرے گا۔
تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی برائے مشرقِ وسطیٰ سٹیو وٹکوف اور دیگر حکومتی شخصیات ان مذاکرات میں شامل ہوں گی۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کو ’خطے کے دوست ممالک کی درخواست پر‘ امریکہ سے مذاکرات کی اجازت دے دی ہے۔
عباس عراقچی بھی امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ انھیں ’اعتماد ہے کہ ہم ایک معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں۔‘
ان مذاکرات میں پاکستان کا کردار کیا ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے امریکہ اور ایران ان مذاکرات کے ذریعے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
Getty Imagesحکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں شرکت کریں گےامریکہ اور ایران مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا؟
امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور پچھلے برس امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر میزائل حملے کیے تھے۔
حالیہ دنوں میں امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر متعدد مرتبہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آئے اور یہ بھی کہا کہ امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔
Getty Imagesتجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں دعوت پاکستان کی علاقائی اہمیت کو واضح کرتا ہے
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کا بھی عندیہ دیا تھا۔
ابھی تک ایران یا امریکہ کی جانب سے بات چیت کا ایجنڈا تو شیئر نہیں کیا گیا۔ تاہم پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنا ہے۔
تاہم ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک جوہری معاہدے کے حصول کے اردگرد گھومتے رہے ہیں۔
اب تک امریکہ کا یہ موقف واضح رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے اور اسے ایسے کسی معاہدے کی امید ہوگی جس میں یورینیئم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ شامل ہو۔
دوسری جانب ایرانی حکام اور خود صدر مسعود پزشکیان متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے ملک نے نہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ کرے گا۔
ایرانی صدر کے مطابق ملک کا جوہری پروگرام پُرامن ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی اور ایران پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ایران پر امریکی حملہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔
ماضی میں متعدد غیرملکی تھنک ٹینکس سے منسلک رہنے والی امریکہ میں مقیم تجزیہ کار سحر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’میں امید کر رہی ہوں کہ ایران اور امریکہ کسی قسم کے معاہدے پر پہنچ جائیں جس سے ایران پر ممکنہ حملے رُک جائیں۔‘
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران سے مذاکرات کے لیے امریکہ کا طریقہ کار تناؤ کو کم کرنے کے لیے مدد گار نہیں ثابت ہو رہا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور عاصم منیر کی ملاقات: کیا ایران، اسرائیل جنگ میں پاکستان کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟کیا پاکستان کی امریکہ پالیسی واقعی کامیاب رہی ہے؟پاکستان کی امریکہ سے قربت اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ’ڈرائیونگ سیٹ‘ پر: ’ٹرمپ انھیں پسند کرتے ہیں جو وعدے پورے کریں‘ٹرمپ اور آرمی چیف عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ’غیر معمولی‘ ملاقات: ’اسے صرف ایران اور اسرائیل کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے‘
سحر خان کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی طریقہ کار بہت غیرواضح رہا ہے اور اس سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ امریکہ مذاکرات میں دلچسپی ہی نہیں رکھتا۔‘
’ایران پر امریکی حملے نہ صرف ایران کو بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔‘
’یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ کو معلوم ہو کہ ایران افغانستان نہیں ہے، نہ ہی زمین کے اعتبار سے، نہ آبادی کے اور نہ وسائل کے اعتبار سے۔ ایران عراق بھی نہیں ہے، مجھے امید ہے کہ امریکی فیصلہ ساز ان باتوں پر بھی غور کر رہے ہوں گے۔‘
نیولائنز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک کامران بخاری سمجھتے ہیں کہ ایران کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ملک میں حکومت کو بچانے کے لیے بھی امریکہ کی ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنا ضروری ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’انھیں (ایران) کو معلوم ہے کہ وہ ایک دیوار سے لگے ہوئے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ وہ ایک کمزوری کے دور سے گزر رہے ہیں اور اپنے اندرونی مسائل بھی امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچے بغیر حل نہیں کرسکتے۔‘
خیال رہے حالیہ دنوں میں ایران میں خراب معاشی صورتحال کے سبب تقریبا دو ہفتوں تک پر تشدد مظاہرے ہوتے رہے تھے۔
کامران بخاری کے خیال میں امریکہ سے مذاکرات یا کسی معاہدے کی صورت میں ایران کو معاشی طور پر اپنی سانس بحال کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور کچھ پابندیوں سے چھٹکار مل سکتا ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اب ایران اپنے جوہری عزائم پر بھی سمجھوتہ کرنے کو تیار ہو جائے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ بھی اب یہی کہہ رہی ہے کہ پہلے جوہری مسئلے پر بات کرتے ہیں اور باقی معاملات پر بعد میں گفتگو ہو سکتی ہے۔ میرے خیال میں بیک ڈور چینلز اور ثالث کاروں کے ذریعے اب ایران بھی کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم اپنی پراکسیوں کے ساتھ تعلقات پر سمجھوتا نہیں کریں گے، لیکن ہم آپ (امریکہ) کے جوہری مطالبات پر کچھ سمجھوتہ کر سکتے ہیں یا اس سمجھوتے قریب آسکتے ہیں۔‘
