Getty Images
جو گھبرالو انتظامیہ کوٹھڑی میں لگا 32 انچ کا ٹی وی یہ سوچ کر ٹھیک نہ کروائے کہ جیل سے باہر کیا ہو رہا ہے دیکھ کر قیدی کہیں اپ ٹو ڈیٹ رہ کر فیصلے نہ کرنے لگے، ایسی ڈری ڈری انتظامیہ سے یہ گمان رکھنا کون سی عقل مندی ہے کہ جو دس کیمرے کوٹھڑی کے ارد گرد نصب کیے گئے ہیں ان میں قیدی کی مسلسل خراب ہوتی ایک چھوٹی سی آنکھ کسی سنتری کو نظر آ جائے گی۔
ارے بھائی اس قدر واویلے کی کیا ضرورت ہے ۔ٹارچر سے قیدی مر تو نہیں گیا، پھانسی تو نہیں ہو گئی، زبان تو نہیں کٹی، آنکھ ہی تو خراب ہوئی ہے اور وہ بھی صرف ایک، وہ بھی صرف 85 فیصد۔ ابھی خیر سے دوسری آنکھ سلامت تو ہے۔
ویسے بھی دو آنکھوں سے ایسا کیا دیکھنا ہے جو ایک آنکھ سے نہیں دکھ سکتا اورقیدی جس سرزمین کا پیدائشی ہے وہاں کیا دیکھنا کیا نہ دیکھنا سب برابر۔
سب کی آنکھوں پر ایک نادیدہ پٹی ہے۔ کرسی پر بیٹھو تو خود بخود چڑھ جاتی ہے، کرسی الٹ جائے تو اتر جاتی ہے، جتنی بار بیٹھو گے چڑھتی اترتی ہی رہے گی۔
دیکھیے اگرآپ قاتل ہیں مگر پیسے اور رسوخ والے ہیں تو جیل میں آپ کی بادشاہت پکی۔
گھر کے کھانے چوبیس گھنٹے، سرکاری بجلی پر مسلسلاے سی، ٹی وی، ڈیک، ہاتھ باندھے مشقتی، موبائل فونز کا من چاہا استعمال،یار دوستوں سے حسبِ خواہش ملاقات۔ گھر کی یاد آئے تو رات گھر پے گذار کےصبحواپسی کی سہولت۔جیل کوٹھری اور صحن دیکھ دیکھ کر جیا اکلانے لگےتو پرائیویٹ ہسپتال کے پرائیویٹ کمرے کو سب جیل قرار دلوا دینا بائیں ہاتھ کا کھیل۔ قیدی کی مرضی کتنے دن یا کتنے مہینے 'بیمار' رہنا چاہے۔
ایسے دبنگ اسیر کے سامنے اے بی سی کلاس کے جیل مینوئل کی اوقات ٹشو پیپر سے بھی کم ہے۔ ایسے دھانکڑ سے تو جیلرز اپنی ترقی کی سفارش کرواتے ہیں۔
عمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیاعمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟عمران خان جیلر ہے یا قیدی؟
چلیے قاتل نہ سہی ڈاکو سہی۔ جتنا بڑا نام اتنا ہی دبدبہ اور احترام۔ جب چاہیں سرینڈر کر دیں، جب چاہیں فرار ہو جائیں۔ دشمنوں سے بچنے اور اطمینان سے اندر بیٹھ کر دھندہ چلانے کی جتنی آزادی جیل کی قید میں میسر ہوتی ہے آپ کی سوچ ہے۔
آپ نے کروڑوں اربوں کا غبن کیا کوئی بات نہیں۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ پلی بارگین کا راستہ آخر کس لیے ہے، استعمال کیجیے اور باعزت گھر جائیے۔
آپ کے ہاتھوں کوئی خادمہ، کوئی مزدور ، کوئی بھکاری، کوئی نشئی ایسے میں مرجائے جب آپ خود نشے میں دھت اسے ڈنڈوں اور سریوں سے مار ڈالیں یا پھرگاڑی کے نیچے دے ڈالیں، کاہے کو ٹینشن لینے کا۔ مرنے والے کے ورثا کی اتنی اوقات کہاں کہ سب چھوڑ چھاڑ کے انصاف کا سراب چھونے کے لیے برس ہا برس جوتیاں چٹخانے پر آمادہ ہوں۔
کوئی انگلا کنگلا پھر بھی اڑ جائے تو اسے تحکمانہ پیار سے سمجھانے کے لیے پولیس، وکیل، گماشتے اور دور پرے کے رشتہ دار ہیں نا۔ تب بھی نہ مانے تو افسردہ سا منہ بنا کر مقتول کے ورثا کے سامنے خجالت کی ایکٹنگ کریں۔ بیس پچیس پچاس لاکھ منہ پہ ماریں۔ مقتول کے تو اچھے بھی اللہ کے نام پر آپ کو یہ کہتے ہوئے معاف کر دیں گے کہ مرنے والا تو چلا گیا، جو اللہ کی مرضی۔
