کشمیر کا ’متنازع نقشہ‘ جسے امریکہ نے ’پاکستان کی درخواست پر ہٹا دیا‘

بی بی سی اردو  |  Feb 13, 2026

پاکستان کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے اس کی درخواست پر سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ سے ایک ایسی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ہے جس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’اس معاملے پر امریکی حکام سے رابطہ کیا گیا اور انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، جس کے بعد نقشے والی پوسٹ کو ہٹا دیا گیا۔‘

واضح رہے کہ پاکستان اور انڈیا کشمیر کے خطے کو اپنے اپنے ملک کا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔

دونوں ملک کشمیر پر مکمل کنٹرول کے لیے جنگیں بھی لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 21 اپریل 1948 کو ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں اس مسئلے کے حل کے لیے تین مرحلہ وار نکات تجویز کیے گئے تھے۔

دونوں ہی ممالک کو اس پر اعتراضات تھے جن کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کا ایک نیا کمیشن قائم ہوا۔ دونوں ممالک نے اس کمیشن کی قرارداد منظور کی مگر یہ کمیشن بھی معاملے کو کسی نتیجے پر نہ پہنچا سکا اور یوں یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔

تنازع کیا ہے؟

گذشتہ ہفتے ’ایکس‘ پر امریکہ کے تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے اکاؤنٹ سے انڈیا کے ساتھ ہونے والے تجارتی معاہدے کی تفصیلات شیئر کی گئیں۔

اس پوسٹ میں لکھا تھا کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان معاہدہ امریکی مصنوعات کے لیے نئی منڈی فراہم کرے گا۔

تاہم اسی پوسٹ میں انڈیا کا نقشہ بھی شیئر کیا گیا، جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا۔

بہت سے انڈین صارفین نے اس پوسٹ کو شیئر بھی کیا اور ان خیالات کا اظہار کرتے نظر آئے کہ ’کشمیر ہمیشہ سے انڈیا کا ہی حصہ تھا۔‘

تاہم امریکہ کے تجارتی نمائندے (یو ایس ٹی آر) کے اکاؤنٹ سے بعد میں اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کیا کہا؟

اس پوسٹ کو کیوں ڈیلیٹ کیا گیا، اس کا جواب ہمیں ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے ملتا ہے۔

جمعرات کے روز ’ایشیا ون نیوز‘ کے صحافی محمد انس ملک نے ترجمان دفتر خارجہ سے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ امریکی تجارتی نمائندے نے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے پر ایک نقشہ جاری کیا جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو بھی انڈیا کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ ’پھر بعد میں یہ نقشہ ہٹا دیا گیا؟ تو کیا پاکستانی حکام کی امریکہ سے اس بارے میں کوئی بات ہوئی تھی؟‘

ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’جی ہاں وہ نقشہ امریکہ کے کچھ سرکاری ہینڈلز سے شیئر کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے امریکی حکام سے رابطہ کیا۔ انھیں اس بات کا احساس ہوا کہ نقشہ غیر قانونی ہے اور انھوں نے فوری طور پر اسے ہٹا دیا۔‘

نقشے میں کشمیر کو ’پاکستان کا حصہ دکھانے‘ پر انڈین صارفین ناراض، اسرائیلی فوج کی معذرتپاکستان نے انڈیا کے ’غلط‘ نقشے مسترد کر دیے’گریٹر افغانستان‘ کا متنازع نقشہ: ’اس قسم کی اشتعال انگیز ویڈیوز کشیدگی مزید بڑھائیں گی‘متنازع نقشے پر سعودی عرب، فلسطین اور عرب لیگ کی مذمت: ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور صرف ’شدت پسندوں کا خواب‘ یا کوئی ٹھوس منصوبہ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جموں اور کشمیر کے سرکاری بین الاقوامی نقشے اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور انڈین علاقوں کو بیان کرنے والے اقوام متحدہ کے قانونی نقشے موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر جائیں تو آپ درست نقشہ دیکھ سکتے ہیں۔‘

امریکہ کی جانب سے یہ پوسٹ ڈیلیٹ کرنے پر انھوں نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ امریکہ نے ہمارے علاقے کے قانونی، اقوام متحدہ کے منظور شدہ نقشے کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری تصحیح کی، جس میں واضح طور پر جموں و کشمیر کو ایک متنازع علاقے کے طور پر بیان کیا گیا اور جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کیا جانا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل: ’امریکی لوگوں کو خوش کرنا جانتے ہیں‘

بہت سے انڈین صارفین نے کہا کہ اس میں کوئی نئی یا حیرت کی بات نہیں کیونکہ کشمیر انڈیا کا ہی حصہ ہے۔

اروند مشرا نامی صارف نے نقشے پر تبصرہ کیا کہ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اب پاکستان کی بجائے انڈیا کے ساتھ اپنے ’سٹریٹیجک مفادات‘ کو ترجیح دے رہا ہے۔

کرشننا آنند نے لکھا کہ یہ چین اور پاکستان کے لیے واضح پیغام ہے کہ امریکہ اور انڈیا کی دوستی مضبوط ہے۔

دوسری جانب پاکستانی صارفین نے لکھا کہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازع علاقہ ہے اور انڈیا کا حصہ نہیں۔

تاہم پوسٹ ڈیلیٹ ہونے کے بعد بعد بہت سے انڈین صارفین یہ پوچھتے نظر آئے کہ اس میں کچھ غلط نہیں تھا تو اسے کیوں ہٹایا گیا؟ کیا اس پر کوئی وضاحت دی جائے گی؟

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’امریکہ خوش ہے کہ اسے انڈیا کے زراعت کے سیکٹر تک رسائی ہو گی اور انڈیا امریکہ سے توانائی خریدے گا۔‘

’انڈیا اس نقشے سے خوش ہے جس میں کشمیر کو انڈیا کا حصہ دکھایا گیا۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’امریکی واقعی بہتر ڈیل میکر ہیں اور لوگوں کو خوش کرنا جانتے ہیں۔‘

’گریٹر افغانستان‘ کا متنازع نقشہ: ’اس قسم کی اشتعال انگیز ویڈیوز کشیدگی مزید بڑھائیں گی‘دنیا کا عظیم نقشہ بنانے والے شخص کی کہانی جو کبھی اپنے شہر سے باہر ہی نہیں نکلانقشے میں کشمیر کو ’پاکستان کا حصہ دکھانے‘ پر انڈین صارفین ناراض، اسرائیلی فوج کی معذرتپاکستان نے انڈیا کے ’غلط‘ نقشے مسترد کر دیےمتنازع نقشے پر سعودی عرب، فلسطین اور عرب لیگ کی مذمت: ’گریٹر اسرائیل‘ کا تصور صرف ’شدت پسندوں کا خواب‘ یا کوئی ٹھوس منصوبہ
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More