پاکستان ان مذاکرات میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
بین الاقوامی میڈیا پر یہ خبریں بھی چل رہی ہیں کہ پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کو ایران اور امریکہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
تاہم دعوت موصول ہونے کی سرکاری طور پر تصدیق صرف پاکستان کی طرف سے کی گئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔ تاہم ان مذاکرات میں کون شرکت کرے گا، اس حوالے سے فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم کی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ان مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کے بیچ پاکستان کا نام لیا جا رہا ہو۔
Getty Imagesصدر ٹرمپ حالیہ دنوں میں متعدد مرتبہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں
بی بی سی اردو نے گذشتہ برس فیلڈ مارشل عاصم منیر کے واشنگٹن کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ اور پاکستانی فوج کے سربراہ کے درمیان ہونے والی بات چیت کے حوالے سے امریکی دارالحکومت میں موجود ایک ذریعے سے گفتگو کی تھی۔
اس ذریعے نے پاکستان کو تصدیق کی تھی کہ اس ملاقات میں ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع پر بات چیت ہوئی تھی۔
واشنگٹن میں موجود ذریعے نے اس وقت بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ ’پاکستانی قیادت سمجھتی ہے کہ اس معاملے کا سفارتی حل نکل سکتا ہے اور اس کی جانب سے ایران کو بھی یہی پیغام دیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا درست نہیں ہوگا اور باقی معاملات سفارتی طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔‘
سابق امریکی سفارت کار اور سٹمسن سینٹر سے منسلک الزبتھ تھرلکلڈ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستانی حکام بتاتے ہیں کہ پاکستان خاموشی سے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ استنبول مذاکرات میں اس (پاکستان) کی شمولیت ایک اہم پیش رفت ہے۔
الزبتھ کہتی ہیں کہ ’استنبول میں بھی پاکستان ایک ایسے معاہدے کے لیے کام کرنا جاری رکھے گا جس سے فوجی کارروائی کا خطرہ ٹل جائے۔ اور وہ اس کے لیے تہران اور واشنگٹن سے اپنے مضبوط تعلقات کے علاوہ دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔‘
تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کو شریک کرنا ایک اچھی پیش رفت ہے۔
سحر خان کہتی ہیں کہ ’پاکستان کو ان مذاکرات میں مدعو کیا جانا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، چاہے اسے ثالث کا کردار دیا جا رہا ہو یا ایک مبصر کا۔‘
پاکستان اور ایران کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ایسے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اسلام آباد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
سحر خان کہتی ہیں کہ ’اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔‘
سنہ 2024 میں ایران اور پاکستان نے بھی ایک دوسرے کے سرحدی علاقوں میں حملے کیے تھے، لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔
Getty Imagesایران کا کہنا ہے کہ جوہری ہتھیار کا حصول کبھی اس کا مقصد نہیں رہا
سحر خان کے مطابق ’پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ان مذاکرات میں پاکستان کو مدعو کیے جانا پاکستان کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے امید ہے کہ پاکستان ایک دانشمندانہ آواز بلند کرے گا۔‘
وہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان اس خطے کے لیے اہم ہے اور امریکہ کو بھی اس اہمیت کا بھی اندازہ ہے۔
الزبتھ بھی مذاکرات میں شمولیت کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’مشرقِ وسطیٰ کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان وہ واحد ملک ہے جو ان مذاکرات کا حصہ بنے گا اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں ہونے والی پیش رفتوں میں پاکستان کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔‘
دیگر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور امریکہ مذاکرات میں پاکستان کو شمولیت کی دعوت دینا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کی علاقائی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے۔
امریکہ کے نیولائنز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک کامران بخاری کہتے ہیں کہ پاکستان ان مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دینا ’امریکہ کی نئی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنا علاقائی بوجھ دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔‘
ایران پر ممکنہ حملہ ماضی سے کیسے مختلف ہو گا اور امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟تہران میں نئی حکومت یا ’وینزویلا ماڈل‘، امریکی حملے کی صورت میں سات ممکنہ نتائجصدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے معاملے پر پیچھے کیوں ہٹے؟انقلاب ایران اور دو ہنگامہ خیز ہفتوں کی کہانی: آیت اللہ خمینی کے امریکہ سے خفیہ روابط اور ’وعدوں‘ کی روداد’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل، واکی ٹاکیز بھی تھیں‘: پاکستان آنے والے افراد نے ایران میں کیا دیکھا؟خامنہ ای کے خلاف نعرے اور ’پابندیوں کے سوداگروں‘ پر غصہ: کیا ایران میں جاری احتجاج سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے؟