اور پھر ایک مشترکہ تحریری معافی نامہ بنا کے جج کے سامنے دھر دیں۔ ہو گیا عزت سے سارا کام۔ جج بھی سکھ کا سانس لے گا، مقتول کے ورثا بھی راضی اور آپ اپنی جگہ حسبِ معمول معزز ۔
آپ بھلے فیکٹری کو آگ لگا کے سینکڑوں انسان بھسم کر دیں، جعلی خوراک و ادویات کے خنجر سے ہزاروں انسانوں کی موت کا سامان کر دیں، ناقص تعمیر کر کے بیسیوں خاندانوں کی کثیر منزلہ قبر بنا دیں۔ نجات کا کوئی نہ کوئی قانونی و اخلاقی راستہ نکل ہی آئے گا۔
بس کبھی کوئی آدرشی انسان بننے کی بے وقوفی مت کیجئے گا، سماج بدلنے کا خناس کبھی دماغ میں نہ آئے، ہر ایک کو اس کی قابلیت کے مطابق کا نعرہ لگانے سے لازماً گریز کریں، چند ہاتھوں میں وسائل و دولت و طاقت کے ارتکاز کو مت گھوریں، زندگی کو بلیک اینڈ وائٹ کے بجائے گرے میں دیکھنے کی عادت ڈالیں۔
آئین کو کوئی سنجیدہ کتاب سمجھ کے کبھی نہ پڑھیں، وقت کی ہر اسٹیبلشمنٹ کے دائیں ہاتھ پر رہیں، بائیں یا سامنے آنے کی سوچیں بھی نہ۔ یہ جان لیوا غلط فہمی بھی اپنے سے دس ہاتھ دور رکھیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ کیا تم نے نہیں سنا یا دیکھا کہ ہزاروں بھیڑ بکریوں کی رکھوالی کے لیے بس ایک گڈریا اور ایک کتا کافی ہوتا ہے؟
Getty Images
سیاست ضرور کریں مگر اوقات اور دائرے کے اندر رہتے ہوئے۔ کمزوروں اور چھوٹوں سے شفقت کریں نہ کریں مگر بڑوں کا احترام اور ان کے ترتیب شدہ آدابِ حکمرانی و ملازمت کی حرمت برقرار رکھنے کا سبق نہ بھولیں۔ وسائل کی نیلامی کے نتیجے میں جس مقتدر کا جتنا حق بنتا ہے اسے بغیر کہے دے دیں۔ اگر مگر چونکہ چنانچہ جیسی لفظیات ذہن سے نکال کے پھینک دیں۔
کرسی ملے نہ ملے مٹھی چاپی، مالش پالش جاری رہنی چاہیے۔کسی کو نہیں معلومکب کھل جا سم سم ہو جائے اور کسی بھی لمحے جاری ہونے والے گزٹ نوٹیفکیشن میں آپ غدار سے محبِ وطن، چور سے ایماندار ، پاگل سے جینیس، موقع پرست سے اصول پسند قرار پائیں۔ اوپر والا یا اوپر والے مہربان تو سینکڑوں مقدمات ایسے اڑن چھو ہوں گے کہ کیا کوئی دودھ کا دھلا ہو گا۔
یہ سب نہیں سمجھیں گے، سسٹم پر انگشت نمائی جاری رکھیں گے اور بالک ہٹ پر ہی رہیں گے تو پھر لاپتہ بھی ہوں گے، زبان بھی کٹے گی، رشتے دار اور دوست بھی شکنجے میں آئیں گے، بھانت بھانت کی کوٹھڑیوں میں بھی منتقل ہوتے رہیں گے، آنکھ کیا حواس سے بھی جائیں گے۔
کوئی اتنی بھی نہیں سنے گا کہ بھائی آئی سپیشلسٹ اور ڈینٹسٹ نہ سہی کم از کمدیوار پہ لگا بتیس انچ کا ٹی وی ہی ٹھیک کروا دو۔
ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
یہ شعر حبیب جالب کا ضرور ہے مگر آپ تو سیانے ہیں۔
کیا ضرورت تھی یہ کہنے کی کہ میں اگر نکالا گیا تو اور خطرناک ہو جاؤں گا۔ اب بھگتو۔۔۔
عمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیاعمران خان جیلر ہے یا قیدی؟عمران خان کی میڈیکل رپورٹ: ’ورٹیگو‘ اور ’ٹائنائٹس‘ کیا ہوتا ہے؟عمران خان کی جیل میں پُش اپس لگانے کی تصویر کی حقیقت کیا ہے؟